Pages

Showing posts with label بانو قدسیہ. Show all posts
Showing posts with label بانو قدسیہ. Show all posts

Sunday, January 15, 2012

عورت


ہے نہ پاگل ..... ہے نہ بیوقوف ....
عورت کا کیا کام جنت میں ....
عورت یہاں بھی اولاد کی دوزخ میں جلتی ہے ...
وہاں بھی اولاد کی قسمت سے بندہ جائے گی ..... 
جو کسی کے ٧ بیٹے ہوئے عبد الکریم اور ٦ جنت میں گئے .... اور ساتواں دوزخ میں گیا .... تو ماں کو جنت میں تلاش نہ کرنا وہ تمھیں ساتویں بیٹے کے ساتھ دوزخ میں ملے گی - 
عورت عارف دنیا ہےعبدالکریم اس سے دنیا کا حال پوچھ جو اولاد سے بندہ گیا ہو اس سے مولا کی بات کیا کرنی ........

Wednesday, November 16, 2011

محبت کا طوق


آزادی اکیلے آدمی کا سفر ہے
رسی تڑوا کر سرپٹ بھاگنے کا عمل ہے


محبت اپنی مرضی سے
کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھے رہنے کی صلاحیت ہے
محبت اس غلامی کا طوق ہے
جو انسان خود اپنے اختیار سے گلے میں ڈالتا ہے


یہ عہد پیری مریدی کا نہیں
کہ مرشد منوائے اور سالک ماننے کے مقام پر ہو


یہ زمانہ شادی کا بھی نہیں
کہ شادی میں بھی قدم قدم پر اپنی مرضی کو قربان کرنا پڑتا ہے


حضرت ابراھیم جس طرح اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر راضی بر رضا رہے
یہ محبت کی عظیم مثال ہے


محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا "شرک" ہے


کیوں کہ بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی


 محبوب سے بھی
اور اپنے آپ سے بھی


محبت غلامی کا عمل ہے
اور آزاد لوگ غلام نہیں رہ سکتے۔

ہتھکڑی


یہ جسم اور دل بڑے بیری ہیں اک دوسرے کے
سر جی . جسم روندا جائے
تو یہ دل کو بسنے نہیں دیتا
دل مٹھی بند رہے
تو یہ جسم کی نگری تباہ کر دیتا ہے


ان دونوں کو کبھی آزادی نصیب نہیں ہوتی
اللہٰ جانے کیوں
میرے مولا نے ان کو اک ہی ہتھکڑی پہنا دی ہے.


راجہ گدھ صفحہ ٣٦٣

محبت


سنو! سنو قیوم
میرے دوست
میں اگر تم سے محبّت کر سکتی ہوتی
تو ضرور کرتی


آفتاب سے محبّت میرا شعوری فعل نہیں ہے
یہ نہ چاہتے هوئے بھی
هوئے چلی جاتی ہے


آرزو کی طرح خود بہ خود


آپی آپ
میری شعوری کوشش سے کچھ ہو سکتا
تو میں تم سے ضرور محبّت کرتی


بھلا بتاؤ
کیا میں نے تم سے محبّت کرنے کی کوشسش نہیں کی ؟
کی ہے
خدا کی قسم
مگر یہ بد بخت نہیں ہوتی
نہیں ہوتی 

راجہ گدہ پیج ١٨٥

Monday, November 14, 2011

خوشی کا بنڈل


اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے ۔
یا باری تعالیٰ ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں ؟
زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے ؟
اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے ۔
ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے ۔آقائے دوجہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالاآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے۔
جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اُس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مُہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اُس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔
ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بُلٹی نہیں چھڑاتے بلکہ صدیوں پہلے مر کھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں ۔
خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے،جب کہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, November 13, 2011

