Pages

Showing posts with label عطاالحق قاسمی. Show all posts
Showing posts with label عطاالحق قاسمی. Show all posts

Tuesday, November 29, 2011

بابا یحییٰ خاں کون ہے؟

روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی

یہ چند برس پہلے کی بات ہے، میں اقبال ٹاؤن کی مون مارکیٹ میں کسی کام کے لئے گیا، کام سے لوٹا تو ایک دکان کے باہر پتھریلے فرش پر میں نے ایک سیاہ پوش گداگر کو دیکھا جو فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کی عبا اوڑھی ہوئی تھی، اس کے چہرے کا رنگ بھی سیاہی مائل تھا، اس کی گھنی داڑھی تھی جس میں سفید اور کالے بال یکساں مقدار میں تھے۔ اس نے نظر بھر کر میری طرف دیکھا، اس کے دیکھنے میں اتنی کشش تھی کہ میرا جی چاہا میں اس کے پاس جاؤں لیکن اس خیال نے میرے قدم روک لئے کہ پھر یہ فقیر میرا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ وہ مجھے کوئی اپنی دردبھری داستان سنائے گا اور یوں پیسے بٹورنے کی کوشش کرے گا جبکہ میں گداگری کے سخت خلاف ہوں اور ان لوگوں کی مدد کو گناہ کے مترادف سمجھتا ہوں چنانچہ میں نے اپنے رکتے قدم ایک بار پھر تیز کئے مگر اس دوران میرے کانوں میں ایک آواز آئی ”قاسمی صاحب !“ میں نے ادھر ادھر دکھا مگر اس سیاہ پوش کے علاوہ میرے گرد و نواح میں کوئی نہیں تھا۔ ایک بار پھر محبت میں ڈوبی ہوئی آواز سنائی دی ”قاسمی صاحب!“ اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی شخص ہے جس سے میں بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں بادلِ نخواستہ اس کے پاس گیا مگر میں بہت حیران تھا کہ یہ فقیر مجھے کیسے جانتا ہے؟ وہ مجھے اپنے پاس دیکھ کر بہت خوش نظر آ رہا تھا۔ اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ”آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کا نوکر، میں آپ کا خادم ہوں، میں آپ کے پاؤں کی خاک ہوں، آپ میرے محبوب ہیں، میں آپ کا کالم بہت شوق سے پڑھتا ہوں“ میں اس کی باتیں سن کر چکرا کر رہ گیا۔ اس کا حلیہ ، اس کی وضع قطع، شدید گرمی کے موسم میں پتھریلے فرش پر اتنے سکون سے بیٹھنا جیسے کسی نرم و گداز صوفے پر بیٹھا ہو، اس شخص کا لکھنے پڑھنے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے، پھر اس کا انکسار۔ میرے مداح اور بھی بہت سے لوگ ہیں لیکن وہ اپنی ذات کی اس طرح نفی کبھی نہیں کرتے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر کچھ دیر کے لئے رک گیا تاکہ وہ ”حرفِ مدعا“ زبان پر لائے اور یوں اس کی اصلیت ظاہر ہو سکے۔ لیکن اس نے درود شریف پڑھتے ہوئے مجھے خداحافظ کہہ دیا۔
پھر ایک دن میں نے اسے اس پرانے حلیے میں اشفاق احمد کے ڈرائننگ روم میں دیکھا۔ پہلی ملاقات کے بعد یہ اس نے مجھے دوسری دفعہ چونکایا تھا۔ وہ ان کے قدموں میں بیٹھا ان کے پاؤں داب رہا تھا یعنی ایک اور انوکھی بات تھی جو اس کے حوالے سے میرے سامنے آئی تھی۔ اس کے ساتھ دو درویش قسم کے نوجوان اور بھی تھے جو بظاہر اس کے چیلے چانٹے لگتے تھے۔ جب یہ لوگ اٹھ کر گئے تو میں نے یہ معمہ اشفاق صاحب کے سامنے رکھا اور پوچھا ”یہ پراسرار سا سیاہ پوش کون ہے؟“ اشفاق صاحب نے جواب دیا ”اس کا نام یحییٰ خان ہے، یہ بہت بڑا رائٹر ہے اور تصوف کے راستوں کا مسافر ہے“۔ اشفاق صاحب کی رائے کا بطلان میرے لئے ممکن نہیں تھا تاہم میں نے ان کے ان ریمارکس کو حوصلہ افزائی کے کھاتے میں ڈالا اور وہاں سے واپسی پر دوبارہ اپنے دنیاوی کاموں میں مشغول ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے بابا یحییٰ خاں کو دو ایک بار پیدل اور دو ایک بار ان دو نوجوانوں میں سے ایک کے ساتھ جنہیں میں نے اشفاق صاحب کے ہاں دیکھا تھا، موٹر سائیکل پر جاتے دیکھا۔ پھر ایک دن ایسے ہوا کہ مجھے اس کی ایک کتاب پڑھنے کا موقع ملا جس کا نام غالباً ”پیا رنگ کالا“ یا ”کاجل کوٹھا “ تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس کی ان دو تصانیف میں سے کون سی کتاب میں نے پہلے پڑھی تھی لیکن جوں جوں میں یہ کتاب پڑھتا چلا گیا میں حیرت کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔ یہ کتاب اس کے مشاہدات اور تجربات پر مشتمل تھی۔ میں نے منظر کشی پر اتنی عظیم دسترس اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھی تھی۔ کتاب پڑھتے ہوئے میں ہر منظر میں اس طرح گم ہو جاتا تھا جیسے میں اس کا حصہ ہوں۔ اور کردار نگاری؟ کاش خدا مجھے بھی یہ ہنر دیتا! یہ بابا دنیا کے مختلف ملکوں میں گھومتا پھرتا رہتا ہے اور مجھے لگا میں ہر جگہ اس کے ساتھ ہوں خصوصاً انڈیا کے کنبھ میلے میں جوتشیوں، سنیاسیوں، صوفیوں، فراڈیوں اور جن دوسرے طبقے کے افراد سے اس نے میری ملاقات کرائی، وہ سب میرے دوست بن گئے۔ بابا یحییٰ خاں نے اپنی متذکرہ دو کتابوں میں تصوف کے مراحل اور پھر اس حوالے سے بعض عجیب و غریب واقعات کا ذکر بھی کیا ہے جو میرا موضوع نہیں ہیں۔ لیکن میں بابا کے طرز نگارش کا فین بن گیا۔ یہ اس نے مجھے تیسری دفعہ چونکایا تھا۔ میں نے انڈیا سے آئے ہوئے مہمانوں شمس الرحمن فاروقی ، شمیم حنفی اور بعض دوسرے دوستوں کو ایک بار اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا تو بابا یحییٰ خاں سے بھی گزارش کی کہ وہ بھی تشریف لائیں۔ میں نے مہمانوں سے بابے کا تعارف کرایا اور بابے نے انہیں اپنی ایک کتاب پیش کی۔ دو سال بعد شمیم حنفی دوبارہ پاکستان آئے تو دوران ملاقات انہوں نے بتایا کہ آپ کے ہاں جس سیاہ پوش بزرگ سے میری ملاقات ہوئی تھی وہ مجھے علی گڑھ میں سڑک کے کنارے بیٹھے مل گئے۔ بھئی کیا کمال کا آدمی اور کمال کا رائٹر ہے۔
اور اب یہ گزشتہ رات کی بات ہے ، تقریباً ساڑھے دس بجے ان کا فون آیا اور کہا ”یہ آپ نے آج کے کالم میں کیا لکھا ہے کہ سیلاب زدگان کے لئے میں نے 42 لاکھ تیرہ ہزار روپے جمع کر لئے ہیں۔ اب میں لالچی ہو گیا ہوں اور میری خواہش ہے کہ یہ رقم پچاس لاکھ ہو جائے۔ آپ نے اس یقین کا اظہار بھی کیا ہے کہ ایسا ضرور ہو گا!“ میں نے جواب دیا ”میں نے لکھا تو ہے لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟“ بولے ”دیکھنا کیا ہے ، باقی پیسے میں دے رہا ہوں“۔اور اس وقت سات لاکھ 67 ہزار روپے کا چیک میرے سامنے پڑا ہے۔ کیونکہ کالم کی اشاعت کے بعد مزید بیس ہزار روپے کا عطیہ موصول ہو گیا تھا اور میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے مسلسل چونکانے والا بابا یحییٰ خاں واقعی کوئی جیتا جاگتا شخص ہے یا کوئی افسانوی کردار ہے؟ یہ بھی مجھے کسی ”بابے“ ہی سے پوچھنا پڑے گا۔

