Pages

Tuesday, November 29, 2011

گھاتک


ٹھگوں کی کتنی اقسام ہیں؟
کیا تاریخ ہے؟
اور صرف بنارس ہی کے ٹھگ کیوں مشہور ہیں؟


مجھے ان سوالوں کے جواب تو نہیں ملے لیکن بابا یحییٰ خان کی صورت میں جس ٹھگ سے میرا پالا پڑا ہے وہ کسی چوکھٹے میں فٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دیتا۔
 بابا ! پکا ٹھکاوارداتیا ہے۔
جانے کب سے مچان لگا کر گھاتک شکاریوں کی طرح درخت پر تنبو تانے بیٹھا ہے، درخت سے ’’ چارہ‘‘ کی صورت بھی خود کو باندھا ہوا ہے اور کمال یہ ہے کہ اس ’’ چارے‘‘ پر لپکنے والے شیر، چیتے، بھیڑیے، گیدڑ، ہرن، لومڑیاں ہمہاقسام کے چرندو پرند کھانے کو لپکتے ہیں اور بابے کی ٹھگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔


 کہ بظاہر کالے کپڑوں میں سرمئی آنکھوں، برف پر سورج کی کرنیں پڑنے کے بعد پیدا ہونے والی سفیدی جیسی سفید داڑھی، قیمتی مالائیں، انگشتریاں پہنے یہ گھاتک آپ پر پہلی ہی ملاقات میں ایسا سحر پھونکے گا کہ پھر آپ اس کی گرفت سے زندگی بھر نکل نہیں سکتے۔


میں اس من مونہی صورت والے سامری جادوگر سے کب ٹکرایا تھا، یاد نہیں، بس یوں جانئے کہ ایک دوست کی معیت میں جس نے بابا یحییٰ خان کو میرے آگے ’’ ولی کامل‘‘ بناکر پیش کیا اور بتایا تھا کہ تمہارے تمام مسائل کا حل اس بابے کے پاس ہے، ملنے گیا اور اس کے جال میں پھنس گیا۔ بابا جو زبان بول رہا تھا وہ میں نے شکیل عادل زادہ کے بعد صرف بابے سے سنی تھی۔ حیرت ہوئی کہ تعویز گنڈے کرنے کے بجائے، مجھے کچھ پڑھنے پڑھانے کی تاکید، کوئی اسم عظم کی تلقین، کوئی پڑھا ہوا پانی دیواروں پر چھڑکنے یا اپنے اوپر ڈالنے کی ہدایت کرنے کے بجائے بابا جی نے’’ پیارنگ کالا‘‘میرے گلے منڈھ دی۔
سچی بات ہے میری پڑھنے پڑھانے سے بڑی جان جاتی ہے اپنی لائبریری میں کتابیں سجانا، آنے والوں پر ان کا رعب گانٹھنا تو اچھا لگتا ہے لیکن خود کے لئے اخبار کو بھی سرخیوں سے آگے پڑھنا کاردارد ہے۔ میں نے ’’ پیارنگ کالا‘‘ اور بابے کا لنگر پلے باندھا اور اپنی جان کو روتا گھر آگیا۔
برا وقت کہہ کر نہیں آتا۔ اس کی سب سے بڑی مثال میں ہوں۔ اللہ جانے کب میں نے ’’ پیارنگ کالا‘‘ کے صفحات اُلٹنے شروع کئے اور باباکے پھیلائے اس ’’ شٹری انتر ‘‘ میں پھنس گیا۔ وہ نشست کتنے دنوں پر محیط تھی اس کا مجھے اندازہ نہیں ہوسکا۔ لیکن کتاب میں نے ایک نشست میں پڑھی جس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ اب بابے کی غلامی کا طوق میرے گلے میں پڑ گیا۔


بابا جی محمد یحی خان
طارق اسمعیل ساگر کے الفاظ میں

رشتے


زندگي ميں کوئی خوشی
کوئی رشتھ
کوئی جذبھ
 کبھی مستقل نھيں ھوتا
ان کے پاؤں ھوتے ھيں


ھمارا سلوک اور رويھ ديکھ کے
کبھی يھ بھاگ کر قريب آ جاتے ھيں
اور کبھی آھستھ آھستھ دور چلے جاتے ھيں

بابا یحییٰ خاں کون ہے؟

روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی

یہ چند برس پہلے کی بات ہے، میں اقبال ٹاؤن کی مون مارکیٹ میں کسی کام کے لئے گیا، کام سے لوٹا تو ایک دکان کے باہر پتھریلے فرش پر میں نے ایک سیاہ پوش گداگر کو دیکھا جو فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کی عبا اوڑھی ہوئی تھی، اس کے چہرے کا رنگ بھی سیاہی مائل تھا، اس کی گھنی داڑھی تھی جس میں سفید اور کالے بال یکساں مقدار میں تھے۔ اس نے نظر بھر کر میری طرف دیکھا، اس کے دیکھنے میں اتنی کشش تھی کہ میرا جی چاہا میں اس کے پاس جاؤں لیکن اس خیال نے میرے قدم روک لئے کہ پھر یہ فقیر میرا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ وہ مجھے کوئی اپنی دردبھری داستان سنائے گا اور یوں پیسے بٹورنے کی کوشش کرے گا جبکہ میں گداگری کے سخت خلاف ہوں اور ان لوگوں کی مدد کو گناہ کے مترادف سمجھتا ہوں چنانچہ میں نے اپنے رکتے قدم ایک بار پھر تیز کئے مگر اس دوران میرے کانوں میں ایک آواز آئی ”قاسمی صاحب !“ میں نے ادھر ادھر دکھا مگر اس سیاہ پوش کے علاوہ میرے گرد و نواح میں کوئی نہیں تھا۔ ایک بار پھر محبت میں ڈوبی ہوئی آواز سنائی دی ”قاسمی صاحب!“ اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی شخص ہے جس سے میں بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں بادلِ نخواستہ اس کے پاس گیا مگر میں بہت حیران تھا کہ یہ فقیر مجھے کیسے جانتا ہے؟ وہ مجھے اپنے پاس دیکھ کر بہت خوش نظر آ رہا تھا۔ اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ”آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کا نوکر، میں آپ کا خادم ہوں، میں آپ کے پاؤں کی خاک ہوں، آپ میرے محبوب ہیں، میں آپ کا کالم بہت شوق سے پڑھتا ہوں“ میں اس کی باتیں سن کر چکرا کر رہ گیا۔ اس کا حلیہ ، اس کی وضع قطع، شدید گرمی کے موسم میں پتھریلے فرش پر اتنے سکون سے بیٹھنا جیسے کسی نرم و گداز صوفے پر بیٹھا ہو، اس شخص کا لکھنے پڑھنے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے، پھر اس کا انکسار۔ میرے مداح اور بھی بہت سے لوگ ہیں لیکن وہ اپنی ذات کی اس طرح نفی کبھی نہیں کرتے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر کچھ دیر کے لئے رک گیا تاکہ وہ ”حرفِ مدعا“ زبان پر لائے اور یوں اس کی اصلیت ظاہر ہو سکے۔ لیکن اس نے درود شریف پڑھتے ہوئے مجھے خداحافظ کہہ دیا۔
پھر ایک دن میں نے اسے اس پرانے حلیے میں اشفاق احمد کے ڈرائننگ روم میں دیکھا۔ پہلی ملاقات کے بعد یہ اس نے مجھے دوسری دفعہ چونکایا تھا۔ وہ ان کے قدموں میں بیٹھا ان کے پاؤں داب رہا تھا یعنی ایک اور انوکھی بات تھی جو اس کے حوالے سے میرے سامنے آئی تھی۔ اس کے ساتھ دو درویش قسم کے نوجوان اور بھی تھے جو بظاہر اس کے چیلے چانٹے لگتے تھے۔ جب یہ لوگ اٹھ کر گئے تو میں نے یہ معمہ اشفاق صاحب کے سامنے رکھا اور پوچھا ”یہ پراسرار سا سیاہ پوش کون ہے؟“ اشفاق صاحب نے جواب دیا ”اس کا نام یحییٰ خان ہے، یہ بہت بڑا رائٹر ہے اور تصوف کے راستوں کا مسافر ہے“۔ اشفاق صاحب کی رائے کا بطلان میرے لئے ممکن نہیں تھا تاہم میں نے ان کے ان ریمارکس کو حوصلہ افزائی کے کھاتے میں ڈالا اور وہاں سے واپسی پر دوبارہ اپنے دنیاوی کاموں میں مشغول ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے بابا یحییٰ خاں کو دو ایک بار پیدل اور دو ایک بار ان دو نوجوانوں میں سے ایک کے ساتھ جنہیں میں نے اشفاق صاحب کے ہاں دیکھا تھا، موٹر سائیکل پر جاتے دیکھا۔ پھر ایک دن ایسے ہوا کہ مجھے اس کی ایک کتاب پڑھنے کا موقع ملا جس کا نام غالباً ”پیا رنگ کالا“ یا ”کاجل کوٹھا “ تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس کی ان دو تصانیف میں سے کون سی کتاب میں نے پہلے پڑھی تھی لیکن جوں جوں میں یہ کتاب پڑھتا چلا گیا میں حیرت کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔ یہ کتاب اس کے مشاہدات اور تجربات پر مشتمل تھی۔ میں نے منظر کشی پر اتنی عظیم دسترس اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھی تھی۔ کتاب پڑھتے ہوئے میں ہر منظر میں اس طرح گم ہو جاتا تھا جیسے میں اس کا حصہ ہوں۔ اور کردار نگاری؟ کاش خدا مجھے بھی یہ ہنر دیتا! یہ بابا دنیا کے مختلف ملکوں میں گھومتا پھرتا رہتا ہے اور مجھے لگا میں ہر جگہ اس کے ساتھ ہوں خصوصاً انڈیا کے کنبھ میلے میں جوتشیوں، سنیاسیوں، صوفیوں، فراڈیوں اور جن دوسرے طبقے کے افراد سے اس نے میری ملاقات کرائی، وہ سب میرے دوست بن گئے۔ بابا یحییٰ خاں نے اپنی متذکرہ دو کتابوں میں تصوف کے مراحل اور پھر اس حوالے سے بعض عجیب و غریب واقعات کا ذکر بھی کیا ہے جو میرا موضوع نہیں ہیں۔ لیکن میں بابا کے طرز نگارش کا فین بن گیا۔ یہ اس نے مجھے تیسری دفعہ چونکایا تھا۔ میں نے انڈیا سے آئے ہوئے مہمانوں شمس الرحمن فاروقی ، شمیم حنفی اور بعض دوسرے دوستوں کو ایک بار اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا تو بابا یحییٰ خاں سے بھی گزارش کی کہ وہ بھی تشریف لائیں۔ میں نے مہمانوں سے بابے کا تعارف کرایا اور بابے نے انہیں اپنی ایک کتاب پیش کی۔ دو سال بعد شمیم حنفی دوبارہ پاکستان آئے تو دوران ملاقات انہوں نے بتایا کہ آپ کے ہاں جس سیاہ پوش بزرگ سے میری ملاقات ہوئی تھی وہ مجھے علی گڑھ میں سڑک کے کنارے بیٹھے مل گئے۔ بھئی کیا کمال کا آدمی اور کمال کا رائٹر ہے۔
اور اب یہ گزشتہ رات کی بات ہے ، تقریباً ساڑھے دس بجے ان کا فون آیا اور کہا ”یہ آپ نے آج کے کالم میں کیا لکھا ہے کہ سیلاب زدگان کے لئے میں نے 42 لاکھ تیرہ ہزار روپے جمع کر لئے ہیں۔ اب میں لالچی ہو گیا ہوں اور میری خواہش ہے کہ یہ رقم پچاس لاکھ ہو جائے۔ آپ نے اس یقین کا اظہار بھی کیا ہے کہ ایسا ضرور ہو گا!“ میں نے جواب دیا ”میں نے لکھا تو ہے لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟“ بولے ”دیکھنا کیا ہے ، باقی پیسے میں دے رہا ہوں“۔اور اس وقت سات لاکھ 67 ہزار روپے کا چیک میرے سامنے پڑا ہے۔ کیونکہ کالم کی اشاعت کے بعد مزید بیس ہزار روپے کا عطیہ موصول ہو گیا تھا اور میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے مسلسل چونکانے والا بابا یحییٰ خاں واقعی کوئی جیتا جاگتا شخص ہے یا کوئی افسانوی کردار ہے؟ یہ بھی مجھے کسی ”بابے“ ہی سے پوچھنا پڑے گا۔

