زندگي ميں کوئی خوشی
کوئی رشتھ
کوئی جذبھ
کبھی مستقل نھيں ھوتا
ان کے پاؤں ھوتے ھيں
ھمارا سلوک اور رويھ ديکھ کے
کبھی يھ بھاگ کر قريب آ جاتے ھيں
اور کبھی آھستھ آھستھ دور چلے جاتے ھيں
اردوادب کی مانگ بے شمار انمول نگینوں سے مزین رہی ہے۔ ایک طرف بابا جی کا زاویہ اپنے اندر ان گنت زاویئے لیئے بیٹھا ہے اور دوسری طرف آپا کا راجہ گدھ عشق، محبت، وجدان، حلال، حرام کی ان گنت گرھیں کھولتا نظر آتا ہے۔ مفتی جی کا ایلی ہو یا بابا جی یحی خان جی کا کاجل کوٹھا۔ ایک طلسم ہوش ربا برپا ہے۔ کہیں الفاظ موتیوں کی طرح پروئے جا رہے ہیں۔ اورکہیں ازل اور ابد کے سربستہ راز کھولے جا رہے ہیں۔ یہ بلاگ ان کے چھوڑے ہوئے انمول نگینوں کو چن چن کر آپ تک پہنچانے کی ایک ادنی سی کاوش ہے۔ عاطف تسنیم خان