Pages

Showing posts with label کرشن چندر. Show all posts
Showing posts with label کرشن چندر. Show all posts

Thursday, February 23, 2012

پانی کا درخت

جہاں ہمارا گاؤں ہے اس کے دونوں طرف پہاڑوں کے روکھے سو کھے سنگلاخی سلسلے ہیں۔مشرقی پہاڑوں کا سلسلہ بالکل بے ریش وبرودت ہے۔اس کے اندر نمک کی کانیں ہیں۔مغربی پہاڑی سلسلے کے چہرے پر جنڈ،بہیکڑ،املتاساور کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں ۔اس کی چٹانیں سیاہ ہیں لیکن ان سیاہ چٹانوں کے اندر میٹھے پانی کے دو بڑے قیمتی چشمے ہیں، اور ان دو پہاڑی سلسلوں کے بیچ میں ایک چھوٹی سی تلہٹی پر ہمارا گاؤں آباد ہے۔ہمارے گاؤں میں پانی بہت کم ہے۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں نے اپنے گاؤں کے آسمان کو تپے ہوئے پایا ہے، یہاں کی زمین کو ہانپتے ہوئے دیکھا ہے اور گاؤں والوں کے محنت کرنے والے ہاتھوں اور چہروں پر ایک ایسی ترسی ہوئی بھوری چمک دیکھی ہے جو صدیوں کی نا آسودہ پیاس سے پیدا ہوتی ہے۔ہمارے گاؤں کے مکان اور آس پاس کی زمین بالکل بھوری اور خشک نظر آتی ہے۔زمین میں باجرے کی فصل جو ہوتی ہے اس کا رنگ بھی بھورا بلکہ سیاہی مائل ہوتا ہے۔یہی حال ہمارے گاؤں کے کسانوں اور ان کے کپڑوں کا ہے۔صرف ہمارے گاؤں کی عورتوں کا رنگ سنہری ہے کیونکہ وہ چشمے سے پانی لاتیں ہیں۔

بچپن ہی سے میری یاد یں پانی کی یادیں ہیں۔ پانی کا درد اور اس کا تبسم اس کاملنا اور کھوجانا۔یہ سینہ اس کے فراق کی تمہید اوراس کے وصال کی تاخیر سے گوداہوا ہے۔مجھے یاد ہے جب میں بہت چھوٹا سا تھا دادی اماں کے ساتھ گاؤں کی تلہٹی کے نیچے بہتی ہوئی رویل ندی کے کنارے کپڑے دھونے کے لیے جایا کرتا تھا۔دادی اماں کپڑے دھوتی تھیں میں انہیں سکھانے کے لیے ندی کے کنارے چمکتی ہوئی بھوری ریت پر ڈا ل دیا کرتا تھا۔اس ندی میں پانی بہت کم تھا۔یہ بڑی دبلی پتلی ندی تھی۔چھریری اور آہستہ خرام جیسے ہمارے سردار پیندا خان کی لڑکی بانو۔ مجھے اس ندی کے ساتھ کھیلنے میں اتنا

ہی لطف آتا تھا۔جتنا بانو کے ساتھ کھیلنے میں ۔دونوں کی مسکراہٹ میٹھی تھی ،اور مٹھاس کی قدروہی لوگ جانتے ہیں جو میری طرح نمک کی کان میں کام کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے ہماری رویل ندی سال میں صرف چھ مہینے بہتی تھی،چھ مہینے کے لیے سوکھ جاتی۔ جب چیت کا مہینہ جانے لگتا تو ندی سوکھنا شروع ہو جاتی اور جب بیساکھ ختم ہونے لگتا تو بالکل سوکھ جاتی،اور پھر اس کی تہہ پر کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے نیلے پتھر رہ جاتے یا نرم نرم کیچڑ جس میں چلنے سے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ریشم کے دبیزغالیچے پر گھوم رہے ہوں ۔چند دنوں میں ہی ندی کا کیچڑ بھی سوکھ جاتا اور اس کے چہرے پر باریک درزوں اور جھریوں کا جال پھیل جاتا ،کسی محنتی کسان کے چہرے کی طرح اس کے ہونٹوں پر خشک پپڑیاں جم جاتیں اور ایسا معلوم ہوتا جیسے اس کی گرم گدازریت نے سالہا سال سے پانی کی ایک بوند نہیں چکھی۔

مجھے یاد ہے پہلی بار جب میں نے ندی کو اس طرح سوکھتے ہوئے پایا تھا تو بے کل ،بے چین اور پریشان ہو گیا تھا،اور رات سو بھی نہ سکا تھا۔اس رات دادی اماں مجھے بہت دیر تک گود میں لے کر عجیب عجیب کہانیاں سناتی رہیں اور ساری رات دادی اماں کی گود میں لیٹے لیٹے مجھے رویل ندی کی بہت سی پیاری باتیں یاد آنے لگیں اس کا ہولے ہولے پتھروں سے ٹھمکتے ہوئے چلنا،اور پتھروں کے ددرمیان سے اس کاذراتیز ہونا اور کترا کر چلنا،جیسے کبھی کبھی بانو غصے میں گلی کے موڑ پر سے تیزی سے نکل جاتی ہے او ر جہاں دو پتھر ایک دوسرے کے بہت قریب ہوئے تھے وہاں میں اور بانو باجرے کی ڈنڈیوں کی بنی ہوئی پن چکی لٹکا دیتے تھے اور گیلا آٹا پساتے تھے۔پن چکی ندی کی آہستہ خرامی کے باوجود کیسے تیز تیز چکر لگاکر گھومتی تھی اور اب یہ ندی سوکھ گئی۔

ان سب باتوں کو یاد کر کے میں نے دادی اماں سے پوچھا: ’

’دادی اماں یہ ہماری ندی کہاں چلی گئی؟‘‘ زمین کے اندر چھپ گئی۔‘‘

’’کیوں؟‘‘ ’’سورج کے ڈر سے‘‘ ’’کیوں ؟یہ سورج سے کیوں ڈرتی ہے؟سورج تو بہت اچھا ہے۔

’’سورج ایک نہیں بیٹا،دو سورج ہیں۔ایک تو سردیوں کا سورج ہے۔وہ بہت اچھا اور مہربان ہوتا ہے۔دوسراسورج گرمیوں کا ہے۔یہ بڑا تیز چمکیلا اور غصے والا ہوتا ہے، اور یہ دونوں باری باری ہر سال ہمارے گاؤں میں آتے ہیں۔

جب تک تو سردیوں کا سورج رہتا ہے ہماری ندی اس سے بہت خوش رہتی ہے،لیکن جب گرمیوں کا ظالم سورج آتا ہے تو ہماری ندی کے جسم سے اس کا لباس اتار نا شروع کرتا ہے۔ہر روز کپڑے کی ایک تہہ اترتی چلی جاتی ہے اور جب بیساکھی کا آخری دن آتاہے تو ندی کے جسم پر پانی کی ایک پتلی سی چادررہ جاتی ہے۔اس رات کو ہماری ندی شرم کے مارے زمین پر چھپ جاتی ہے اور انتظار کرتی ہے سردیوں کے سورج کا جو اس کے لئے اگلے سال پانی کی نئی پوشاک لائے گا۔‘‘

میں نے آنکھ جھپکتے ہوئے کہا:’’سچ مچ گرمیوں کا سور ج تو بہت برا ہے۔‘‘ ’’لواب سوجاؤ بیٹا۔‘‘ مگر مجھے نیند نہیں آرہی تھی ۔اس لئے میں نے ایک اور سوال پوچھا؟’’دادی یہ ہمارے نمک کے پہاڑکا پانی کیوں کڑوا ہے۔‘‘ہمارے گاؤں میں بچے پانی کے لیے بہت سوال کرتے تھے۔پانی ان کے تخیل کو ہمیشہ اکساتارہتا ہے۔دوسرے گاؤں میں،جہاں پانی بہت ہوتا ہے،وہاں کے لڑکے شاید سونے کے جزیرے ڈھونڈتے ہوں گے یا پرستان کا راستہ تلاش کرتے ہوں گے لیکن ہمارے گاؤں کے بچے ہوش سنبھالتے ہی پانی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔اور تلہٹی پر اور پہاڑی پر اور دور دور تک پانی کو ڈھونڈنے کا کھیل کھیلتے ہیں میں نے بھی اپنے بچپن میں پانی کو ڈھونڈا تھا اور نمک کے پہاڑ پر پانی کے دو تین نئے چشمے دریافت کئے تھے۔مجھے آج تک یاد ہے میں نے کتنے چاؤ اور خوشی سے پانی کا پہلا چشمہ ڈھونڈا تھا ،کس طرح کا نپتے ہوئے ہاتھوں سے میں نے چٹانوں کے درمیان سے جھجھکتے ہوئے پانی کو اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں کا سہارا دے کر باہر بلایا تھا اور جب میں پہلی بار اسے اوک میں لیا تو پانی میرے ہاتھ میں یوں کانپ رہا تھا جیسے کوئی گرفتار چڑیا بچے کے ہاتھوں میں کانپتی ہے۔پھر جب میں اسے اوک میں بھر کر اپنی زبان تک لے گیا تو مجھے یاد ہے میری کانپتی ہوئی خوشی کیسے تلخ بچھومیں تبدیل ہو گئی تھی ۔پانی نے زبان پر جاتے ہی بچھوکی طرح ڈنگ مارا اور اس کے زہر نے میری روح کو کڑوا کر دیا۔میں نے پانی تھوک دیا اور پھر کسی نئے چشمے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ،لیکن نمک کے پہاڑ پر مجھے آج تک میٹھا چشمہ نہ ملا ۔اس لئے جب ندی سوکھنے لگی تو میٹھے چشمے کی یاد نے مجھے بے چین کر دیا ۔اور میں نے دادی اماں سے پوچھا:

’’دادی ماں یہ نمک کے پہاڑ کا پانی کڑوا کیوں ہے؟‘‘

دادی اماں نے کہا۔’’یہ تو ایک دوسری کہانی ہے۔‘‘ ’’تو سناؤ۔‘‘ ’’نہیں اب سو جاؤ۔‘‘ میں چیخا:’’نہیں سناؤ۔‘‘

