روزن دیوار سے - بشکریہ روزنامہ جنگ
یہ کالم "زندگی اور موت" کے بعد لکھا گیا ہے
انیس یعقوب ویسے تواعلیٰ درجے کے مصور ہیں تاہم میرے کالم کے قارئین انہیں ان کے ”ملغوظات“ کے حوالے سے جانتے ہیں جو میں اپنے دو کالموں میں شائع کر چکا ہوں، ان کے جملوں کو میں نے ”ملغوظات“ اس لئے قرار دیا ہے کہ کچھ عرصے سے ”کمسنی“ کے باوجود ان کے چہرے پرسفید لمبی داڑھی نظر آرہی ہے ذیل میں ان کے تازہ ”ملغوظات“ درج کررہا ہوں مگراس سے پہلے ان کا خط بھی آپ کی نظروں سے گزرنا چاہئے تاکہ ان ”ملغوظات“ کا پس منظر آپ پرواضح ہوسکے، سو یہ دونوں تحریریں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
سلام مسنون!
اللہ آپ کو لمبی عمر عطا کرے۔ آمین
موت سے متعلق آپ کے زندگی سے بھرپور چند کالم پڑھ کر یوں لگا کہ پاکستان جو کہ موضوعات کے حوالے سے ساری دنیا میں سب سے زیادہ ”فرٹائل” میں موضوعات کا اچانک قحط پڑ گیا ہے جو آپ موت جیسے ”غیر مطلوب’“ موضوع کے پیچھے ہوگئے اور موت بھی کسی دشمن کی نہیں بلکہ آپ کی اپنی اور ذاتی۔ یہ تعزیتی کالموں کی وہ قسم ہے جورلاتی نہیں بلکہ حسِ لطیف کوگدگداتی ہے۔ بہرحال کالم پڑھ کر منہ میں پہلے موت کا اور پھر زندگی کا ذائقہ محسوس ہوا۔ موت سے پہلے مرنے کی بات کوئی جیتا جاگتا، زندہ دل ہی کرسکتا ہے ورنہ آپ ادھر موت کا ذکر کریں ادھر جھٹ کوئی چیخ اٹھتا ہے کہ ارے! یہ کون سا ”منحوس“ موضوع پھیڑ دیا۔ کوئی خیر کی بات کرو۔ میں اگر ادارتی صفحے کا ایڈیٹر ہوتا تو کالم کا عنوان ”آہ“ کی بجائے ”واہ’“ کر دیتا، بہرحال آپ کے مرنے کی فل ڈریس ریہرسل کا احوال پڑھ کر مجھے بااختیار اپنے چند ”جملہ مضامین“ یاد آگئے جو موت اور زندگی سے ہی متعلق ہیں، امید ہے پسند فرمائیں گے۔
کوشش کرنے سے نیند آتی ہے اوربغیر کوشش کے موت۔
موت سے نہ ڈرو کہ یہ ایک بار ہی آتی ہے، زندگی کی فکر کرو کہ یہ دوبارہ ملنے والی ہے۔
عین اس لمحے جب میں نے جانا کہ مجھے جینے کا سلیقہ آگیا، موت نے دروازے پر دستک دی۔
موت کا ذائقہ ہر کوئی چکھتا ہے لیکن زندگی کی لذت سے ہر کوئی آشنا نہیں ہوتا۔
وہ موت کو مجسم دیکھنے کا آرزومند تھا، تب اس کی ملاقات ایک بیمہ ایجنٹ سے ہوگئی۔
میت نے قبر میں اترتے ہوئے کوئی مزاحمت نہ کی جبکہ اس کی یادوں نے دفن ہونے سے انکارکر دیا۔
جنازے میں شامل ہرشخص موبائل فون پربات کر رہا تھا سوائے میت کے۔
بعض لوگ اخباری خبروں کی وجہ سے زندہ ہیں اور بعض خبریں لگوانے کے لئے مر رہے ہیں۔
میت کو دفنانے کے لئے چند فٹ جگہ درکار تھی جبکہ اس کی خواہشات کو دبانے کے لئے سارا قبرستان کم پڑ گیا۔
بعض لوگوں کی اجلا اورمعطر لباس پہننے کی آرزو مرنے کے بعد پوری ہوتی ہے۔
اگر کفن کا رنگ مرنے والے کے کردار کی مناسبت سے ہوتا تو بیشتر لوگوں کے کفن کارنگ کالا ہوتا۔
موت کا مقابلہ کرنے کے لئے زندگی بڑا کمزور ساتھی ہے۔
ضروری نہیں کہ موت ہرشخص کو مارے، کچھ لوگ پہلے ہی مرے ہوتے ہیں۔
تعجب ہے کہ موت کا مسافر اپنے آپ کو شاہراہ حیات کاشاہسوارسمجھ رہا ہے۔
عورتیں اپنا سادہ ترین لباس مرنے کے بعد پہنتی ہیں۔
موت اگربتاکر آتی تو پھر بھی ہمارے بیشتر کام ادھورے رہ جاتے۔
نیند توسولی پر بھی آجاتی ہے… لیکن ابدی نیند!
