Pages

Showing posts with label بابے. Show all posts
Showing posts with label بابے. Show all posts

Wednesday, July 11, 2012

بابے کا ساتھ


بزرگوں کے ساتھ لگے لپٹے رہنا چاہیے


گو خود کچھ بھی نہ ہو


کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں انجن تو کراچی پہنچ جائے اور بوگیاں ادھر ہی کھڑی رہ جائیں


فرمایا کہ ممکن نہیں کہ بزرگ کے پاس بیٹھو اور اثر نہ ہو


ممکن نہیں کہ تنور کے پاس بیٹھے اور آنچ محسوس نہ ہو

از اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٦١٤

Wednesday, December 14, 2011

خدمت

بابے کہتے ہیں 
کہ خدمت ایک ایسی چیز ہے جو انا کی دیوار گرا دیتی ہے
 اور انسان کو اس کے باطن سے ہمکلام کردیتی ہے
ہماری دعا ہونی چاہئے 
کہ " اے الله میں نہ تو دنیاوی لذتیں حاصل کرنے کا آرزومند ہوں
 اور نہ ہی روحانی سربلندیوں کو پانے کا خواہشمند ہوں
 مجھے ان دونوں کے بجائے سپردگی
 اور ابدیت کی دولت چاہئے
اس طرح نہ تو مجھے مافوق الفطرت طاقت درکار ہے
نہ ہی مراقبے اور مکشافے کی دولت کی خواھش ہے
دینی ہے تو مجھے ناداروں
اور بیچاروں کی خدمت کی طاقت دے دے تیری مہربانی 

