Pages

Showing posts with label باباجی محمد یحی خان. Show all posts
Showing posts with label باباجی محمد یحی خان. Show all posts

Tuesday, November 29, 2011

گھاتک


ٹھگوں کی کتنی اقسام ہیں؟
کیا تاریخ ہے؟
اور صرف بنارس ہی کے ٹھگ کیوں مشہور ہیں؟


مجھے ان سوالوں کے جواب تو نہیں ملے لیکن بابا یحییٰ خان کی صورت میں جس ٹھگ سے میرا پالا پڑا ہے وہ کسی چوکھٹے میں فٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دیتا۔
 بابا ! پکا ٹھکاوارداتیا ہے۔
جانے کب سے مچان لگا کر گھاتک شکاریوں کی طرح درخت پر تنبو تانے بیٹھا ہے، درخت سے ’’ چارہ‘‘ کی صورت بھی خود کو باندھا ہوا ہے اور کمال یہ ہے کہ اس ’’ چارے‘‘ پر لپکنے والے شیر، چیتے، بھیڑیے، گیدڑ، ہرن، لومڑیاں ہمہاقسام کے چرندو پرند کھانے کو لپکتے ہیں اور بابے کی ٹھگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔


 کہ بظاہر کالے کپڑوں میں سرمئی آنکھوں، برف پر سورج کی کرنیں پڑنے کے بعد پیدا ہونے والی سفیدی جیسی سفید داڑھی، قیمتی مالائیں، انگشتریاں پہنے یہ گھاتک آپ پر پہلی ہی ملاقات میں ایسا سحر پھونکے گا کہ پھر آپ اس کی گرفت سے زندگی بھر نکل نہیں سکتے۔


میں اس من مونہی صورت والے سامری جادوگر سے کب ٹکرایا تھا، یاد نہیں، بس یوں جانئے کہ ایک دوست کی معیت میں جس نے بابا یحییٰ خان کو میرے آگے ’’ ولی کامل‘‘ بناکر پیش کیا اور بتایا تھا کہ تمہارے تمام مسائل کا حل اس بابے کے پاس ہے، ملنے گیا اور اس کے جال میں پھنس گیا۔ بابا جو زبان بول رہا تھا وہ میں نے شکیل عادل زادہ کے بعد صرف بابے سے سنی تھی۔ حیرت ہوئی کہ تعویز گنڈے کرنے کے بجائے، مجھے کچھ پڑھنے پڑھانے کی تاکید، کوئی اسم عظم کی تلقین، کوئی پڑھا ہوا پانی دیواروں پر چھڑکنے یا اپنے اوپر ڈالنے کی ہدایت کرنے کے بجائے بابا جی نے’’ پیارنگ کالا‘‘میرے گلے منڈھ دی۔
سچی بات ہے میری پڑھنے پڑھانے سے بڑی جان جاتی ہے اپنی لائبریری میں کتابیں سجانا، آنے والوں پر ان کا رعب گانٹھنا تو اچھا لگتا ہے لیکن خود کے لئے اخبار کو بھی سرخیوں سے آگے پڑھنا کاردارد ہے۔ میں نے ’’ پیارنگ کالا‘‘ اور بابے کا لنگر پلے باندھا اور اپنی جان کو روتا گھر آگیا۔
برا وقت کہہ کر نہیں آتا۔ اس کی سب سے بڑی مثال میں ہوں۔ اللہ جانے کب میں نے ’’ پیارنگ کالا‘‘ کے صفحات اُلٹنے شروع کئے اور باباکے پھیلائے اس ’’ شٹری انتر ‘‘ میں پھنس گیا۔ وہ نشست کتنے دنوں پر محیط تھی اس کا مجھے اندازہ نہیں ہوسکا۔ لیکن کتاب میں نے ایک نشست میں پڑھی جس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ اب بابے کی غلامی کا طوق میرے گلے میں پڑ گیا۔