Monday, November 21, 2011

زندگی یا موت

روزن دیوار سے ۔ بشکریہ روزنامہ جنگ

بہت دنوں سے اپنے بزرگ دوست باباخدابخش سے میری ملاقات نہیں ہوئی تھی چنانچہ گزشتہ روز وقت نکال کر میں ڈیفنس میں واقع ان کے گھر گیا۔ بابا جی ایک سرکاری دفترسے بطور ہیڈکلرک ریٹائرہوئے تھے۔انہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی چنانچہ اس وقت ان کے چاروں بیٹے اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہیں اورحق حلال کی کمائی سے بہت آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ باباجی کی خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ ان کی اولاد ان سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔انہوں نے نہ صرف باباجی کو زندگی کی تمام سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں بلکہ اپنے دفتروں سے واپسی پر وہ اچھا خاصا وقت بھی ان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ باباجی کی دو ستیاں ابھی تک ان کی غربت کے زمانے کے لوگوں کے ساتھ ہیں اور اس گھرمیں انہیں بھی عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ بابا خدابخش اس وقت 90 کے پیٹے میں ہیں۔ بہت سے عارضوں میں مبتلا ہیں لیکن ان کی خوش مزاجی اور زندگی سے تعلق میں کوئی کمی نہیں آئی۔
میں جب ان کی طرف گیا وہ اس وقت لان میں حقے کی ”نڑی“ منہ میں دبائے بیٹھے تھے۔ ان کاپوتا اپنے ایک دوست کے ساتھ ربڑ کی گیند سے کرکٹ کھیل رہا تھااور وہ بہت دلچسپی سے انہیں کھیلتے دیکھ رہے تھے۔بابا خدابخش نے مجھے دیکھا تو اُٹھ کر مجھ سے معانقہ کیا اور پوتے سے ”چائے وغیرہ“لانے کے لئے کہا۔ چائے کے ساتھ ”وغیرہ“ کا لفظ اداکرتے ہوئے ہنسے اورپوتے کو ہدایت کی کہ اس ”وغیرہ“میں بہت کچھ ہونا چاہئے۔ میں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے ان کا حال احوال دریافت کیا تو بولے ”اللہ کاشکر ہے، بہت اچھی گزر رہی ہے؟“ میں نے کہا ”بابا خدا بخش ! ایک بات تو بتاؤ!“ وہ بولے ”تمہاری بات کا جواب بعد میں دوں گا تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم مجھے بابا کہنے سے باز نہیں رہ سکتے؟“ میں نے جواب دیا ”ٹھیک ہے برخوردارآئندہ آپ کے حکم کی تعمیل ہوگی مگر یہ بتائیں کہ آپ سارا دن گھر پر رہتے ہیں۔ آپ کی کوئی مصروفیت نہیں ہے۔ آپ بور نہیں ہوتے؟“ ہنس کر بولے ”یہ تم سے کس نے کہا کہ میری کوئی مصروفیت نہیں ہے، مجھے تو سر کھجانے کا ٹائم نہیں ملتا!“ یہ سن کر میں بہت حیران ہوا اور پوچھا ”وہ کیسے؟“ بولے ”صبح اٹھتا ہوں نماز پڑھتا ہوں ، پھر ناشتہ کرتاہوں اور اس کے بعد میرے معمولات شروع ہوجاتے ہیں!“ میں نے کہا ”میں انہی معلومات کے بارے ہی میں تو جاننا چاہتا ہوں۔“ بابا خدابخش یہ سن کر مسکرائے اور بولے ”میں اپنی دوائیوں کا تھیلا نکالتا ہوں۔ پہلے بلڈپریشر کی گولی لیتاہوں اس کے علاوہ شوگر کی گولی لینا ہوتی ہے۔ پھر تین مختلف قسم کے آئی ڈراپس ہیں جوتھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد آنکھوں میں ڈالنا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سانس کی تکلیف بھی ہے گھر میں نیبالائز کرنے کی مشین رکھی ہوئی ہے چنانچہ پندرہ منٹ نیبالائز کرتاہوں، سانس ٹھیک ہوتا ہے تو فزیوتھراپسٹ آجاتاہے۔ وہ 45 منٹ تک گھٹنوں کی فزیوتھرپی کرتا ہے۔ مجھے تو کچھ سوچنے کاوقت بھی نہیں ملتا، زندگی بہت مصروف ہے“ میں نے حیرت سے باباخدابخش کی طرف دیکھا۔ یہ کیا عجیب شخص ہے۔ اتنی ڈھیر ساری بیماریوں نے بھی اس سے زندہ رہنے کی امنگ نہیں چھینی۔ یہ اسی طرح خوش و خرم نظر آ رہاہے جیسا اسے میں کئی برسوں سے دیکھ رہاہوں۔
اتنے میں اس کاپوتا ایک ٹرالی میں چائے اور بہت سا ”وغیرہ“ دھرے ہمارے پاس آیا۔ میں نے کہا ”بیٹے تم نے زحمت کیوں کی؟ کسی ملازم سے کہہ دیا ہوتا!“ پوتے نے جواب دیا ”انکل ہمارے ابو نے کہا ہوا ہے کہ بابا کے دوستوں کے لئے یہ کام ہمیشہ خود کرو۔“ ان لمحوں میں ، میں نے بابا خدابخش کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر ایسی طمانیت تھی جیسے انہیں زندگی بھر کی مشقتوں کا صلہ مل گیا ہو! بابا خدا بخش اور اپنے لئے چائے بناتے ہوئے میں نے بابا کو ایک بارپھر مخاطب کیا اور کہا ”یہ تو آپ کی دوپہر تک کی مصروفیات تھیں شام کو کیاکرتے ہیں؟“ بابا نے کہا ”خدا کے فضل سے شام بھی بہت اچھی گزرتی ہے۔ دوپہر کی نیند پوری کرنے کے بعد عصر کی نماز پڑھتا ہوں، مسجد میں نمازیوں سے گپ شپ کرتا ہوں۔ اس کے بعد گھر آ کر ایک بار پھر دوائیوں کا کورس دہراتاہوں، فزیوتھراپسٹ شام کوبھی آتاہے۔ رات کو نیبالائز بھی کرناہوتاہے۔ بیٹوں اور بہوؤں سے گپیں ہانکتا ہوں۔ پوتوں پوتیوں سے کھیلتا ہوں۔رات کو کافی دیر تک کھانسی کا کورس بھی کرنا ہوتاہے۔ کبھی وقت ملے تو آ کردیکھنا میں کتنے ردھم سے کھانستا ہوں، بس اس مترنم کھانسی کے دوران نیند آجاتی ہے، اللہ کاشکر ہے وقت بہت اچھا گز ر رہا ہے۔“
میں اس وقت اپنے گھر میں بیٹھاہوں اور سوچ رہاہوں کہ یہ بابا خدابخش کیا چیزہے۔ یہ کتنے محاذوں پر کتنی دلیری سے لڑ رہاہے، کتنی ہی بیماریاں اسے لاحق ہیں لیکن یہ ان کے سامنے پسپائی اختیار کرنے کی بجائے ادویات کے ذریعے نہ صرف یہ کہ انہیں زیر کرنے میں لگا ہوا ہے بلکہ اس کے لہجے میں تھکاوٹ کے آثار بھی نہیں ہیں۔ مایوسی اور ناامیدی بھی نظر نہیں آتا۔ یہ گرنبل بھی نہیں کرتا۔ نہ صرف یہ کہ بابا خدا بخش خود حوصلہ مند ہے بلکہ اپنے عمل سے دوسروں کو بھی بلند حوصلگی کا درس دیتا نظر آتاہے، میں نے سوچاہم پاکستانی بہت بری طرح حالات کی زد میں آئے ہوئے ہیں ہر طرف سے پریشان کن خبریں آ رہی ہیں جوکہ ناامیدی او ر مایوسی پیداکرنے والی ہیں چنانچہ ہم یہ خبریں پوری پژمردگی کے ساتھ ایک دوسرے سے Share کرتے ہیں اور حالات کا پامردی سے مقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی ناامیدی اورمایوسی میں اضافہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم زندگی سے بیزار ہوتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں زندگی بھی ہم سے بیزار نظر آنے لگی ہے۔ میں سوچ رہاہوں کہ آج کی صورتحال کامقابلہ پوری پامردی سے کرنے میں ہماری نجات ہے یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے، ایڑیاں رگڑنے اور موت کا انتظار کرنے کو ہم اپنے لئے بہتر سمجھتے ہیں۔ ایک دن میں نے بابا خدا بخش سے بھی یہ سوال کیاتھا جس کاجواب انہوں نے جوگی جہلمی کے ایک پنجابی شعر کی صورت میں دیا تھا جس کا مفہوم ہے کہ زندگی اور موت دونوں کاتعلق آپ کی سوچ سے ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ زندہ ہیں توزندہ ہیں اور اگر آپ خود کو مردہ سمجھنے لگے ہیں تو مردہ ہیں چنانچہ یہ فیصلے کا وقت ہے زندگی او ر موت میں سے ہم نے اپنے لئے کس کا انتخاب کرناہے؟

