Pages

Showing posts with label ماں. Show all posts
Showing posts with label ماں. Show all posts

Saturday, August 4, 2012

سچ


اماں کو میری بات ٹھیک سے سمجھ آگئی.
 اس نے اپنا چہرہ میری طرف کئے بغیر نئی روٹی بیلتے ہوئے پوچھا
" تو اپنی کتابوں میں کیا پیش کرے گا؟"
میں نے تڑپ کر کہا : " میں سچ لکھوں گا
 اماں اور سچ کا پرچار کروں گا. 
لوگ سچ کہنے سے ڈرتے ہیں اور سچ سننے سے گھبراتے ہیں.


میں انھیں سچ سناؤں گا اور سچ کی تلقین کروں گا.


میری ماں فکر مند سی ہو گئی.
 اس نے بڑی دردمندی سے مجھے غور سے دیکھا اور کوئیلوں پر پڑی ہوئی روٹی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہا : اگر تو نے سچ بولنا ہے تو اپنے بارے میں بولنا


دوسرے لوگوں کی بابت سچ بول کر
ان کی زندگی عذاب میں نہ ڈال دینا.


ایسا فعل جھوٹ سے بھی برا ہوتا ہے.

Monday, November 21, 2011

اللہ کا پسندیدہ فعل


محمد حسین: لیکن سرکار، یہ رنگا رنگ مورتیاں۔۔۔ یہ شکلیں شباہتیں۔۔۔ یہ دھینگا مشتی۔۔۔ مار دھاڑ۔۔۔ کھینچا تانی، یہ کیا؟


ارشاد: میاں محمد حسین صاحب راج دلارے! نہ کوئی ساجد ہے نہ مسجود۔۔۔ نہ عابد نہ معبود۔۔۔ نہ آدم نہ ابلیس۔۔۔ صرف ایک ذات قدیم صفات رنگارنگ میں جلوہ گر ہے۔ نہ اس کی ابتداء نہ انتہاء۔۔۔ نہ کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا۔۔۔ نہ فہم قیاس میں آئے نہ وہم گماں میں سمائے۔۔۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے اور جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔۔۔ نہ گھٹے نہ بڑھے، نہ اترے نہ چڑھے۔۔۔ وہ ایک ہے، لیکن ایک بھی نہیں کہ اس کو موجودات سے اور موجودات کو اس سے الگ سمجھنا نادانی اور مورکھتا ہے۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگا پروفیشن موجود ہیں۔ ایسے ہی خداشناسی اور خدا جوئی بھی ایک دھندہ ہے۔


محمد حسین: جب اس کا کوئی سر پیر ہی نہیں حضور تو پھر ڈھونڈنے والا کیا ڈھونڈے اور کرنے والا کیا کرے؟


ارشاد: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا
یا مولا! تیری بارگاہ میں میرا کون سا فعل پسندیدہ ہے تا کہ میں اسے ذیادہ کروں
اور بار بار کروں۔


حکم ہوا یہ فعل ہم کو پسند آیا
کہ جب بچپن میں تیری ماں تجھے مارا کرتی تھی
تو مار کھا کر بھی اسی کی طرف دوڑا کرتا تھا
اور اسی کی جھولی میں گھستا تھا

تو بھائی محمد حسین صاحب! ڈھونڈنے والے کو بھی یہی لازم ہے
کہ گر کیسی بھی سختی ہو
کیسی بھی ذلت و خواری پیش آئے
لیکن ہر حال میں خدا کی طرف رجوع کرے
اور اسی کے فضل کو پکارتا رہے۔

آخری جھوٹ


آٹھـ بار میری ماں نے مجھـ سے جھوٹ بولا


یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا
ہمارے پاس کھانے کو کچھـ بھی نہ تھا۔ اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھـ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں
تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے
یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔


جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھـ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔ یہ دیکھـ کر مجھے بہت دکھـ ہوا۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھـ دی 
اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔
تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے
یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔


جب میں اسکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھـ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔
میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔
تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی
یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا


ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا 
تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے
یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔


میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھـ نہ کچھـ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری یہ حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔
مگر میری ماں نے کہا نہی مجھے سہارے کی ضرورت نہیں
یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔


جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیا اور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھـ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھـ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔
مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے
یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا


میں نے جاب کے ساتھـ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ 
مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی
یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا


میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھـ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھـ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔
مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی
یہ میری ماں کا آخری جھوٹ تھا
اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں


جن کے پاس ماں ہے
اس عظیم نعمت کی حفاطت کریں اس سے پہلے کہ یہ اپنا آخری جھوٹ بول جائے
اور


جن کے پاس نہیں ہے
ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کون کون سے جھوٹ نہیں بولے
اور ان کی مغفرت کے لیے ہمیشہ دعا کرتے رہنا