قول ایک سواری ہے
جس پر سوار ہو کر ہم عمل کی منزل کے کنارے پر پہنچتے ہیں
لیکن ہم کرتے یوں ہیں
کہ عمل کے کنارے پہ پہنچ کے بھی
قول کی کشتی کی سواری کو نہیں چھوڑتے
اور اس میں سوار ہی رہتے ہیں
اور عمل کی منزل کا کنارہ ہمارے سامنے
ہمارے آس پاس ہی گھومتا رہتا ہے
No comments:
Post a Comment