Pages

Showing posts with label محی الدین نواب. Show all posts
Showing posts with label محی الدین نواب. Show all posts

Thursday, February 23, 2012

لاٹری کا ٹکٹ

لاکھوں روپے کی " لاٹری کا ٹکٹ " ہر شخص " بسم اللہ " کہہ کر خریدتا ہے ۔
ایک غریب ، ایک وقت کا چولہا نہ جلا کر ٹکٹ خریدتے ہوئے دعا کرتا ہے :
خدایا ! تو گواہ ہے ، میں نے اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر تیری رحمت پر بھروسہ کیا ہے۔
ایک جوان لڑکی کا باپ ٹکٹ خرید کر خدا سے جہیز کے لیے گڑگڑاتا ہے ۔
ایک کینسر کا مریض اپنے علاج کے لیے وہ ٹکٹ خریدتا ہے ۔
لاکھوں دکھ ہیں ، لاکھوں بیماریاں اور لاکھوں مسائل ہیں۔
دنیا کے تمام مصائب زدہ لاٹری کا ٹکٹ لے کر خدا کو پکارتے ہیں۔
چار جواریوں میں سے تین کی ہار اور ایک کی جیت خدا کو منظور نہیں ہوتی۔
لاکھوں گھروں سے دس دس روپے لے کر کسی ایک شخص کو " دس لاکھ " دینا خدا کو منظور نہیں ہے۔ وہ معبود ریس کے گھوڑے سے کسی کو " لکھ پتی " نہیں بناتا ۔
یہ انسانوں کی اپنی نوسر بازی اور افتادِ طبع ہے ۔
خدا دیتا ہے تو حقدار کو ضرور دیتا ہے !!