Pages

Showing posts with label سادگی. Show all posts
Showing posts with label سادگی. Show all posts

Thursday, May 24, 2012

سادگی

جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پہلے میر پور کا پرانا شہرآباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گردونواح میں گھوم رہا تھا کہ راستے میں ایک خستہ حال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے اور جوتے ٹوٹے پھوٹے تھے۔ انھوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا ”بیت المال کس طرف ہے؟ “ آزاد کشمیر میں سرکاری خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا تھا۔ میں نے پوچھا۔ “ بیت المال میں تمہارا کیا کام؟ “ بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا”میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میر پور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں اب انھیں اس گدھے پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جارہے ہیں“ ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میںرکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا، تاکہ انھیںبیت المال لے جائیں۔ آج بھی جب وہ نحیف ونزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھارہا مجھے تو چاہیے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاو ¿ں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا‘