جو مرید حضرات پیر مہر علی شاہ صاحب کے پاس آتے تھے اور صاحبزادے کو دیکھتے تھے ان میں گوالیار کے بھی کوئی صاحب تھے ، تو انھوں نے اس سے پوچھا کہ صاحبزادے آپ اس کالے کلوٹے (انجن) کے عشق میں کیوں مبتلا ہیں -
انھوں نے کہا کہ میں چار وجوہات کی بنا پر اس کے عشق میں مبتلا ہوں ، اور ان چار وجوہات کی وجہ سے انجن مجھے بہت ہی پیارا لگتا ہے
انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ آگ کھاتا ہے - انگارے ہضم کرتا ہے - اپنی جان پر دکھ سہتا ہے، اور یہ دکھ سہ کر جس منزل کا تہیہ کرتا ہے اس کی طرف جاتا ہے
دوسرے یہ مجھے اس لئے پسند ہے کہ جس منزل کا ارادہ کرتا ہے اس پر پہنچ کر ہی دم لیتا ہے
تیسری صفت یہ ہے کہ اور سب سے پیاری بھی کہ جس نے مجھے اس کے عشق میں مبتلا کیا ہے کہ یہ first class کے ڈبے کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے اور third class کے ڈبے کو بھی ، اور گندی بوگی کو بھی لے کر چلتا ہے - یہ نہیں کہتا کہ تو یہاں رہ میں توfirst class کے ڈبےکو ساتھ لے کر جاؤنگا
اور چوتھی چیز یہ ہے کہ یہ صراط مستقیم کا مالک ہے نہ ایک انچ ِاِدھر جاتا ہے ، نہ ایک انچ ٱدھر -
No comments:
Post a Comment