Pages

Showing posts with label راجندر سنگھ بیدی. Show all posts
Showing posts with label راجندر سنگھ بیدی. Show all posts

Sunday, January 22, 2012

دربدر

راجندر سنگھ بیدی کی باتیں بہت دلجسپ اور بے ساختہ ہوتی تھیں۔ ایک بار دہلی کی ایک محفل میں بشیر بدر کو کلام سنانے کے لیے بلایا گیا تو بیدی صاحب نے جو میرے برابر بیٹھے تھے ـ اچانک میرے کان میں کہا ـ

یار ! ہم نے دربدر ، ملک بدر اور شہر بدر تو سنا تھا یہ بشیر بدر کیا ہوتا ہے

Monday, January 16, 2012

سگریٹ


ارے یار! سگریٹ بھی کیا چیز ہے۔


 جس نے بھی اسے ایجاد کیا‘ حد کر دی۔


 کیسا ایک ننھا سا رفیق زندگی کا آپ کے تنہا لمحوں میں کسی دوسرے کے موجود ہونے کا احساس دلاتا رہتا یے
 اور اس کے دم سے آپ کبھی اکیلا محسوس نہیں کرتے


 بلکہ وہ خود زندگی یے جس کا ایک کنارہ زندگی ہی کی طرح دھیرے دھیرے سلگتا اور دوسرا موت کے منہ میں یا منہ کی موت میں پڑا ہوتا ہے۔


 وہ آپ کے ہر سانس کے ساتھ جیتا اور مرتا ہوا خود راکھ ہو جاتا ہے لیکن آپ کے بکھرے ہوئے خیالوں کو ایک نقطے پر سمیٹ لاتا یے۔


 آپ چند ایسے راز سمجھ چکے ہوتے ہیں جن کے بعد اور کچھ سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔


 کوگ کہتے ہیں اس سے کینسر ہو جاتا یے
ہوا کرے۔


 جو سگریٹ نہیں پیتے وہ کون سی خضر کی حیات جیتے ہیں؟


 دنیا کے ہر بشر کو آخر کوئی نہ کوئی بہانہ تو موت کو دینا یے سگریٹ کا بہانہ کیوں نہ ہو۔