یہودی فلسفہء اعتماد


حکایت یوں ہے کہ ایک بوڑھا کاروباری یہودی جب اپنی لاعلاج علالت کی وجہ سے سر پڑی کاروباری ذمہ داریاں پوری طرح نبھانے سے قاصر ہو گیا تو اس نے اپنے نابالغ فرزند کو اپنی جگہ تفویض کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن ایک خدشہ اسے رہ رہ کر پریشان اور فکرمند کر رہا تھا کہ بچہ ابھی کچا اور کاروباری معاملات کی پیرا پھیری سے ناواقف ہے۔ چونکہ جلد سے جلد بیٹے کو اپنی جگہ پہ بٹھانا اس کی مجبوری اور ضرورت بن چکا تھا، اس لئے خرانٹ بڈھے نے فوری طور پہ اسے وہی ازلی سبق پڑھانے کا سوچ لیا جو کبھی اس کے باپ نے اسے پڑھایا تھا اور جس کے نتیجہ میں ابھی تک اس کی کمر میں ریڑھ کا مہرہ اپنی جگہ سے کھسکا ہوا تھا۔


بوڑھے بوبک نے بیٹے کو اوپر کوٹھے پہ چڑھا دیا اور خود نیچے صحن میں کھڑا ہو گیا۔ اس نے بیٹے کو بڑی رسان سے حکم دیا کہ وہ نیچے پھلانگ جائے، جونہی وہ نیچے آ رہا ہوگا تو وہ اسے اچک کر سنبھال لے گا۔ فرمانبردار بیٹا، باپ کی یہ عجیب سی بات، خواہش اور حکم سن کر بڑا پریشان ہوا۔ اس کی کچی عقل ابھی باپ کی پکی بات کو سمجھنے سے عاجز تھی، آخر اس نے اپنے مہربان باپ سے اس ڈرامے کی وجہ اور حقیقت پوچھ ہی لی۔ تجربہ کار باپ نے بڑے محبت اور شفقت سے کہا کہ جان پدر! میں اب ناکارہ اور بوڑھا ہو گیا ہوں، تم میری اکلوتی اولاد اور میری ہر چیز کے بلا شرکت غیرے وارث ہو لہٰذا آج میں تمہیں ایک سبق دینا چاہتا ہوں جو تمہاری آئندہ تمام زندگی اور کاروباری معاملات میں کام آئے گا۔ اب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ بلا کسی تردد و خوف، آنکھیں بند کرکے نیچے صحن میں چھلانگ لگا دو۔۔۔۔


بچہ کبھی بلندی، کبھی صحن اور کبھی باپ کو دیکھ کر ہلکان ہو رہا تھا۔ کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے؟ ڈرتے ڈرتے پھر زبان کھولی اور اپنا خدشہ خوف بیان کیا کہ اتنی بلندی سے چھلانگ لگانے کے لئے میرے پاس حوصلہ نہیں، نیچے گرنے سے میرے ہاتھ پاؤں ٹوٹ سکتے ہیں یا آپ سے مجھے سنبھالنے میں کوتاہی ہو سکتی ہے۔ آخر آپ مجھے اور خود کو ایسی آزمائش میں کیوں ڈالنا چاہتے ہیں؟۔۔۔۔۔گھاگ باپ بڑی مکاری سے سمجھانے لگا کہ بیٹا! یہ سب کچھ جو ہمارے اردگرد بکھرا ہوا ہے، اک کارخانہء آزمائش ہی تو ہے۔ ہمارے پیغمبروں، نبیوں اور ان کی اولادوں پہ بھی آزمائشیں ڈالی گئیں تاکہ وہ دانش، دبدبہ اور دلگیری و درماندگی کا درماں حاصل کر سکیں، آزمائش ہمارے اسلاف کبار کی سنتیں اور صفتیں ہیں لہٰذا میرے جگر گوشے! تو بھی آزمائش پہ پورا اتر اور اس سے حاصل ہونے والی نصیحت کو مضبوطی سے پکڑ۔ تو زیتون کے پکے ہوئے پھل کی مانند نیچے اتر آ، تیرا مشفق و مستعد باپ تجھے اپنے پھیلے ہوئے بازوؤں میں بھر لے گا، بھلا باپ سے زیادہ دنیا میں قابل اعتماد ہستی اور کون ہو سکتی ہے؟ شاباش! دل پکا اور مضبوط کر۔ اپنے مہربان باپ پہ بھروسہ کرتے ہوئے چھلانگ لگا دے۔۔۔۔


باپ کی بریفنگ سے بیٹے کا دل و دماغ سن ہو چکا تھا۔ زبردستی آنکھیں بند کیں، دانت بھینچے اور جی کڑا کرکے نیچے چھلانگ لگا دی۔ عین اسی لمحہ بوڑھا اپنی جگہ سے دو قدم پیچھے ہٹ گیا اور لڑکا پتھروں کے فرش پہ گر کر اپنے گڈے گوٹے نکلوا بیٹھا۔ جب وہ دو ماہ کے لئے بستر پہ پڑ گیا تو بوڑھے غمگین باپ نے جی جان سے اپنے اکلوتے، جان سے پیارے بیٹے کی تیمارداری کی، کئی رات دن جاگتی آنکھوں میں نکال دئیے، روپیہ پیسہ پانی کی مانند بہا دیا۔ بیٹا قدرے تندرست ہوا تو اسے بتایا کہ یہی تمہارے لئے سبق ہے کہ سگے باپ پہ بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا لہٰذا زندگی ہو یا بندگی، پیار یا بیوپار، دوستی، رشتہ داری، سیاست یا حکومت، کبھی بھی کسی پہ اعتماد نہ کرنا۔۔۔۔۔”

Monday, November 21, 2011

غصہ


پرانے زمانے میں جب انسان جنگی دور میں تھا ۔۔ تو غصہ ایک اندھا جزبہ ہوا کرتا تھا ۔


ہوتا یوں تھا کہ اگر آپ پر کسی نے پتھر پھینکا اور پھر بھاگ گیا 
اس پر آپ کو غصہ آجاتا ۔
آپ اپنا تیر کمان اٹھا لیتے اور گھر سے نکل جاتے ۔
 باہر کوئی بھی چلتا پھرتا نظر آتا ۔۔چاہے وہ انسان ہو یا پرندہ یا پڑوسی کی بھینس آپ اس پر تیر چلادیتے ۔
اور پھر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کے بعد جھونپڑے میں داخل ہوکر آرام سے اپنے کام کاج میں مصروف ہوجاتے ۔
اس زمانے میں بدلے یا انتقام کاسوال نہ تھا ۔
صرف دل ٹھنڈا کرنے کی بات تھی ۔


اس کے بعد انسان آہستہ آہستہ مہزب ہوتا گیا ،
اور اس کی سمجھ میں آگیا کہ غصّہ نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ غصّہ دلانے والے کو سزا دی جائے۔


آج کی صورت حال دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہم پھر سے جنگلی دور میں جا داخل ہوئے ہیں۔
جب بھی ہم غصّے میں آتے ہیں تو جوش میں باہر نکلتے ہیں۔
سڑک پر چلتی بسوں کو روک کر انہیں آگ لگا دیتے ہیں ۔
چلتی گاڑیوں پر پتھر پھینکتے ہیں ۔
چار ایک نعرے لگاتے ہیں منہ سے جھاگ نکالتے ہیں ۔
اور یوں دل ٹھنڈا کرنے کے بعد اپنے کارنامے پر نازاں خوشی خوشی گھر لوٹتے ہیں ۔


سمجھ میں نہیں آتا دورِ جدید کے لوگ ہر وقت غصے میں کیسے رہتے ہیں ؟


بھئی غصّہ تو آنی جانی چیز ہے ۔۔
لیکن اسے قائم کرلینا یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی ۔۔۔
سیانوں کا کہنا ہے ۔۔
غصہ پہاڑ کی برفیلی چوٹی کی طرح ہے ۔
آپ چوٹی پر جاسکتے ہیں
وہاں قیام نہیں کرسکتے ۔

توبہ کا حق


توبہ کرنے کا حق صرف اسے حاصل ہے


 جسے اپنے آپ پر اعتماد ہو۔


جو یقین سے کہہ سکے کہ آئندہ گناہ کا اعادہ نہ ہو گا۔


مجھے اپنے آپ پر اعتماد نہیں۔

دعا اور قبولیت


میرا تجربہ ہے کہ جب کبھی ہماری دعا قبول ہو جائے 
تو ہمیں اس بات پر خوشی نہیں یوتی کہ دعا قبول ہوگئی
 اور خوشی نہ ہو تو۔