زاویہ ٣ روح کی سرگوشی پیج ٣٠٧

Tuesday, November 29, 2011

بابا یحییٰ خاں کون ہے؟

روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی

یہ چند برس پہلے کی بات ہے، میں اقبال ٹاؤن کی مون مارکیٹ میں کسی کام کے لئے گیا، کام سے لوٹا تو ایک دکان کے باہر پتھریلے فرش پر میں نے ایک سیاہ پوش گداگر کو دیکھا جو فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کی عبا اوڑھی ہوئی تھی، اس کے چہرے کا رنگ بھی سیاہی مائل تھا، اس کی گھنی داڑھی تھی جس میں سفید اور کالے بال یکساں مقدار میں تھے۔ اس نے نظر بھر کر میری طرف دیکھا، اس کے دیکھنے میں اتنی کشش تھی کہ میرا جی چاہا میں اس کے پاس جاؤں لیکن اس خیال نے میرے قدم روک لئے کہ پھر یہ فقیر میرا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ وہ مجھے کوئی اپنی دردبھری داستان سنائے گا اور یوں پیسے بٹورنے کی کوشش کرے گا جبکہ میں گداگری کے سخت خلاف ہوں اور ان لوگوں کی مدد کو گناہ کے مترادف سمجھتا ہوں چنانچہ میں نے اپنے رکتے قدم ایک بار پھر تیز کئے مگر اس دوران میرے کانوں میں ایک آواز آئی ”قاسمی صاحب !“ میں نے ادھر ادھر دکھا مگر اس سیاہ پوش کے علاوہ میرے گرد و نواح میں کوئی نہیں تھا۔ ایک بار پھر محبت میں ڈوبی ہوئی آواز سنائی دی ”قاسمی صاحب!“ اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی شخص ہے جس سے میں بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں بادلِ نخواستہ اس کے پاس گیا مگر میں بہت حیران تھا کہ یہ فقیر مجھے کیسے جانتا ہے؟ وہ مجھے اپنے پاس دیکھ کر بہت خوش نظر آ رہا تھا۔ اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ”آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کا نوکر، میں آپ کا خادم ہوں، میں آپ کے پاؤں کی خاک ہوں، آپ میرے محبوب ہیں، میں آپ کا کالم بہت شوق سے پڑھتا ہوں“ میں اس کی باتیں سن کر چکرا کر رہ گیا۔ اس کا حلیہ ، اس کی وضع قطع، شدید گرمی کے موسم میں پتھریلے فرش پر اتنے سکون سے بیٹھنا جیسے کسی نرم و گداز صوفے پر بیٹھا ہو، اس شخص کا لکھنے پڑھنے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے، پھر اس کا انکسار۔ میرے مداح اور بھی بہت سے لوگ ہیں لیکن وہ اپنی ذات کی اس طرح نفی کبھی نہیں کرتے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر کچھ دیر کے لئے رک گیا تاکہ وہ ”حرفِ مدعا“ زبان پر لائے اور یوں اس کی اصلیت ظاہر ہو سکے۔ لیکن اس نے درود شریف پڑھتے ہوئے مجھے خداحافظ کہہ دیا۔
پھر ایک دن میں نے اسے اس پرانے حلیے میں اشفاق احمد کے ڈرائننگ روم میں دیکھا۔ پہلی ملاقات کے بعد یہ اس نے مجھے دوسری دفعہ چونکایا تھا۔ وہ ان کے قدموں میں بیٹھا ان کے پاؤں داب رہا تھا یعنی ایک اور انوکھی بات تھی جو اس کے حوالے سے میرے سامنے آئی تھی۔ اس کے ساتھ دو درویش قسم کے نوجوان اور بھی تھے جو بظاہر اس کے چیلے چانٹے لگتے تھے۔ جب یہ لوگ اٹھ کر گئے تو میں نے یہ معمہ اشفاق صاحب کے سامنے رکھا اور پوچھا ”یہ پراسرار سا سیاہ پوش کون ہے؟“ اشفاق صاحب نے جواب دیا ”اس کا نام یحییٰ خان ہے، یہ بہت بڑا رائٹر ہے اور تصوف کے راستوں کا مسافر ہے“۔ اشفاق صاحب کی رائے کا بطلان میرے لئے ممکن نہیں تھا تاہم میں نے ان کے ان ریمارکس کو حوصلہ افزائی کے کھاتے میں ڈالا اور وہاں سے واپسی پر دوبارہ اپنے دنیاوی کاموں میں مشغول ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے بابا یحییٰ خاں کو دو ایک بار پیدل اور دو ایک بار ان دو نوجوانوں میں سے ایک کے ساتھ جنہیں میں نے اشفاق صاحب کے ہاں دیکھا تھا، موٹر سائیکل پر جاتے دیکھا۔ پھر ایک دن ایسے ہوا کہ مجھے اس کی ایک کتاب پڑھنے کا موقع ملا جس کا نام غالباً ”پیا رنگ کالا“ یا ”کاجل کوٹھا “ تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس کی ان دو تصانیف میں سے کون سی کتاب میں نے پہلے پڑھی تھی لیکن جوں جوں میں یہ کتاب پڑھتا چلا گیا میں حیرت کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔ یہ کتاب اس کے مشاہدات اور تجربات پر مشتمل تھی۔ میں نے منظر کشی پر اتنی عظیم دسترس اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھی تھی۔ کتاب پڑھتے ہوئے میں ہر منظر میں اس طرح گم ہو جاتا تھا جیسے میں اس کا حصہ ہوں۔ اور کردار نگاری؟ کاش خدا مجھے بھی یہ ہنر دیتا! یہ بابا دنیا کے مختلف ملکوں میں گھومتا پھرتا رہتا ہے اور مجھے لگا میں ہر جگہ اس کے ساتھ ہوں خصوصاً انڈیا کے کنبھ میلے میں جوتشیوں، سنیاسیوں، صوفیوں، فراڈیوں اور جن دوسرے طبقے کے افراد سے اس نے میری ملاقات کرائی، وہ سب میرے دوست بن گئے۔ بابا یحییٰ خاں نے اپنی متذکرہ دو کتابوں میں تصوف کے مراحل اور پھر اس حوالے سے بعض عجیب و غریب واقعات کا ذکر بھی کیا ہے جو میرا موضوع نہیں ہیں۔ لیکن میں بابا کے طرز نگارش کا فین بن گیا۔ یہ اس نے مجھے تیسری دفعہ چونکایا تھا۔ میں نے انڈیا سے آئے ہوئے مہمانوں شمس الرحمن فاروقی ، شمیم حنفی اور بعض دوسرے دوستوں کو ایک بار اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا تو بابا یحییٰ خاں سے بھی گزارش کی کہ وہ بھی تشریف لائیں۔ میں نے مہمانوں سے بابے کا تعارف کرایا اور بابے نے انہیں اپنی ایک کتاب پیش کی۔ دو سال بعد شمیم حنفی دوبارہ پاکستان آئے تو دوران ملاقات انہوں نے بتایا کہ آپ کے ہاں جس سیاہ پوش بزرگ سے میری ملاقات ہوئی تھی وہ مجھے علی گڑھ میں سڑک کے کنارے بیٹھے مل گئے۔ بھئی کیا کمال کا آدمی اور کمال کا رائٹر ہے۔
اور اب یہ گزشتہ رات کی بات ہے ، تقریباً ساڑھے دس بجے ان کا فون آیا اور کہا ”یہ آپ نے آج کے کالم میں کیا لکھا ہے کہ سیلاب زدگان کے لئے میں نے 42 لاکھ تیرہ ہزار روپے جمع کر لئے ہیں۔ اب میں لالچی ہو گیا ہوں اور میری خواہش ہے کہ یہ رقم پچاس لاکھ ہو جائے۔ آپ نے اس یقین کا اظہار بھی کیا ہے کہ ایسا ضرور ہو گا!“ میں نے جواب دیا ”میں نے لکھا تو ہے لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟“ بولے ”دیکھنا کیا ہے ، باقی پیسے میں دے رہا ہوں“۔اور اس وقت سات لاکھ 67 ہزار روپے کا چیک میرے سامنے پڑا ہے۔ کیونکہ کالم کی اشاعت کے بعد مزید بیس ہزار روپے کا عطیہ موصول ہو گیا تھا اور میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے مسلسل چونکانے والا بابا یحییٰ خاں واقعی کوئی جیتا جاگتا شخص ہے یا کوئی افسانوی کردار ہے؟ یہ بھی مجھے کسی ”بابے“ ہی سے پوچھنا پڑے گا۔