’’اچھا بابا سناتی ہوں،مگر تم اب چیخو گے نہیں۔‘‘

’’نہیں‘‘

’’اور نہ ہی بیچ بیچ میں ٹوکو گے۔‘‘ ’’نہیں‘‘

’’اچھا تو سنو۔یہ تم اس طرف نمک کی پہاڑی جو دیکھتے ہو یہ پرانے زمانے میں ایک عورت تھی جو اس پہاڑ کی بیوی تھی ،جہاں آج کل میٹھے پانی کا چشمہ ہے۔‘‘ ’’پھر‘‘

’’پھر ایک روز دیووں میں بڑی جنگ چھڑی اور یہ سامنے پہاڑ بھی جو اس عورت کا خاوند تھا،جنگ میں بھرتی ہو گیا اور بیوی کو پیچھے چھوڑ گیا اور سے کہہ گیا کہ وہ اس کے آنے تک کہیں نہ جائے ،نہ کسی سے بات کرے،صرف اپنے گھر کا خیال کرے۔‘‘

’’اچھا‘‘ ’’ہاں ۔پھرکئی سال تک بیوی اپنے دیو خاوند کا انتظار کرتی رہی لیکن اس کا خاوند جنگ سے نہ لوٹا۔ آخر ایک دن اس کے گھر میں ایک سفید دیو آیا اور اس پر عاشق ہو گیا۔‘‘

’’عاشق کیا ہوتا ہے۔‘‘ دادی اماں رک گئیں،بولیں:تو نے پھر ٹوکا۔’’میں نے دل میں سوچا:دادی اماں اگر خفا ہو گئیں تو باقی کہانی سننے کو نہیں ملے گی اور کہانی اب دلچسپ ہوتی جا رہی ہے اس لیے چپکے سے سن لینا چاہیے عاشق کا مطلب بعد میں پوچھ لیں گے۔اس لیے میں نے جلدی سے سوچ کر دادی ماں سے کہا۔’’اچھا اچھا ،دادی اماں آگے سناؤ،اب نہیں ٹوکوں گا۔‘‘

دادی امان رکھائی سے اس طرح خفا ہو کے بولیں جیسے انہیں کہانی کا آگے آنے والا حصہ پسند نہیں ہے۔کہنے لگیں:’’ہونا کیا تھا،مغربی پہاڑی کی بیوی بے وفا نکلی۔جب اسے سفید دیو نے جھوٹ موٹ یقین دلادیا کہ اس کا پہلا خاوند دیو وں کی جنگ میں مارا گیا ہے تو اس نے سفید دیو سے شادی کر لی۔‘‘

’’دیووں کی جنگ کیوں ہوتی تھی؟’’میرے منہ سے بے اختیا ر نکل گیا۔‘‘

’’تو نے پھر ٹوکا۔‘‘دادی اماں بہت خفا ہو کے بولیں ’’چل اب آگے نہیں سناؤں گی۔‘‘نہیں دادی اماں میری اچھی دادی اماں اچھا اب بالکل نہیں ٹوکوں گا ۔‘‘میں نے منت سماجت کر تے ہوئے کہا۔

’’پھر؟‘‘ ’’پھر ایک دن بہت سالوں کے بعد ایک بوڑھا دیواس وادی میں آیا۔یہ اسی عورت کا پہلا خاوند تھا۔جب ا س نے اپنی بیوی کو سفید دیو کے ساتھ دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا اور اس نے کلہاڑا لے کر سفید دیو اور اپنی بیوی کو قتل کر دیا ۔جب سے ان دونوں دیوؤں کو بڑے پیر کی بددعاملی ہے اور یہ لوگ سل پتھر ہو گئے۔ سامنے والے پہاڑکا پانی اس لیے میٹھا ہے کیونکہ اسے اپنی بیوی سے سچی محبت تھی۔اس کے مقابل پہاڑ کا پانی کھاراہے اور اس میں نمک ہے کیونکہ وہ عورت ہے اور اپنی بے وفائی پر ہر وقت روتی رہتی ہے۔اور جب اس کے آنسو خشک ہوجاتے ہیں تو نمک کے ڈلے بن جاتے ہیں ،جنہیں ہر روز تمہارا باپ پہاڑ کے اندر کھود کے نکالتا ہے۔‘‘

’’پھر؟‘‘ ’’پھر کہانی ختم۔‘‘

کہانی ختم ہو گئی اور میں بھول گیا کہ میں نے کیا سوال کیا تھا۔مجھے کیا جواب ملا۔ میں نے کہانی سن لی،اطمینان کا سانس لیا اور پلک جھپکتے ہی سو گیا۔سوتے سوتے میری آنکھوں کے سامنے نمک کی کان کا منظر آیا، جہاں میرے ابا کام کرتے تھے،جہاں جوان ہوکر مجھے کام کرنا پڑا اور جہاں پہلی بار میں اپنی اماں کے ساتھ اپنے ابا کا کھانا لے کر گیا تھا۔افوہ!کتنی بڑی کان تھی وہ چاروں طرف نمک کے پہاڑ نمک کے ستون ،نمک کے آئینے نمک کی دیواروں میں لگے ہوئے تھے۔ایک جگہ نمک کی آبی جھیل تھی جس کے چاروں طرف نیلگوں دیواریں تھیں اور چھت بھی نمک کی تھی جس سے قطرہ قطرہ کر کے نمک کا پانی رستا تھا اور نیچے گر کر جھیل بن گیا تھا اور یکا یک مجھے خیال آیا یہ اس عورت کے آنسو میں جو بڑے پیر کی بددعا سے نمک کا پہاڑ بن چکی ہے۔میرے ابا اس جھیل کو دیکھ کر بولے:’’یہاں اس قدر پانی ہے پھر بھی پانی کہیں نہیں ملتا۔دن بھر نمک کی کان میں کام کرتے کرتے سارے جسم پر نمک کی پتلی سی جھلی چڑھ جاتی ہے جسے کھر چوتو نمک چوراچورا ہو کر گرنے لگتا ہے۔ اس وقت کس قدروحشت ہوتی ہے۔جی چاہتا ہے کہیں میٹھے پانی کی جھیل ہو اور آدمی اس میں غوطے لگا تا جائے۔‘‘

’’پانی !پانی!

پانی سارے گاؤں میں کہیں نہیں تھا۔ پانی نمک کے پہاڑ پر بھی نہیں تھا۔ پانی تھا تو سامنے پہاڑ پر جس کی محبت میں بے وفائی نہیں کی تھی۔یا پانی پھر رویل ندی میں تھا۔ لیکن یہ ندی بھی چھ مہینے غائب رہتی تھی اور پھر آخر ایک دن یہ بالکل غائب ہو گئی اور آج تک اس کے نیلے پتھر اور سوکھی ریت اور اس کے کنارے کنارے چلنے والی عورتوں کے نااُمید قدم اس کی راہ تکتے ہیں۔لیکن یہ میرے بچپن کی کہانی نہیں ہے،یہ میرے لڑکپن کی کہانی ہے۔جب ہمارے گاؤں سے بہت دوران پہاڑی سلسلوں کے دوسری طرف سینکڑوں میل لمبی جاگیر کے مالک راجہ اکبر علی خان نے ہمارے دیہات والوں کی مرضی کے خلاف رویل ندی کا بہاؤ موڑ کر اپنی جاگیر کی طرف کرلیا اور ہماری تلہٹی کو او ر آس پاس کے بہت سارے علاقے کو سوکھا ،بنجر اور ویران کردیا۔ اس وقت ندی کے کنارے ہمارا گاؤں اور اس وادی کے اور دوسرے بہت سے گاؤں پریشان ہو گئے۔اس طرح ہمارے لئے رویل ندی مر گئی اور اس کا پانی بھی مر گیا اور ہمارے لئے ایک تلخ یاد چھوڑ گیا۔مجھے یاد ہے اس وقت گاؤں والوں نے دوسرے گاؤں والوں سے مل کر سرکار سے اپنی کھوئی ہوئی ندی مانگی تھی کیونکہ ندی تو گھر کی عورت کی طرح ہے۔وہ گھر میں پانی دیتی ہے،کھیتوں میں کا م کرتی ہے،ہمارے کپڑے دھوتی ہے جسم کو صاف رکھتی ہے۔ندی کے گیت اس کے بچے ہیں۔

