Pages

Monday, March 2, 2015

اداس نسلوں کا داستان گو - عبداللہ حسین

'اداس نسلوں' جیسے کلاسیک ناول کے مصنف عبداللہ حسین کے ساتھ ایک ملاقات کا احوال

  کراچی میں ہونے والے تین روزہ لٹریچر فیسٹول کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ یہاں دن کے چھ مختلف اوقات میں بیک وقت سات، آٹھ نشستیں  ہوتی رہیں۔ اور ان تمام اوقات میں کم از کم دو، تین پروگرام ایسے ہوتے تھے جن میں شریک ہونے کے لیے دل مچلتا تھا۔

لیکن ظاہر ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی پروگرام سنا جاسکتا تھا سو دل پر پتھر رکھ کر باقی نشستیں چھوڑنا پڑتی تھیں۔

فیسٹول کے آخری دن کے آخری سیشن میں یہ پریشانی اور بھی دوچند ہوگئی۔ ایک ہال میں معروف شاعر امجد اسلام امجد کے ساتھ گفتگو اور ان کی شاعری کی سماعت کا اہتمام تھا، تو اسی وقت ایک دوسرے ہال میں معروف صداکار ضیا محی الدین اپنی مسحور کن آواز میں اردو اور انگریزی  ادب سے اقتباسات پیش کر رہے تھے۔

لیکن میں نے نسبتاً ایک چھوٹے ہال میں ہونے والی نشست کا انتخاب کیا جہاں چند سنجیدہ اور زیادہ تر بڑی عمر کے افراد اپنے عہد کے بہت بڑے  ناول نگار عبداللہ حسین کو سننے کےلیے جمع تھے۔

'اداس نسلوں' جیسے کلاسک ناول کے مصنف 82 سالہ عبداللہ حسین لاہور میں مقیم ہیں اور عموماً ادبی و سماجی تقریبات سے دور رہتے ہیں۔ لہذا کمرہ ان کی آمد سے قبل ہی انہیں سننے کے لیے آنے والوں سے بھر چکا تھا۔

کچھ دیر میں عبداللہ حسین کمرے میں داخل ہوئے۔ دراز قامت، گندمی رنگت، سفید داڑھی اور کھچڑی بالوں والے 82 سالہ عبداللہ حسین کو دیکھ کر جو پہلا تاثر ذہن میں ابھرا وہ رعب اور دبدبے کا تھا۔

نشست کے میزبان نے ان کا مختصر تعارف کرایا جس کے بعد عبداللہ حسین نے اپنے پہلے ناول 'اداس نسلیں' اور پھر اپنی کہانیوں کے حال ہی میں شائع ہونے والے مجموعے 'فریب' سے چند  اقتباسات سنائے۔

عبداللہ حسین کے چار ناول (اداس نسلیں، باگھ، قید، نادار لوگ) اور افسانوں  کے تین مجموعے (نشیب، رات، فریب) شائع ہوچکے ہیں تاہم پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کے زیرِ نگیں ہندوستان کے سیاسی و سماجی حالات کا احاطہ کرتا ان کے ناول 'اداس نسلیں' کو قارئین اور ادبی حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔

عبداللہ حسین نے بتایا کہ انہوں نے  یہ ناول لگ بھگ 50 برس قبل اس وقت لکھا تھا جب وہ ایک نجی کمپنی کی ویرانے میں واقع ایک فیلڈ پر ملازمت کرتے تھے۔

ان کے بقول انہوں نے اپنی اکتاہٹ سے تنگ آکر ایک روز کوئی کہانی لکھنے کے ارادے سے قلم اٹھایا تھا لیکن چند سطریں لکھنے کے بعد ہی ان کے ذہن میں اچانک 'اداس نسلیں' کی کہانی 'فلیش' کی صورت میں گزر ی اور ناول کا پورا سانچہ آگیا۔