Friday, November 18, 2011

اشفاق احمد


اردو افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار ۔ نثر نگار ۔لاہور میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے، اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔
وہ انیس سو سڑسٹھ میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ وہ انیس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گۓ۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے اور انیس سو ترپن میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ 


انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔


ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ انیس سو پینسٹھ سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔


ساٹھ کی دہائی میں اشفاق احمد نے دھوپ اور سائے نام سے ایک نئی طرح کی فیچر فلم بنائی جس کے گیت مشہور شاعر منیر نیازی نے لکھے اور طفیل نیازی نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی اور اداکار قوی خان اس میں پہلی مرتبہ ہیرو کے طور پر آئے تھے۔ اس فلم کا مشہور گانا تھا اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامیاب ہوگئی۔


ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی اور اسی کی دہائی میں ان کی سیریز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا میں وہ تصوف کی طرف مائل ہوگۓ اور ان پر خاصی تنقید کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں میں پلاٹ سے زیادہ مکالمے پر زور دیتے تھے اور ان کے کردار طویل گفتگو کرتے تھے۔


کچھ عرصہ سے وہ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویئہ کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔ جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔


پیدائش: 22 اگست، 1925ء
انتقال: 7 ستمبر، 2004ء


Wednesday, November 16, 2011

اندر کی آلودگی


بابوں کا خیال ہے
کہ جب تک انسان کی اندر کی آلودگی دور نہیں ہوگی
باہر کی آلودگی سے چھٹکارا حاصل کرنا مشکل ہے
جب تک کے انسان کے اندر کی معیشت ٹھیک نہیں ہوگی
چاہے باہر سے جتنے بھی قرضے لیتے رہیں
باہر کی معاشی حالت درست نہیں ہو سکتی
اسی لئے اندر کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے


ان بابوں کا یہ خیال تھا جوکہ بڑا جائز خیال تھا
کہ ہماری بہت سی بیماریاں
ہماری اندرونی آلودگی سے پیدا ہوتی ہیں 

زاویہ ٢ من کی آلودگی پیج ٢٣٠

موت


میں بھی ان کے قریب کھڑا ہو گیا
حالانکہ جمعے کا وقت ہوگیا تھا ان بچوں نے اس زخمی پلے کو اٹھا کر گھاس پر رکھا اور اس کی طرف دیکھنے لگے ایک بچے نے جب اس کو تھپتھپایا تو اس پلے نے ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر لیں -
!وہاں ایک فقیر تھا اس نے کہا واہ واہ، واہ


 وہ سارا منظر دیکھ کر بڑا خوش ہوا
 جبکہ ہم کچھ آبدیدہ اور نم دیدہ تھے


اس فقیر نے کہا یہ اب اس سرحد کو چھوڑ کر دوسری سرحد کی طرف چلا گیا
 وہ کہنے لگا کے موت یہ نہیں تھی کے اس کتے نے آنکھیں بند کر لیں اور مر گیا اس کی موت ٱس وقت واقع ہوئے تھی جب یہ زخمی ہوا تھا اور لوگ اس کے قریب سڑک کراس کر رہے تھے اور کوئی رکا نہیں تھا 

زاویہ ٢ ایم اے پاس بلی پیج ٦٠

Tuesday, November 15, 2011

بابے


وہ بابا جو ہوتا ہے اچھے خوش نصیب انداز کا بابا
جس کے پاس راستہ ہے یا نہیں ہے اس کی نگاہیں راستے کے اوپر رہتی ہیں
کسی نہ کسی طریقے سے اور وہ لکی ہوتا ہے .
اور وہ آپ کے قریب
آپ کے ارد گرد
آپ لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے
آپ کے ساتھیوں میں سے ہوتا ہے


اور میری اور آپ کی انا اس بات کی اجازت نہیں دیتی 
کہ میں ایک ایسے آدمی کو بابا سمجھ لوں
جو میرا چپراسی ہے 


زاویہ ١ بابوں کی نشانیاں پیج ٦٥