Pages

Sunday, January 15, 2012

يار کي ياري

ہمارا ايک دوست نشے کا عادي ہو گيا
ہم چونکہ سمجھدار ، پڑھے لکھے سيانے دوست تھے ہم اسے مجبور کرنے لگے کہ تمھيں يہ بري عادت چھوڑ ديني چاہئے ، ورنہ ہم تمہارا ساتھ نہيں دے سکيں گے اور ہم تمہارے ساتھ نہيں چل سکيں گے
وہ بيچارہ ايک تو نشے کي لعنت ميں گرفتار تھا دوسرا وہ روز ہماري جھڑکياں سہتا تھا جس کے باعث وہ ہم سے کنارہ کشي کرنے لگا
محمد نواز جلد ساز بڑے خوبصورت دل کا آدمي تھا ہر وقت مسکراتا رہتا تھا - گو وہ اقتصادي طور پر ہمارے دائرے کے اندر نہيں تھا مگر وہ خوشگوار طبيعت کا مالک تھا - اس نے ايک دن اس آدمي (ہمارے دوست ) کا ہاتھ تھام کر کہا بھلے تم نشہ کرو اور جتنا مرضي کرو مجھ اس پہ اعتراض نہيں اور تو چاہے نشہ کرے يا نہ کرے ميں تمھيں چھوڑوں گا نہيں ، تو ہمارا يار ہے اور يار ہي رہيگا
اس نے کہا کہ پنجابي کا ايک محاورہ ہے کہ يار کي ياري ديکھني چاہيے يار کے عيبوں کي طرف نہيں جانا چاہيے
 خواتين و حضرات آپ يقين کيجئے کہ بغير کسي طبي علاج اور ماہر نفسيات کي مدد کے جب ہمارے نشئي دوست کو محمد نواز کا سہارا ملا تو وہ نشے کي گندي اور بري عادت سے باہر نکل آيا اور صحت مند ہونا شروع ہو گيا

No comments:

Post a Comment