انسان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے
اور بے شک وہ خود بھی اس بات کو خوب جانتا ہے
اور بلا شبہ وہ مال سے سخت محبّت کرنے والا ہے
کیا نہیں جانتے اس وقت کو
جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے
اور سینوں کے سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے
بے شک ان کا رب اس دن ان کے حال سے خوب واقف ہوگا
آخری آیت پر نوجوان سمندر خان نیازی کی آنکھوں سے آنسو جھرنوں کی طرح بہنے لگتے
حالانکہ نہ وہ مال سے محبّت کرتا تھا
نہ اس کے پاس مال تھا
اور نہ ہی اس کے سینے میں کوئی مخفی راز تھا
وہ بس اپنے خدا کی بات سے
اور الله کے خوف سے روتا تھا
اور اپنی چھوٹی سی سیاہ داڑھی کو آنسو سے بھگوتا تھا
No comments:
Post a Comment