عبداللہ حسین نے بتایا کہ انہوں نے اس ناول پر کام کا آغاز کیا تو انہیں اندازہ ہوا کہ یہ موضوع وقت  اور تحقیق طلب ہے۔ لہذا انہوں نے اس ناول کے لیے ضروری معلومات اکٹھی کرنے کی غرض سے تاریخ کی کتابوں اور ضروری دستاویزات سے مدد لی، اور جنگِ عظیم اول میں حصہ لینے والے ہندوستانی سپاہیوں اور نصف صدی قبل کے اس دور کو بسر کرنے والے افراد سے ملاقاتوں کے لیے کئی سفر کیے اور ان کے حالات و تجربات سنے۔
 



 عبداللہ حسین نے بتایا کہ انہوں نے خود لگ بھگ 15 برس قبل 'اداس نسلوں' کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا جو لندن اور نئی دہلی سے 'دی ویئری  جنریشنز' کے نام سے شائع ہوا۔ بعد ازاں اس انگریزی ترجمے سے اس ناول کے ترکی اور نارویجئن زبانوں میں بھی ترجمے ہوئے۔
 
اس دوران میں ایک صاحب نے عبداللہ حسین سے سوال کردیا کہ کیا وہ ادب میں گالیوں کا استعمال روا سمجھتے ہیں تو "میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ ۔ "
 
مجھے یاد آیا کہ جب کئی برس قبل میں نے 'اداس نسلیں' پڑھا تھا تو اس میں گالیوں کے استعمال سے طبیعت بڑی مکدر ہوئی تھی۔ میں اس وقت سنجیدہ ادب کا نیا نیا قاری تھا اور گالیوں کو تحریری صورت میں دیکھنے کا یہ میرا پہلا اتفاق تھا۔
 
لیکن عبداللہ حسین سے یہ سوال پوچھنے کی جسارت مجھے اس لیے نہ ہوسکی کہ مجھے ایک دن قبل ہی بھارت سے آئے ہوئے اردو کے معروف نقاد شمیم حنفی کی زبانی اس کا جواب مل چکا تھا۔
 
شمیم صاحب نے بتایا تھا کہ بھارت کے ایک نقاد نے جب عبداللہ حسین سے ناول میں گالیوں کی موجودگی پر ناگواری ظاہر کی تو انہوں نے مختصراً صرف اتنا جواب دیا تھا کہ "میں نے یہ ناول آپ جیسے شریف آدمی کے لیے نہیں لکھا تھا!!"۔
 
لیکن آج غالباً عبداللہ حسین اچھے موڈ میں تھے لہذا انہوں نے اس سوال کا برامنائے بغیر تفصیل سے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ادب میں 'ریئل ازم' کے قائل ہیں اور اسی لیے ناول میں بیان کیے گئے حالات کو قاری کے سامنے جوں کا توں پیش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گالیاں دینے کا کسی کو شوق نہیں ہوتا لیکن ایک 'ریئلسٹ' اپنے  تخلیق کردہ کردار کی وضاحت کے لیے ایسا کرنے پہ مجبور ہوجاتا ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کسی ناول یا افسانے میں اپنے کسی کردار کا سراپا بیان نہیں کیا ہے بلکہ وہ اس کردار کی گفتگو اور حرکات کے ذریعے قاری کے ذہن میں اس کا نقشہ بناتے ہیں۔  ان کے بقول کیوں کہ 'اداس نسلیں' کے کردار معاشرے کے جس طبقے سے تعلق رکھتے تھے،  وہاں گالی گلوچ ہوتی تھی لہذا حقیت نگاری کے باعث وہ ناول میں بھی موجود ہے۔


 
انہوں نے کہا کہ بعض ناولوں کے عنوانات زیادہ مشہور ہوجاتے ہیں  اور 'اداس نسلیں' کی مقبولیت میں اس کے عنوان نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔
 
عبداللہ حسین کا کہنا تھا کہ ایک ناول نگار کو دو زندگیاں بسر کرنا پڑتی ہیں، ایک عام اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اور ایک دوسری اپنی تحریروں کے کرداروں کے ساتھ۔
 
انہوں نے بتایا کہ ناول کے پلاٹ کا ذہن میں آنا ان کے لیے ایک بڑا پراسرار سا تجربہ ہوتا ہے جسے ان کے بقول لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
 