جنہیں وہ لوری دیتے ہوئے ،تھپکتے ہوئے مغرب کے جھولے کی طرف لے جاتی ہے۔ پانی کے بغیر ہمارا گاؤں بالکل ایسا ہے جیسے گھر عورت کے بغیر گاؤں والوں کو بالکل ایسا معلوم ہوا جیسے کسی نے ان کے گھر سے ان کی لڑکی اغوا کر لی ہو۔وہی غم،وہی غصہ تھا،وہی تیور تھے،وہی مرنے مارنے کے انداز تھے۔لیکن راجہ اکبرعلی خاں چکوال کے علاقے کا سب سے بڑا زمیندار تھا۔ حکومت کے افسروں کے ساتھ اس کا گہرا اثرورسوخ تھا ۔نمک کی کان کا ٹھیکہ بھی اس کے پاس تھا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ گاؤں والوں کو ان کی ندی واپس نہ ملی،الٹا ہمارے بہت سے گاؤں والے ،جو نمک کی کان میں کام کرتے تھے، باہر نکال دیئے گئے۔ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے گاؤں کے اغوا شدہ پانی کو واپس بلانے کی جرات کی تھی۔مجھے یاد ہے اس روزابا کانپتے کانپتے گھر آئے تھے۔ ان کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا اور بار بار اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہتے:توبہ توبہ ! کیسی غلطی ہوئی۔وہ تو اللہ کا کام تھا کہ میں بچ گیا ورنہ راجہ صاحب مجھے نکال دیتے،میں تو اب کبھی راجہ کے خلاف عرضی نہ دوں ،چاہے وہ پانی کیا میری لڑکی ہی کیوں نہ اغوا کر کے لے جائیں ۔توبہ توبہ! اور یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے گاؤں میں پانی کی عزت لڑکی کی طرح بیش قیمتی ہے۔پانی جو زندگی دیتا ہے۔ پانی جو رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ پانی ،جو منہ دھونے کو نہیں ملتا۔ پانی ،جس کے نہ ہونے سے ہمارے کپڑے بھورت اور میلے رہتے ہیں ،سرمیں جوئیں ،جسم پر پسینے کی دھاریاں اورروح پر نمک جما رہتا ہے۔یہ پانی تو سونے سے زیادہ قیمتی ہے اور لڑکی سے زیادہ حسین ۔اس کی قدر اور قیمت ہمارے گاؤں والوں سے پوچھئے جن کی زندگی پانی کے لئے لڑتے جھگڑتے گزرتی ہے۔ ایک دفعہ سامنے کے پہاڑ کے میٹھے چشمے سے پانی لانے کے لئے سور خان کی بیوی سیداں اور ایوب خاں کی بیوی عائشاں دونوں آپس میں لڑ پڑی تھیں حالانکہ دونوں اتنی گہری سہیلیاں تھیں کہ ہر وقت اکٹھی رہتیں ،گھر بھی ان کے ساتھ ساتھ تھے۔چشمے پر بھی پانی اکٹھے ہی لینے جاتی تھیں ۔پہلے ایک پھر دوسری پانی بھرتی۔باری باری وہ دونوں ایک دوسرے کا گھڑا اٹھا کے سر پر رکھتیں اور پھر باتیں کرتیں ہوئی واپس چل پڑتیں۔ لیکن آج نہ جانے کیا ہوا،آج جانے دونوں کو کیا جلدی تھی۔ ایک کہتی پہلے پانی میں بھروں گی ،دوسری کہنے لگی نہیں میں بھروں گی۔شاید انہیں غصہ ایک دوسرے کی خلاف نہیں تھا۔ شاید غصہ انہیں اس لیے تھا کہ یہاں میٹھے پانی کا ایک ہی چشمہ تھا جہاں ندی کے سوکھ جانے کے بعد دورسے دوسرے لوگ پانی لینے کے لئے آتے تھے۔

منہ اندھیرے ہی عورتیں گھڑا لے کے چل پڑتیں۔جب یہاں پہنچتیں تو لمبی لائن پہلے سے موجود ہوتی یا چشمے کے منہ سے ایک ایسی پتلی سی دھار کو نکلتے دیکھتیں جو آدھے گھنٹے میں مشکل سے ایک گھڑا بھرتی تھی۔اور تین کوس کا آنا جانا قیامت سے کم نہ تھا۔ لڑائی کی وجہ کچھ بھی ہو اصلی لڑائی پانی کی تھی۔ دونوں عورتوں نے دیکھتے دیکھتے ایک دوسرے کے چہرے نوچ لئے ،گھڑے توڑ دیے،کپڑے پھاڑ ڈالے اور پھر روتی ہوئی اپنے اپنے گھروں کو گئیں ۔تب سیداں نے سرورخاں کو بھڑکایا اور عائشاں نے ایوب خاں کو۔

دونو ں خاوند غصے سے بے تاب ہو کے کلہاڑیاں لے کے باہر نکل پڑے اور پیشتر اس کے کہ لوگ آکے بیچ بچاؤ کریں دونوں نے کلہاڑیوں سے ایک دوسرے کو ختم کر دیا۔شام ہوتے ہوتے دونو ں ہمسایوں کا جنازہ نکل گیا ۔ہمارے گاؤں کے قبرستان کی بہت سی قبریں پانی نے بنائی ہیں۔میرے لڑکپن کے زمانے میں جب دوقتل ہوئے اس وقت سامنے کے پہاڑ پر ایک ہی میٹھے پانی کا چشمہ تھا لیکن بعد میں جب میں اور بڑا ہو اتو یہاں ایک اور چشمہ بھی نکل آیا۔ اس نئے چشمے کی داستان بھی بڑی عجیب ہے۔ یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب ہمارے پوٹھوہار میں سخت کال پڑا تھا اور گرمی کی وجہ سے علاقے کے سارے ندی نالے اور کنویں سوکھ گئے تھے۔

صرف کہیں کہیں ان چشموں میں پانی رہ گیا تھا ۔ ان دنوں ہمارے گھروں میں عورتیں رات کے دوبجے ہی اٹھ کے چل دیتیں اور چشمے کے نیچے ہمیشہ گھڑوں کی ایک لمبی قطار جس میں سے پیاس سے بلکتے ہوئے بچوں کی صدا آتی تھی۔

اس زمانے میں بڑے بڑے لوگ نیکی اور خدائی سے منحرف ہو گئے اور ان لوگوں میں سب سے براکام ذیلدار ملک خاں نے کیا۔ اس نے تھانیدار فضل علی سے مل کے اس چشمے پر پولیس کا پہرہ لگا دیا اور پھر تحصیل دار غلام نبی سے مل کے چشمے کے ارد گرد کی ساری زمین خرید کر راتوں رات اس پر ایک چاردیواری باندھ دی اور چاردیواری کے باہر تالا لگا دیا۔اب اس چشمے سے کوئی آدمی بلا اجازت پانی نہ لے سکتا تھا کیونکہ اب یہ چشمہ ذیلدارکی ملکیت تھا،اور اس نے چشمے سے پانی لے جانے والے گھڑوں پر اپنا ٹیکس رکھ دیا ۔

ایک گھڑے پر ایک آنہ دو گھڑوں پر دو آنے۔تب سارے گاؤں میں ظلم کے خلاف شور مچ گیا۔لیکن پولیس سردارذیلدار ملک خاں کی حمایت میں تھی ،قانون بھی اس کی طرف تھا اور جدھر قانون تھا پانی بھی ادھر تھا۔اس لئے گاؤں کے سارے جوان اور بڈھے اور بچے جمع ہو کے میرے ابا کے پاس آئے اور بولے؟’’چچا خدابخس اب تم ہی ہمیں اس مصیبت سے نجات دلوا سکتے ہو۔‘‘ ’’وہ کیسے ؟‘‘ میرے ابا نے حیران ہو کے سوال پوچھا۔سفید ریش بڈھے حاکم خاں نے کہا ؟’’یاد ہے یہ میٹھے پانی کا چشمہ،جواب ذیلدار ملک خاں کا ہو گیا،یہ چشمہ بھی تم نے دریافت کیا تھا ۔کیاتم دوسراچشمہ نہیں ڈھونڈ سکتے؟ آخر اس پہاڑ کے اندر،اس کے سینے میں اور بھی تو کہیں میٹھا پانی ہو گا جو انسان کو آب حیات بخش سکتا ہے۔خدا بخش تم ہم سب سے قابل ہو۔

اپنی عقل دوڑاؤ ہم تمہارے ساتھ مرے مارنے کو تیار ہیں۔ہمارے گاؤں میں پانی نہیں ہے اور اب پانی چاہیے۔‘‘

میرا باپ چارپائی پر اکڑوں بیٹھا تھا۔ اسی وقت اللہ کا نام لے کر اٹھ کھڑا ہوا ۔سارا گاؤں اس کے ساتھ تھا ۔ پہاڑ پر چڑھائی تھی اور تلاش پانی کی تھی۔فرہاد کی کوہ کنی سے پانی کی تلاش مشکل ہے،یہ بات مجھے اس روز معلوم ہوئی کیونکہ پانی سامنے نہیں ہوتاوہ تو ایک چھلاوے کی طرح پہاڑکی سلوٹوں میں گم ہو جاتا ہے۔پانی خانہ بدوش ہے:آج یہاں کل وہاں ۔پانی ایک پردیسی ہے جسکی محبت کا کوئی اعتبار نہیں ۔پانی کاوجود اس نازک خوشبوکی طرح ہے جو تیز دھوپ میں اڑ جاتی ہے۔

اس پوٹھوہارکے علاقے میں ،جہاں عورتیں باوفااور باحیا ہیں،پانی بے وفااور ہرجائی ہے۔وہ کبھی کسی ایک کا ہو کہ نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ یہاں سے وہاں ،ایک جگہ سے دوسری جگہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں گھومتا ہے،پاسپورٹ کے بغیر۔ ایسے ہرجائی کی تلاش کے لیے ایک تیشہ نہیں ایک آئینہ چاہیے جس کے سامنے پہاڑ کا دل اس طرح ہو جیسے ایک کھلی کتاب آخر میرے گاؤں والوں نے کچھ سمجھ کر میرے باپ کو اس کام کے لئے چنا تھا۔اس روز ہم دن بھر اس بلند وبالا پہاڑ کی خاک چھانتے رہے۔

ہم نے کہاں کہاں اس پانی کو تلاش نہیں کیا: بیریوں کی گھنی جھاڑیوں میں، چٹانو ں کی گہری درزوں میں،سیاہ ڈراؤنی کھوؤں میں،جنگلی جانوروں کے بھٹ میں۔پانی کی تلاش میں ہم نے سارے پرانے چشمے کھودوائے لیکن ان کا کھودنا ایسے ہی تھا جیسے آدمی زندگی کی تلاش میں قبریں کھود ڈالے۔پانی کہیں نہیں ملا۔ ایک چور کی طرح اس نے جگہ جگہ اپنے چھوٹے سراغ چھوڑے لیکن آخر کو وہ ہمیشہ ہمیں جل دے کر کہیں غائب ہو جاتا تھا۔ جانے فطرت کے کس کونے میں بیٹھا ہو اپنے چاہنے والوں پر ہنس رہا تھا۔لیکن گاؤں والوں نے آس نہیں چھوڑی ۔وہ سارا دن میرے بابا کے پیچھے پیچھے پانی کی کھوج کرتے رہے۔ آخر جب شام ہونے لگی تو میرے ابا نے پسینہ پونجھ کر ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کے ادھر نظر دوڑائی جدھر سورج غروب ہو رہا تھا۔یکا یک انہیں غروب ہوتے ہوئے سورج کی روشنی میں چٹانوں کی ایک گہری درزمیں فرن کا سبز ہ نظر آیا اور کہتے ہیں جہاں فرن کا سبزہ ہوتا ہے وہاں پانی ضرور ہوتا ہے۔فرن پانی کا جھنڈا ہے اور پانی ایک گھومنے والی قوم ہے۔ پانی جہاں جاتا ہے اپنا جھنڈا ساتھ لے جاتا ہے۔

