Pages

Showing posts with label محبت کی تقسیم. Show all posts
Showing posts with label محبت کی تقسیم. Show all posts

Sunday, January 15, 2012

محبّت


محبّت کا سفر اختیار کرنے کے لئے پہلی منزل فیملی یونٹ کی ہے - جو شخص پہلی منزل تک نہیں پہنچ پاتا وہ آخری منزل تک کسی صورت بھی نہیں پہنچ پاتا - جب فیملی یونٹ مستحکم ہوتا ہے ، اور اس کے افراد فیملی ممبرز سوسائٹی میں پھیل جاتے ہیں تو محبّت کو وسعت نصیب ہوتی ہے - اور محبّت سوسائٹی میں دور دور تک پھیل جاتی ہے 


محبّت کے بغیر انسان ایک فرد ہے - ایک ایگو ہے - خالی انا ہے - اس کا کوئی گھر بار نہیں کوئی فمیلی نہیں - اس کا دوسروں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں - کوئی تعلق نہیں ، یہ بے تعلقی یہ نا رشتےداری موت ہے زندگی تعلق ہے رشتےداری سمبندھ ہے

Friday, November 18, 2011

محبت کی تقسیم


میرا پہلا بچہ میری گود میں تھا۔ میں ایک باغ میں بیٹھا تھا ۔ اور مالی کام کر رہے تھے۔


ایک مالی میرے پاس آیا اور کہنے لگا ” ماشااللہ بہت پیارا بچہ ہے ۔ اللہ اِس کی عمر دراز کرے “۔


میں نے اس سے پوچھا ” تمھارے کتنے بچے ہیں ؟ “-


وہ کہنے لگا “میرے آٹھ (8) بچے ہیں”-


جب اس نے آٹھ (8) بچوں کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ “اللہ اُن سب کو سلامت رکھے ۔ لیکن میں اپنی محبت کو آٹھ بچوں میں تقسیم کرنے پہ تیار نہیں ہوں”-


یہ سن کر مالی مسکرایا اور میری طرف چہرہ کر کے کہنے لگا :


۔ ۔ ۔


” صاحب جی ۔ ۔ ۔ محبت تقسیم نہیں کیا کرتے ۔ ۔ ۔ محبت کو ضرب دیا کرتے ہیں”-