اس کالم کے بعد "کچھ موت کے بارے میں" لکھا گیا۔

Saturday, November 19, 2011

موت کے بارے میں

روزن دیوار سے - بشکریہ روزنامہ جنگ
یہ کالم "زندگی اور موت" کے بعد لکھا گیا ہے

انیس یعقوب ویسے تواعلیٰ درجے کے مصور ہیں تاہم میرے کالم کے قارئین انہیں ان کے ”ملغوظات“ کے حوالے سے جانتے ہیں جو میں اپنے دو کالموں میں شائع کر چکا ہوں، ان کے جملوں کو میں نے ”ملغوظات“ اس لئے قرار دیا ہے کہ کچھ عرصے سے ”کمسنی“ کے باوجود ان کے چہرے پرسفید لمبی داڑھی نظر آرہی ہے ذیل میں ان کے تازہ ”ملغوظات“ درج کررہا ہوں مگراس سے پہلے ان کا خط بھی آپ کی نظروں سے گزرنا چاہئے تاکہ ان ”ملغوظات“ کا پس منظر آپ پرواضح ہوسکے، سو یہ دونوں تحریریں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ 
سلام مسنون!
اللہ آپ کو لمبی عمر عطا کرے۔ آمین
موت سے متعلق آپ کے زندگی سے بھرپور چند کالم پڑھ کر یوں لگا کہ پاکستان جو کہ موضوعات کے حوالے سے ساری دنیا میں سب سے زیادہ ”فرٹائل” میں موضوعات کا اچانک قحط پڑ گیا ہے جو آپ موت جیسے ”غیر مطلوب’“ موضوع کے پیچھے ہوگئے اور موت بھی کسی دشمن کی نہیں بلکہ آپ کی اپنی اور ذاتی۔ یہ تعزیتی کالموں کی وہ قسم ہے جورلاتی نہیں بلکہ حسِ لطیف کوگدگداتی ہے۔ بہرحال کالم پڑھ کر منہ میں پہلے موت کا اور پھر زندگی کا ذائقہ محسوس ہوا۔ موت سے پہلے مرنے کی بات کوئی جیتا جاگتا، زندہ دل ہی کرسکتا ہے ورنہ آپ ادھر موت کا ذکر کریں ادھر جھٹ کوئی چیخ اٹھتا ہے کہ ارے! یہ کون سا ”منحوس“ موضوع پھیڑ دیا۔ کوئی خیر کی بات کرو۔ میں اگر ادارتی صفحے کا ایڈیٹر ہوتا تو کالم کا عنوان ”آہ“ کی بجائے ”واہ’“ کر دیتا، بہرحال آپ کے مرنے کی فل ڈریس ریہرسل کا احوال پڑھ کر مجھے بااختیار اپنے چند ”جملہ مضامین“ یاد آگئے جو موت اور زندگی سے ہی متعلق ہیں، امید ہے پسند فرمائیں گے۔ 

کوشش کرنے سے نیند آتی ہے اوربغیر کوشش کے موت۔ 

موت سے نہ ڈرو کہ یہ ایک بار ہی آتی ہے، زندگی کی فکر کرو کہ یہ دوبارہ ملنے والی ہے۔

عین اس لمحے جب میں نے جانا کہ مجھے جینے کا سلیقہ آگیا، موت نے دروازے پر دستک دی۔

موت کا ذائقہ ہر کوئی چکھتا ہے لیکن زندگی کی لذت سے ہر کوئی آشنا نہیں ہوتا۔ 

وہ موت کو مجسم دیکھنے کا آرزومند تھا، تب اس کی ملاقات ایک بیمہ ایجنٹ سے ہوگئی۔

میت نے قبر میں اترتے ہوئے کوئی مزاحمت نہ کی جبکہ اس کی یادوں نے دفن ہونے سے انکارکر دیا۔ 

جنازے میں شامل ہرشخص موبائل فون پربات کر رہا تھا سوائے میت کے۔ 

بعض لوگ اخباری خبروں کی وجہ سے زندہ ہیں اور بعض خبریں لگوانے کے لئے مر رہے ہیں۔

میت کو دفنانے کے لئے چند فٹ جگہ درکار تھی جبکہ اس کی خواہشات کو دبانے کے لئے سارا قبرستان کم پڑ گیا۔

بعض لوگوں کی اجلا اورمعطر لباس پہننے کی آرزو مرنے کے بعد پوری ہوتی ہے۔

اگر کفن کا رنگ مرنے والے کے کردار کی مناسبت سے ہوتا تو بیشتر لوگوں کے کفن کارنگ کالا ہوتا۔

موت کا مقابلہ کرنے کے لئے زندگی بڑا کمزور ساتھی ہے۔

ضروری نہیں کہ موت ہرشخص کو مارے، کچھ لوگ پہلے ہی مرے ہوتے ہیں۔

تعجب ہے کہ موت کا مسافر اپنے آپ کو شاہراہ حیات کاشاہسوارسمجھ رہا ہے۔

عورتیں اپنا سادہ ترین لباس مرنے کے بعد پہنتی ہیں۔

موت اگربتاکر آتی تو پھر بھی ہمارے بیشتر کام ادھورے رہ جاتے۔

نیند توسولی پر بھی آجاتی ہے… لیکن ابدی نیند!