ایک چیخ مار کر جلدی سے میرے ابا اس طرف لپکے جہاں فرن کا سبزہ اگا تھا۔ گاؤں والے ان کے پیچھے پیچھے بھاگے ۔ جلدی جلدی میرے ابا نے اپنے ناخنوں ہی سے زمین کو کرید نا شروع کر دیا ۔زمین ،جو اوپر سے سخت تھی ، نیچے سے نرم ہوتی گئی گیلی ہوتی گئی ۔ آخر میں زور سے پانی کی ایک دھار اوپر آئی اور سینکڑوں سوکھے ہوئے گلوں سے مسرت کی آواز نکلی: ’’پانی!پانی۔‘‘

ابا نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اوک میں پانی بھرا۔ ساری نگاہیں ابا کے چہرے پر تھیں ،سینکڑوں دل دھڑک رہے تھے۔:یا اللہ پانی میٹھاہو، یا اللہ پانی میٹھا ہو،یا اللہ پانی میٹھا ہو۔

ابانے پانی چکھا۔’’پانی میٹھا ہے۔‘‘ابا نے خوشی سے کہا۔

گاؤں والے زور سے چلائے :’’پانی میٹھا ہے!‘‘ساری وادی میں آوازیں گونج اٹھیں : ’’ میٹھا پانی مل گیا ،پانی میٹھا ہے !‘‘

ساری وادی میں ڈھول بجنے لگے۔ عورتیں گانے لگیں ،جوان ناچنے لگے، بچے شور مچانے لگے۔ گاؤں والوں نے جلدی سے چشمے کو کھود کر اپنے گھیر ے میں لے لیا۔اب چشمہ ان کے بیچ میں تھا اور وہ اس کے چاروں طرف تھے اور وہ اسے مڑ مڑ کر اس طرح محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے جیسے ماں اپنے نوزائیدہ بچے کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔وہ رات مجھے کبھی نہیں بھولے گی۔ اس رات کوئی آدمی گاؤں میں و اپس نہیں گیا۔ اس رات سارے گاؤں نے چشمے کے کنارے جشن منایا۔ اس رات تاروں کی گود میں بھوری بیریوں کے سائے میں ماؤں نے چولہے سلگائے ،بچوں کو تھپک تھپک کے سلایا اس رات کنواریوں نے لہک لہک کر گیت گائے ۔ایسے گیت جو پانی کی طرح نرمل اور سندر تھے،جن میں جنگلی جھرنوں کا ساحسن اور آبشاروں کی سی روانی تھی۔ اس رات ساری عورتیں خوشی سے بے قرار تھیں، سارے بیج تخلیق سے بے قرار ہو کر پھوٹ پڑے تھے۔

ایسی رات ہمار ے گاؤں میں کب آئی تھی! جب ابا خدابخش نے پانی ڈھونڈنکالا تھا۔پانی جو انسان کے ہاتھوں کی محنت تھا،اس کے دل کی محبت تھا۔آج پانی ہمارے ہاں اس طرح آیا تھا جیسے بارات ڈولی لے کر آ تی ہے۔

وہ نیا چشمہ ہمارے درمیان آج اس طرح ہولے ہولے شرمیلے انداز میں چل رہا تھا جیسے نئی دلہن جھجک جھجک کر اجنبی آنگن میں پاؤں رکھتی ہے،اس رات میرے ایک ہاتھ میں پانی تھا،دوسرے ہاتھ میں بانو کا ہاتھ تھا اور آسماں پر ستارے تھے۔اس نئے چشمے کے ساتھ میری جوانی کی بہترین یادیں وابستہ ہیں۔اس چشمے کے کنارے میں نے بانو سے محبت کی۔

بانو جس کا حسن پانی کی طرح نایاب تھا، جسے دیکھ کر ہمیشہ یہ خیال آتا تھا کہ جانے اس زمین کی گود میں کتنے ہی میٹھے چشمے نہاں ہیں، کتنی حسین یادیں منجمد ہیں،موسم گرما کے کتنے ہی شوخ چمکتے ہوئے پھول ،خزاؤں کے سنہری پتے،زمستان کی پاکیزہ برف ،بانو کی محبت بھی کتنی خاموش اور چپ چاپ تھی،زمین کے نیچے بہنے والے پانی کی طرح۔وہ رات کے اندھیرے میں یا فجر سے بہت پہلے اس چشمے کے کنارے آتی تھی،جب یہاں اور کوئی نہ ہوتا میرے سوا ۔مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر تبسم کی ضیا پھیل جاتی، جیسے اندھیرے میں سحر کا اجالا پھیلتا ہے۔وہ گھڑے کو چشمے کی دھار کے نیچے رکھ دیتی ۔

پانی گھڑے سے باتیں کرنے لگتا اور میں بانو سے ۔دھیرے دھیرے باتیں کرتے کرتے گھڑا بھر جاتا اور ہمارے دل خوشی سے معمور ہو جاتے اور ہمارے جانے بغیر کہیں دور سے صبح یوں دھیرے دھیرے چلتے ہوئے آتی جیسے بادِنسیم سنگترے کے پھول کی سی انگلیاں لئے سوئے ہوئے چہروں پر سے گزر جاتی ہے اور ہم چونک کر اٹھ کھڑے ہوتے اور حیرت سے ادھر دیکھنے لگتے۔ پھر میں اس کا گھڑا اٹھا کر اس کے سر کے اوپر رکھی ہوئی سرخ پٹی پررکھتا اور وہ مسکرا کر،پلٹ کر اور گھوم کر ڈھلوان پر سے گزر جاتی اور میں اس کی طرف دیکھتا رہتا اس وقت بھی دیکھتا جب دوسری عورتیں میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگتیں ،اور مجھے وہ دن یاد آتا جب میں نے دادی اماں سے پوچھا تھا:’’دادی اماں عاشق کس کو کہتے ہیں؟‘‘

اور پھر اس چشمے کے کنارے مجھے وہ رات بھی یاد ہے جب میں کان میں کام کرتا تھا اور دن بھر تھک کے گھر لوٹتا تھا اور اس تھکن سے چور ہو کر سو جاتا تھا، صبح ہی آنکھ کھلتی تھی ۔ کئی دنوں سے میں بانو سے چشمے پر ملنے نہ گیا تھا مگر کوئی بے قراری نہ تھی۔ وہ ساتھ کے گھر میں تو رہتی تھی۔انہی دنو ں میں اس کے چچا کا لڑکا غضنفر بھی آیا اور چلا بھی گیا لیکن مجھے اس سے ملنے کی بھی فرصت نہ ملی کیونکہ کان میں نیا نیا ملازم ہو ا تھا،کام سیکھنے کا بہت شوق تھا اور یہ تو ہر شخص کو معلوم ہے کہ نمک کی کان میں جا کے ہر شخص نمک ہو جاتا ہے۔

ایک رات بانو نے مجھے کہا کہ رات کے دو بجے چشمے پر اس سے ملوں ۔میں نے کہا:’’میں بہت تھکا ہو اہوں ۔‘‘

وہ بولی :’’نہیں ضروری کام ہے،آنا ہو گا۔‘‘چنانچہ میں گیا۔

دو بجے کے وقت آدھی رات میں چشمے پر کوئی نہیں تھا،ہم دونو ں کے سوا ۔میں نے اس سے پوچھا:’’کیا بات ہے ؟‘‘

وہ دیر تک چپ رہی، پھر میں نے پوچھا:’’ابھی بتاؤ آخر کیا بات ہے؟‘‘وہ بولی ’’میں گاؤں چھوڑ کے جا رہی ہوں۔‘‘

میرا دل دھک سے رہ گیا۔مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے چشمہ چلتاچلتا رک گیا۔میرے گلے سے آواز نکلی:’’کیوں؟‘‘ ’’میری شادی طے ہو گئی ہے۔‘‘ کس سے؟چاچا کے لڑکے کے ساتھ جولام سے ہو کر یہاں آیا تھا۔وہ چکوال میں ہے صوبیدار ہے۔اور تم جارہی ہو!میں نے تلخی سے پوچھا۔ہاں وہ چپ ہوگئی۔ میں بھی چپ ہو گیا۔سوچ رہا تھا اسے ابھی جان سے نہ ماردوں یا شادی کی رات قتل کروں۔ تھوڑی دیر رک کے بانو پھر بولی:’’سنا ہے چکوال میں پانی بہت ہوتا ہے سنا ہے وہاں بڑے بڑے نل ہوتے ہیں جن سے جب چاہو ٹوٹی گھما کے پانی نکال لو۔ اس کی آواز خوشی کے مارے کانپ رہی تھی۔وہ شاید اور بھی کچھ کہتی لیکن شاید میری آزردگی کا خیال کر کے چپ ہو گئی۔

میں نے اس کے بالکل قریب آکر اسے دونوں شانوں سے پکڑ لیا اور غور سے اس کی آنکھوں کی طرف دیکھا۔اس نے ایک لمحہ میری طرف دیکھ کر آنکھیں جھکا لیں ۔اس کی نگاہوں میں میری محبت سے انکا رنہیں تھا بلکہ پانی کا اقرار تھا۔میں نے آہستہ سے اس کے شانے چھوڑ دئیے اور الگ ہو کے کھڑا ہو گیا۔یکا یک مجھے محسوس ہواکہ محبت سچائی خلوص اور جذبے کی گہرائی کے ساتھ ساتھ تھوڑا پانی بھی مانگتی ہے۔بانو کی جھکی ہوئی نگاہوں میں اک ایسے جانکسل شکایت کا گریز تھا جیسے وہ کہہ رہی ہو:جانتے ہو ہمارے گاؤں میں کہیں پانی نہیں ملتا۔یہاں میں دودو مہینے نہا نہیں سکتی ۔مجھے اپنے آپ سے اپنے جسم سے نفرت ہوگئی ہے۔بانو چپ چپ زمین پر چشمے کے کنارے بیٹھ گئی ۔میں اس تاریکی میں بھی اسکی آنکھوں کے اندر ا س کی محبت کے خواب کو دیکھ سکتا تھا جو گندے بدبو دار جسموں پسوؤں ،جوؤں اور کھٹملوں کی ماری غلیظ چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی محبت نہ تھی۔اس محبت سے نہائے ہوئے جسموں ،دھلے ہوئے کپڑوں اور نئے لباس کی مہک آتی تھی۔میں بالکل مجبور اور بے بس ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ رات کے دو بجے۔بانو اورمیں۔دونوں چپ چاپ کبھی ایسا سناٹا جیسے ساری دنیا کالی ہے کبھی ایسی خاموشی جیسے سارے آنسو سو گئے ہیں ۔ چشمے کے کنارے بیٹھی ہوئی بانو آہستہ آہستہ گھڑے میں پانی بھرتی رہی ۔آہستہ آہستہ پانی گھڑے میں گرتا ہو ا بانو سے باتیں کرتا رہااس سے کچھ کہتا رہا، مجھ سے کچھ کہتا رہا۔پانی کی باتیں انسان کی بہترین باتیں ہیں۔