عبداللہ حسین نے کہا کہ دوستووسکی ان کا پسندیدہ  ناول نگار ہے۔  انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک طویل کہانی 'واپسی کا سفر' ہسپانوی زبان میں چھپی اور بہت مقبول ہوئی جس کی لاکھوں جلدیں فروخت ہوچکی ہیں۔
 
بیاسی سالہ یہ ناول نگار اپنے دور اور اس کے مسائل سے مسلسل ہم آہنگ ہے اور ان کا پانچواں ناول افغانستان کے حالات سے متعلق ہے جو ان کے بقول جلد ہی شائع ہوگا۔

2014 - کراچی میں تین روزہ 'لٹریچر فیسٹول' پر مستنصر حسین تارڑ سے ایک ملاقات

مستنصر حسین تارڑ 90ء کی دہائی کے آس پاس پروان چڑھنے والی پاکستانیوں کی ایک پوری نسل کے 'چاچا جی' ہیں



کراچی میں ہونے والے تین روزہ جشنِ ادب کے دوران میں جن مہمان ادیبوں کے گرد ان کے چاہنے والوں کی سب سے زیادہ بھیڑ نظر آئی، ان میں سرِ فہرست مستنصر حسین تارڑ تھے۔
 
مستنصر حسین تارڑ 90ء کی دہائی کے آس پاس پروان چڑھنے والی پاکستانیوں کی ایک پوری نسل کے 'چاچا جی' ہیں جن کی صبحیں پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کی 'مارننگ ٹرانسمیشن' کے ساتھ طلوع ہوتی تھیں۔
 
لاہور میں مقیم تارڑ صاحب ایک ناول نگار بھی ہیں اور اخبارات میں کالم بھی لکھتے ہیں لیکن ان کا سب سے نمایاں تعارف ایک سفرنامہ نگار کا ہے اور وہ بلاتفاق اردو کے مقبول ترین اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سفرنامہ نگار ہیں۔
 
'کراچی لٹریچر فیسٹول' کے پہلے روز ہونے والی کئی نشستوں میں سے ایک 30 کے لگ بھگ سفرناموں سمیت 48 کتابوں کے مصنف تارڑ صاحب کے ساتھ ایک نشست بھی تھی جسے انہوں نے اپنی بذلہ سنجی اور حاضر جوابی سے زعفران زار بنادیا۔
 
نشست کے آغاز میں مستنصر حسین تارڑ نے حال ہی میں شائع ہونے والے اپنے ناول 'اے غزالِ شب' سےچند اقتباسات سنائے جس کے بعد حاضرین کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔
 
تارڑ صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی کوئی سفر، سفرنامہ لکھنے کی غرض سے نہیں کیا  بلکہ ان کے بقول وہ ایک آوارہ گرد ہیں جسے سفر کیے بنا قرار نہیں آتا۔
 
تارڑ صاحب نے بتایا کہ انہوں نے اپنا پہلا سفر 1969ء میں کیا تھا  جس کا احوال ان کےپہلے سفرنامے 'نکلے تری تلاش میں' کی صورت میں 1971ء میں منظرِ عام پر آیا۔
​
اس سوال کے جواب میں کہ ان کے سفرناموں میں اتنا 'فکشن ' کیوں ہوتا ہے، مستنصر حسین تارڑ نے مصنوعی ناراضی طاری کرتے ہوئے کہا، "میں کوئی رپورٹر یا منشی تو ہوں نہیں کہ جگہوں کے بارے میں سیدھی سیدھی  معلومات لکھ دوں"۔
 
انہوں نے کہا کہ عام زندگی میں بھی جب ایک شخص کوئی جگہ دیکھتا ہے اور پھر اسے کسی دوسرے کے سامنے بیان کرتا ہے تو اس بیان میں 'فکشن' در آتی ہے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ سفرنامہ ایک محدود 'کینوس' ہے جس کے لیے ایک خاص سفر کو 'فالو' کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول چوں کہ بیشتر جگہیں ایک جیسی ہوتی ہیں لہذا سفرنامے کو دلچسپ بنانے کے لیے 'فکشن' شامل کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔
 
