Pages

Showing posts with label ماننے والے. Show all posts
Showing posts with label ماننے والے. Show all posts

Monday, January 16, 2012

خوف


انسان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے
اور بے شک وہ خود بھی اس بات کو خوب جانتا ہے 


اور بلا شبہ وہ مال سے سخت محبّت کرنے والا ہے 


کیا نہیں جانتے اس وقت کو 
جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے
اور سینوں کے سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے

بے شک ان کا رب اس دن ان کے حال سے خوب واقف ہوگا


آخری آیت پر نوجوان سمندر خان نیازی کی آنکھوں سے آنسو جھرنوں کی طرح بہنے لگتے
حالانکہ نہ وہ مال سے محبّت کرتا تھا
نہ اس کے پاس مال تھا
اور نہ ہی اس کے سینے میں کوئی مخفی راز تھا


وہ بس اپنے خدا کی بات سے
اور الله کے خوف سے روتا تھا
 اور اپنی چھوٹی سی سیاہ داڑھی کو آنسو سے بھگوتا تھا


Wednesday, November 16, 2011

ماننے والا شخص


خواتین و حضرات
اپنے دکھ اور کوتاہیاں دور کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے 


کہ ہم تسلیم کرنے والوں میں
ماننے والوں میں شامل ہو جائیں
اور جس طرح خداوند تعالٰی کہتا ہے
کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ


میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ابو دین میں پورے کے پورے کس طرح داخل ہو جائیں
تو میں اس کو کہتا ہوں کہ جس طرح سے ہم بورڈنگ کارڈ لے کر ایئر پورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں
اور پھر جہاز میں بیٹھ کر ہم بے فکر ہو جاتے ہیں
کہ یہ درست سمت میں ہی جاۓ گا


اور ہمیں اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ جہاز کس طرف کو اڑ رہا ہے
کون اڑا رہا ہے بلکہ آپ آرام سے سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں
اور آپ کو کوئی فکر فاقہ نہیں ہوتا ہے


آپ کو اپنے دین کا بورڈنگ کارڈ
اپنے یقین کا بورڈنگ کارڈ
ہمارے پاس ہونا چاہیے


تو پھر ہی خوشیوں میں
اور آسانیوں میں رہیں گے
وگرنہ ہم دکھوں اور کشمکش کے اندر رہیں گے


اور تسلیم نہ کرنے والا شخص
نہ تو روحانیت میں داخل ہو سکتا ہے
اور نہ ہی سائنس میں داخل ہو سکتا ہے


جو چاند کی سطح پر اترے تھے
جب انہوں نے زمین کے حکم کے مطابق ورما چلایا تھا
تو اس نے کہا کہ ورما ایک حد سے نیچے نہیں جا رہا
جگہ پتھریلی ہے
لیکن نیچے سے حکم اوپر گیا
کہ نہیں تمھیں اسی جگہ ورما چلانا ہے


وہ ماننے والوں میں سے تھا
اور اس نے بات کو تسلیم کرتے ہوۓ
اسی جگہ ورما چلایا
اور اس کے بلآخر وہ گوہرِ مقصود ہاتھ آ گیا
جس کی انہیں تلاش تھی۔


خواتین و حضرات
ماننے والا شخص
اس زمین سے اٹھ کر افلاک تک پہنچ جاتا ہے
اور وہ براق پر سوار ہو کر جوتوں سمیت اوپر پہنچ جاتا ہے 


اور جو نہ ماننے والا ہوتا ہے
وہ بے چارہ ہمارے ساتھ یہیں گھومتا پھرتا رہ جاتا ہے۔ 


سائنسدان کہتے ہیں کہ جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ زمین میں کششِ ثقل ہے تو پھر ہم آگے چلتے ہیں اور ہمارا اگلا سفر شروع ہوتا ہے


جبکہ نہ ماننے سے مشکل پڑتی ہے۔