آخر کار یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ کوئی شخص تب تک رشوت نہیں لے سکتا جب تک کہ وہ اپنے آپ کو خوار، ذلیل ، پریشان اور زبوں حال نہ سمجھے
پہلے اپنے دل اور اپنی روح کے نہاں خانے میں انسان اپنے آپ کو ذلیل کمینہ، گھٹیا ، اور چھوٹا سمجھتا ہے - اس کے بعد وہ رشوت کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے
اگر کوئی شخص عزت و وقار اور اطمینان اور ڈگنٹی کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے تو وہ کسی حال میں رشوت کی طرف رجوع نہیں کرتا
ہمارے دین میں بھی اس بات پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ آپ وقار ، عظمت اور تمکنت کا دامن کسی صورت میں بھ ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنے آپ کو ایک اعلیٰ وعرفہ مخلوق جانیں
کیونکہ آپ کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کر دیا گیا ہے