مقناطیس


اس کی آنکھیں بند تھیں
پر وہ حیات کی دنیا سے پرے بھی بہت کچھ جانتی تھی۔
میں کُھلی آنکھوں پاس تھا اور یہ بھی نہ جانتا تھا کہ اسے میرے آنے کی خوشی ہے کہ غم۔ ۔ ۔ ۔
دراصل مجھے کبھی علم ہی نہ ہو سکا کہ اُس کے پاس کس وقت جانا چاہیئے اور کس وقت اس کے پاس سے اٹھ جانا بہتر ہے۔


کس وقت وہ میری صحبت سے اُوب جاتی ہے اور کس وقت اسے میرے پاس رہنے سے لُطف ملتا ہے
دو طرفہ محبت میں گومگو کی حالت نہیں ہوتی
وہاں ہمیشہ مقناطیس کا میل ہوتا ہے
خفگی ، ناراضگی، غم۔ ۔ کوئی بھی مُوڈ کیوں نہ ہو
ملاقات احساس خوشی کا باعث بنتی ہے
ایسے عاشق بن بلائے مہمان کی طرح میزبان کے گھر میں داخل ہوتے وقت اندر باہر نہیں ہو رہے ہوتے۔

حلال اور حرام


مغرب کے پاس حلال اور حرام کا تصور نہيں ہے اور ميري تھيوري ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم ميں داخل ہوتا ہے وہ انساني genes کو متاثر کرتا ہے۔ رزق حرام سے ايک خاص قسم کي mutation ہوتي ہے جو خطرناک ادويات، شراب اور radiation سے بھي زيادہ مہلک ہے۔ رزق حرام سے جو genes تغير پذير ہوتے ہيں وہ لولے لنگڑے اور اندھے ہي نہيں ہوتے بلکہ نااميد بھي ہوتے ہيں۔ نسل انساني سے يہ جب نسل در نسل ہم ميں سفر کرتے ہيں تو ان genes کے اندر ايسي ذہني پراگندگي پيدا ہوتي ہے جس کو ہم پاگل پن کہتے ہيں۔ يقين کرلو رزق حرام سے ہي ہماري آنے والي نسلوں کو پاگل پن وراثت ميں ملتا ہے۔ اور جن قوموں ميں من حيث القوم رزق حرام کھانے کا لپکا پڑ جاتا ہے، وہ من حيث القوم ديواني ہونے لگتي ہيں۔

وجدان


سوچ دو طرح کی ہوتی ہے
ایک سوچ علم سے نکلتی ہے اور ریگستان میں جا کر سوکھتی ہے
دوسری سوچ وجدان سے جنم لیتی ہے اور باغ کے دہانے پر لے جاتی ہے
ان ہی دو قسم کے خیالات سے دو طرح کا رہنا سہنا جنم لیتا ہے


ایک رہنا سہنا علم اور تجویز سے جنم لیتا ہے
اس میں چاقو،چھری،مقدمہ،بحث، مباحثے،کس بل،حق حقوق،چھینا جھپٹی،کرودھ کام ہنکار سب ہوتا ہے


دوسرا رہنا سہنا اہک اور قسم کی سوچ سے نکلتا ہے
اس میں وجدان ،شانتی،امن،پرائسچت،پریم کی وجہ سے ہجرت کا سماں رہتا ہے
اسی وجدان کی وجہ سےایسی سوچ والے لوگ غریبی میں امیر اور امیری میں غریب دکھائی دیتے ہیں
تم چاہو تو علم کا ڈنڈا پکڑ لو پھر وکیل ضروری ہو گا


میرے وجدان پر اعتبار کرو تو جنگل چھوڑ دو
آگے ہر پڑاؤ پر تمہیں امن ہی امن لہراتا ملے گا۔

سیارہ


کچھ لمحے بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں
اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کون کس شخص کا سیارہ بنایا جائے گا
جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر ٹھوس مائع اور مائع گیس میں بدل جاتا ہے
اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے
 اس وقت ایک قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کر دی جاتی ہیں
پھر جو وقت پہلے قلب میں رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے
جو موسم‘ جو رُت‘ جو پہلے دن میں طلوع ہوتا ہے
وہی دوسرے آئینے منعکس ہو جاتا ہے
دوسرے قلب کی اپنی زندگی ساکت ہو جاتی ہے
اس کے بعد اس میں صرف بازگشت کی آواز آتی ہے

