عجیب بات ہے شام کے وقت بجلی کی روشنی کے باعث غروب آفتاب کو کوئی نہیں پہچانتا
پر ہمارے اندر پتھر اور دھات کے زمانے والے انسان کے ساتھ بہت کچھ بیت جاتی ہے
تہذیب کے ہر قیدی کے اندر سانس کے ساتھ شام داخل ہوتی ہے
شام چاہے سردیوں کی ہو چاہے اس میں گرمی کی لو شامل ہو یا خزاں دیدہ پتوں کی سرسراہٹ
شام کا انسان کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے کندھے پر شکار کیا ہوا بارہ سنگھا لٹکائے ہزاروں سال پہلے غار کا رہنے والا جس طرح گھر کو بھاگتا تھا
آج بھی اپنی اپنی جان کو کندھوں پر مشکیر کی طرح لٹکائے سب شہری لوگ پناہ کی طرف بھاگتے ہیں
سب شام سے بدکتے ہیں اندھیرے سے ڈرتے ہیں
انہونی ان کہی سے سب کے ہونٹ سوکھتے ہیں
No comments:
Post a Comment