اگر کسی لڑکی کی شادی زبردستی اس کی مرضی کے بغیر ہو رہی ہے اور وہ رونا چاہتی ہے کسی مامے ،چاچے ، دوست پروفیسر استاد کو بتانا چاہتی ہے کے مجھے یہ دکھ ہے مگر وہ سارے کہتے ہیں کے ہمارے پاس وقت نہیں جا دفع ہو جا -
اب وہ بیچاری خودکشی نہیں کرے گی تو اور کیا کرے گی جب زندگی اور آواز کا پنجرہ اتنا تنگ کر دیا جاتا ہے کے وہ اس میں محبوس ہو جاتا ہے اور اس کا سانس گھٹنے لگتا ہے تو وہ پھر مرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے
زاویہ ٣ دو بول محبّت کے پیج ٥٢
No comments:
Post a Comment