اس کی آنکھیں بند تھیں
پر وہ حیات کی دنیا سے پرے بھی بہت کچھ جانتی تھی۔
میں کُھلی آنکھوں پاس تھا اور یہ بھی نہ جانتا تھا کہ اسے میرے آنے کی خوشی ہے کہ غم۔ ۔ ۔ ۔
دراصل مجھے کبھی علم ہی نہ ہو سکا کہ اُس کے پاس کس وقت جانا چاہیئے اور کس وقت اس کے پاس سے اٹھ جانا بہتر ہے۔
کس وقت وہ میری صحبت سے اُوب جاتی ہے اور کس وقت اسے میرے پاس رہنے سے لُطف ملتا ہے
دو طرفہ محبت میں گومگو کی حالت نہیں ہوتی
وہاں ہمیشہ مقناطیس کا میل ہوتا ہے
خفگی ، ناراضگی، غم۔ ۔ کوئی بھی مُوڈ کیوں نہ ہو
ملاقات احساس خوشی کا باعث بنتی ہے
ایسے عاشق بن بلائے مہمان کی طرح میزبان کے گھر میں داخل ہوتے وقت اندر باہر نہیں ہو رہے ہوتے۔