بابا جی محمد یحی خان
طارق اسمعیل ساگر کے الفاظ میں

بابا یحییٰ خاں کون ہے؟

روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی

یہ چند برس پہلے کی بات ہے، میں اقبال ٹاؤن کی مون مارکیٹ میں کسی کام کے لئے گیا، کام سے لوٹا تو ایک دکان کے باہر پتھریلے فرش پر میں نے ایک سیاہ پوش گداگر کو دیکھا جو فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کی عبا اوڑھی ہوئی تھی، اس کے چہرے کا رنگ بھی سیاہی مائل تھا، اس کی گھنی داڑھی تھی جس میں سفید اور کالے بال یکساں مقدار میں تھے۔ اس نے نظر بھر کر میری طرف دیکھا، اس کے دیکھنے میں اتنی کشش تھی کہ میرا جی چاہا میں اس کے پاس جاؤں لیکن اس خیال نے میرے قدم روک لئے کہ پھر یہ فقیر میرا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ وہ مجھے کوئی اپنی دردبھری داستان سنائے گا اور یوں پیسے بٹورنے کی کوشش کرے گا جبکہ میں گداگری کے سخت خلاف ہوں اور ان لوگوں کی مدد کو گناہ کے مترادف سمجھتا ہوں چنانچہ میں نے اپنے رکتے قدم ایک بار پھر تیز کئے مگر اس دوران میرے کانوں میں ایک آواز آئی ”قاسمی صاحب !“ میں نے ادھر ادھر دکھا مگر اس سیاہ پوش کے علاوہ میرے گرد و نواح میں کوئی نہیں تھا۔ ایک بار پھر محبت میں ڈوبی ہوئی آواز سنائی دی ”قاسمی صاحب!“ اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی شخص ہے جس سے میں بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں بادلِ نخواستہ اس کے پاس گیا مگر میں بہت حیران تھا کہ یہ فقیر مجھے کیسے جانتا ہے؟ وہ مجھے اپنے پاس دیکھ کر بہت خوش نظر آ رہا تھا۔ اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ”آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کا نوکر، میں آپ کا خادم ہوں، میں آپ کے پاؤں کی خاک ہوں، آپ میرے محبوب ہیں، میں آپ کا کالم بہت شوق سے پڑھتا ہوں“ میں اس کی باتیں سن کر چکرا کر رہ گیا۔ اس کا حلیہ ، اس کی وضع قطع، شدید گرمی کے موسم میں پتھریلے فرش پر اتنے سکون سے بیٹھنا جیسے کسی نرم و گداز صوفے پر بیٹھا ہو، اس شخص کا لکھنے پڑھنے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے، پھر اس کا انکسار۔ میرے مداح اور بھی بہت سے لوگ ہیں لیکن وہ اپنی ذات کی اس طرح نفی کبھی نہیں کرتے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر کچھ دیر کے لئے رک گیا تاکہ وہ ”حرفِ مدعا“ زبان پر لائے اور یوں اس کی اصلیت ظاہر ہو سکے۔ لیکن اس نے درود شریف پڑھتے ہوئے مجھے خداحافظ کہہ دیا۔
پھر ایک دن میں نے اسے اس پرانے حلیے میں اشفاق احمد کے ڈرائننگ روم میں دیکھا۔ پہلی ملاقات کے بعد یہ اس نے مجھے دوسری دفعہ چونکایا تھا۔ وہ ان کے قدموں میں بیٹھا ان کے پاؤں داب رہا تھا یعنی ایک اور انوکھی بات تھی جو اس کے حوالے سے میرے سامنے آئی تھی۔ اس کے ساتھ دو درویش قسم کے نوجوان اور بھی تھے جو بظاہر اس کے چیلے چانٹے لگتے تھے۔ جب یہ لوگ اٹھ کر گئے تو میں نے یہ معمہ اشفاق صاحب کے سامنے رکھا اور پوچھا ”یہ پراسرار سا سیاہ پوش کون ہے؟“ اشفاق صاحب نے جواب دیا ”اس کا نام یحییٰ خان ہے، یہ بہت بڑا رائٹر ہے اور تصوف کے راستوں کا مسافر ہے“۔ اشفاق صاحب کی رائے کا بطلان میرے لئے ممکن نہیں تھا تاہم میں نے ان کے ان ریمارکس کو حوصلہ افزائی کے کھاتے میں ڈالا اور وہاں سے واپسی پر دوبارہ اپنے دنیاوی کاموں میں مشغول ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے بابا یحییٰ خاں کو دو ایک بار پیدل اور دو ایک بار ان دو نوجوانوں میں سے ایک کے ساتھ جنہیں میں نے اشفاق صاحب کے ہاں دیکھا تھا، موٹر سائیکل پر جاتے دیکھا۔ پھر ایک دن ایسے ہوا کہ مجھے اس کی ایک کتاب پڑھنے کا موقع ملا جس کا نام غالباً ”پیا رنگ کالا“ یا ”کاجل کوٹھا “ تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس کی ان دو تصانیف میں سے کون سی کتاب میں نے پہلے پڑھی تھی لیکن جوں جوں میں یہ کتاب پڑھتا چلا گیا میں حیرت کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔ یہ کتاب اس کے مشاہدات اور تجربات پر مشتمل تھی۔ میں نے منظر کشی پر اتنی عظیم دسترس اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھی تھی۔ کتاب پڑھتے ہوئے میں ہر منظر میں اس طرح گم ہو جاتا تھا جیسے میں اس کا حصہ ہوں۔ اور کردار نگاری؟ کاش خدا مجھے بھی یہ ہنر دیتا! یہ بابا دنیا کے مختلف ملکوں میں گھومتا پھرتا رہتا ہے اور مجھے لگا میں ہر جگہ اس کے ساتھ ہوں خصوصاً انڈیا کے کنبھ میلے میں جوتشیوں، سنیاسیوں، صوفیوں، فراڈیوں اور جن دوسرے طبقے کے افراد سے اس نے میری ملاقات کرائی، وہ سب میرے دوست بن گئے۔ بابا یحییٰ خاں نے اپنی متذکرہ دو کتابوں میں تصوف کے مراحل اور پھر اس حوالے سے بعض عجیب و غریب واقعات کا ذکر بھی کیا ہے جو میرا موضوع نہیں ہیں۔ لیکن میں بابا کے طرز نگارش کا فین بن گیا۔ یہ اس نے مجھے تیسری دفعہ چونکایا تھا۔ میں نے انڈیا سے آئے ہوئے مہمانوں شمس الرحمن فاروقی ، شمیم حنفی اور بعض دوسرے دوستوں کو ایک بار اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا تو بابا یحییٰ خاں سے بھی گزارش کی کہ وہ بھی تشریف لائیں۔ میں نے مہمانوں سے بابے کا تعارف کرایا اور بابے نے انہیں اپنی ایک کتاب پیش کی۔ دو سال بعد شمیم حنفی دوبارہ پاکستان آئے تو دوران ملاقات انہوں نے بتایا کہ آپ کے ہاں جس سیاہ پوش بزرگ سے میری ملاقات ہوئی تھی وہ مجھے علی گڑھ میں سڑک کے کنارے بیٹھے مل گئے۔ بھئی کیا کمال کا آدمی اور کمال کا رائٹر ہے۔
اور اب یہ گزشتہ رات کی بات ہے ، تقریباً ساڑھے دس بجے ان کا فون آیا اور کہا ”یہ آپ نے آج کے کالم میں کیا لکھا ہے کہ سیلاب زدگان کے لئے میں نے 42 لاکھ تیرہ ہزار روپے جمع کر لئے ہیں۔ اب میں لالچی ہو گیا ہوں اور میری خواہش ہے کہ یہ رقم پچاس لاکھ ہو جائے۔ آپ نے اس یقین کا اظہار بھی کیا ہے کہ ایسا ضرور ہو گا!“ میں نے جواب دیا ”میں نے لکھا تو ہے لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟“ بولے ”دیکھنا کیا ہے ، باقی پیسے میں دے رہا ہوں“۔اور اس وقت سات لاکھ 67 ہزار روپے کا چیک میرے سامنے پڑا ہے۔ کیونکہ کالم کی اشاعت کے بعد مزید بیس ہزار روپے کا عطیہ موصول ہو گیا تھا اور میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے مسلسل چونکانے والا بابا یحییٰ خاں واقعی کوئی جیتا جاگتا شخص ہے یا کوئی افسانوی کردار ہے؟ یہ بھی مجھے کسی ”بابے“ ہی سے پوچھنا پڑے گا۔