دیوانگی


ہمممم ۔ ۔ ۔ ۔
 مگر میرا خیال ہے کہ ایسا مُمکن ہے
کیونکہ اگر دیکھا جائے تو دیوانگی اُن لوگوں کو آن دبوچتی ہے جو فطرتا حساس ہوتے ہیں
اور کسی بھی ظاہری مہیج کے اثرات آسانی سے قبول کر لیتے ہیں یا یوں کہیے کہ اُن کا کسی بھی عمل کے جواب میں ڈیفینس میکنزم کمزور پڑ جاتا ہے
اور عشق بھی وہ لوگ کرتے ہیں جو جذباتی اور حساس ہوتے ہیں
جب زندگی میں کسی بے حد شدید خواہش کے پورا ہونے میں ناکامی ہوتی ہے تو اُس نتیجے میں احساس محرومی جنم لیتی ہے اور ضروری نہیں کہ ہر عام انسان اس سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو
احساس محرومی کی شدت انسان سے کُچھ بھی کرا سکتی ہے
پاگل پن کیا ۔ ۔ ۔ ۔
 انسان ایسی کیفیت میں خود کُشی بھی کر سکتا ہے

چھلا وہ


محبت چھلا وہ ہے قیوم
اس کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ آتی ہے
کچھ لوگ جو آپ سے اظہار محبت کرتے ہیں اتصال جسم کے خواہاں ہوتے ہیں
کچھ آپ کی روح کے لیے تڑپتے ہیں
کسی کسی کے جزبات پر آپ خود حاوی ہو جانا چاہتے ہیں
کچھ کو سمجھ سوچ ادراک کی سمتوں پر چھا جانے کا شوق ہوتا ہے
محبت چھلا وہ ہے کہ لاکھ روپ بدلتی ہے
اسی لیے لاکھ چاہو ایک آدمی آپ کی تمام ضروریات پوری کر دے یہ ممکن نہیں


اور بالفرض کوئی آپ کی ہر سمت ہر جہت کے خلاء کو پورا کر بھی دےتو
اس بات کی کیا گارنٹی ہے آپ بھی اُس کی ہر ضرورت کو ہر جگہ ہر موسم ہر عہد میں پورا کر سکیں گے
انسان جامد نہیں ہے، اوپر دائیں بائٰیں
اس کی ضروریات تم پابند نہیں کر سکتے

عشق لا حاصل


پاگل پن کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو فنکشنل وجہ ہو سکتی ہے سر، کہ بچہ پیدائشی طور پر نامکمل ہو
 دوسری وجہ نفسیاتی ہو سکتی ہے  . پاگل پن ہمیشہ ناآسودہ آرزؤں سے پیدا ہوتا ہے سر
اور نا آسودہ آرزوئیں ان ٹابوز ے جنم لیتی ہیں
 جو ہر کلچر میں موجود رہتی ہیں


 جس کلچر میں ماموںزاد بہن سے شادی نہیں ہو سکتی وہاں ماموںزاد بہن کے عشق لا حاصل سے دیوانگی ہوسکتی ہے 


"فرائیڈ سے مستعار لینے کا شکریہ"
سیمی نے قینچی تیکھی انگریزی میں کہا


محترمہ۔۔۔۔ پاگلپن کی وجہ میں نے ریپریشن سے نہیں لی
میں جس پاگل من کا زکر کر رہا ہوں وہ میر تقی میر کا پاگل پن ہے
پروفیسر سہیل تو دیوانے پن کی سائیڈ دکھا رہے تھے
 خود کشی اور موت میں دوسری سائیڈ پیش کر رہا ہوں
 جہاں پہنچ کر دیوانہ پن مقدس ہو جاتا ہے
ماؤنٹ ایوریس فتح کر لیتا ہے
دودھ کی نہریں بہا دیتا ہے
یعنی پاگل پن دو قسم کا ہے
ایک مثبت ایک منفی
ویری گڈ