بانو چلی گئی۔

جب بانو چلی گئی تو میرے ذہن میں بچپن کی وہ کہانی آئی جب محبت روئی تھی اور آنسو نمک کے ڈلے بن گئے تھے۔

اس وقت میری آنکھ میں آنسو بھی نہ تھا لیکن میرے دل کے اندر نمک کے کتنے بڑے ڈلے اکٹھے ہوگئے تھے!میرے دل کے اندر نمک کی ایک پوری کان موجود تھی۔ نمک کی دیوار یں ستون غاراور کھارے پانی کی ایک پوری جھیل ۔میرے دل اور دماغ اور احساسات پر نمک کی ایک پتلی سی جھلی چڑھ گئی تھی اور مجھے یقین ہوچلا تھا کہ اگر میں اپنے جسم کو کہیں سے بھی کھرچوں گا تو آنسو ڈھلک کر بہہ نکلیں گے اس لئے میں چپ چاپ بیٹھا رہا اور جب وہ میری طرف دیکھ کر ڈھلوان پر مڑ گئی اس وقت بھی میں چپ چپ بیٹھا رہاکیونکہ میرے پاس پانی نہیں تھا اور بانو پانی کے پاس جارہی تھی۔جس رات بانو کا بیاہ غضنفر سے ہوا اس رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔میں نے دیکھا کہ ہماری کھوئی ہوئی ندی ہمیں واپس مل گئی ہے اور نمک کے پہاڑ پر میٹھے پانی کے چشمے ابل رہے ہیں اور ہمارے گاؤں کے مرکزمیں ایک بہت بڑا درخت کھڑا ہے۔ یہ درخت سارے کا سارا پانی کا ہے اس کی جڑیں،شاخیں، پھل،پھول، پتیاں سب پانی کی ہیں اور اس درخت کی شاخوں سے،پتوں سے پانی بہہ رہا ہے اور یہ پانی ہمارے گاؤں کی بنجر زمین کو سیراب کر رہا ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ کسان ہل جوت رہے ہیں ،عورتیں کپڑے دھو رہی ہیں ، کان کن نہا رہے ہیں اور بچے پھولوں کے ہار لئے پانی کے درخت کے گرد ناچ رہے ہیں اور بانو صاف ستھرے کپڑے پہنے میرے کندھے سے لگی مجھ سے کہہ رہی ہے:اب ہمارے گاؤں میں پانی کا درخت اُگ آیا ہے۔ اب میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔یہ بڑا عجیب خواب تھا لیکن میں نے جب اپنے باپ کو سنایا تو وہ مارے ڈر کے کانپنے لگے اور بولے: ’’تم نے یہ خواب میرے سوا کسی دوسرے کو تو نہیں سنایا‘‘میں نے کہا :’’نہیں ابا، مگر آپ ڈر کیوں گئے ہیں۔

یہ تو ایک خواب تھا ۔ وہ بولے:’’ارے خواب تو ہے مگر یہ ایک سرخ خواب ہے۔‘‘میں نے ہنس کر کہا :’’نہیں ابا جو درخت میں نے خواب میں دیکھا وہ سرخ نہیں تھا۔اس کا رنگ تو بالکل جیسے پانی کا ہوتا ہے۔ وہ پانی کا درخت تھا۔ اس کا تنا،شاخیں ،پتے سب پانی کے تھے۔ہاں اس درخت پر پھلوں کی جگہ کٹ گلاس کی چمکتی ہوئی صراحیاں لٹکی تھیں اور ان میں پانی بچوں کی ہنسی کی طرح چمکتا تھا اور فواروں کی طرح اونچا جا کے گرتا تھا‘‘وہ بولے۔’’کچھ بھی ہو یہ بڑا خطر ناک سپنا ہے۔ اگر پولیس نے کہیں سن لیا یا تم نے کسی سے اس کا ذکر کر دیا تو وہ تمہیں اس طرح پکڑکے لے جائیں گے جس طرح وہاں مزدوروں کو پکڑ کے لے گئے تھے جنہوں نے ہمارے گاؤں کی ندی کو واپس لانا چاہا تھا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ تم اس خواب کا ذکر کسی سے نہ کرو۔اسے بھول جاؤکے تم نے یہ خواب کبھی دیکھا تھا کیونکہ اس خواب کا چرچاکر کے اس سے کچھ نہ ہو گا، سوکھی ندی ہمیشہ سوکھی رہے گی اور پیاسے سدا پیاسے رہیں گے۔‘‘مجھے اپنے اباکے لہجے کی حسرت آج تک یاد ہے ۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ شروع شروع میں اس کا ذکر میں نے کسی سے نہیں کیا لیکن جب چند مزدور ساتھیوں سے اپنے خواب کا ذکر کیا تو وہ میر اخواب دیکھ کر ڈرنے کی بجائے ہنسنے لگے اور جب میں نے ان سے پوچھا کہ اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے تو انہوں نے کہا:’’بھلااس میں ڈرانے کی کیا بات ہے۔ یہ خواب تو بہت اچھا ہے اور یہ ان کی کان میں ہر ایک دیکھ چکا ہے۔‘‘

’’کیا سچ کہتے ہو!وہی پانی کا درخت؟‘‘ ’’ہاں ہاں ۔وہی پانی کا درخت گاؤں

میں،ایک ٹھنڈا میٹھا پانی کا چشمہ ہر نمک کی کان میں!‘‘ ’’گھبرا ؤ نہیں،ایک دن یہ خواب ضرور پورا ہوگا۔‘‘

پہلے مجھے ان کی باتوں کا یقین نہیں آیا ۔لیکن اپنے ساتھیوں کے ساتھ کام کرتے کرتے اب مجھے یقین ہوچلا ہے کہ ہمارا خواب ضرور پورا ہوگا ۔ایک دن ہمارے گاؤں میں پانی کا درخت ضرور اگے گا۔ اور جو جام خالی ہیں وہ بھر جائیں گے اورجو کپڑے میلے ہیں وہ دھل جائیں گے اور جو دل ترسے ہوئے ہیں وہ کھل جائیں گے اور ساری زمینیں اور ساری محبتیں اورسارے ویرانے اور سارے صحرا شاداب ہو جائیں گے۔

ایک گدھے کی سرگزشت

حضرات !
میں نہ تو کوئی سادھو فقیر ہوں ، نہ پیر دستگیر ہوں ، نہ شری 108 سوامی گھمگھمانند کا چیلا ہوں ، نہ جڑی بوٹیوں والا صوفی گورمکھ سنگھ مچھیلا ہوں ، میں نہ ڈاکٹر ہوں ، نہ حکیم ہوں ، نہ کسی ہمالیہ کی چوٹی پر مقیم ہوں ، میں نہ کوئی فلم اسٹار ہوں ، نہ سیاسی لیڈر۔
میں تو بس ایک گدھا ہوں۔
جسے بچپن کی غلط کاریوں کے باعث اخبار بینی کی مہلک بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ ہوتے ہوتے یہ بیماری یہاں تک بڑھی کہ میں نے اینٹیں ڈھونے کا کام چھوڑ کر صرف اخبار بینی اختیار کی۔
ان دنوں میرا مالک دھنو کمہار تھا جو بارہ بنکی میں رہتا تھا (جہاں کے گدھے بہت مشہور ہیں)، اور سید کرامت علی شاہ بار ایٹ لا کی کوٹھی پر اینٹیں ڈھونے کا کام کرتا تھا۔ سید کرامت علی شاہ لکھنؤ کے ایک مانے ہوئے بیرسٹر تھے اور ان دنوں اپنے وطن مالوف بارہ بنکی میں ایک عالی شان کوٹھی خود اپنی نگرانی میں تیار کرا رہے تھے۔ سید صاحب کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ اس لئے اپنی کوٹھی کا وہ حصہ جو انہوں نے سب سے پہلے تعمیر کرایا ، وہ ان کی لائیبریری کا ہال تھا اور ریڈنگ روم تھا، جہاں وہ علی الصباح آ کر بیٹھ جاتے۔
باہر برآمدے میں کرسی ڈال کر اخبار پڑھنے کا چسکہ پڑ گیا۔ ہوتا اکثر یوں تھا کہ ادھر میں نے ایک بلند ہوتی ہوئی دیوار کے نیچے اینٹیں پھینکیں اور بھاگتا ہوا ریڈنگ روم کی طرف چلا گیا۔
وکیل صاحب اخبار پڑھنے میں اس طرح مصروف ہوتے کہ انہیں میرے آنے کی خبر بھی نہ ہوتی اور میں ان کے پیچھے کھڑا رہ کر اخبار کا مطالعہ شروع کر دیتا۔ پڑھتے پڑھتے یہ شوق یہاں تک بڑھا کہ اکثر میں وکیل صاحب سے پیشتر آگے اخبار پڑھنے لگتا۔
بلکہ اکثر تو ایسا ہی ہوا ہے کہ اخبار کا پہلا صفحہ میں پڑھ رہا ہوں اور وہ سینما کے اشتہاروں والا صفحہ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ یہ جو میں پڑھنا بولنا سیکھا ہوں ، اسے سید صاحب کی کرامت سمجھئے یا ان کی مہربانی کا نتیجہ۔ کیونکہ سید صاحب کو اخبار پڑھتے ہوئے خبروں پر بحث کرنے اور کتاب زور زور سے پڑھنے اور پڑھتے ہوئے اس پر تنقید کرنے کی عادت تھی۔ یہاں جس جگہ پر وہ کوٹھی تعمیر کرا رہے تھے۔ انہیں کوئی ایسا نہ ملا جس سے وہ ایسی بحث کر سکتے۔ یہاں ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف تھا۔ میں ہی ایک گدھا انہیں ملا مگر اس سے انہیں بحث نہ تھی۔ وہ دراصل گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ اپنی دل ودماغ کی باتیں کسی سے کہنا چاہتے تھے۔ گدھے کے بجائے ایک خرگوش بھی ان کی صحبت میں رہتا تو عالم فاضل بن جاتا۔
سید صاحب مجھ سے بڑی ملاطفت سے پیش آتے تھے اور اکثر کہا کرتے:
"افسوس کہ تم گدھے ہو۔ اگر آدمی کا بچہ ہوتے تو میں تمہیں اپنا بیٹا بنا لیتا۔"