 احساس شکر گزاری پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔


 الٹا ہمیں یہ غم لگ جاتا یے


 کہ قبولیت کے اس لمحے میں ہم نے کچھ اور کیوں نہ مانگ لیا۔

من چلے کا سودا


اس ناول کے وجود میں آنے کا تعلق ان دو مثبت اور منفی تارون سے بندھا ہے جن میں سے ایک کا سر چشمہ تصوف اور عرفان ہے اور دوسرے کا منبع سائنس خاص طور پر فزکس اور فزکس میں سے بھی کوٹنم تھیوری کے ساتھ وابستہ ہے ۔
اشفاق احمد کہتے ہیں کہ کوئی گیارہ ساڑھے گیارہ برس تک ایک مجتحس نویسندہ کی حیثیت سے میں نوروالوں کے ڈیرے پر باقادعدگي سے سے حاضری دیتا رہا اور سائیں فضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس سے تقریبا دگنی مدت تک اردو سائنس بورڈ میں ان مسودوں کی ورق گردانی پر مامور رہاجن کا براہ راست تعلق سائنس کے مختلف موضوعات سے تھا ان دونوں رسمی تعلقات سے مجھ پر کچھ ایسے عقدے کھلے جن سے میں محض ادب کے میدان میں رہ کر روشناس ہو سکتا تھا۔  


ڈیرے کے لنگرخآنے کی کچی دیوار سے ڈھو لگآ کر سوچتے ہوۓ اور دفتر میں سائنسی کتابوں کی پروف ریڈنگ کرتے ہوۓ ایک بات اندر اور باہر پورا اور باہر پورا بو جھ ڈال کر مجھ پر لٹکی ہوئی تھی کہ اصل حقیقت بٹی ہوئی نہیں ہے ۔
 اس کے جو قطعے ٹکڑے اور اجزاء الگ الگ نظر آتے ہیں ایک ہی کل کا حصہ ہیں صوفیوں کا علم ایک ایسا ابدی اور عرفانی علم ہے جسے نہ تو عقل و دانش اور دلیل و برہان کے ترازو میں تولا جاسکتاہے  اور نہ ہی الفاظ میں بیان کیاجاسکتاہے  ۔
 اس ابدی علم کے اندرجدید فزکس کی جوابدی شاخ اپنے طے شدہ مقام سے گزررہی ہےاس کوبھی گہرے مراقبے اور ڈائریکٹ حسی بصیری اور ذآتی مشاہدے سے اسی طرح آنکاجاسکتاہے جس طرح جدید آلات سے فزکس کے مفروضات جانچے جاسکتےہیں۔  
جب فزکس کے پروفیسروں اور باطن کے مسافروں کے تجربات میں ایک متوازی ہم آہنگی کا احساس ہوتاہے  تو حیرانی اس پر نہیں ہوتی کہ اس قدر قریبی مشابہت اور ایسی ہم آہنگی کا اچانک علم ہوگیا بلکہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ دو مختلف النوع ڈسپلنوں میں یہ ہم آہنگی اور ایسی مماثلت کیوں پیدا ہوئی اور اس کے پیچھے کون سی عوامل کار فرماہيں۔ یوں تو زندگی کے اسرار نہانی جاننے کے لیے صرف صوفیوں اور سائنس دانوں نے ہی کوشش نہيں کی بلکہ شاعروں منجموں مجذوبوں بچو مسخروں اور پانسہ بھینکنے والوں نے بھی کچھ نتیجے نکالے ہيں اور بڑی دقیق باتيں کی ہیں لیکن یہ ساری باتیں زندگی اور کائنات کی تشریح اور توضیح سے تعلق رکھتی ہیں اس کے اندر کا بھید بھاو نہيںبتاتیں۔ 

اللہ کی آواز


ہمارے بابا سائیں نور والے فرماتے ہیں کہ اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس کرنی چاہئے
جو شخص اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملا لیتا ہے، اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔


کسی نے بابا جی سے پوچھا کہ ”اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملانا بھلا کیسے ممکن ہے؟
“ تو جواب ملا کہ ”انار کلی بازار جاؤ، جس وقت وہاں خوب رش ہو اس وقت جیب سے ایک روپے کا بڑا سکہ (جسے اس زمانے میں ٹھیپہ کہا جاتا تھا) نکالو اور اسے ہوا میں اچھال کر زمین پر گراؤ۔ جونہی سکہ زمین پر گرے گا، تم دیکھنا کہ اس کی چھن کی آواز سے پاس سے گزرنے والے تمام لوگ متوجہ ہوں گے اور پلٹ کر زمین کی طرف دیکھیں گے، 
کیوں؟
 اس لئے کہ ان سب کے دل اس سکے کی چھن کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ ہوئے ہیں۔


لہٰذا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ یا تو تم بھی اپنا دل اس سکے کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کر لو یا پھر اپنے خدا کی آواز کے ساتھ ملا لو“۔


بابا جی کا بیان ختم ہوا تو نوجوانوں کے گروہ نے ان کو گھیر لیا اور سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔


کسی نے پوچھا ” سر! ہمیں سمجھائیں کہ ہم کیسے اپنا دل خدا کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کریں کیونکہ ہمیں یہ کام نہیں آتا؟“۔


 اشفاق صاحب نے اس بات کا بھی بے حد خوبصورت جواب دیا
فرمانے لگے”یار ایک بات تو بتاؤ
تم سب جوان لوگ ہو
جب تمہیں کوئی لڑکی پسند آ جائے تو تم کیا کرتے ہو؟


 کیا اس وقت تم کسی سے پوچھتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے؟ نہیں


اس وقت تمہیں سارے آئیڈیاز خود ہی سوجھتے ہیں
ان سب باتوں کے لئے تمہیں کسی گائڈینس کی ضرورت نہیں پڑتی
 کیونکہ اس میں تمہاری اپنی مرضی شامل ہوتی ہے۔


تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب خدا کی بات آتی ہے تو تمہیں وہاں رہنمائی بھی چاہئے


اور تمہیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ خدا کے ساتھ اپنے آپ کو” ٹیون اپ “کیسے کرنا ہے؟

اللہ کا پسندیدہ فعل


محمد حسین: لیکن سرکار، یہ رنگا رنگ مورتیاں۔۔۔ یہ شکلیں شباہتیں۔۔۔ یہ دھینگا مشتی۔۔۔ مار دھاڑ۔۔۔ کھینچا تانی، یہ کیا؟


ارشاد: میاں محمد حسین صاحب راج دلارے! نہ کوئی ساجد ہے نہ مسجود۔۔۔ نہ عابد نہ معبود۔۔۔ نہ آدم نہ ابلیس۔۔۔ صرف ایک ذات قدیم صفات رنگارنگ میں جلوہ گر ہے۔ نہ اس کی ابتداء نہ انتہاء۔۔۔ نہ کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا۔۔۔ نہ فہم قیاس میں آئے نہ وہم گماں میں سمائے۔۔۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے اور جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔۔۔ نہ گھٹے نہ بڑھے، نہ اترے نہ چڑھے۔۔۔ وہ ایک ہے، لیکن ایک بھی نہیں کہ اس کو موجودات سے اور موجودات کو اس سے الگ سمجھنا نادانی اور مورکھتا ہے۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگا پروفیشن موجود ہیں۔ ایسے ہی خداشناسی اور خدا جوئی بھی ایک دھندہ ہے۔


محمد حسین: جب اس کا کوئی سر پیر ہی نہیں حضور تو پھر ڈھونڈنے والا کیا ڈھونڈے اور کرنے والا کیا کرے؟


ارشاد: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا
یا مولا! تیری بارگاہ میں میرا کون سا فعل پسندیدہ ہے تا کہ میں اسے ذیادہ کروں
اور بار بار کروں۔


حکم ہوا یہ فعل ہم کو پسند آیا
کہ جب بچپن میں تیری ماں تجھے مارا کرتی تھی
تو مار کھا کر بھی اسی کی طرف دوڑا کرتا تھا
اور اسی کی جھولی میں گھستا تھا

تو بھائی محمد حسین صاحب! ڈھونڈنے والے کو بھی یہی لازم ہے
کہ گر کیسی بھی سختی ہو
کیسی بھی ذلت و خواری پیش آئے
لیکن ہر حال میں خدا کی طرف رجوع کرے
اور اسی کے فضل کو پکارتا رہے۔

تقدیر ،تدبیر اور قسمت


انسان دو پاؤں کا جانور ہے۔
اس کا ایک پاؤں تدبیر سے اٹھتا ہے اور دوسرے قدم کو اس کی قسمت اٹھاتی ہے۔ 
تمہارے ڈی این اے نے یہ بات طے کر دی تھی کہ تمہاری آنکھوں کا اور بالوں کا رنگ کیا ہو گا۔
یہ بات بھی طے ہے کہ تمہارا قد اتنا ہی ہو گا۔۔۔ یہ تمہاری قسمت ہے۔
اور ان بالوں کو، اس رنگ کو اور قد کو جو چار چاند میک اپ اور ہیل والی جوتیاں لگاتی ہیں، وہ تدبیر ہے۔
قسمت گندھی ہوئی مٹی ہے، کوئی اس سے اینٹیں بناتا ہے۔
کوئی کوزہ تیار کرتا ہے۔
کوئی اس مٹی میں پھول اگاتا ہے، "ٹیوب روز کے"۔۔

کلہاڑی اور رسی

سراج: میں تو کہتا ہوں کہ اس دنیا میں کوئی اصلی آدمی، کوئی اصلی رہبر، اصلی ہادی ہے ہی نہیں۔


ارشاد: آپ اپنی طلب درست کرلیجئے، اصل آدمی مل جائے گا۔ خود بخود آجائے گا آپ کے پاس۔۔۔ کرایہ خرچ کرکے، ٹکٹ خرید کے!


سراج: چلئے پھر ٹھیک ہے ارشاد صاحب میں دنیا سے منہ موڑتا ہوں آج سے
اسی لمحے سے
دکان چھوڑتا ہوں
گھر میں نے چھوڑا ہے
آپ مجھے اپنا غلام بنا لیں
اپنا خلیفہ بنا لیں
یہاں ڈیرا چلائیں۔


ارشاد: مبتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ رزق حلال کمائے اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کرے۔ آگے چل کر وہ کام تو اسی طرح سے کرتا رہے گا لیکن آہستہ آہستہ اس سے علائق دنیا جدا ہوتے جائیں گے ۔
 فکر اہل و عیال، اندیشہ مال و زر، حب جاہ و تمکنت سے چھٹکارا ہونے لگے گا۔ 
جب تعلق اور جگہ ہوجائے گا تو یہ کام فروعی رہ جائیں گے اور فروعی کاموں کا عمر بھر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔


سراج: اصل میں بات یہ ہے ارشاد صاحب کہ میں کرامت کی تلاش میں آپ کے پاس آیا تھا اور عامر صاحب نے مجھے یہی امپریشن دیا تھا۔ لیکن افسوس مجھے آپ سے وہ حاصل نہیں ہوا جو میری آرزو تھی۔ آپ تو مجھے پھر میری دلدل میں واپس بھیج رہے ہیں، گہری اور گوڈے گوڈے کھوبو دلدل میں!


