مصنف ہے
کہانی اس نے لکھی ہے
سبھی کردار اس کے ہیں
کوئی مجرم کوئی ملزم کوئی معصوم ہے لیکن
سبھی انداز اس کے ہیں
پس منظر وہ پوشیدہ سہی پھر بھی
سر منظر تو سب غماز اس کے ہیں
ہدایت کار بھی خود ہے
یہاں اس کے اشاروں پر
اداکاروں نے اپنے کرداروں کو اتنی جانفشانی سے نبھایا ہے
کہ اک لکھی کہانی کو حقیقت کر دکھایا ہے
مگر اس داستان کا آخری منظر قیامت ہے
قیامت ہے
کہانی کا مصنف
اپنی اجرت مانگنے والے اداکاروں سے کہتا ہے
صلہ دوں گا مگر تم کو
میں کرداروں کے کرموں کا صلہ دوں گا
میں منصف ہوں مگر اپنی رضا سے فیصلہ دوں گا
کہانی ختم ہونے پر
انہیں ازنِ تکلم تو نہیں لیکن
اداکاروں کو بس اتنی شکایات ہے
کہ مُنصف تو مصَنف تھا
کہانی اس نے لکھی تھی
سبھی کردار اس کے تھے