مذھب مسئلوں کو نہیں جانتا اور نہ ہی اس کے جوابوں کو جانتا ہے
مذہب بلکل ایک بچے کی طرح زندگی بسر کرتا ہے
ایک حیرت کے عالم میں
بچہ جب چند گھنٹوں کا ہوتا ہے تو وہ چند دنوں تک دنیا کو یا زندگی کو بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھتا ہے
پھر کہیں جا کر اسے دنیا کی رنگینی اور کلر دیکھنے کا ازن ہوتا ہے
اور وہ ان نئے نئے واقعات سے مبہوت اور حیرت زدہ ہی رہتا ہے
تحیر میں
ادب میں
کسی سے کوئی سوال کرنا
بے ادبی ہے
عالم تحیر کو قتل کرنے کا پہلا قدم سوال کرنا ہے
سوال بے کیفی و بے تصوفی کی ابتدا ہے
سائنس کئی سال سے بے کیفی اور بے تصوفی کی کیفیت پیدا کرنے میں مصروف ہے
لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکتی
چاہے جتنی بھی کوشش کر لے
یہ اپنی منزل کو نہ پہنچ سکے گی
سائنس اس ضمن میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے
لیکن پھر بھی کوشش کیے جاتی ہے بڑی ڈھٹائی سے
باز نہیں آتی ہے
جس قدر ناکام ہوتی ہے
اسی قدر اور کوشش میں مصروف ہو جاتی ہے