ارشاد: حیرانی، خوشدلی اور خوش اسلوبی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا ہے


سراج: یہ عامر صاحب بھی بڑے بھولے آدمی ہیں۔ کہتے تھے کہ سارے جالے اتر جائیں گے، بات شیشہ ہوجائے گی ارشاد صاحب سے مل کر۔ یہاں تو سواہ بھی نہیں!


ارشاد: میل جول رکھیں سراج صاحب، آتے جاتے رہیں۔ کیا پتہ آپ سے ہمیں کچھ فائدہ ہی پہنچ جائے ۔
کوئی راہ ہی سیدھی ہوجائے ہماری۔


سراج: خدا نہ کرے میں اب یہاں قدم رکھوں یا پھر کبھی آؤں اس طرف۔ وہ تو قصہ ہی ختم ہوگیا۔ میری تو خواہش تھی کہ آپ مجھے یہاں رکھتے، اپنا خلیفہ بناتے۔ ہم یہ ڈیرا چلاتے، لوگوں کی مدد کرتے۔ لیکن آپ تو مجھے رزق حلال کمانے کو کہہ رہے ہیں۔ حد ہوگئی! میں دنیا چھوڑنی چاہ رہا ہوں، آپ وہی پکڑا رہے ہیں۔


ارشاد: میں آپ کو کلہاڑی اور رسی سے زیادہ اور کیا دے سکتا ہوں سراج صاحب!


سراج: (غصے سے) او جی میں نے کیا کرنی ہے کلہاڑی اور رسی! سر میں مارنی ہے؟


غصے کے ساتھ اٹھتا ہے اور "ہونہہ" کہہ کر باہر نکل جاتا ہے۔

زندگی یا موت

روزن دیوار سے ۔ بشکریہ روزنامہ جنگ

بہت دنوں سے اپنے بزرگ دوست باباخدابخش سے میری ملاقات نہیں ہوئی تھی چنانچہ گزشتہ روز وقت نکال کر میں ڈیفنس میں واقع ان کے گھر گیا۔ بابا جی ایک سرکاری دفترسے بطور ہیڈکلرک ریٹائرہوئے تھے۔انہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی چنانچہ اس وقت ان کے چاروں بیٹے اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہیں اورحق حلال کی کمائی سے بہت آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ باباجی کی خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ ان کی اولاد ان سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔انہوں نے نہ صرف باباجی کو زندگی کی تمام سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں بلکہ اپنے دفتروں سے واپسی پر وہ اچھا خاصا وقت بھی ان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ باباجی کی دو ستیاں ابھی تک ان کی غربت کے زمانے کے لوگوں کے ساتھ ہیں اور اس گھرمیں انہیں بھی عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ بابا خدابخش اس وقت 90 کے پیٹے میں ہیں۔ بہت سے عارضوں میں مبتلا ہیں لیکن ان کی خوش مزاجی اور زندگی سے تعلق میں کوئی کمی نہیں آئی۔
میں جب ان کی طرف گیا وہ اس وقت لان میں حقے کی ”نڑی“ منہ میں دبائے بیٹھے تھے۔ ان کاپوتا اپنے ایک دوست کے ساتھ ربڑ کی گیند سے کرکٹ کھیل رہا تھااور وہ بہت دلچسپی سے انہیں کھیلتے دیکھ رہے تھے۔بابا خدابخش نے مجھے دیکھا تو اُٹھ کر مجھ سے معانقہ کیا اور پوتے سے ”چائے وغیرہ“لانے کے لئے کہا۔ چائے کے ساتھ ”وغیرہ“ کا لفظ اداکرتے ہوئے ہنسے اورپوتے کو ہدایت کی کہ اس ”وغیرہ“میں بہت کچھ ہونا چاہئے۔ میں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے ان کا حال احوال دریافت کیا تو بولے ”اللہ کاشکر ہے، بہت اچھی گزر رہی ہے؟“ میں نے کہا ”بابا خدا بخش ! ایک بات تو بتاؤ!“ وہ بولے ”تمہاری بات کا جواب بعد میں دوں گا تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم مجھے بابا کہنے سے باز نہیں رہ سکتے؟“ میں نے جواب دیا ”ٹھیک ہے برخوردارآئندہ آپ کے حکم کی تعمیل ہوگی مگر یہ بتائیں کہ آپ سارا دن گھر پر رہتے ہیں۔ آپ کی کوئی مصروفیت نہیں ہے۔ آپ بور نہیں ہوتے؟“ ہنس کر بولے ”یہ تم سے کس نے کہا کہ میری کوئی مصروفیت نہیں ہے، مجھے تو سر کھجانے کا ٹائم نہیں ملتا!“ یہ سن کر میں بہت حیران ہوا اور پوچھا ”وہ کیسے؟“ بولے ”صبح اٹھتا ہوں نماز پڑھتا ہوں ، پھر ناشتہ کرتاہوں اور اس کے بعد میرے معمولات شروع ہوجاتے ہیں!“ میں نے کہا ”میں انہی معلومات کے بارے ہی میں تو جاننا چاہتا ہوں۔“ بابا خدابخش یہ سن کر مسکرائے اور بولے ”میں اپنی دوائیوں کا تھیلا نکالتا ہوں۔ پہلے بلڈپریشر کی گولی لیتاہوں اس کے علاوہ شوگر کی گولی لینا ہوتی ہے۔ پھر تین مختلف قسم کے آئی ڈراپس ہیں جوتھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد آنکھوں میں ڈالنا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سانس کی تکلیف بھی ہے گھر میں نیبالائز کرنے کی مشین رکھی ہوئی ہے چنانچہ پندرہ منٹ نیبالائز کرتاہوں، سانس ٹھیک ہوتا ہے تو فزیوتھراپسٹ آجاتاہے۔ وہ 45 منٹ تک گھٹنوں کی فزیوتھرپی کرتا ہے۔ مجھے تو کچھ سوچنے کاوقت بھی نہیں ملتا، زندگی بہت مصروف ہے“ میں نے حیرت سے باباخدابخش کی طرف دیکھا۔ یہ کیا عجیب شخص ہے۔ اتنی ڈھیر ساری بیماریوں نے بھی اس سے زندہ رہنے کی امنگ نہیں چھینی۔ یہ اسی طرح خوش و خرم نظر آ رہاہے جیسا اسے میں کئی برسوں سے دیکھ رہاہوں۔
اتنے میں اس کاپوتا ایک ٹرالی میں چائے اور بہت سا ”وغیرہ“ دھرے ہمارے پاس آیا۔ میں نے کہا ”بیٹے تم نے زحمت کیوں کی؟ کسی ملازم سے کہہ دیا ہوتا!“ پوتے نے جواب دیا ”انکل ہمارے ابو نے کہا ہوا ہے کہ بابا کے دوستوں کے لئے یہ کام ہمیشہ خود کرو۔“ ان لمحوں میں ، میں نے بابا خدابخش کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر ایسی طمانیت تھی جیسے انہیں زندگی بھر کی مشقتوں کا صلہ مل گیا ہو! بابا خدا بخش اور اپنے لئے چائے بناتے ہوئے میں نے بابا کو ایک بارپھر مخاطب کیا اور کہا ”یہ تو آپ کی دوپہر تک کی مصروفیات تھیں شام کو کیاکرتے ہیں؟“ بابا نے کہا ”خدا کے فضل سے شام بھی بہت اچھی گزرتی ہے۔ دوپہر کی نیند پوری کرنے کے بعد عصر کی نماز پڑھتا ہوں، مسجد میں نمازیوں سے گپ شپ کرتا ہوں۔ اس کے بعد گھر آ کر ایک بار پھر دوائیوں کا کورس دہراتاہوں، فزیوتھراپسٹ شام کوبھی آتاہے۔ رات کو نیبالائز بھی کرناہوتاہے۔ بیٹوں اور بہوؤں سے گپیں ہانکتا ہوں۔ پوتوں پوتیوں سے کھیلتا ہوں۔رات کو کافی دیر تک کھانسی کا کورس بھی کرنا ہوتاہے۔ کبھی وقت ملے تو آ کردیکھنا میں کتنے ردھم سے کھانستا ہوں، بس اس مترنم کھانسی کے دوران نیند آجاتی ہے، اللہ کاشکر ہے وقت بہت اچھا گز ر رہا ہے۔“
میں اس وقت اپنے گھر میں بیٹھاہوں اور سوچ رہاہوں کہ یہ بابا خدابخش کیا چیزہے۔ یہ کتنے محاذوں پر کتنی دلیری سے لڑ رہاہے، کتنی ہی بیماریاں اسے لاحق ہیں لیکن یہ ان کے سامنے پسپائی اختیار کرنے کی بجائے ادویات کے ذریعے نہ صرف یہ کہ انہیں زیر کرنے میں لگا ہوا ہے بلکہ اس کے لہجے میں تھکاوٹ کے آثار بھی نہیں ہیں۔ مایوسی اور ناامیدی بھی نظر نہیں آتا۔ یہ گرنبل بھی نہیں کرتا۔ نہ صرف یہ کہ بابا خدا بخش خود حوصلہ مند ہے بلکہ اپنے عمل سے دوسروں کو بھی بلند حوصلگی کا درس دیتا نظر آتاہے، میں نے سوچاہم پاکستانی بہت بری طرح حالات کی زد میں آئے ہوئے ہیں ہر طرف سے پریشان کن خبریں آ رہی ہیں جوکہ ناامیدی او ر مایوسی پیداکرنے والی ہیں چنانچہ ہم یہ خبریں پوری پژمردگی کے ساتھ ایک دوسرے سے Share کرتے ہیں اور حالات کا پامردی سے مقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی ناامیدی اورمایوسی میں اضافہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم زندگی سے بیزار ہوتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں زندگی بھی ہم سے بیزار نظر آنے لگی ہے۔ میں سوچ رہاہوں کہ آج کی صورتحال کامقابلہ پوری پامردی سے کرنے میں ہماری نجات ہے یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے، ایڑیاں رگڑنے اور موت کا انتظار کرنے کو ہم اپنے لئے بہتر سمجھتے ہیں۔ ایک دن میں نے بابا خدا بخش سے بھی یہ سوال کیاتھا جس کاجواب انہوں نے جوگی جہلمی کے ایک پنجابی شعر کی صورت میں دیا تھا جس کا مفہوم ہے کہ زندگی اور موت دونوں کاتعلق آپ کی سوچ سے ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ زندہ ہیں توزندہ ہیں اور اگر آپ خود کو مردہ سمجھنے لگے ہیں تو مردہ ہیں چنانچہ یہ فیصلے کا وقت ہے زندگی او ر موت میں سے ہم نے اپنے لئے کس کا انتخاب کرناہے؟