اپنی ناول نگاری کے بارے میں مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ تخلیق کا اصل مزہ 'فکشن' ہی میں آتا ہے۔ ان کے بقول یہ مزہ تخلیقِ کائنات جیسا ہے کیوں کہ یہ کائنات بھی اپنے تخلیق کار کے لیے ایک طرح سے 'فکشن' ہی ہے۔
 
اس سوال پر ان کے ناولوں کی کہانیوں کا ان کی ذات سے کتنا تعلق ہے،  تارڑ صاحب کا کہنا تھا کہ  دنیا کے بیشتر ناول سوانحی ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ناولوں کے کئی کردار ان کے آس پاس بسنے والوں سے ماخوذ ہیں جنہیں انہوں نے کہانی کے مطابق 'ڈویلپ' کیا۔
 
انہوں نے بتایا کہ ان کے ناول "قربتِ مرگ میں محبت' کے تینوں مرکزی کردار اصلی ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ وہ کسی جگہ پر رہے بغیر اور کسی تہذیب کو بسرے بغیر اس کے بارے میں نہیں لکھ سکتے۔  یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام ناولوں میں ان کی ذاتی زندگی کے تجربات اور مشاہدات شامل ہیں۔

At home with the wanderer - ایک خانہ بدوش کے گھر میں

فروری 2012 میں جناب عارف وقارنے  ایک انگریزی اخبار کے لیئے  تارڑ صاحب کا انٹرویو شائع لیا تھا

ہماری انگریزی ان اساتذہ کی اردو جیسی ہے جو گزشتہ 35 برس سے ماسکو یونیورسٹی میں تارڑ صاحب کی تحریریں بطور نصاب طالب علموں کو پڑھا رہے ہیں، لہذا ہم نے انٹرویو کے عنوان کا ترجمہ "ایک خانہ بدوش کے گھر میں" کے عنوان سے کیا ہے۔ انٹرویو پڑھ کر کئی دلچسپ باتوں کا علم ہوا مثلا:

A few days later, the young Tarrar was shocked to see a press statement issued by the prime minister of Pakistan saying that Soviet Union was Pakistan’s mortal enemy; and that the boys who had been to Moscow were traitors and would be arrested at the Karachi airport on their return and immediately dispatched to Mianwali jail

یہ ذکر تارڑ صاحب کے 1957 میں ماسکو کے پہلے سفر سے واپسی کا ہے، ان دنوں تارڑ صاحب کی عمر 18 برس تھی۔ وہ تو میانوالی جیل جانے سے بچ گئے لیکن شنید ہے کہ میانوالی جیل میں ایسے کئی قیدی موجود ہیں جنہوں نے تارڑ صاحب کے ناولز پڑھ رکھے ہیں۔ چند ایک تو ایسے بھی ہیں جنہوں نے تارڑ صاحب کا سفرنامہ ’نکلے تیری تلاش میں‘ پڑھ کر دساور کا رخ کیا ، وہاں دھر لیے گئے اور شکریے کے ساتھ واپس کیے گئے۔
انٹرویو میں تارڑ صاحب مزید بیان کرتے ہیں

After about half a century, in 2007, I got an invitation from The Moscow State University to deliver a series of lectures about the influence of Russian Classics on Pakistani literature. On that occasion, I was bestowed the Gold Medal for Outstanding Literary Contributions.”

خفیہ ذرائع سے ہمیں یہ علم ہوا کہ تارڑ صاحب نے ماسکو یونیورسٹی میں "روسی فن پاروں کے پاکستانی ادب پر اثرات" کے ضمن میں اپنی ہی تحریریں پیش کیں، سند کے طور پر انہوں نے روس کے پس منظر میں لکھی اپنی تخلیقات کو پیش کیا جن میں ان کا ناول جپسی، ماسکو کی سفید راتیں وغیرہ شامل ہیں۔ روسی فن پاروں کے پاکستانی ادب پر جتنے اثرات تارڑ صاحب کی تحریروں میں نظر آتے ہیں، شاید ہی کوئی دوسری مثال مل سکے۔ تارڑ صاحب کا جلد شائع ہونے والا ناول بھی ماسکو ہی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔

ماسکو یونیورسٹی کیProfessor Galina Dushenko کے لیے پاکستان یا تو فیض کی شاعری ہے یا پھر مستنصر کا ناول۔ان کے الفاظ میں:
For us, Pakistan is Faiz’s poetry and Tarrar’s novels”

فیض کی شاعری تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، البتہ خاتون پروفیسر کے بیان کے دوسرے حصے کو پڑھ کر ماسکو اور اسلام آباد کے خراب تعلقات کا سبب اب ذرا واضح طور پر سمجھ میں آیا ہے۔ گزشتہ 35 برس میں تو ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب یہ حالات خطرناک حد تک خراب ہوگئے تھے، خبریں گرم تھیں کہ روس کی جانب سے حملہ اب ہوا کہ تب ہوا۔یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ خاتون پروفیسر کے لیے پاکستان، تارڑ صاحب کا ناول ہی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں، یہاں ایک مطلب تو سیدھا سیدھا یہ نکلتا ہے کہ شاید خاتون کا اشارہ یہاں تارڑ صاحب کے ناول راکھ کے عنوان کی جانب ہے کہ وطن عزیز میں گزشتہ چند برسوں سے جو کچھ ہورہا ہے اس کے پیش نظر خیال "راکھ" اور ’خس و خاشاک‘ ہی کی جانب جاتا ہے۔ ماسکو یونیورسٹی میں 35 برس سے تارڑ صاحب کی چند تحریریں نصاب میں شامل ہیں۔ یونیورسٹی کی سطح پر تحقیقی کام عموما سارا سال ہی ہوتے رہتے ہیں اور ان کے عوض پی ایچ ڈی کی سند بھی جاری کی جاتی ہے، ہمیں امید ہے کہ یہ تارڑ صاحب کی تحریروں پر بھی پی ایچ ڈی کی جائے گی یا ہوسکتا ہے کہ اب تک کی جاچکی ہو۔

خامہ بگوش نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ:
"مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں جن کاموں پر سزا ہوسکتی ہے، انہی کاموں پر بعض پسماندہ ایشیائی ممالک میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جاتی ہے۔ تارڑ صاحب کے معاملے میں مندرجہ بالا بیان کو الٹ کر (مہذب ممالک سے ایشیائی ممالک کے الٹ پھیر کے ساتھ) پڑھا جائے تو مفہوم واضح ہوتا نظر آتا ہے۔

یہ مقام شکر ہے کہ تارڑ صاحب کی تحریریں ماسکو یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کی گئیں، ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں، خدا کا شکر ہے کہ ان کی محنت ضائع نہیں ہوئی ورنہ اس قسم کی کوششوں میں ہم نے خود ادیب کو ضائع ہوتے دیکھا ہے۔(خامہ بگوش سے معذرت کے ساتھ)

انٹرویو میں ایک ٹکڑا یہ بھی نظر سے گزرا :

Dr Christina Oesterheld, from the Institute of Modern South Asian Languages and Literatures, Heidelberg University, Germany, is an expert in modern Urdu Literature. She specialises in the fiction of Quratulain Hyder, but she has declared my novel Raakh to be the most representative piece of fiction of the whole subcontinent.”

ڈاکٹر اوسٹرہیلڈ سے جناب ابن صفی کے تعلق سے ہمارا رابطہ بھی رہا ہے، کیا خوب خاتون ہیں۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ ایک غیر ملک سے تعلق رکھنے والی نے ہمارے ادیب کے مقام کا تعین کیا ہے، یہ کام تو ہمارے نقادوں کو کرنا چاہیے۔ ایک نقاد سے ہماری اس سلسلے میں بات ہوئی تھی، کہنے لگے کہ راکھ کو پڑھنے کے بعد ان کے ہاتھ میں سوائے راکھ کے، اور کچھ نہ آیا لہذا انہوں نے اس پر تبصرہ لکھنے کا خیال ترک کردیا۔ہم اس شر پسندانہ رائے سے ہرگز ہرگز اتفاق نہیں کرتے! لیکن حال ہی میں ہمیں ناقدین کے تارڑ صاحب کے بارے میں اس معاندانہ رویے کی ایک اہم وجہ معلوم ہوئی ہے۔ دونوں طرف ہے "آگ" برابر لگی ہوئے کے مصداق تارڑ صاحب بھی نقادوں سے سخت بیزار ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ تارڑ صاحب کا ایک حالیہ بیان لاہور کے الحمراءکے جنوری 2012 کے سالنامے میں شائع ہوا ہے۔ مدیر الحراءکی ہمت کو داد ہے کہ ان کا خط شائع کردیا۔ اپنے خط میں فرماتے ہیں:

" درانی نامہ اور محمد کاظم کی آپ بیتی ‘دن جو علی گڑھ میں گزرے‘ ایسی تخلیقات ہیں جو الحمراءمیں مسلسل شائع ہونے والی زہر ناک اور گھٹیا تحریروں کی کڑواہٹ بھلا دیتی ہیں جن میں کسی ایک ادبی شخصیت پرنہایت پلیدوار کیے جاتے ہیں۔ آپ کی خواہش اور فرمائش سر آنکھوں پر۔ میں اپنے تازہ ناول کے کچھ حصے آپ کی نذر کرتا ہوں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ محفل احباب میں ہمہ وقت موجود پر تعصب اور مدرسی نقاد اس ناول پر اپنی عالمانہ رائے دینے سے اجتناب کریں، خاموشی اختیار کریں۔" (مستنصر حسین تارڑ)

ہم نے الحراء کے چند گزشتہ شماروں کا بندوبست کرنے کی کوشش کی ہے، ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ محفل احباب میں ایسے کون سے "پر تعصب اور مدرسی نقاد‘ ہیں جنہیں سوائے الحمراءکی محفل احباب میں موجود رہنے کے، اور کوئی کام ہی نہیں۔

استاد لاغر مراد آبادی نے مذکورہ خط پڑھنے کے بعد فرمایا کہ "اس عزیز نے اب تک جتنے ناولز لکھے ہیں ان پر ان کے اپنے الفاظ میں ‘خاموشی اختیار کرلینا‘ ہی بہتر ہے۔

لیکن تمام لوگ ایک جیسا نہیں سوچتے۔ ڈاکٹرظہور احمد اعوان مرحوم نے دو برس قبل تارڑ صاحب کے بارے میں اپنی ایک عقیدت بھری تحریر میں لکھا تھا کہ "تارڑ نے یہی کارنامہ کر دکھایا ہے کہ معمولی کو غیر معمولی بنا دیا ہے اور عام باحیا خواتین کے کرداروں کو پہاڑوں‘ صحراؤں اور جنگلوں کی بستیوں میں افسانوی کردار بخش کر زندہ و امر کر دیا ہے۔"

اعوان صاحب کے اس بیان کے پہلے حصے سے ہمیں مکمل اتفاق ہے کہ تارڑ صاحب کی تحریروں کے ہم بھی مداح ہیں لیکن تارڑ صاحب کے سفرناموں و ناولوں بالخصوص نکلے تری تلاش میں، اندلس میں اجنبی اور جپسی میں "عام باحیا خواتین" تو ڈھونڈ ے سے نہیں ملتیں۔ بلکہ ایک آبی ذخیرے کے کنارے غسل کرتی جن خواتین کا تفصیلی بیان’ اندلس میں اجنبی ‘میں ملتا ہے، ان میں تو حیا بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ اگر حسن اتفاق سے تارڑ صاحب کو ڈاکٹر ناژلا سعد، پاسکل، مارگریتا اور مرسیڈس جیسی باحیا خواتین دوران سفر مل بھی جاتی تھیں تووہ بھی ملاقات کے بعد اپنی حیا اور تارڑ صاحب، دونوں کو ڈ ھونڈتی پھرتی تھیں۔تارڑ صاحب کے سفراندلس کے دوران ان کی ملاقات ڈاکٹر ناژلا سعد سے ہوئی تھی، مختصر وقت ہی میں ان کے اس نیک بی بی سے تعلقات اس نہج پر پہنچ گئے کہ وقت رخصت، دونوں قرطبہ کی ایک بند گلی میں پہنچ گئے تھے اور جہاں بقول تارڑ صاحب، ’ اسے چھونے کے لیے مجھے خلیل جبران کی ضرورت نہ تھی‘۔ تارڑ صاحب تو ڈاکٹر ناژلا کو چھوڑ کر کب کے پاکستان واپس آگئے لیکن مذکورہ سفرنامے کا قاری اب تک اس بند گلی ہی میں بھٹک رہا ہے۔