یہودی فلسفہء اعتماد


حکایت یوں ہے کہ ایک بوڑھا کاروباری یہودی جب اپنی لاعلاج علالت کی وجہ سے سر پڑی کاروباری ذمہ داریاں پوری طرح نبھانے سے قاصر ہو گیا تو اس نے اپنے نابالغ فرزند کو اپنی جگہ تفویض کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن ایک خدشہ اسے رہ رہ کر پریشان اور فکرمند کر رہا تھا کہ بچہ ابھی کچا اور کاروباری معاملات کی پیرا پھیری سے ناواقف ہے۔ چونکہ جلد سے جلد بیٹے کو اپنی جگہ پہ بٹھانا اس کی مجبوری اور ضرورت بن چکا تھا، اس لئے خرانٹ بڈھے نے فوری طور پہ اسے وہی ازلی سبق پڑھانے کا سوچ لیا جو کبھی اس کے باپ نے اسے پڑھایا تھا اور جس کے نتیجہ میں ابھی تک اس کی کمر میں ریڑھ کا مہرہ اپنی جگہ سے کھسکا ہوا تھا۔


بوڑھے بوبک نے بیٹے کو اوپر کوٹھے پہ چڑھا دیا اور خود نیچے صحن میں کھڑا ہو گیا۔ اس نے بیٹے کو بڑی رسان سے حکم دیا کہ وہ نیچے پھلانگ جائے، جونہی وہ نیچے آ رہا ہوگا تو وہ اسے اچک کر سنبھال لے گا۔ فرمانبردار بیٹا، باپ کی یہ عجیب سی بات، خواہش اور حکم سن کر بڑا پریشان ہوا۔ اس کی کچی عقل ابھی باپ کی پکی بات کو سمجھنے سے عاجز تھی، آخر اس نے اپنے مہربان باپ سے اس ڈرامے کی وجہ اور حقیقت پوچھ ہی لی۔ تجربہ کار باپ نے بڑے محبت اور شفقت سے کہا کہ جان پدر! میں اب ناکارہ اور بوڑھا ہو گیا ہوں، تم میری اکلوتی اولاد اور میری ہر چیز کے بلا شرکت غیرے وارث ہو لہٰذا آج میں تمہیں ایک سبق دینا چاہتا ہوں جو تمہاری آئندہ تمام زندگی اور کاروباری معاملات میں کام آئے گا۔ اب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ بلا کسی تردد و خوف، آنکھیں بند کرکے نیچے صحن میں چھلانگ لگا دو۔۔۔۔


بچہ کبھی بلندی، کبھی صحن اور کبھی باپ کو دیکھ کر ہلکان ہو رہا تھا۔ کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے؟ ڈرتے ڈرتے پھر زبان کھولی اور اپنا خدشہ خوف بیان کیا کہ اتنی بلندی سے چھلانگ لگانے کے لئے میرے پاس حوصلہ نہیں، نیچے گرنے سے میرے ہاتھ پاؤں ٹوٹ سکتے ہیں یا آپ سے مجھے سنبھالنے میں کوتاہی ہو سکتی ہے۔ آخر آپ مجھے اور خود کو ایسی آزمائش میں کیوں ڈالنا چاہتے ہیں؟۔۔۔۔۔گھاگ باپ بڑی مکاری سے سمجھانے لگا کہ بیٹا! یہ سب کچھ جو ہمارے اردگرد بکھرا ہوا ہے، اک کارخانہء آزمائش ہی تو ہے۔ ہمارے پیغمبروں، نبیوں اور ان کی اولادوں پہ بھی آزمائشیں ڈالی گئیں تاکہ وہ دانش، دبدبہ اور دلگیری و درماندگی کا درماں حاصل کر سکیں، آزمائش ہمارے اسلاف کبار کی سنتیں اور صفتیں ہیں لہٰذا میرے جگر گوشے! تو بھی آزمائش پہ پورا اتر اور اس سے حاصل ہونے والی نصیحت کو مضبوطی سے پکڑ۔ تو زیتون کے پکے ہوئے پھل کی مانند نیچے اتر آ، تیرا مشفق و مستعد باپ تجھے اپنے پھیلے ہوئے بازوؤں میں بھر لے گا، بھلا باپ سے زیادہ دنیا میں قابل اعتماد ہستی اور کون ہو سکتی ہے؟ شاباش! دل پکا اور مضبوط کر۔ اپنے مہربان باپ پہ بھروسہ کرتے ہوئے چھلانگ لگا دے۔۔۔۔


باپ کی بریفنگ سے بیٹے کا دل و دماغ سن ہو چکا تھا۔ زبردستی آنکھیں بند کیں، دانت بھینچے اور جی کڑا کرکے نیچے چھلانگ لگا دی۔ عین اسی لمحہ بوڑھا اپنی جگہ سے دو قدم پیچھے ہٹ گیا اور لڑکا پتھروں کے فرش پہ گر کر اپنے گڈے گوٹے نکلوا بیٹھا۔ جب وہ دو ماہ کے لئے بستر پہ پڑ گیا تو بوڑھے غمگین باپ نے جی جان سے اپنے اکلوتے، جان سے پیارے بیٹے کی تیمارداری کی، کئی رات دن جاگتی آنکھوں میں نکال دئیے، روپیہ پیسہ پانی کی مانند بہا دیا۔ بیٹا قدرے تندرست ہوا تو اسے بتایا کہ یہی تمہارے لئے سبق ہے کہ سگے باپ پہ بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا لہٰذا زندگی ہو یا بندگی، پیار یا بیوپار، دوستی، رشتہ داری، سیاست یا حکومت، کبھی بھی کسی پہ اعتماد نہ کرنا۔۔۔۔۔”