سید صاحب کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ خیر صاحب کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک دن سید کرامت علی شاہ کی کوٹھی تیار ہو گئی اور میرے مالک کو اور مجھے بھی اسی دن وہاں کے کام سے جواب مل گیا۔ اسی رات دھنو کمہار نے تاڑی پی کر مجھے ڈنڈے سے خوب پیٹا اور گھر سے باہر نکال دیا۔ اور کھانے کے لئے گھاس بھی نہ دیا۔ میرا قصور یہ بتایا کہ میں اینٹیں کم ڈھوتا تھا اور اخبار زیادہ پڑھتا تھا۔
اور کہا کہ:
"مجھے تو اینٹیں ڈھونے والا گدھا چاہئے، اخبار پڑھنے والا گدھا نہیں چاہئے۔"

ناچار میں بھوکا پیاسا رات بھر دھنو کمہار کے گھر کے باہر سردی میں ٹھٹھرتا کھڑا رہا۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ صبح ہوتے ہی سید کرامت علی شاہ کی کوٹھی پر جاؤں گا اور ان سے کہوں گا کہ اگر اینٹیں ڈھونے پر نہیں تو کم از کم کتابیں ڈھونے پر ہی مجھے نوکر رکھ لیجئے۔
شیکسپئر سے لے کر احمق بھوردی تک میں نے ہر مصنف کی کتاب پڑھی ہے اور جو کچھ میں ان مصنفوں کے بارے میں جانتا ہوں وہ کوئی دوسرا گدھا کیا جان سکتا ہے۔
مجھے امید ہے کہ وکیل صاحب ضرور مجھ سے التفات کریں گے اور مجھے رکھ لیں گے۔
مگر قسمت تو دیکھئے ۔۔۔۔ دوسری صبح جب میں سید صاحب کی کوٹھی پر گیا تو معلوم ہوا۔ راتوں رات فسادیوں نے حملہ کیا اور سید کرامت علی شاہ کو اپنی جان بچا کر پاکستان بھاگنا پڑا۔ فسادیوں میں لاہور کے گنڈا سنگھ پھل فروش بھی تھے۔ جن کی لاہوری دروازے کے باہر پھلوں کی بہت بڑی دوکان تھی اور ماڈل ٹاؤن سے ملی ہوئی ایک عالیشان کوٹھی بھی تھی۔
اس لئے حساب سے ایک عالیشان کوٹھی زمین بھی یہاں ملنی چاہئے تھی۔ سو بھگوان کی کرپا سے انھیں یہ سید کرامت علی شاہ کی نئی بنی بنائی تیار کوٹھی مل گئی۔

جب وہاں پہنچا ہوں۔ تو گنڈا سنگھ لائیبریری کی تمام کتابیں ایک ایک کر کے باہر پھینک رہے تھے اور لائیبریری کو پھلوں سے بھر رہے تھے۔
یہ شیکسپئر کا سیٹ گیا اور تربوزوں کا ٹوکرا اندر آیا۔
یہ غالب کے دیوان باہر پھینکے گئے اور ملیح آباد کے آم اندر رکھے گئے۔
یہ خلیل جبران گئے اور خربوزے آئے۔
تھوڑی دیر کے بعد سب کتابیں باہر تھیں اور سب پھل اندر تھے۔
افلاطون کے بجائے آلوبخارا۔
جوش کی جگہ جامن ،
مومن کی جگہ موسمبی ،
شیلے کی جگہ شریفے ،
سقراط کی جگہ سیتاپھل ،
کیٹس کی جگہ ککڑیاں ،
بقراط کی جگہ بادام ،
کرشن چندر کی جگہ کیلے ،
اور
آل احمد کی جگہ لیموں بھرے ہوئے تھے !

کتابوں کی یہ درگت دیکھ کر میری آنکھوں میں بےاختیار آنسو آ گئے اور اب ایک ایک کر کے انہیں اٹھا کر اپنی پیٹھ پر لادنے لگا۔
اتنے میں گنڈاسا سنگھ اپنی پھلوں کی لائیبریری سے باہر نکل آئے ، آکر ایک نوکر سے کہنے لگے :
"اس گدھے کی پیٹھ پر کتابیں لاد لو۔ اور اگر ایک پھیرے میں یہ سب کتابیں نہ جائیں تو آٹھ دس پھیرے کر کے یہ سب کتابیں ایک لاری میں بھر کر لکھنؤ لے جاؤ اور انہیں نخاس میں بیچ دو۔"
چنانچہ گنڈا سنگھ کے نوکر نے ایسا ہی کیا۔ بس دن بھر کتابیں لاد لاد کر لاری تک پہنچاتا رہا۔ اور جب شام ہوئی اور جب آخری کتاب بھی لاری تک پہنچ گئی ، اس وقت گنڈا سنگھ کے نوکر نے کہیں جا کے مجھے چھوڑا۔
اس نے میری پیٹھ پر ایک زور کا کوڑا جمایا اور مجھے لات مار کے وہاں سے بھگا دیا۔

میں نے سوچا جس شہر میں کتابوں اور عالموں فاضلوں کی یہ بےحُرمتی ہوئی ہو وہاں رہنا ٹھیک نہیں۔
اس لئے میں نے ترک وطن کا ارادہ کر لیا اور اپنے شہر کے در ودیوار پر حسرت بھری نگاہ ڈالی۔ گھاس کے دو چار تنکے توڑ کر اپنے منہ میں رکھ لئے اور دہلی کا رُخ کیا کہ آزاد ہندوستان کی راجدھائی یہی ہے ، گہوارۂ علم و ادب ہے۔ ریاست ، سیاست کا مرکز ہے ، وہاں کسی نہ کسی طرح گزر ہو ہی جائے گی۔

*********
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھانے میں پہنچ کر کانسٹبل نے مجھے اپنے ہیڈ کانسٹبل کے سامنے جا کھڑا کیا۔
ہیڈ کانسٹبل نے بڑی حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر کہا :
"اسے یہاں کیوں لائے ہو رام سنگھ؟"
رام سنگھ نے کہا : "حضور، یہ ایک گدھا ہے۔"
"گدھا تو ہے، یہ تو میں بھی دیکھ رہا ہوں، مگر تم اسے کیوں لائے ہو؟"
"حضور۔ یہ انڈیا گیٹ پر گھاس چر رہا تھا۔"
"ارے گھاس چر رہا تھا۔ تو کیا ہوا۔ تمہاری عقل بھی گھاس چرنے تو نہیں چلی گئی۔ اسے یہاں کیوں لائے ہو؟ لے جا کے کسی مویشی خانے میں بند کر دیتے۔ اس بےزبان جانور کو تھانے میں لانے کی کیا ضرورت تھی؟"
رام سنگھ نے رُکتے رُکتے میری طرف فتح مندی کی نگاہوں سے دیکھ کر کہا :
"حضور، یہ بےزبان نہیں ، بولتا بھی ہے!"
اب کے ہیڈ کانسٹبل بہت حیران ہوا ، مگر پہلے تو اسے یقین نہیں آیا۔ بولا :
"رام سنگھ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟"
"نہیں، یہ بالکل ٹھیک کہتا ہے ہیڈ کانسٹبل صاحب۔" میں نے آہستہ سے سر ہلا کے کہا۔

ہیڈ کانسٹبل اپنی سیٹ سے اچھلا۔ یوں کہ اس نے جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ اصل میں اس کی حیرت بالکل حق بجانب تھی۔ کیونکہ نئی دلی میں ایسے تو بہت لوگ ہوں گے جو انسان ہو کر گدھوں کی طرح باتیں کرتے ہیں۔ لیکن ایسا گدھا جو گدھا ہو کر انسانوں کی سی بات کرے ، ہیڈ کانسٹبل نے آج تک نہ دیکھا نہ سنا تھا۔ اسی لئے بےچارہ چکرا گیا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کرے؟
آخر سوچ سوچ کے اس نے روزنامچہ کھولا اور رپٹ درج کرنے لگا۔
اس نے مجھ سے پوچھا:
"تمہارا نام؟"
"گدھا"
"باپ کا نام؟"
"گدھا"
"دادا کا نام؟"
"گدھا"