اس کالم کے بعد "کچھ موت کے بارے میں" لکھا گیا۔

مومن

مومن وہ نہیں ہوتا کہ ٹھوکر ہی نہ کھائے
مومن تو وہ ہوتا ہے ٹھوکر کھائے
تو ترنت اپنی جگہ پر قائم ہو جائے

مومن اور مسلمان


مجھے ایک سوال نے بہت پریشان کیا
 کہ۔ " مومن اور مسلم میں کیا فرق ہے"۔ 
لوگوں سے پوچھا کسی سے مطمئن نہ ہوسکا
 کسی گاؤں کے بابا جی کو دیکھا جو گنے کا رس نکال رہے ہیں۔ 
خیال آیا ان سے سوال کریں۔ اجازت لے کر سوال بتایا۔ سوچنے کے بعد بولے
 مسلم وہ جو اللہ کو مانتا ہے
مومن وہ جو اللہ کی مانتا ہے

آخری جھوٹ


آٹھـ بار میری ماں نے مجھـ سے جھوٹ بولا


یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا
ہمارے پاس کھانے کو کچھـ بھی نہ تھا۔ اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھـ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں
تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے
یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔


جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھـ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔ یہ دیکھـ کر مجھے بہت دکھـ ہوا۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھـ دی 
اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔
تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے
یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔


جب میں اسکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھـ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔
میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔
تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی
یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا


ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا 
تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے
یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔


میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھـ نہ کچھـ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری یہ حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔
مگر میری ماں نے کہا نہی مجھے سہارے کی ضرورت نہیں
یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔


جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیا اور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھـ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھـ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔
مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے
یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا


میں نے جاب کے ساتھـ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ 
مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی
یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا


میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھـ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھـ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔
مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی
یہ میری ماں کا آخری جھوٹ تھا
اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں


جن کے پاس ماں ہے
اس عظیم نعمت کی حفاطت کریں اس سے پہلے کہ یہ اپنا آخری جھوٹ بول جائے
اور


جن کے پاس نہیں ہے
ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کون کون سے جھوٹ نہیں بولے
اور ان کی مغفرت کے لیے ہمیشہ دعا کرتے رہنا

Saturday, November 19, 2011

موت کے بارے میں

روزن دیوار سے - بشکریہ روزنامہ جنگ
یہ کالم "زندگی اور موت" کے بعد لکھا گیا ہے

انیس یعقوب ویسے تواعلیٰ درجے کے مصور ہیں تاہم میرے کالم کے قارئین انہیں ان کے ”ملغوظات“ کے حوالے سے جانتے ہیں جو میں اپنے دو کالموں میں شائع کر چکا ہوں، ان کے جملوں کو میں نے ”ملغوظات“ اس لئے قرار دیا ہے کہ کچھ عرصے سے ”کمسنی“ کے باوجود ان کے چہرے پرسفید لمبی داڑھی نظر آرہی ہے ذیل میں ان کے تازہ ”ملغوظات“ درج کررہا ہوں مگراس سے پہلے ان کا خط بھی آپ کی نظروں سے گزرنا چاہئے تاکہ ان ”ملغوظات“ کا پس منظر آپ پرواضح ہوسکے، سو یہ دونوں تحریریں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ 
سلام مسنون!
اللہ آپ کو لمبی عمر عطا کرے۔ آمین
موت سے متعلق آپ کے زندگی سے بھرپور چند کالم پڑھ کر یوں لگا کہ پاکستان جو کہ موضوعات کے حوالے سے ساری دنیا میں سب سے زیادہ ”فرٹائل” میں موضوعات کا اچانک قحط پڑ گیا ہے جو آپ موت جیسے ”غیر مطلوب’“ موضوع کے پیچھے ہوگئے اور موت بھی کسی دشمن کی نہیں بلکہ آپ کی اپنی اور ذاتی۔ یہ تعزیتی کالموں کی وہ قسم ہے جورلاتی نہیں بلکہ حسِ لطیف کوگدگداتی ہے۔ بہرحال کالم پڑھ کر منہ میں پہلے موت کا اور پھر زندگی کا ذائقہ محسوس ہوا۔ موت سے پہلے مرنے کی بات کوئی جیتا جاگتا، زندہ دل ہی کرسکتا ہے ورنہ آپ ادھر موت کا ذکر کریں ادھر جھٹ کوئی چیخ اٹھتا ہے کہ ارے! یہ کون سا ”منحوس“ موضوع پھیڑ دیا۔ کوئی خیر کی بات کرو۔ میں اگر ادارتی صفحے کا ایڈیٹر ہوتا تو کالم کا عنوان ”آہ“ کی بجائے ”واہ’“ کر دیتا، بہرحال آپ کے مرنے کی فل ڈریس ریہرسل کا احوال پڑھ کر مجھے بااختیار اپنے چند ”جملہ مضامین“ یاد آگئے جو موت اور زندگی سے ہی متعلق ہیں، امید ہے پسند فرمائیں گے۔ 

کوشش کرنے سے نیند آتی ہے اوربغیر کوشش کے موت۔ 

موت سے نہ ڈرو کہ یہ ایک بار ہی آتی ہے، زندگی کی فکر کرو کہ یہ دوبارہ ملنے والی ہے۔

عین اس لمحے جب میں نے جانا کہ مجھے جینے کا سلیقہ آگیا، موت نے دروازے پر دستک دی۔

موت کا ذائقہ ہر کوئی چکھتا ہے لیکن زندگی کی لذت سے ہر کوئی آشنا نہیں ہوتا۔ 

وہ موت کو مجسم دیکھنے کا آرزومند تھا، تب اس کی ملاقات ایک بیمہ ایجنٹ سے ہوگئی۔

میت نے قبر میں اترتے ہوئے کوئی مزاحمت نہ کی جبکہ اس کی یادوں نے دفن ہونے سے انکارکر دیا۔ 

جنازے میں شامل ہرشخص موبائل فون پربات کر رہا تھا سوائے میت کے۔ 

بعض لوگ اخباری خبروں کی وجہ سے زندہ ہیں اور بعض خبریں لگوانے کے لئے مر رہے ہیں۔

میت کو دفنانے کے لئے چند فٹ جگہ درکار تھی جبکہ اس کی خواہشات کو دبانے کے لئے سارا قبرستان کم پڑ گیا۔

بعض لوگوں کی اجلا اورمعطر لباس پہننے کی آرزو مرنے کے بعد پوری ہوتی ہے۔

اگر کفن کا رنگ مرنے والے کے کردار کی مناسبت سے ہوتا تو بیشتر لوگوں کے کفن کارنگ کالا ہوتا۔

موت کا مقابلہ کرنے کے لئے زندگی بڑا کمزور ساتھی ہے۔

ضروری نہیں کہ موت ہرشخص کو مارے، کچھ لوگ پہلے ہی مرے ہوتے ہیں۔

تعجب ہے کہ موت کا مسافر اپنے آپ کو شاہراہ حیات کاشاہسوارسمجھ رہا ہے۔

عورتیں اپنا سادہ ترین لباس مرنے کے بعد پہنتی ہیں۔

موت اگربتاکر آتی تو پھر بھی ہمارے بیشتر کام ادھورے رہ جاتے۔

نیند توسولی پر بھی آجاتی ہے… لیکن ابدی نیند!

عورت مرنے کے بعد اور مرد شا دی کے بعد خاموش ہوتا ہے۔

 مرنا فطری طورپر سب کو آتا ہے جبکہ زندہ رہنے کے گرسیکھنا پڑتے ہیں۔

موت کو سب راستوں کا پتہ ہے، گویا وہ ہر ہسپتال کو جانتی ہے۔ 

زندگی اجتماعی اورموت انفرادی ہوتی ہے۔ 

اجتماعی خودکشی کرنے والوں کو حساب انفرادی یہی دینا ہوگا۔ 

موت اگر مانگنے سے ملتی تو غریبوں کی بستیوں میں اُلّو بول رہے ہوتے۔ 

مرنے کے بعد جی اٹھنے پر میرا ایمان ہے لیکن سونے کے بعد جاگنے پر نہیں۔ 

تکمیل خواہش کی جستجو میں اسے موت مل گئی حالانکہ موت اس کی ”وش لسٹ“ میں شامل نہ تھی۔ 

پھانسی گھاٹ پر لکھا تھا: ”پہلے آیئے، پہلے پائیے“۔ 

نہ تو ہر زندگی کارآمد ہوتی ہے اور نہ ہی ہر موت بے فائدہ۔ 

وہ تعریفی کلمات جو ان کی موت کے بعد کہے گئے اگر پہلے کہے جاتے تو مرحوم آج ز ندہ ہوتے۔ 

اگرخواہشات نے اسے مار نہ دیا ہوتاتو وہ مزید خواہشات کرتا۔

مہلک حادثے نے اسے مار نہ دیا ہوتا تو وہ مزید خواہشات کرتا۔ 

موت پیچھے سے وار کرتی اور زندگی سامنے سے حملہ آورہوتی ہے۔ 

شہر حیات کی جس شاہراہ پرنکل جائیں آگے "DEADEND"کا بورڈ نظر آئے گا۔ 
دولت مند موت سے اور غریب زندگی سے گھبراتا ہے۔ 

بیشتر انسانی ضمیر انسان سے پہلے مر جاتے ہیں لیکن انہیں دفن انسان کے مرنے پرہی کیا جاتا ہے۔ 

عجیب بات ہے کہ ایک آدھ کو مارنے والا قاتل اور لاتعداد افراد کو موت کی نیند سلانے والا فرشتہ کہلاتا ہے۔ 

وہ شخص خودکشی کی پہلی کوشش میں ہی کامیاب ہوگیا جسے زندگی کے ہر کام میں باربار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 

بیشتر مرنے والے ترکے میں قرض خواہوں کی لسٹ کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑتے۔ 
عزت سے جینا آرٹ اورعزت سے مرنا فائن آرٹ کہلاتا ہے۔ 

قدموں کی چاپ سے وہ آنے والے کوپہچان لیتا تھا، افسوس کہ موت کی آمد کاا سے پتہ نہ چلا۔ 

سوتے ہوئے لگتاہے جیسے مرنے کی تیاری کررہا ہوں جبکہ مرتے ہوئے ممکن ہے سونے جتنا تردد نہ کرنا پڑے۔ 

بعض لوگ بعض لوگوں کے لئے بیماریاں ہیں اور بعض بیماریوں کا علاج صرف موت ہے۔ 

بعض لوگوں کو ڈوب مرنے کے لئے چلو بھر کافی ہوتا ہے اوربعض کوزندہ رہنے کے لئے۔

انسان کے لئے مچھر کو مارنا جتنا آسان تھا اب مچھر کے لئے بھی انسان کو مارنا اتنا ہی آسان ہوگیا۔ 