سر دیوانے پن کی صرف ایک وجہ ہے
 ماحول ماحول ماحول
ایک طرف سے آواز آئی


 سر انسان میں پیدائشی نقص ہوتا ہے
 بائیولوجیکل 
ریپریشن سر 


مانے نہ مانے کوئی
 اصلی پاگل پن کی وجہ 


عشق لا حاصل
عشق لا حاصل
عشق لا حاصل


بھنگڑا ڈالنے کے انداز میں آفتاب کُرسی پر چڑھ کر چلایا

محبت کا تریاق


ایک وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کو انسان بنانے کے لیے۔
عہد بنانے کے لیے محبت عطا ہوتی ہے ان کی حثیت سمجھانے کے لیے۔
ان کا قد عام انسانوں جتنا کرنے کے لیے۔
 پھر محبت ان لوگوں کو ملتی ہے، جو ہارنے کی آرزو میں جیتتے ہیں جاں بلب ہوتے ہیں ان کے لیے محبت کا تریاق آتا ہے غیب سے۔ یکدم ان مردہ لاشوں میں زندگی کے آثار اُجاگر ہوتے ہیں وہ درختوں کو پرندوں کو چاند ستاروں کو ازسرنو دیکھنا شروع کرتے ہیں بچے کی حیرت کے ساتھ موسم ان پر اثرانداز ہوتے ہیں ایک بار پھر۔۔۔۔۔۔۔"
کیا کیا کیا؟۔"
سنو سیمی سنو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
محبت مارتی بھی ہے اور زندہ بھی کرتی ہے
پھنکارتی انا کو مارنے کے لیے بی محبت کا زہر ہے
اور قریب المرگ زندگی کو زندہ کرنے کے لیے بھی محبت ہی کا تریاق ہے

شام


عجیب بات ہے شام کے وقت بجلی کی روشنی کے باعث غروب آفتاب کو کوئی نہیں پہچانتا
پر ہمارے اندر پتھر اور دھات کے زمانے والے انسان کے ساتھ بہت کچھ بیت جاتی ہے
تہذیب کے ہر قیدی کے اندر سانس کے ساتھ شام داخل ہوتی ہے 
شام چاہے سردیوں کی ہو چاہے اس میں گرمی کی لو شامل ہو یا خزاں دیدہ پتوں کی سرسراہٹ
شام کا انسان کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے کندھے پر شکار کیا ہوا بارہ سنگھا لٹکائے ہزاروں سال پہلے غار کا رہنے والا جس طرح گھر کو بھاگتا تھا
آج بھی اپنی اپنی جان کو کندھوں پر مشکیر کی طرح لٹکائے سب شہری لوگ پناہ کی طرف بھاگتے ہیں
سب شام سے بدکتے ہیں اندھیرے سے ڈرتے ہیں
انہونی ان کہی سے سب کے ہونٹ سوکھتے ہیں