"یہ کیا؟"
ہیڈ کانسٹبل نے تعجب سے کہا۔
"سب کا ایک ہی نام ہے۔"
یہ کیسے ہو سکتا تھا؟
"مجھے دیکھو۔ میرا نام جیوتی سنگھ ہے۔ میرے باپ کا نام پیارے لال تھا۔ میرے دادا کا نام جیون داس تھا۔ ہمارے ہاں نام بدلتے رہتے ہیں، تم ضرور جھوٹ بولتے ہو۔"
جیوتی سنگھ مجھے شبہ کی نظروں سے دیکھنے لگا۔
میں نے کہا:
"نہیں حضور، میں جھوٹ نہیں بولتا ، اور واقعہ یہی ہے کہ ہمارے یہاں نام نہیں بدلتے ، جو باپ کا نام ہوتا ہے ، وہی بیٹے کا ، وہی پوتے کا۔"
"اس سے کیا فائدہ؟" جیوتی سنگھ نے پوچھا۔
"اس سے شجرۂ نسب ملانے میں آسانی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ۔۔۔ کیا آپ مجھے اپنے پردادا کے دادا کا نام بتا سکتے ہیں؟" میں نے جیوتی سنگھ سے پوچھا۔
"نہیں!" جیوتی سنگھ نے افسوس سے سر ہلا کے کہا۔
"مگر میں بتا سکتا ہوں۔ آپ کے ہاں وہ آدمی بڑا خاندانی سمجھا جاتا ہے جو آج سے چار سو ، پانچ سو ، چھ سو سال پہلے کے مورثِ اعلیٰ کا نام بتا سکے۔ دیکھئے میں آپ کو آج سے آٹھ ہزار آٹھ لاکھ سال پہلے کے مورثِ اعلٰی کا نام بتا سکتا ہوں۔
شری گدھا !
بولئے پھر کیا ہم گدھے آپ سے بہتر خاندان کے ہوئے کہ نہیں ؟"

جیوتی سنگھ نے بڑے غور سے میری طرف دیکھا۔ اس کا شبہ اور بڑھ گیا۔ اس نے آہستہ سے رام سنگھ کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا :
"مجھے یہ شخص بڑا خطرناک معلوم ہوتا ہے۔ ہونہہ۔ یہ کوئی غیرملکی جاسوس ہے ، جو گدھے کے لباس میں نئی دلی کا چکر لگا رہا ہے۔"

رام سنگھ نے کہا :
"حضور۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کی کھال اتروا کر دیکھنا چاہئے۔ اندر سے وہ خفیہ جاسوس باہر نکل آئے گا۔ پھر ہم اسے گرفتار کر لیں گے۔"
جیوتی سنگھ نے کہا:
"تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔ مگر اس کے لئے سب انسپکٹر چانن رام کی منظوری لینا بہت ضروری ہے۔ چلو آؤ اسے ان کے سامنے لے چلیں۔"

میرے کان میں بھی کچھ بھنک پڑ چکی تھی۔ مگر میں کان لپیٹے خاموش رہا اور ان دونوں کے ساتھ اندر کے کمرے میں سب انسپکٹر چانن رام کے سامنے چلا گیا۔ چانن رام کی مونچھیں بچھو کے ڈنک کی طرح کھڑی تھیں اور اس کے سرخ چہرے پر ہمیشہ غیض وغضب کا جاہ وجلال رہتا تھا۔ چانن رام کو آج تک کسی نے ہنستے یا مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ اسی لئے بہت سے لوگ اسے اعلیٰ افسر سمجھتے تھے۔
چانن رام نے ان کی ساری بات سن کر میری طرف گھور کر دیکھا اور کہا:
"ہاں ، تم تو پاکستان کے جاسوس ہو۔"
میں چپ رہا۔
چانن رام نے زور سے میز پر مکہ مار کر کہا:
"سمجھ گیا ، تم روس کے ایجنٹ ہو۔"
میں پھر بھی خاموش رہا۔
چانن رام نے دانت پیستے ہوئے کہا:
"کمبخت، بدمعاش، کمیونسٹ، میں تمہاری ہڈی پسلی ایک کردوں گا، ورنہ جلد بتاؤ کہ تم کون ہو؟"

یہ کہہ کر چانن رام مجھے مکوں ، لاتوں ، ٹھوکروں سے مارنے لگا۔ مارتے مارتے جب وہ بالکل بےدم ہو گیا تو میں نے ایک زور سے درد بھری ہانک لگائی۔
ہانک لگاتے ہی وہ رک گیا۔ اور پہلے میری طرف حیرت سے دیکھ کر اور پھر نہایت ہی غصہ سے جیوتی سنگھ اور رام سنگھ کی طرف دیکھ کر بولا:
"ارے یہ تو بالکل گدھا ہے، ایک دم گدھا ہے اور تم کہتے ہو کہ کوئی غیرملکی جاسوس ہے۔ تم مجھ سے مذاق کرتے ہو۔ میں ابھی تم کو ڈسمس کراتا ہوں۔"

رام سنگھ اور جیوتی سنگھ دونوں ڈر سے تھر تھر کانپنے لگے۔ ہاتھ جوڑ کر بولے:
"نہیں حضور۔ ابھی یہ باہر کے کمرے میں بول رہا تھا۔ صاف صاف بول رہا تھا انسانوں کی طرح۔"
"تم نے خواب دیکھا ہوگا۔ یا کام کرتے کرتے تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہوگا۔ جاؤ اس گدھے کو ہمارے سامنے سے لے جاؤ اور کسی مویشی خانے میں بند کر کے رکھ دو۔ اگر تین چار دن میں اس کا مالک نہ آئے تو اسے نیلام کر دو۔"

میں خوشی خوشی باہر آیا۔ میری چال کام کر گئی۔ اگر میں بولتا تو وہ لوگ ضرور میری کھال ادھیڑ کر دیکھتے کہ اندر کون ہے؟

اس کے بعد تین چار دن تو کیا جب ایک ہفتہ تک کوئی مالک نہ آیا تو مجھے نیلام کر دیا گیا۔ اب مجھے رامو دھوبی نے خرید لیا جو جمنا پار کرشنا نگر میں رہتا تھا۔

