Pages

Wednesday, December 14, 2011

بد قسمتی


بہت سے لوگ ہر وقت مصیبت میں گھرے رهتے ہیں
 خاص طور پر ان کے معاملات لوگوں کے ساتھ بری طرح سے پھنس جاتے ہیں
آپ دیکھیں گے کہ آپ کے بہت سے مسائل
 غلط قسم کے لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کی وجہ سے ہیں 
پھر آپ کو ایک اور حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا
 کہ آپ کے اندر ایک غلط قسم کی چیز ہے
جو غلط قسم کے لوگوں کو آپ کی طرف متوجہ کرتی ہے
اب یہ وہ سخت مقام ہے
جہاں آپ کو امانت داری کے ساتھ
نشترزنی کرنی ہے
اور اپنی ذات کے ساتھ رعایت کئے بغیر
معاملے کی تحقیق کرنی ہے
جس بد قسمتی کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے
پھر وہ بد قسمتی نہیں رہتی 

از بابا صاحبا

شیطان کا کمال


شیطان بھی کمال کی چیز ہے
وہ گناہ کے خلاف وعظ کر کے
\ بہت سوں کو اپنا چیلا بنا لیتا ہے 
وہ کچھ اس طرح سے قائل کرتا ہے
 کہ گناہ اور بدی کا تصور
لوگوں کے ذھن میں ایک جذباتی ہیجان پیدا کر دیتا ہے
وہ یقین دلا دیتا ہے
کہ خدا تمہارے گناہ تو معاف کر دیگا
لیکن تمہارے ارد گرد پھیلے ہوئے
بد کردار لوگوں
اور بد اصل انسانوں کو نہیں بخشے گا 

زاویہ ٣ روح کی سرگوشی پیج ٣١٠


خدمت

بابے کہتے ہیں 
کہ خدمت ایک ایسی چیز ہے جو انا کی دیوار گرا دیتی ہے
 اور انسان کو اس کے باطن سے ہمکلام کردیتی ہے
ہماری دعا ہونی چاہئے 
کہ " اے الله میں نہ تو دنیاوی لذتیں حاصل کرنے کا آرزومند ہوں
 اور نہ ہی روحانی سربلندیوں کو پانے کا خواہشمند ہوں
 مجھے ان دونوں کے بجائے سپردگی
 اور ابدیت کی دولت چاہئے
اس طرح نہ تو مجھے مافوق الفطرت طاقت درکار ہے
نہ ہی مراقبے اور مکشافے کی دولت کی خواھش ہے
دینی ہے تو مجھے ناداروں
اور بیچاروں کی خدمت کی طاقت دے دے تیری مہربانی 

زاویہ ٣ روح کی سرگوشی پیج ٣٠٧

ماں کا داماد


وہ ہمیشہ یہی دعا مانگا کرتی تھی 
کہ " اے الله میں اپنے لئے کچھ نہیں مانگتی 
میں اپنی ماں کے لئے دعا مانگتی ہوں
 کہ اے خدا !
 میری ماں کو ایک اچھا
 خوبصورت سا داماد دے دے
 تیری بڑی مہربانی ہوگی - 
اس سے میری ماں بڑی خوش ہوگی  
میں اپنے لئے کچھ نہیں چاہتی 
وہ ذھین بھی ہو ،
 اس کی اچھی تنخواہ بھی ہو ،
 اس کی جائداد بھی ہو -
 اس طرح کا داماد میری ماں کو دے دے 

 زاویہ ٢ ہاٹ لائن پیج ٩٨

صلاحیت

صلاحیت
نالائقی اور نا اہلی سے بہتر ہے
لیکن سارے دعوؤں سے دستکش ہو جانا
صلاحیت سے بھی برتر ہے 

زاویہ ٣ روح کی سر گوشی پیج ٣٠٥

Sunday, December 11, 2011

موت کی حقیقت


میرے چچا کے دوست کا ایک جوان سال بیٹا کسی وجہ سے فوت ہوگیا اکیلا ہی اس کا بیٹا تھا اور وہ بڑا صوفی آدمی تھا - میرے چچا نے نمائندے کی طور پر مجھے بھیجا کہ جا کے تم افسوس کر کے آؤ اور کہنا کہ جوں ہی میں ٹھیک ہوا، میری صحت بحال ہوئی، میں خود حاضری دونگا -