ایک زمانے میں تارڑ صاحب کے سفرناموں کی مقبولیت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ راوی کے بیان کے مطابق لاہور کے یعقوب ناسک لندن علاج کی غرض سے گئے، وہ ٹیوب میں سفر کررہے تھے، ان کے برابر میں ایک انگریزی خاتون محوخواب تھیں ،سوتے سوتے ان کا سر یعقوب صاحب کے کندھے سے آلگا۔ انہوں نے خاتون کو جگاتے ہوئے کہا ” بی بی اٹھو! میں یقوب ناسک ہوں، مستنصر حسین تارڑ نہیں“۔

ظہور اعوان صاحب عقیدت میں اس قدر بڑھ گئے اور یہ لکھنے سے بھی نہیں چوکے کہ "میں کسی زمانے میں مستنصر حسین تارڑ سے کہا کرتا تھا کہ تارڑ صاحب آپ کمرے سے غسل خانے تک جائیں تو اتنے عرصے کا بھی سفرنامہ لکھ دیں گے۔"

اس جملے سے یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ یہ تعریف ہے یا کچھ اور۔ اعوان صاحب نے یہ غور نہیں کیا ان کی رائے پر عمل کے نتیجے میں تارڑ صاحب کے قاری کو ایک محتاط اندازے کے مطابق سال میں ان کے1095 سفرنامے پڑھنے کو ملیں گے۔ تارڑ صاحب کے ناشر کو چھوڑ کر ان کے قارئین کو اس کا کتنا مالی نقصان ہوگا، اعوان صاحب نے اس بارے میں نہیں سوچاتھا۔

تارڑ صاحب کے سفرناموں نکلے تری تلاش میں، اندلس میں اجنبی اور ناول فاختہ پر معروف ادیب محمد خالد اختر کے تند و تیز مضامین بھی خاصے کی چیز ہیں۔ ان مضامین میں ستائش بھی ہے اور تنقید بھی ، محمد خالد اختر کے منفرد اسلوب نے ان مضامین کو کتابوں پر کیے گئے تبصروں میں ایک الگ مقام دیا ہے۔

انٹرویو کے آخر میں تارڑ صاحب سے ایک دلچسپ سوال کیا گیا:
Wearing so many feathers in his cap — a travel writer, a novelist, a playwright, a columnist, a television presenter and an actor — how would he like to be remembered, say, 50 years from now, I ask. He looks directly into my eyes for the first time during the conversation and puts me a counter question, rather wryly, “Fifty years from now, or fifty years from the day I’m buried under tons of soil in my family graveyard?”
تارڑ صاحب نے جواب دیا:
“All these feathers in my cap will
be blown away by the dust-storm of time. The travel writer, the novelist, the media person will vanish in the fog of future. If, however, the impossible happens and some crackpot discovers me in the future, I would like to be remembered as a person who devoted his whole life sweating at his study table, as a travel writer and a novelist. Presumptions are pretensions but two of my novels, Bahaao and
Khaso Khashaak Zamanay may survive

