ہم اس دھوکے میں زندہ ہیں کے ہمیں سب کچھ معلوم ہے
ہمارا خیال ہے کے ہمیں ہر راز کی اور ہر بھید کی اصل معلوم ہے
ہم اس کی وجہ جانتے ہیں جو ذھن نام نہاد علم سے لبریز ہوگا وہ نا معلوم سے نا آشنا ہوگا
اور جہاں کچ بھی نا معلوم نہیں ہے تحیر مفقود ہے
وہاں کوئی خوشی نہیں سکون نہیں آنند نہیں
میں تو کہتا ہوں اس نام نہاد علم کو جانے دو
اور نا معلوم کو آنے دو
کیوں کے معلوم دنیا ہے
اور نا معلوم خدا ہے
از اشفاق احمد زاویہ ٣ علم فہم اور ہوش پیج ٢٩٤
No comments:
Post a Comment