اگر یہ درست ہے کہ چیزیں ضرورت پڑنے پریاد آتی ہیں توموت تومیری ضرورت نہیں۔ 

غریب مرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے جبکہ امیر زندگی کی کوئی بھی قیمت دینے کو تیار ہے۔ 

موت کبھی کسی کاپتہ نہیں پوچھتی جبکہ زندگی اکثر راستہ بھول جاتی ہے۔ 

جو شخص مرنے کے لئے تیار نہیں وہ یقینا بغیر تیاری کے زندگی بسر کر رہا ہے۔ 

Friday, November 18, 2011

خوش قسمت لوگ


وہ لوگ خوش قسمت ہیں
 جو باوجود اس کے کہ علم زیادہ نہیں رکھتے
ان کی تعلیم بھی کچھ زیادہ نہیں


لیکن علم ان پر وارد ہوتا رہتا ہے
جو ایک خاموش آدمی کو
اپنی ذات کے ساتھ دیر تک بیٹھنے میں عطا ہوتا ہے 

 زاویہ ١ نیک خواہشات پیج ٧٥


اشفاق احمد


اردو افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار ۔ نثر نگار ۔لاہور میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے، اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔
وہ انیس سو سڑسٹھ میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ وہ انیس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گۓ۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے اور انیس سو ترپن میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ 


انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔


ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ انیس سو پینسٹھ سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔


ساٹھ کی دہائی میں اشفاق احمد نے دھوپ اور سائے نام سے ایک نئی طرح کی فیچر فلم بنائی جس کے گیت مشہور شاعر منیر نیازی نے لکھے اور طفیل نیازی نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی اور اداکار قوی خان اس میں پہلی مرتبہ ہیرو کے طور پر آئے تھے۔ اس فلم کا مشہور گانا تھا اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامیاب ہوگئی۔


ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی اور اسی کی دہائی میں ان کی سیریز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا میں وہ تصوف کی طرف مائل ہوگۓ اور ان پر خاصی تنقید کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں میں پلاٹ سے زیادہ مکالمے پر زور دیتے تھے اور ان کے کردار طویل گفتگو کرتے تھے۔


کچھ عرصہ سے وہ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویئہ کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔ جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔


پیدائش: 22 اگست، 1925ء
انتقال: 7 ستمبر، 2004ء


محبت کی تقسیم


میرا پہلا بچہ میری گود میں تھا۔ میں ایک باغ میں بیٹھا تھا ۔ اور مالی کام کر رہے تھے۔


ایک مالی میرے پاس آیا اور کہنے لگا ” ماشااللہ بہت پیارا بچہ ہے ۔ اللہ اِس کی عمر دراز کرے “۔


میں نے اس سے پوچھا ” تمھارے کتنے بچے ہیں ؟ “-


وہ کہنے لگا “میرے آٹھ (8) بچے ہیں”-


جب اس نے آٹھ (8) بچوں کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ “اللہ اُن سب کو سلامت رکھے ۔ لیکن میں اپنی محبت کو آٹھ بچوں میں تقسیم کرنے پہ تیار نہیں ہوں”-


یہ سن کر مالی مسکرایا اور میری طرف چہرہ کر کے کہنے لگا :


۔ ۔ ۔


” صاحب جی ۔ ۔ ۔ محبت تقسیم نہیں کیا کرتے ۔ ۔ ۔ محبت کو ضرب دیا کرتے ہیں”-

حق دار


جو حق دار ہیں
ان کو بھی دو


اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے
اس کو بھی دو


تا کہ تجھے جو ناحق کا مل رہا ہے
کہیں وہ ملنا بند نہ ہو جائے

عمل کی کشتی


قول ایک سواری ہے
جس پر سوار ہو کر ہم عمل کی منزل کے کنارے پر پہنچتے ہیں


لیکن ہم کرتے یوں ہیں
کہ عمل کے کنارے پہ پہنچ کے بھی
قول کی کشتی کی سواری کو نہیں چھوڑتے
اور اس میں سوار ہی رہتے ہیں
اور عمل کی منزل کا کنارہ ہمارے سامنے
ہمارے آس پاس ہی گھومتا رہتا ہے

Thursday, November 17, 2011

مستنسرحسین تارڑ






مستنصر حسین تارڑ اردو میں بہت زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں۔ انکی کتب زیادہ تر سفر نامے ہيں اور یہ یورپ مشرق وسطی اور شمالی پاکستان کی سیاحت پر مشتمل ہیں۔
مستنصر کا آبائی تعلق گجرات سے ہے لیکن اس وقت لاہور میں رہتے ہیں۔ ٹی وی ڈراموں میں کام بھی کیا ہے۔ آجکل اخبار جہاں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے بھی وہ ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے بہاؤ اور راکھ جیسے شہر آفاق ناول تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ ٹی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ پی ٹی وی نے جب پہلی مرتبہ صبح کی نشریات آج کے نام سے شروع کی تو مستنصر حسین تارڑ نے ان نشریات کی کئی سال تک میزبانی کے فرائض سرانجام دئیے۔


کتابیں
خانہ بدوش
جپسی
اندلس ميں اجنبی
پیار کا پہلا شہر
نانگا پربت
ہنزہ داستان
شمشال بے مثال
شاہگوری
سفر شمال کے
گدھے ہمارے دوست ہیں
کالاش
یاک سراۓ
دیو سائی
چترال داستان
کاروان سراۓ
الّو ہمارے بھائی ہیں

آل پاکستان گدھا کانفرنس


ایک زمانے میں میں بہت بدنام تھا کہ یہ شخص انسانوں کے بارے میں کم کالم لکھتا ہے اور جانوروں کے بارے میں زیادہ لکھتا ہے۔ اسے انسانوں کی نسبت الو،گدھے، دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور اودبلاؤ وغیرہ زیادہ پیارے ہیں۔ اس الزام سے بچنے کے لیے میں نے مسلسل انسانوںکے بارے میں کالم لکھے لیکن یہ بے نوازی نہ میرے کام آئی اور نہ ہی انسانوں کے کام آئی۔ انسان جیسے تھے ویسے ہی رہے بلکہ پہلے سے بھی بدتر ہوگئے لوگوں کی لاشیں کھمبوں پر لٹکانے لگے۔ انہیں ذبح کرنے لگے یا پھر اقلیتوں کی بستیوں پرحملے کرکے انہیں زندہ جلانے لگے تو اس صورت میں کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں پھر سے انسانوں کو ترک کرکے جانوروں کے قریب آجاؤں کہ وہ اس نوعیت کی ’’تہذیب یافتہ ‘‘ حرکات نہیں کرتے۔
میرا پچھلا کالم لاہور میں منعقد ہونے والی بھینس کانفرنس کے بارے میں تھا اور میں نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس کے نتیجے میں بھینسوں کو ان کا وہ مقام مل جائے گا جس کی وہ حقدار ہیں اور انہیں پاکستان کا قومی جانور ڈکلیئر کردیا جائے گا اب سوچتا ہوں تو یہ صرف بھینس ہی نہیں جس کو ہم نے اس کا جائز مقام نہیں دیا بلکہ بے شمار دوسرے جانور بھی ہیں جن میںگدھے سرفہرست ہیں۔ میں گدھوں کی خوبیاں نہیں گنواؤں گا،اگر آپ خود بال بچوں والے ہیں تو آپ کو یقینا یاد ہوگا کہ آپ اپنے بیٹے سے لاڈ کرتے ہوئے اسے مخاطب کرتے ہوئے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ’’اوئے گدھے ‘‘ بلکہ جب بہت ہی پیار آتا تھا تو اسے گدھے کا بچہ بھی کہہ دیتے تھے یہ سوچنے کی بات ہے کہ آپ اپنے چھوٹے بچوں کو لاڈ پیار سے یہ کبھی نہیں کہتے کہ اوئے مگر مچھ یا اوئے گھوڑے کے بچے صرف گدھے کے بچے کہتے ہیں تو اس سے گدھے کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ ہمارے ایک نزدیکی تارڑ عزیز ہیں جو ایک بلند عہدے پر فائز ہوئے اور نیک نام ہوئے۔ موصوف کے مزاج میں مزاح کی جو چاشنی ہے اس سے ایک دنیا آگاہ ہے۔ مثلاً ایک بار باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ میں پچھلے ہفتے اسلام آباد گیا تو جی ٹی روڈ کے راستے دس گھنٹے لگ گئے میں نے کہا کہ ایسا ہی ہوا ہوگا۔ سڑک بہت خراب ہے، ٹریفک بھی بدنظمی کا شکار ہے تو کہنے لگے نہیں نہیں وجہ یہ نہیں تھی لیکن میرے ہمراہ جو میرے دوست تھے وہ درگاہوں وغیرہ پر سجدے کرنے کے شوقین ہیں۔ پیروں فقیروں کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں، فاتحہ پڑھ کر قبر کو بوسہ دینا نہیں بھولتے اس پر میں نے تعجب کا اظہار کیا کہ آخر لاہور سے اسلام آباد کے راستے میں اتنی اہم قبریں تو نہیں ہیں کہ دس گھنٹے لگ جائیں اس پر انہوں نے اپنی نورانی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک شرارتی مسکراہٹ سے کہا۔ دراصل راستے میں جہاں کہیں کوئی سپیڈ بریکر آتا تھا تو میرے دوست فوراً کار رکوا لیتے تھے۔ سپیڈ بریکر کے قریب ہو کر فاتحہ پڑھتے تھے اور اس کے ابھارپر عقیدت سے ہاتھ پھیرتے تھے یوں دس گھنٹے لگ گئے اب تم جانتے ہو کہ لاہور سے اسلام آباد تک جی ٹی روڈ پر کتنے سپیڈ بریکر ہیں یہی عزیز کہا کرتے تھے کہ گدھے کے بچے اور میرے بچے بچپن میں بہت خوبصورت ہوتے ہیں اور پھر بڑے ہوجاتے ہیں۔
ایک بار لاہور کے ڈیفنس میں میں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک گدھا گاڑی والا سنگ مرمر کی ٹائلیں گاڑی پر لاد رہا ہے اوران کا وزن اتنا ہے کہ پورے کا پورا گدھا ہوا میں معلق ہوچکا ہے اور بے بسی سے ٹانگیں چلا رہا ہے۔ باقاعدہ گدھا بھی نہیں تھا گدھے کا بچہ تھا تو مجھے بہت ترس آیا اور میں نے اس کے مالک سے کہا کہ بھائی یہ بے زبان جانور ہے ریڑھی پر اتنا وزن تو نہ لوڈ کرو کہ یہ بے چارہ ہوا میں معلق ہو کر ٹانگیں چلانے لگے تو وہ ہنس کربولا صاحب آپ نہیں جانتے کہ یہ اس لمحے زندگی سے بہت لطف اندوز ہورہا ہے بلکہ ہوا میںریلیکس کررہا ہے اور یوں ٹانگیں چلانے سے اس کی تھکن دور ہورہی ہے۔ ٹائلیں لوڈ کرنے کے بعد گاڑی والے نے ہوا میں معلق گدھے کو کان سے پکڑ کر نیچے کیا اس کے پاؤں زمین تک نہیں لایا اور اس سے پیشتر کہ وہ گاڑی کے بوجھ سے پھربلند ہوجاتا وہ اچک کر گاڑی کے اگلے حصے پر بیٹھ گیا اور یوں اس کے وزن سے گاڑی بیلنس میں آگئی اورگدھا نہایت مزے سے کان ہلاتا سڑک پر رواں ہوگیا۔
گدھوں کے بارے میں طرح طرح کی ناروا افواہیں پھیلائی جاتی ہیں کہ وہ احمق ہوتے ہیں، بیوقوف ہوتے ہیں اورگدھے ہوتے ہیں مثلاً وہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا گدھا اگر مکہ گیا توپھر بھی گدھا ہی رہا تو یہ کیسی بے ہودہ بات ہے ایک تو ابن مریم کاگدھا ہونا کیا کم اعزاز کی بات ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اگر مکہ جاتا ہے تو گدھا ہی رہتاہے تو ذرا فرمائیے وہ اور کیا ہوجاتا ہاتھی یا لومڑ ہوجاتا اس نے گدھا ہی رہنا تھا ہمارے جیسے لاکھوںانسان جب حج وعمر کرنے جاتے ہیں، مکہ معظمہ جاتے ہیں تو وہ انسان ہی رہتے ہیں ناں کچھ اور تو نہیں ہوجاتے تو پھر گدھے کو اس سلسلے میں مطعون کرنا چہ معنی خیر عیسیٰ ؑ کے بعد تاریخ کا سب سے نامور گدھا ملا نصیرالدین کا تھا جو انسانوں سے زیادہ دانش رکھتا تھا چنانچہ میں تہہ دل سے یہ سمجھتا ہوں کہ گدھوں کو معاشرے میں ایک معزز مقام ملنا چاہیے اور میں ان گدھوں کی بات نہیں کی جو زندگی کے بیشتر شعبوں میں معزز مقام حاصل کرچکے ہیں اور فوری طور پر اگر بین الاقوامی طور پر نہ سہی مقامی طور پر ایک آل پاکستان گدھا کانفرنس کا اہتمام کرنا چاہیے اس احتیاط کے ساتھ کہ ان دنوں ادیبوں کی بین الاقوامی کانفرنس نہ ہورہی ہو ورنہ بعد میں کون تلاش کرتا رہے گا کہ کون کون ہے۔
کہتے ہیں کہ گدھے کو کھونٹنے کے قریب لے جاکر اس کی رسی کھونٹے سے باندھتے نہیں کھلی چھوڑ دیتے ہیں اور گدھا احمق ہوتا ہے کہ ساری رات یہ سمجھتا رہتا ہے کہ میں بندھا ہوا ہوں اور وہ اسی مقام پر کھڑا رہتا ہے ہم اس سلسلے میں گدھے کو ہی کیوں موردالزام ٹھہراتے ہیں جب کہ امریکہ نے پاکستان کو بھی اپنے کھونٹے سے باندھا نہیں چکمہ دیا ہوا ہے کہ تم بندھے ہوئے ہو اور ہم ہیں کہ اسی مقام پر ہمیشہ سے کھڑے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ بندھے ہوئے ہیں اپنی جگہ سے ہلتے نہیں فرمانبرداری سے کان البتہ ہلائے جاتے ہیں تو پھرہم میں اور گدھوں میں کچھ فرق تو نہ ہوا، گدھوں کو مورد الزام مت ٹھہرائیے۔