 جب میں وہاں گیا تو بہت سے لوگ جمع تھے اور وہ چارپائی پی بیٹھے تھے میں جب ان کے قریب گیا تو انھوں نے پہچانا - 
اور مجھے کہنے لگے، اشفاق میاں دیکھو ہم جیت گئے
اور سب دنیا ہار گئی
ہم کامیاب ہوگئے اور باقی کے سب لوگ
بڑے بڑے ڈاکٹر
بڑے حکیم
اور بڑے بڑے نامی گرامی طبیب ہار گئے -


میں پریشان کھڑا تھا، ان کے سامنے کہ یہ کیا بات کہ رہے ہیں - کہنے لگے، دیکھئے ہمارا یار جیت گیا اور سارے ڈاکٹر فیل ہوگئے -
ہم ایک طرف تھے اور یہ لوگ سارے ایک طرف تھے -
وہی ہوا جو ہمارے یار نے چاہا
اور جو اس نے چاہا تھا
وہی ہم نے چاہا -
 میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی


ایک اکلوتا اس کا بیٹا
جواں سال
اور بار بار یہی بات کہ رہا ہے
کچھ وقت
ایسی کیفیت درد کی اور کرب اور الم کی بھی بن سکتی ہے لیکن یہ انداز بتا رہا تھا کہ وہ یہ بات اندر سے کہ رہے ہیں 
اور اس کے اوپر ان کا پورا ایمان ہے
اور وہ ہل نہیں رہیں ہیں اس مقام سے -
اور کہتے تھے جو الله نے کیا وہی درست
اور وہی ٹھیک ہوگا جو الله کریگا -
اور چونکہ ہم الله کی سائیڈ کے ہیں
اس لئے جب الله کامیاب ہوتا ہے
اور وہ ہر بار کامیاب ہوتا ہے
تو ہم کامیاب ہو گئے ہیں -


یہ میرے لئے ایک عجیب بات تھی -
میں اس وقت ایف - اے کر چکا تھا
لیکن نہ میرے پاس الفاظ تھے
نہ میں بڑے سلیقے سے ان کے ساتھ افسوس کر سکتا تھا
 جس کے لئے مجھے بھیجا گیا تھا -
افسوس کے لئے میں چپ چاپ کھڑا رہا -
انھوں نے چائے پلائی ، کھانا وہاں کھلانے کا رواج تھا -
اگلے دن واپس آئے -
میں نے آ کر ساری بات چچا سے کہی -
انھوں نے کہا کہ وہ بہت مضبوط
اور الله کو ماننے والے شخص ہیں۔

زاویہ موت کی حقیقت صفحہ 137

Thursday, December 8, 2011

دل کا چور


اگر دل میں کوئی چور نہ ہو تو آدمی جلد منازل طے کرتا ہے
 اسی لئے امیر آدمی اگر تہیہ کرلے تو وہ بڑے دربار میں بہت کم عرصے میں پہنچ جاتا ہے - 


غریب آدمی کے دل کے کسی کونے کھدرے میں
 دولت کی محبت........ 
آسائش کی محبت .......... 
روشن مستقبل کی خواھش چھپی ہوتی ہے
 وہ اس کے اوپر غلاف چڑھاتا ہے
 لیکن یہ چور نکلتا نہیں ،
 کہیں دل میں بھیس بدل کر بیٹھ جاتا ہے ،
غریب عموماً ڈبہ پیر بن کر بیٹھ جاتا ہے آگے نہیں بڑہ سکتا
 اصلی بات دل سے آرزو نکالنا ہے
 امیر کا امیری سے دل پر ہو چکتا ہے 
غریب کے دل میں ابھی ہوس ہوتی ہے
 حاصل کرنے کی 

من چلے کا سودا پیج ٤٢