Pages

Wednesday, November 16, 2011

سوچے جانے والی بات


سوچے جانے والی بات کے حوالے سے حفیظ کا ایک بڑا کمال شعر ہے 
لب پے آتی ہے بات دل سے حفیظ 
دل میں جانے کہاں سے آتی ہے 
دل میں بات اس منبع سے آتی ہے جہاں سے سب کو علم عطا ہوتا ہے
یہ ان لوگوں کو بھی عطا ہوتا ہے جن کے پاس یونیورستی کی کوئی ڈگری نہیں ہوتی
لیکن خدا کی طرف سے حصّے کے مطابق ان کو علم عطا ہوتا رہتا ہے
وہ پنجرے والا کسی کے پیچھے نہیں گیا کسی کی منّت سماجت نہیں کی
 لیکن اپنی سوچ سے اس نے کبوتر کو پڑھایا
سمجھایا اور قاصد کا کام لیا 

 زاویہ٢ ان پڑہ سقراط پیج ٢٣٨

No comments:

Post a Comment