ہمارے بابے کہتے ہیں
کہ جب تک دنیا کی ساری لذتوں سے خود کو قطع تعلق نہیں کر لو گے
اور انھیں چھوڑ نہیں دو گے
اس وقت تک تمہاری سمجھ میں اصل بات نہیں آئے گی
آپ بہت کثیرالمقاصد لوگ ہیں
سب سے پہلے اپنے مقاصد کا تعین کرنا ہوگا
ہم لوگ لذتوں اور ناحق کے مقاصد پی عمل پیرا ہیں
جیسا کہ میری بیوی کہتی ہے
وہ نوکری بھی کرے
روٹی بھی پکائے
آٹا بھی گوندھ لے
ٹیلیفون بھی سن لے
چغلی میٹنگ میں بھی شرکت کرے
اس کے بعد بازار بھی چلی جائے
درزی سے بھی ہو آئے
لیکن ایسے تو نہیں ہوتا ہے نا
اتنے سارے مقاصد کو آپ کیسےچلا سکتے یا پا سکتے ہیں
زاویہ ٣ وزڈم وف دی ایسٹ پیج ٥٨
No comments:
Post a Comment