محبت کا جن


تمہیں بھی اپنے لیے کوئی راہ تلاش کرنا ہو گی سیمی
پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اور کوئی صورت نہیں ہوتی 
وہ محبت کے ترازو میں برابر کا تلنا چاہتی تھی
اور دوسری طرف مجھے کوئی ایسا بٹہ رکھنا نہیں آتا تھا جس کی وجہ سے اس کا توازن ٹھیک ہو جاتا
اگر میں آفتاب کو خوش ظاہر کرتا تو وہ تنفر کی صورت میں بے قابو ہو جاتی ، اگر میں اسے اداس ظاہر کرتا تو بے یقینی ، ناامیدی اور شدید غم تلے دب کر آہیں بھرنے لگتی، محبت کا آرا اوپر تلے برابر اس کے تختے کاتتا چلا جا رہا تھا
میں سوشیالوجی کے طالبعلم کی طرح سوچنے لگا کہ جب انسان نے سوسائیٹی کو تشکیل دیا ہو گا تو یہ ضرورت محسوس کی ہو گی کہ فرد علیحدہ علیحدہ مطمئن زندگی بسر نہیں کر سکتے، باہمی ہمدردی ، میل جول اور ضروریات نے معاشرہ کو جنم دیا ہو گا، لیکن رفتہ رفتہ سوسائٹی اتنی پیچ در پیچ ہو گئی کہ باہمی میل جول ، ہمدردی اور ضرورت نے تہذیب کے جذباتی انتشار کا بنیادی پتھر رکھا ۔ جس محبت کے تصور کے بغیر معاشرے کی تشکیل ممکن نہ تھی شاید اسی محبت کو مبالغہ پسند انسان نے خداہی سمجھ لیا اور انسان دوستی کو انسانیت کی معراج ٹھہرایا
پھر یہی محبت جگہ جگہ نفرت حقارت اور غصے سے زیادہ لوگوں کی زندگیا سلب کرنے لگی
محبت کی خاطر قتل ہونے لگے
خود کشی وجود میں آئی
سوسائٹی اغوا سے شبخون سے متعارف ہوئی
رفتہ رفتہ محبت ہی سوسائٹی کا ایک بڑا روگ بن گئی
اس جن کو ناپ کی بوتل میں بند رکھنا معاشرے کے لیے ممکن نہ رہا
اب محبت کے وجود یا عدم وجود پر ادب پیدا ہونے لگا
بچوں کی سائیکالوجی جنم لینے لگی
محبت کے حصول پر مقدمے ہونے لگے
ساس بن کر ماں ڈائن کا روپ دھارنے لگی
معاشرے میں محبت کے خمیر کی وجہ سے کئی قسم کا ناگوار بیکٹیریا پیدا ہوا
نفرت کا سیدھا سادا شیطانی روپ ھے
محبت سفید لباس میں ملبوس عمرو عیار ھے
ہمیشہ دو راہوں پر لا کھڑا کر دیتی ھے
اس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشان گڑا ہوتا ھے
محبتی جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کن سزا نہیں ہوتی ہمیشہ عمر قید ہوتی ھے
جس معاشرے نے محبت کو علم بنا کر آگے قدم رکھا وہ اندر ہی اندر اس کے انتظار سے بری طرح متاثر بھی ہوتی چلی گئی
جائز و ناجائز محبت کے کچھ ٹریفک رولز بنائے لیکن ہائی سپیڈ معاشرے میں ایسے سپیڈ بریکر کسی کام کے نہیں ہوتے کیونکہ محبت کا خمیر ہی ایسا ھے
زیادہ خمیر لگ جائے تو بھی سوسائٹی پھول جاتی ھے
کم رہ جائے تو بھی پپڑی کی طرح تڑخ جاتی ھے
شکست و ریخت، بد بختی و سوختہ سامانی
آج تک سوسائٹی جرائم کی بیخ کنی پر اپنی تمام قوت استعمال کرتی رہی ھے
اس نے اندازہ نہیں لگایا کہ کتنے گھروں میں کتنے مسلکوں میں سارا نقص ہی محبت سے پیدا ہوتا ھے
سوسائٹی کا بنیادی تضاد ہی یہ ھے کہ ابھی تک وہ محبت کا علم اٹھائے ہوئے ھے
حالانکہ وہ اس کے ہاتھوں توفیق بھر تکلیف اٹھا چکی ھے ، جب تک یہ ن دوبارہ بوتل میں بند نہیں ہو جاتا اور اس کے ٹریفک رولز مقرر نہیں ہوتے
تب تک شانتی ممکن نہیں
کیونکہ محبت کا مزاج ہوا کی طرح ھے کہیں ٹکتا نہیں
اور معاشرے کو کسی ٹھوس چیز کی ضرورت ھے