Pages

Showing posts with label عاشق. Show all posts
Showing posts with label عاشق. Show all posts

Monday, May 7, 2012

چِٹھیاں

پیران پیر کے شہر بغداد میں ایک بندہ تھا جو کسی پر عاشق تھا - اس کے لئے تڑپتا تھا ، روتا تھا چیخیں مارتا اور زمین پر سر پٹختا تھا - لیکن اس کا محبوب اسے نہیں ملتا تھا -

اس شخص نے ایک بار خدا سے دعا کی کہ اے الله ! ایک بار مجھے میرے محبوب کے درشن تو کرا دے -

الله تعالیٰ کو اس پر رحم آگیا اور اس کا محبوب ایک مقررہ مقام پر جہاں بھی کہا گیا تھا پہنچ گیا -

دونوں جب ملے تو عاشق ایک چٹھیوں کا بڑا بنڈل لے آیا - یہ وہ خط تھے جو وہ اپنے اس محبوب کے ہجر میں لکھتا رہا تھا - اس نے وہ کھول کر اپنے محبوب کو سنانے شروع کر دیے -

پہلا خط سنایا اور اپنے ہجر کے دکھڑے بیان کیے - اس طرح دوسرا خط ، پھر تیسرا خط ، اور جب وہ گیارویں خط پر پہنچا تو اس کے محبوب نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا اور کہا

" گدھے کے بچے ! میں تیرے سامنے موجود ہوں ، اپنے پورے وجود کے ساتھ اور تو مجھے چٹھیاں سنا رہا ہے - یہ کیا بات ہوئی "

سلطان سنگھاڑا فروش کہنے لگا بھا جی ! " ہماری عبادت بھی ایسی ہی ہوتی ہے - آدمی چٹھیاں سناتا رہتا ہے ، محبوب اس کے گھر میں ہوتا ہے ، اس سے بات نہیں کرتا - جب تک اس سے بات نہیں کریگا چٹھیاں سنانے کا کوئی فائدہ نہیں -

از اشفاق احمد زاویہ ٢ سلطان سنگھاڑے والا صفحہ ٧٤