عورت مرنے کے بعد اور مرد شا دی کے بعد خاموش ہوتا ہے۔
مرنا فطری طورپر سب کو آتا ہے جبکہ زندہ رہنے کے گرسیکھنا پڑتے ہیں۔
موت کو سب راستوں کا پتہ ہے، گویا وہ ہر ہسپتال کو جانتی ہے۔
زندگی اجتماعی اورموت انفرادی ہوتی ہے۔
اجتماعی خودکشی کرنے والوں کو حساب انفرادی یہی دینا ہوگا۔
موت اگر مانگنے سے ملتی تو غریبوں کی بستیوں میں اُلّو بول رہے ہوتے۔
مرنے کے بعد جی اٹھنے پر میرا ایمان ہے لیکن سونے کے بعد جاگنے پر نہیں۔
تکمیل خواہش کی جستجو میں اسے موت مل گئی حالانکہ موت اس کی ”وش لسٹ“ میں شامل نہ تھی۔
پھانسی گھاٹ پر لکھا تھا: ”پہلے آیئے، پہلے پائیے“۔
نہ تو ہر زندگی کارآمد ہوتی ہے اور نہ ہی ہر موت بے فائدہ۔
وہ تعریفی کلمات جو ان کی موت کے بعد کہے گئے اگر پہلے کہے جاتے تو مرحوم آج ز ندہ ہوتے۔
اگرخواہشات نے اسے مار نہ دیا ہوتاتو وہ مزید خواہشات کرتا۔
مہلک حادثے نے اسے مار نہ دیا ہوتا تو وہ مزید خواہشات کرتا۔
موت پیچھے سے وار کرتی اور زندگی سامنے سے حملہ آورہوتی ہے۔
شہر حیات کی جس شاہراہ پرنکل جائیں آگے "DEADEND"کا بورڈ نظر آئے گا۔
دولت مند موت سے اور غریب زندگی سے گھبراتا ہے۔
بیشتر انسانی ضمیر انسان سے پہلے مر جاتے ہیں لیکن انہیں دفن انسان کے مرنے پرہی کیا جاتا ہے۔
عجیب بات ہے کہ ایک آدھ کو مارنے والا قاتل اور لاتعداد افراد کو موت کی نیند سلانے والا فرشتہ کہلاتا ہے۔
وہ شخص خودکشی کی پہلی کوشش میں ہی کامیاب ہوگیا جسے زندگی کے ہر کام میں باربار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بیشتر مرنے والے ترکے میں قرض خواہوں کی لسٹ کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑتے۔
عزت سے جینا آرٹ اورعزت سے مرنا فائن آرٹ کہلاتا ہے۔
قدموں کی چاپ سے وہ آنے والے کوپہچان لیتا تھا، افسوس کہ موت کی آمد کاا سے پتہ نہ چلا۔
سوتے ہوئے لگتاہے جیسے مرنے کی تیاری کررہا ہوں جبکہ مرتے ہوئے ممکن ہے سونے جتنا تردد نہ کرنا پڑے۔
بعض لوگ بعض لوگوں کے لئے بیماریاں ہیں اور بعض بیماریوں کا علاج صرف موت ہے۔
بعض لوگوں کو ڈوب مرنے کے لئے چلو بھر کافی ہوتا ہے اوربعض کوزندہ رہنے کے لئے۔
انسان کے لئے مچھر کو مارنا جتنا آسان تھا اب مچھر کے لئے بھی انسان کو مارنا اتنا ہی آسان ہوگیا۔
اگر یہ درست ہے کہ چیزیں ضرورت پڑنے پریاد آتی ہیں توموت تومیری ضرورت نہیں۔
غریب مرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے جبکہ امیر زندگی کی کوئی بھی قیمت دینے کو تیار ہے۔
موت کبھی کسی کاپتہ نہیں پوچھتی جبکہ زندگی اکثر راستہ بھول جاتی ہے۔
جو شخص مرنے کے لئے تیار نہیں وہ یقینا بغیر تیاری کے زندگی بسر کر رہا ہے۔