مامتا

یہ کوئی دو بجے کا وقت تھا، بادلوں کا ایک ہلکا سا غلاف چاند کو چھپائے ہوئے تھے۔ یکا یک میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتا وہں کہ ساتھ والی چارپائی پراماں سسکیاں لے رہی ہیں
”کیوں امی؟“ میں‌نے گھبرا کر آنکھیں ملتے ملتے پوچھا۔
”کیوں۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔امی!“ اماں نے سسکیاں اور ہچکیوں کے درمیاں میرے سوال کو غصہ سے دہراتے ہوئے کہا۔ ”شرم نہیں آتی، باپ کو بھی اور بیٹے کو بھی اتنے بڑے ہوگئے ہو، کچھ خدا کا خوف نہیں۔“
” آخر ہوا کیا؟“ میں نے جلدی سے بات کاٹ کر پوچھا۔ ”یہ آدھی رات کے وقت رونا کیسا؟“
گریوں کے دن تھے ہم سب برآمدے میں سورہے تھے۔ مگر ابا اندر سامنے ایک کمرے میں سورہے تھے۔ ان کی طبیعت ناسازتھی اور انھیں اکثر گرمیوں میں بھی سردی لگ جانے کا اندیشہ لاحق رہتا تھا۔ اس لیے عماماََ وہ اندر ہی سویا کرتے ہیں۔ آخر ان کی آنکھ بھی کھل گئی۔ وہیں بستر پر سے کروٹ بدل کر بولے۔ ” کیا بات ہے وحید؟ تمہاری اماں کویں رورہی ہے؟“
”میں کیا بتاؤں ابا۔ بس رو رہی ہیں۔“
”ہاں اور تمھیں کس بات کی فکر ہے۔“ اماں کی ہچکیاں اور تیز ہوگئیں۔ ”پتہ نہیں میرا لال اس وقت کس حالت میں ہے۔ میرا چھوٹا محمود، اور تم یہاں پڑے سو رہے ہو۔ وہاں اس کا کون ہے، نہ ماں، نہ بھائی، نہ بہن اور تم خراٹے لے رہے ہو۔ آرام سے جیسے تمھیں کسی بات کی فکر ہی نہیں(سسکتے ہوئے( میں نے ابھی ابھی اپنے چھوٹے محمود کو خواب میں دیکھا ہے۔ وہ ایک میلے کچیلے بستر میں پڑا بخار سے تپ رہا تھا۔ اس کا پنڈا تنور کی طرح گرم تھا۔ وہ کرہتے ہوئے اماں، اماں کہہ رہا تھا۔۔۔۔ “ یہ کہہ کر اماں زور زور سے رونے لگیں۔
اماں کا ”چھوٹا محمود“ اور میرا بڑا بھائی لاہور بی۔اے میں تعلیم پاتا تھا، تھرڈایر میں، میں ایف اے کا امتحان دے کر لاہور سے یہاں مئی کے مہنے ہی میں‌آگیا تھا، مگر محمود کو ابھی ہالور کی تپتی ہوئی فضاؤں میں پورا ایک مہنہ اور گزارنا تھا۔ لیکن اب جون کا مہنہ بھی گزر گیا تھا اور محمود ابھی تک لاہور سے واپس نہ آیا تھا۔ اماں بہت پرشان تھیں اور سچ پوچھیے تو ہم سب بہت پرشان تھے۔ ہم نے اسے پرسوں ایک تاربھی دے دیا تھا اور مدتوں کے بعد اچانک محمود کا ایک خط بھی آیا تھا۔ چند مخنی سطور تھیں۔ لکھا تھا۔ ” میں بیمار ہوں، ملیریے کا بخار ہے۔ لیکن اب ٹوٹ رہا ہے۔ چند دنوں سے یہاں بہت بارش ہو رہی ہے۔ اگر لاہور کا یہ حال ہے تو اسلام آباد میں کیا ہوگا۔ کیا کشمیر آنے کا راستہ کھل گیا۔ لدی لکھیے کہ کس راستے سے آؤں، کیا جموں بانہال روڈ سے آؤں۔۔۔۔ ۔۔ کہ کوہالہ اوڑی سڑک سے، کونساراستہ بہتر رہے گا؟“ ہم نے سوچ بچار کے بعد ایک تار اور دے دیا تھا۔ گوباش بہت ہورہی تھی اور دونوں سڑکیں شکستہ حالت میں تھیں۔ پھر بھی کوہالہ اوڑی روڈ، بانہال روڈ سے بہتر حالت میں تھی۔ اس لیے یہی مناسب سمجھا کہ محمود کو ہالہ روڈہی سے آئے۔ اب آدھی رات کے وقت یہ افتاد آپڑی۔
ابا کی نید پریشان ہوگئی تھی چیں بجیں ہوتے ہوئے بولے۔ ”تو اس کا کیا کیا جائے؟ اور تمھیں تو یونہی دل میں وسوسے اٹھاکرتے ہیں۔ بھلا اس کا علاج کیا؟ آخر محمود کوئی بچہ تو نہیں؟ تمھیں فکر کس بات کی ہے۔ ہزاروں ماؤں کے لال لاہور میں پڑھتے ہیں اور ہوسٹلوں میں رہتے ہیں۔ آتا ہی ہوگا، اگر آج صبح وہ لاہور سے چلا تو شام کو وہ راولپنڈی پہنچ گیا ہو گا کل کوہالہ اور۔۔۔۔ “
اماں جلدی سے بولیں۔ ”اور ۔۔۔ ۔اور؟ کیا غضب کرتے ہو اور اگر خدانہ کرے۔ اس کا بخار ابھی نہ ٹوٹا ہو تو پھر؟ میں پوچھتی ہوں تو پھر؟“ یہ کہ کر اماں رک گئیں اور دوپٹے سے آنسو پونچھ کر کہنے لگیں۔
”مجھے موٹر منگوادو۔ میں ابھی لاہور جاؤں گی۔“
”اب تم سے کون بحث کرے ہمیں تو نیند آئیہے۔“ یہ کہہ کر ابا کروٹ بدل کر سورہے۔ میں نے بھی یہی‌مناسب جان کر آنکھیں بند کرلیں۔ مگر کانوں میں ماں کی مدھم سسکیوں کی آواز جسے وہ دبانے کی بہت کوشش کر رہی تھیں برابر آرہی تھی۔ کیا دل ہے ماں کا اور کتنی عجیب ہستی ہے اس کی؟ میں آنکھیں بند کیے سوچنے لگا۔ ماں کا دل، ماں کی محبت، مامتا، کس قدر عجیب جذبہ ہے، عالمِ جذبات میں اس کی نظیر ملنی محال ہے۔ نہیں یہ تو اپنی نظیر آپ ہے۔ ایک سپنے کے دھندے لکے میں اپنے بیمار بیٹے کو دیکھتی ہے اور چونکپڑتی ہے۔ لرزجاتی ہے۔ مامتا۔۔۔۔ ۔کیا اس جزبے کا اساس محض جسمانی ہے، محض اس لیے کہ بیٹا ماں کے گوشت و پوسٹ کا ایک ٹکڑاہے؟ اور کیا ہم سچ مچ فلابیر کے تخیل کے مطابق اس کائنات میں اکیلے ہیں، تنہا، بے یارومددگار، ایک دوسرے کو سمجھتے ہوئے بھی ناآشنا، مگر میں بھی تو محمود کا بھائی ہوں، میری رگوں میں وہی خون موجزن ہے، ہم دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اور اپنی زندگی کے ان بیس سالوں میں صرف دودفعہ محمود سے جداہواہوں اور وہ بھی نہایت قلیل عرصوں کے لیے۔ ھر میں کویں اس قدر اس کے لیے بیتاب و بیقرار نہیں۔ مامتا ۔۔۔ ۔ کیا ہم سچ مچ پتھروں کے تودوں کی طرح ہیں مصر کے میناروں کی طرح خوبصورت لیکن بے جان اشوک کے کتبوں کی طرح سبق آموز لیکن بے حس، بے روح؟مامتا!۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ بدھ نے کہا تھا کہ یہ دنیا دھوکا ہے، سراب ہے، مایاہے، ہوگی۔ لیکن یقین نہیں پڑتا آخر یہ حسین جذبہ کہاں سے آیا؟ اور کائنات کے ایک گوشے میں سسکتی ہوئی اماں کیا یہ بھی ایک دھوکاہے؟ سچ جانیے یقین نہیں پڑتاہے۔
چھوٹا محمود۔۔۔۔ ۔میراننھامحمود۔۔۔۔میرالال
امی ہلکی ہچکیوں میں بھائی کا نام لے رہی تھیں۔ کتنی معمولی سی بات تھی۔بھائی جان شاہد ابھی لاہورہی میں ہوں گے۔ ضیافتیں اڑاتے ہوں گے، سینما دیکھتے ہوں گے۔ یااگر لاہور سے چلے آئے ہوں تو راولپنڈی میں اس وقت خوابِ خرگوش میں پڑے خراٹے لے رہے ہوں گے۔ملیریا کیا عجب ملیریا کا بخار مطلق ہی نہ ہو۔ میں بھائی جان کے بہانوں کو خوب جانتا ہوں، اماں بھی جانتی ہیں مگر پھر بھی رورہی ہیں۔ آخر کیوں؟ مامتا! شاہد یہ کوئی روخانی قرابت ہے، شاید اس دنیا کے وسیع صرا میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔ شاید ہم محض پتھروں کے تودوں کی طرح نہیں ہیں۔ شاید اس انسانی مٹی میں کسی ازلی آگ کے شعلوں کی تڑپ ہے معاِِ مجھے موپاساں کا افسانہ ” تن تنہا“ یاد آگیا۔ جس میں اس نے اس شدید احساس تنہائ کا رونا رویاہے۔ آہ بے چارہ موپاساں، وہ ایک ماہر نفسیات تھا اور ایک ماہر نفسیات کی طرح وہ کئی بار نفسیاتی واردات کا صحیح اندازہ کرنے سے قاصر رہا اس کے افکار نے اسے کثرت غلط راستہ پرڈال دیا۔ ”تن تنہا“ ایک ایسی ہی مثال ہے۔ وہ لکھتا ہے:۔
”عورت ایک سراب ہے اور حسن ایک فرددعی امر ہم ایک دوسرے کے متعلق کچھ نہیں جانتے، میاں بیوی سالہا سال ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے بیگانہ ہیں۔۔۔۔ ۔۔ دو دوست ملتے ہیں اور ہر دوسری ملاقات میں ایک دوسرے دور چلے جارہے ہیں۔۔۔۔نسوانی محبت مستقل دھوکاہے۔۔۔۔ ۔۔۔اور جب میں عورت کو دیکھتا ہوں تو مجھے چاروں طرف موت ہی موت نظر آتی ہے۔“
میں نے آنکھیں کھول کر اماں کی طرف دیکھا، امی روتے روتے سوگئی تھیں، گال آنسؤں سے گیلے تھے اور بند آنکھوں کی پکوں پر آنسو چمک رہے تھے۔ کیا امی موت ہے؟ اور کیا مامتا بھی کوئی ایسا ہی ہلاکت آفریں جذبہ ہے؟ شاید موپاساں غلطی پر تھا، شاید اسے یہ لکھتے وقت اپنی شفیق ماں کی یاد نہ آئی تھی۔ وہ اس کی جان بخش لوریاں، وہ نرم نرم تھپکیاں جبکہ وہ بچوں کی طرح صرف ”اوں اوں“ کہہ کر بلبلااٹھتا تھا اور اس کی چھاتی سے لپٹ جاتا تھا۔۔۔۔ ۔۔ نسوانی محبت مستقل دھوکاہے ۔۔۔ ۔۔۔ شاید اسے اپنی اماں کے وہ طویل بوسے بھول گئے کہ جب بڑا ہونے پر بھی اس کانفسیاتی سراپنے بازوؤں میں لے لیتی تھی اور پیار کرتی تھی۔ جب وہ مامتا سے بیقرار ہوجاتی تھی اور ان کی غیر حاضری میں بھی اس کی راہ دیکھاکرتی تھی۔ اس کی ہر غلطی کو بچوں کی بھول سے تعبیر کیا کرتی تھی اور گناہ کو نیکی میں مبدل کردیتی تھی۔ اس دنیا میں ہم اکلے نہیں ہیں بلکہ ہمارے ساتھ ہماری مائیں ہیں وہ اس شدید احساس تنہائی جس کی موپاساں کو شکایت ہے، جو دنیاوی کلفتوں اور الفتوں میں بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا، نجانے وہ ماں کی گود میں آکر کیسے ناپید ہوجاتا ہے؟ ماں کے جذبہ محبت میں ایک ایسی دیونگی و وارفتگی ہے جو اس کی انانیت کو فنا کر دیتی ہے اور اس کی ذات کو بچوں میں منتقل کر دیت ہے۔ یقیناََ ہم اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں۔ بلکہ ہمارے ساتھ ہماری مائیں ہیں۔۔۔۔ یقیناََ۔۔۔ ۔مگر۔۔۔۔
غٹر غوں، غٹر غوں، ککڑوں کوں، کبوتر، مرغ، چڑیاں، دوشیزہ سحر کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ ان کی خوش الحانی نے مجھے بیدار کر دیا، میں اٹھ کر بستر پر بیٹھ گیا۔ ٹانگیں چار پائی سے نیچے لغکادیں اور آنکھیں ملنے گا۔ اتنے میں آنگن سے اماں کی آواز آئی۔
”بیٹا وحید اٹھو، محمود آگئے۔“
آنکھیں کھول کر دیکھا تو سچ مچ۔۔۔۔ ۔اماں آنگن میں اگے ہوئے پنجتار کے بوٹے کے نیچے ایک مونڈے پر بیٹھی تھیں اور محمود ان کےپیروں پر جھکا ہوا تھا۔ میں جلدی سے اٹھا آنگن میں ہم دونوں بھائی بغل گیر ہوئے۔
”اتنے دنکہاں رہے“ میں نے محمود سے پوچھا۔
محمود نے شوخ نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور ایک آنکھ میچ لی۔ پھر گردن موڑ کر پنچ تارے کے سرخ سرخ پھولوں کے گچھوں کو غور سے دیکھنے لگا۔
”کوئی سات روز جھڑی رہی، متواتر بارش ہونے سے سڑک جابجا سے بہ گئی تھی اور سپرنٹنڈنٹ ٹریفک نے راستہ بند کر دیا تھا۔“ اس نے آہستہ سے جواب دیا اور یہ کہہ کر ایک ہاتھ میرے ہاتھ کو پکڑ کر زور سے ہلانے لگا۔
اماں کدوچھیل رہی تھیں اور ہم دونوں کو دیکھتی جاتی تھیں۔ ان کی آنکھیں پرنم تھیں۔ آنسوؤں کے ان دوسمندروں میں خوشیوں کی جل پریاں ناچ رہی تھیں۔