Pages

Sunday, November 13, 2011

چھلا وہ


محبت چھلا وہ ہے قیوم
اس کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ آتی ہے
کچھ لوگ جو آپ سے اظہار محبت کرتے ہیں اتصال جسم کے خواہاں ہوتے ہیں
کچھ آپ کی روح کے لیے تڑپتے ہیں
کسی کسی کے جزبات پر آپ خود حاوی ہو جانا چاہتے ہیں
کچھ کو سمجھ سوچ ادراک کی سمتوں پر چھا جانے کا شوق ہوتا ہے
محبت چھلا وہ ہے کہ لاکھ روپ بدلتی ہے
اسی لیے لاکھ چاہو ایک آدمی آپ کی تمام ضروریات پوری کر دے یہ ممکن نہیں


اور بالفرض کوئی آپ کی ہر سمت ہر جہت کے خلاء کو پورا کر بھی دےتو
اس بات کی کیا گارنٹی ہے آپ بھی اُس کی ہر ضرورت کو ہر جگہ ہر موسم ہر عہد میں پورا کر سکیں گے
انسان جامد نہیں ہے، اوپر دائیں بائٰیں
اس کی ضروریات تم پابند نہیں کر سکتے

No comments:

Post a Comment