مقتدرہ قومی زبان کی پانچ کلو وزنی لغت میں crackpotکے معنی خبطی، سنکی، نیم باؤلا، پاگل درج ہیں۔ یہاں یہ بات تعجب خیز ہے کہ تارڑ صاحب اپنے کام کو کسی ‘کریک پوٹ‘ ہی سے کیوں دریافت کروانا چاہتے ہیں۔ وطن عزیز میں آج بھی ایسے افراد کی کمی نہیں جو مذکورہ لفظ کی تعریف پر پورا اترتے ہیں لیکن روز بروز بڑھتے معاشی و معاشرتی مسائل کے پیش نظر اس بات کا قومی امکان ہے کہ پچاس برس کے بعد ایسے افراد کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہوگا لہذا اگلے پچاس برس بعد بھی یہ کام کئی ایسے لوگ بخوشی کرنے پر تیار ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پچاس برس بعد ہمارے ممدوح کو دریافت کرنے والے نے ان کے ناولز پڑھ رکھے ہوں، اس صورت میں یہ تلاش بیحد سہل ہوجائے گی۔

چند برس قبل وائس آف رشیا کی ا ناؤنسر ایرینا ماکسی مینکو نے تارڑ صاحب کا انٹرویو کیا تھا جو مذکورہ ریڈیو سے 27 جون 2007 کو نشر ہوا تھا، انٹرویو میں تارڑ صاحب نے انکشاف کیا کہ ماسکو یونیورسٹی کیProfessor Galina Dushenko"نکلے تری تلاش میں" کو بائبل کی طرح پڑھتی ہیں۔واضح رہے کہ تارڑ صاحب نے زیر تبصرہ انٹرویو میں اس بات کا ذکر نہیں کیا ہے۔

روسی بحیثیت قوم خدا پر یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کی کوئی مذہبی کتاب ہے، لہذا پروفیسر صاحبہ نے "نکلے تری تلاش میں" کو ہی ایک مذہبی کتاب کا درجہ دے دیا۔ خاتون چونکہ تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں اور اب تک ہزاروں لاکھوں طالب علموں میں علم بانٹ چکی ہیں، لہذا اس بات سے یہ خدشہ بھی لاحق ہوتا نظر آتا ہے کہ اگر آنے والے وقت میں خاتون پروفیسر کے پیروکار بھی انہی کے نقش قدم پر چل پڑے تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ پچاس برس کے بعد "نکلے تری تلاش میں" روس کی مذہبی کتاب قرار پا سکتی ہے۔ یہ ہر گھر میں طاق پر رکھی ملے گی، لوگ اس کے ابواب کے تعویذ بنایا کر گلے میں پہنا کریں گے، فال نکالنے والے اس سے فال نکالا کریں گے۔ اور کم و بیش یہ وہی وقت ہوگا جب وطن عزیز میں کوئی "کریک پاٹ" تارڑ صاحب کو دریافت کررہا ہوگا۔

تارڑ صاحب کے انٹرویو میں ایک جگہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کو لکھتے ہوئے 45 برس کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔

ادھر ہمارے قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ اب تک ہم نے تارڑ صاحب کی تحریروں کے بارے میں اپنی ذاتی رائے کیوں محفوظ کر رکھی ہے سو اس بارے عرض ہے کہ ہم اوائل عمری ہی سے ان کے بڑے مداح رہے ہیں، نکلے تری تلاش میںخانہ بدوش،، اندلس میں اجنبی،جپسی ، پیار کا پہلا شہر ، ہنزہ داستان، کے ٹو کہانی تو ہم نے گھول کر پیے ہوئے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ان کے بعد کے سفرناموں اور ناولوں نے گھلنے سے انکار کردیا، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہاں ہمیں اپنے محبوب مصنف جناب ابن صفی کا تحریر کردہ ایک واقعہ یاد آرہا ہے جسے درج کرنے میں ہمیں کوئی قباحت نظر نہیں آتی:
ایک بار کا ذکر ہے کہ انگریزی کے مشہور مصنف ایڈگر ویلس نے اپنے مداحوں کے ایک مجمع میں بڑے خلوص سے کہا۔ " پچاس ناول لکھنے کے بعد ہی مجھے ناول لکھنے کا سلیقہ ہوا ہے۔

چھوٹتے ہی ایک صاحبزادی نے فرمایا " کاش ایسا نہ ہوا ہوتا! اب تو آپ بور کرنے لگے ہیں۔ شروع شروع کی کتابوں کا کیا کہنا۔ کاش آپ ماضی میں چھلانگ لگا سکیں۔"