اُلّو ہمارے بھائی ہیں باقی سب نائی ہیں


الوؤں میں دلچسپی رکھنے والے باذوق افراد کے لئے یہ خبر باعثِ صد مسرت ہوگی کہ یورپ میں ایک ماہر جانوراں نے الّوؤں کے بارے میں بے شمار حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جب پردہ اٹھ گیا تو پردے کے پیچھے بھی الو تھے جو ایک اطلاع کے مطابق ، یہ پردے کے پیچھے کیا ہورہا ہے ۔ ۔ ۔ گا رہے تھے ۔ بہر حال ان صاحب نے برسوں کی الو ریسرچ کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اُ لو بس الو ہوتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ الوؤں کے بھی طبقے ہوتے ہیں اور ان میں کچھ کام کرنے والے ہوتے ہیں اور کچھ بس الو کے پٹھے ہوتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے۔ اسی طرح ان کی تحقیق کے مطابق الّو آپس میں گفتگو بھی کرتے ہیں۔


بس ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے مُلک میں الو تحقیق پر مناسب توجہ نہیں دی گئی ورنہ ہمارے ہاں الوؤں کی کیا کمی ہے ۔ ایک سے بڑھ کر ایک الّو ہے اور بڑا بڑا الّو ہے بلکہ ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے ۔ اگرچہ میں نے الّوؤں پر زیادہ تحقیق نہیں کی لیکن کچھ حقائق ایسے ہیں جو خود بخود آشکار ہوتے گئے ہیں

اسلامی رواج

چند روز بیشتر ایک نہایت عزیز دوست بے حد پریشانی کی حالت میں میرے ہاں تشریف لائے رنگت اڑی ہوئی اور اس رنگت میں بھی ہوائیاں اڑتی ہوئیں تشریف لائے اور صوفے پر ڈھیر ہو گئے اس روز لاہور کا درجہ حرارت چھیالیس سے تجاوز کر چکا تھا اور لاہور کی سب چیلیں اپنے اپنے انڈے چھوڑ چکی تھیں بلکہ ان میں سے جو طاقت پرواز رہتی تھیں مری یا نتھیا گلی کوچ کر گئی تھیں میں نے سوچا کہ ہو نہ ہو میرے دوست پر بھی گرمی کا اثر ہوگیا ہے چنانچہ میں نے فوری طور پر پہلے تو انہیں نمکین لسی کے دوچار گلاس پلائے اور پھر ان کامنہ میٹھا کرنے کی خاطر باداموں کے شربت کا ایک گلاس پیش کیا ان مشروبات کو غٹا غٹ چڑھا جانے کے باوجود ان کی ظاہری حالت میں کچھ فرق نہ پڑا تو میں نے پوچھا’’ اجی حضرت خیریت تو ہے ناں‘‘

