میرا تجربہ ہے کہ جب کبھی ہماری دعا قبول ہو جائے
تو ہمیں اس بات پر خوشی نہیں یوتی کہ دعا قبول ہوگئی
اور خوشی نہ ہو تو۔
احساس شکر گزاری پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔
الٹا ہمیں یہ غم لگ جاتا یے
کہ قبولیت کے اس لمحے میں ہم نے کچھ اور کیوں نہ مانگ لیا۔
اردوادب کی مانگ بے شمار انمول نگینوں سے مزین رہی ہے۔ ایک طرف بابا جی کا زاویہ اپنے اندر ان گنت زاویئے لیئے بیٹھا ہے اور دوسری طرف آپا کا راجہ گدھ عشق، محبت، وجدان، حلال، حرام کی ان گنت گرھیں کھولتا نظر آتا ہے۔ مفتی جی کا ایلی ہو یا بابا جی یحی خان جی کا کاجل کوٹھا۔ ایک طلسم ہوش ربا برپا ہے۔ کہیں الفاظ موتیوں کی طرح پروئے جا رہے ہیں۔ اورکہیں ازل اور ابد کے سربستہ راز کھولے جا رہے ہیں۔ یہ بلاگ ان کے چھوڑے ہوئے انمول نگینوں کو چن چن کر آپ تک پہنچانے کی ایک ادنی سی کاوش ہے۔ عاطف تسنیم خان
No comments:
Post a Comment