عورت مرنے کے بعد اور مرد شا دی کے بعد خاموش ہوتا ہے۔

 مرنا فطری طورپر سب کو آتا ہے جبکہ زندہ رہنے کے گرسیکھنا پڑتے ہیں۔

موت کو سب راستوں کا پتہ ہے، گویا وہ ہر ہسپتال کو جانتی ہے۔ 

زندگی اجتماعی اورموت انفرادی ہوتی ہے۔ 

اجتماعی خودکشی کرنے والوں کو حساب انفرادی یہی دینا ہوگا۔ 

موت اگر مانگنے سے ملتی تو غریبوں کی بستیوں میں اُلّو بول رہے ہوتے۔ 

مرنے کے بعد جی اٹھنے پر میرا ایمان ہے لیکن سونے کے بعد جاگنے پر نہیں۔ 

تکمیل خواہش کی جستجو میں اسے موت مل گئی حالانکہ موت اس کی ”وش لسٹ“ میں شامل نہ تھی۔ 

پھانسی گھاٹ پر لکھا تھا: ”پہلے آیئے، پہلے پائیے“۔ 

نہ تو ہر زندگی کارآمد ہوتی ہے اور نہ ہی ہر موت بے فائدہ۔ 

وہ تعریفی کلمات جو ان کی موت کے بعد کہے گئے اگر پہلے کہے جاتے تو مرحوم آج ز ندہ ہوتے۔ 

اگرخواہشات نے اسے مار نہ دیا ہوتاتو وہ مزید خواہشات کرتا۔

مہلک حادثے نے اسے مار نہ دیا ہوتا تو وہ مزید خواہشات کرتا۔ 

موت پیچھے سے وار کرتی اور زندگی سامنے سے حملہ آورہوتی ہے۔ 

شہر حیات کی جس شاہراہ پرنکل جائیں آگے "DEADEND"کا بورڈ نظر آئے گا۔ 
دولت مند موت سے اور غریب زندگی سے گھبراتا ہے۔ 

بیشتر انسانی ضمیر انسان سے پہلے مر جاتے ہیں لیکن انہیں دفن انسان کے مرنے پرہی کیا جاتا ہے۔ 

عجیب بات ہے کہ ایک آدھ کو مارنے والا قاتل اور لاتعداد افراد کو موت کی نیند سلانے والا فرشتہ کہلاتا ہے۔ 

وہ شخص خودکشی کی پہلی کوشش میں ہی کامیاب ہوگیا جسے زندگی کے ہر کام میں باربار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 

بیشتر مرنے والے ترکے میں قرض خواہوں کی لسٹ کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑتے۔ 
عزت سے جینا آرٹ اورعزت سے مرنا فائن آرٹ کہلاتا ہے۔ 

قدموں کی چاپ سے وہ آنے والے کوپہچان لیتا تھا، افسوس کہ موت کی آمد کاا سے پتہ نہ چلا۔ 

سوتے ہوئے لگتاہے جیسے مرنے کی تیاری کررہا ہوں جبکہ مرتے ہوئے ممکن ہے سونے جتنا تردد نہ کرنا پڑے۔ 

بعض لوگ بعض لوگوں کے لئے بیماریاں ہیں اور بعض بیماریوں کا علاج صرف موت ہے۔ 

بعض لوگوں کو ڈوب مرنے کے لئے چلو بھر کافی ہوتا ہے اوربعض کوزندہ رہنے کے لئے۔

انسان کے لئے مچھر کو مارنا جتنا آسان تھا اب مچھر کے لئے بھی انسان کو مارنا اتنا ہی آسان ہوگیا۔ 

اگر یہ درست ہے کہ چیزیں ضرورت پڑنے پریاد آتی ہیں توموت تومیری ضرورت نہیں۔ 

غریب مرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے جبکہ امیر زندگی کی کوئی بھی قیمت دینے کو تیار ہے۔ 

موت کبھی کسی کاپتہ نہیں پوچھتی جبکہ زندگی اکثر راستہ بھول جاتی ہے۔ 

جو شخص مرنے کے لئے تیار نہیں وہ یقینا بغیر تیاری کے زندگی بسر کر رہا ہے۔