وہ ہکلاتے ہوئے بولے‘‘ تارڑ صاحب ، خیریت کہاں ہونی ہے میں تو لٹ گیا، آپ جانتے ہیں کیا ہوا؟
میں نے کہا’’ آپ کو میں نے یہ جو نہایت مہنگے مشروبات پلائے ہیں خاص طور پر باداموں کا شربت جو میں نے خاص طور پر حیدر آباد سے منگوایا ہے تو صرف ا س لئے کہ آپ بتائیں کہ ہوا کیا ہے۔
مردہ سی آواز میں بولے’’ میری بیٹی حقہ پینے لگی ہے‘‘
’’ ہائیں، مجھے بھی دھچکا سا لگا اپنی طاہرہ بیٹی حقہ پینے لگی ہے یعنی گھر میں ایک عدد حقہ لے آئی ہے اسے تازہ کرتی ہے، ہتھیلیوں میں کڑوا تمباکو مسل کر اسے حقے کی ٹوپی کی گردن میں جما کر اس پر کوئلے رکھتی ہے اور پھر یہ لمبے لمبے کش لگاتی نتھنوں میں سے دھواں نکالتی ہے طاہرہ بیٹی چونکہ میرے ابا جی نہایت ذوق وشوق سے حقہ پیا کرتے تھے اس لئے میں اسے تیار کرنے کے مختلف مراحل سے آگاہ تھا۔
’’ نہیں نہیں ابھی تک یہ نوبت تو نہیں آئی ، گھر سے باہر جاکر حقہ پیتی ہے۔’’ آپ کو یہ اندوہناک خبر کس نے دی؟
’’ اس کی ایک سہیلی نے کہنے لگی انکل آج ہم سب پرانی کلاس فیلوز جمع ہو کر ایک نئے ریستوران میں جارہی ہیں آپ پلیز طاہرہ کو بھی ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دیجئے میں نے پوچھا بیٹے کھانا کھانے جارہے ہو؟ تو اس نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ وہ بھی کھائیں گے لیکن بنیادی طور پر ہم سب شیشہ پینے جارہی ہیں اب میرے فرسودہ خیال کے مطابق تو شیشہ دیکھا جاتا ہے پیا تو نہیں جاتا اور جب میرے پلے کچھ نہ پڑا تو ہنس کر کہنے لگی کہ انکل شیشہ،جسے آپ لوگ حقہ کہتے ہیں یہ دراصل حقے کا تازہ ترین ماڈل ہے شیشہ اور انکل آپ کے زمانے میں تو صرف کڑوا تمباکو پیا جاتا تھا لیکن اب بڑی ورائٹی ہے مختلف پھلوں اور پھولوں کی خوشبو اور ذائقے والے تمباکو ہوتے ہیں تارڑ یار یہ سن کر تو میری ٹانگوں میں جان نہ رہی اور میں نے پوچھا کہ بیٹے کیا اس حقے میں دھواں بھی ہوتا ہے تو وہ مسکرا کر کہنے لگی اور نہیں تو کیا انگل ہم خوب کش لگاتے ہیں اور ناکوں میں سے دھواں خارج کر کے بہت انجوائے کرتے ہیں اب تم ہی بتاؤ کہ میں کیا کروں؟
تم طاہرہ بیٹی کو سمجھاؤ کہ خبر دار تمباکو نوشی کینسر اور دل کی بیماریوں کا باعث ہے ’’ میں کوشش کر چکا ہوں لیکن وہ جواب میں ثقافتی حوالے دیتی ہے کہتی ہے کہ ایک تو شیشے میں تمباکو کی مقدار نہایت قلیل ہوتی ہے اور پھر یہ تو ہمارے کلچر کا ایک حصہ ہے آپ ہمیں خود ہی تو بتایا کرتے تھے کہ آپ کی پھوپھی جان کھانے کے فوراً بعد ’’ حقہ حقہ ‘‘ کا شور مچادیتی تھیں کہ بقول ان کے کھانے کے بعد ان کے پیٹ میں ایک گولا سا بن جاتا تھا اور جب تک وہ حقے کے دوچار کش نہیں لگاتی تھیں وہ گولا نیچے نہیں ہوتاتھا پیٹ میں اٹکا رہتا تھا شنید ہے کہ مرحومہ دادی جان بھی حقے کی بے حد شوقین تھیں تو اگر ہم لوگ ہفتے میں ایک آدھ بار کسی شیشہ ریستوران میں جاکر دو چار کش لگا آتے ہیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے یعنی صرف بیٹی طاہرہ ہی نہیں اس کی سہیلیاں بھی حقہ پیتی ہیں‘‘’’ اچھا وہ والا شیشہ‘‘ میں بے اختیار مسکرانے لگا میرے ذہن میں جدہ کی وہ شام آگئی جب میرا بیٹا سلجوق میری فرمائش پر مجھے پرانے جدہ کے ایک قدیم محلے میں لے گیا جہاں فٹ پاتھ پر ایک ’’ شیشہ ریستوران‘‘ قائم تھا لوگ قہوے کی چسکیاں لگا رہے تھے اور میزوں کے درمیان میں آراستہ خوبصورت شیشے سے بنے ہوئے حقوں کے کش لگا رہے تھے ایک ویٹر صرف اس ڈیوٹی پر مامور تھا کہ وہ گاہکوں کے لئے بار بار چلمیں تازہ کر کے لاتاتھا اور میں نے افسوس کے ساتھ نوٹ کیا کہ برخوردار جس نے آج تک سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا تھا نہایت اطمینان سے یہ شیشہ حقہ پینے میں مشغول ہو گیا بعد میں میں نے ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی خفیف سی کوشش کی تو مسکرا کر کہنے لگا ابا یہ تو بس شغل میلہ ہے تمباکو نوشی تو نہیں ہے چنانچہ میں نے جدہ کی اس شام کا قصہ اپنے دوست کو سنا کر اس کا غم غلط کرنے کی کوشش کی اسے یہ بھی بتایا کہ یہ شیشہ نوشی کا رواج ادھر عرب شریف کی جانب سے آیا ہے کیونکہ میری اطلاع کے مطابق سعودی عرب کی بیشتر خواتین شیشہ پینے کی شوقین ہیں چنانچہ یہ عین اسلامی ہے لیکن اس کی تسلی نہ ہوئی کہنے لگا کہ بچپن سے یہی پڑھتے آئے ہیں کہ ماں چولہے پر بیٹھی ہے اور باپ بیٹھا حقہ پی رہا ہے یہ تو کبھی نہیں پڑھا کہ باپ چولہے پر بیٹھا ہے اور ماں بیٹھی حقہ پی رہی ہے تب میں نے اسے ایک گرانقدر مشورے سے نوازا، تم سگریٹ توپیتے ہو تو کیا حرج ہے کہ کسی روز کسی شیشہ ریستوران میں جاکر دوکش شیشے کے بھی لگا لو دیکھو تو سہی کہ اس کا ذائقہ کیا ہے باقاعدہ حقہ ہے یا کچھ اور ہے میرا دوست یہ مشورہ پلے باندھ کر چلا گیا اور دو تین روز بعد موصوف دوبارہ نازل ہوئے تو نہایت شاداب اور پرمسرت کیفیت میں مسکراتے چلے آرہے ہیں دھپ سے سامنے والے صوفے پر بیٹھے اور کہنے لگے لو بھئی میرا مسئلہ تو حل ہوگیا تمہارے مشورے کے مطابق اس شام میں ایک شیشہ ریستوران میں گیا کیا دیکھتا ہوں کہ کیا مردوزن کیا چھوٹے بڑے سب کے سب نہایت اشتیاق سے شیشہ پی رہے ہیں دھویں اڑا رہے ہیں میں نے بھی دو چار کش لگائے تو یقین کرو لطف آگیا بے حد فرحت آمیز مشغلہ ہے میں نے سگریٹ چھوڑ دئیے ہیں اور اب صرف شیشہ پیتا ہوں اور جیتا ہوں بلکہ سوچ رہا ہوں کہ روز روز ریستوران میں جانے کی بجائے ایک ذاتی شیشہ خرید لوں گھر بیٹھ کر دونوں باپ بیٹی پیا کریں گے آخر کو یہ ایک اسلامی رواج ہے۔

مومن کی تعریف

مومن وہ نہِیں جِس کِی محفِل پاک ہو
مومن وہ ہے جِس کِی تنہائِی پاک ہو

حضرت امام حسین عالی مقام

Wednesday, November 16, 2011

معافی اور درگزر

معافی اور درگزر، یہ ایک پھول کی مانند ہیں
اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں 


اور یہ "معافی" لوگوں کے مابین
کا کام دیتی ہے۔ "Connectivity" 


جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں
وہ انسان کے درمیان رابطے
اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں
اور ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے
کہ ان کو خود کسی  وجہ سے آدمیوں اور انسانوں  کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے
لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے


اگر ہم ایک انسان سے کوئی زیادتی  کرتے ہیں
یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں
اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے
یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے
تو پھر ہمیں اس انسان کے پاس جا کر
معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے
لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں
اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے
کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا
تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے"۔


تو اس صورت میں
سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے
کہ ہمیں اپنے خدا کو کہیں جا کر ڈھونڈنا نہیں پڑتا
تلاش نہیں کرنا پڑتا
کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے


اس لئے ہمارے بابے اس بات پر زور دیتے ہیں
کہ ہمارے بابا جی اکثر و بیشتر یہ کہا کرتے تھے
کہ، "انسان کے معاملے میں بہت احتیاط کیا کرو
اور کوئی ایسا گناہ یا غلطی کی سرزدگی سے بچا کرو
جو انسان سے متعلق ہو
کیونکہ انسان سے کیے گناہ یا ظلم کی معافی اس سے ملے گی۔
اگر تم سے خدا کا گناہ ہوجاتا ہے
تو یہ اور بات ہے
وہ رحیم و کریم ہے
اور ہر جگہ موجود ہے
اس سے معافی کسی بھی وقت مانگی جا سکتی ہے
(موت سے پہلے)


اگر وہ انسان کھو گیا تو مارے جاؤ گے"۔

ماننے والا شخص


خواتین و حضرات
اپنے دکھ اور کوتاہیاں دور کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے 


کہ ہم تسلیم کرنے والوں میں
ماننے والوں میں شامل ہو جائیں
اور جس طرح خداوند تعالٰی کہتا ہے
کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ


میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ابو دین میں پورے کے پورے کس طرح داخل ہو جائیں
تو میں اس کو کہتا ہوں کہ جس طرح سے ہم بورڈنگ کارڈ لے کر ایئر پورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں
اور پھر جہاز میں بیٹھ کر ہم بے فکر ہو جاتے ہیں
کہ یہ درست سمت میں ہی جاۓ گا


اور ہمیں اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ جہاز کس طرف کو اڑ رہا ہے
کون اڑا رہا ہے بلکہ آپ آرام سے سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں
اور آپ کو کوئی فکر فاقہ نہیں ہوتا ہے


آپ کو اپنے دین کا بورڈنگ کارڈ
اپنے یقین کا بورڈنگ کارڈ
ہمارے پاس ہونا چاہیے


تو پھر ہی خوشیوں میں
اور آسانیوں میں رہیں گے
وگرنہ ہم دکھوں اور کشمکش کے اندر رہیں گے


اور تسلیم نہ کرنے والا شخص
نہ تو روحانیت میں داخل ہو سکتا ہے
اور نہ ہی سائنس میں داخل ہو سکتا ہے


جو چاند کی سطح پر اترے تھے
جب انہوں نے زمین کے حکم کے مطابق ورما چلایا تھا
تو اس نے کہا کہ ورما ایک حد سے نیچے نہیں جا رہا
جگہ پتھریلی ہے
لیکن نیچے سے حکم اوپر گیا
کہ نہیں تمھیں اسی جگہ ورما چلانا ہے


وہ ماننے والوں میں سے تھا
اور اس نے بات کو تسلیم کرتے ہوۓ
اسی جگہ ورما چلایا
اور اس کے بلآخر وہ گوہرِ مقصود ہاتھ آ گیا
جس کی انہیں تلاش تھی۔


خواتین و حضرات
ماننے والا شخص
اس زمین سے اٹھ کر افلاک تک پہنچ جاتا ہے
اور وہ براق پر سوار ہو کر جوتوں سمیت اوپر پہنچ جاتا ہے 


اور جو نہ ماننے والا ہوتا ہے
وہ بے چارہ ہمارے ساتھ یہیں گھومتا پھرتا رہ جاتا ہے۔ 


سائنسدان کہتے ہیں کہ جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ زمین میں کششِ ثقل ہے تو پھر ہم آگے چلتے ہیں اور ہمارا اگلا سفر شروع ہوتا ہے


جبکہ نہ ماننے سے مشکل پڑتی ہے۔

محبت کا طوق


آزادی اکیلے آدمی کا سفر ہے
رسی تڑوا کر سرپٹ بھاگنے کا عمل ہے


محبت اپنی مرضی سے
کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھے رہنے کی صلاحیت ہے
محبت اس غلامی کا طوق ہے
جو انسان خود اپنے اختیار سے گلے میں ڈالتا ہے


یہ عہد پیری مریدی کا نہیں
کہ مرشد منوائے اور سالک ماننے کے مقام پر ہو


یہ زمانہ شادی کا بھی نہیں
کہ شادی میں بھی قدم قدم پر اپنی مرضی کو قربان کرنا پڑتا ہے


حضرت ابراھیم جس طرح اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر راضی بر رضا رہے
یہ محبت کی عظیم مثال ہے


محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا "شرک" ہے


کیوں کہ بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی


 محبوب سے بھی
اور اپنے آپ سے بھی


محبت غلامی کا عمل ہے
اور آزاد لوگ غلام نہیں رہ سکتے۔

جھولی


کئی دفعہ اللہٰ کی طرف سے کوئی چیز انسان پر اجاگر ہو جاتی ہے
اور اللہٰ ہمیں معلوم دنیا سے ہٹا کر
لامعلوم کی دنیا سے علم عطا کرتا ہے


اور انہیں حاصل کرنے کے لیے
انہیں اپنا نصیب بنا نے کی لیے
میرے اور آپ کے پاس ایک جھولی ضرور ہونی چاهیئے


جب تک ھمارے پاس جھولی نہیں ہو گی
تب تک وہ نعمت جو اترے والی ہے
وہ نہیں اترے گی


رحمت ہمیشہ وہیں اترتی ہے
جہاں جھولی ہوگی


اور بڑی جھولی ہو گی
اتنی بڑی نعمت کا نزول ہو گا