Pages

Showing posts with label زاویہ. Show all posts
Showing posts with label زاویہ. Show all posts

Monday, May 7, 2012

چِٹھیاں

پیران پیر کے شہر بغداد میں ایک بندہ تھا جو کسی پر عاشق تھا - اس کے لئے تڑپتا تھا ، روتا تھا چیخیں مارتا اور زمین پر سر پٹختا تھا - لیکن اس کا محبوب اسے نہیں ملتا تھا -

اس شخص نے ایک بار خدا سے دعا کی کہ اے الله ! ایک بار مجھے میرے محبوب کے درشن تو کرا دے -

الله تعالیٰ کو اس پر رحم آگیا اور اس کا محبوب ایک مقررہ مقام پر جہاں بھی کہا گیا تھا پہنچ گیا -

دونوں جب ملے تو عاشق ایک چٹھیوں کا بڑا بنڈل لے آیا - یہ وہ خط تھے جو وہ اپنے اس محبوب کے ہجر میں لکھتا رہا تھا - اس نے وہ کھول کر اپنے محبوب کو سنانے شروع کر دیے -

پہلا خط سنایا اور اپنے ہجر کے دکھڑے بیان کیے - اس طرح دوسرا خط ، پھر تیسرا خط ، اور جب وہ گیارویں خط پر پہنچا تو اس کے محبوب نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا اور کہا

" گدھے کے بچے ! میں تیرے سامنے موجود ہوں ، اپنے پورے وجود کے ساتھ اور تو مجھے چٹھیاں سنا رہا ہے - یہ کیا بات ہوئی "

سلطان سنگھاڑا فروش کہنے لگا بھا جی ! " ہماری عبادت بھی ایسی ہی ہوتی ہے - آدمی چٹھیاں سناتا رہتا ہے ، محبوب اس کے گھر میں ہوتا ہے ، اس سے بات نہیں کرتا - جب تک اس سے بات نہیں کریگا چٹھیاں سنانے کا کوئی فائدہ نہیں -

از اشفاق احمد زاویہ ٢ سلطان سنگھاڑے والا صفحہ ٧٤

Saturday, March 31, 2012

سب سے بڑا راز

زندگی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ زندگی ایک تحفہ ہے. تم اس کے حقدار نہیں تھے نہ ہی یہ تمہارا حق تھا...یہ تم کو دی گئی ہے تم نے اس کے لئے کوشش نہیں کی،محنت نہیں کی.ہمت نہیں کی.... ایک مرتبہ جب تم پر یہ بات کھل گئی تو تم کو بڑی آسانیاں عطا ہو جائیں گی.
اگر زندگی ایک تحفہ ہے تو پھر اس کے ساتھ جتنی بھی چیزیں ہیں سب کی سب تحفے ہیں... خوشی، محبت، آنند، مراقبہ جو کچھ بھی خوب اور خوبصورت ہے ایک تحفہ ہے... ذات کی طرف سے ذات باری کی طرف سے !!

از اشفاق احمد ، بابا صاحبا، صفحہ نمبر ٤٧٣

Thursday, March 15, 2012

عالم اصغر سے عالم اکبر تک

آپ منہ میں روٹی کا ایک لقمہ رکھ کے تین دن گھومتے رہیں
 وہ آپ کی نشو نما کا باعث نہیں بن سکے گا
 جب تک کہ وہ آپ کے معدے میں نہ اتر جائے
اور معدے میں اتر کر آپ کے خون کا حصہ نہ بن جائے
 اور پھر آپ کو تقویت عطا ہوتی ہے

میں آپ اور ہم سب
 منہ کے اندر رہے علم کو ایک دوسرے کے اوپر اگلتے رہتے ہیں

اور پھینکتے رہتے ہیں

 اور پھر اس بات کی توقع کرتے ہیں

 اور سوچتے ہیں کہ ہم کو اس سے خیر کیوں حاصل نہیں ہوتی
از اشفاق احمد زاویہ ٢ عالم اصغر سے عالم اکبر تک صفحہ ١٤٧

Monday, February 20, 2012

الله کا تصور


الله کا تصور اور چیز ہے اور خدا کی ذات کا اعتراف اور چیز ہے - انسان کے اچھے کاموں میں جو مباح چیز ہے وو عبادت کی آرزو ہے - یہ اچھی چیز ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ آپ عبادت کے ذریعے وہاں پہنچ سکیں جس کی آپ کو آرزو ہے - ہم جب تھکے اور ولایت میں نوکریاں کرنے کے بعد وطن آئے تو ہمارا بابوں اور ڈیروں کے حوالے سے کانسیپٹ ذرا اور ہی تھا - 
جس طرح عام طور پر لوگوں کا ہوتا ہے کہ وہ چرس کے سوٹے لگاتے ہیں اور نشے میں ٹن ہو کر پڑے رهتے ہیں - ہمارا بھی خیال تھا کہ اب ولایت میں کام کر کے تھک گئے ہیں - کسی ڈیرے میں جا کر بم بھی رہبانیت کی زندگی گزاریں گے اور مزے سے رہا کریں گے -
لیکن خواتین و حضرات ! وہاں پہنچ پر کر پتا چلا کہ اس سے زیادہ مشقت ، جدوجہد ، کوشش اور محنت کی زندگی کہیں ہے ہی نہیں - لیکن عبادت کر لینا اور دین کے بارے میں کچ گفتگو کر لینا آسان کام ہے لیکن اس کے اندر اتر کر عملی طور پر اختیار کرنا مشکل کام ہے ، یعنی تصوف شریعت سے جدا نہیں ہے - یہ نماز روزہ ہے لیکن اس میں علم کے ساتھ ساتھ عمل پر بھی زور دیا جاتا ہے - 

قناعت پسندی


ایک دن میں اپنے پوتے سے کہ رہا تھا کہ " بلال میاں ، میں اپنے الله کو مان کے مرنا چاہتا ہوں -"
وہ کہنے لگا کہ " بابا تم تو بہت اچھے آدمی ہو " 
میں نے کہا نہیں " مجھے میرے ابّا جی نہ کہا تھا کہ ایک الله ہوتا ہے - میں نے یہ بات مان لی اور الله کوئی ماننے لگا - " 
میں الله کو خود سے ڈائریکٹ ماننا چاہتا ہوں - بس خدا پر یقین کی ضرورت ہے ، میرے ابّا جی بتایا کرتے تھے کہ ایک دن ان کے ہاں دفتر میں کام کرنے والے ملازم کی تنخواہ چوری ہو گئی تو سب نے کہا کہ یار بڑا افسوس ہے - تو وہ کہنے لگے کہ " خدا کا شکر ہے نوکری تو ہے " 
ایک ماہ بعد خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی نوکری بھی چلی گئی 
لوگوں اور ابا جی نے ان سے افسوس کیا تو کہنے لگے جی " خدا نے اپنا گھر دیا ہے ، اندر بیٹھ کر اچار روٹی کھالیں گے - الله کا فضل ہے - پرواہ کی کوئی بات نہیں - " 
یہ خدا کی طاقت تھی - 
مقدمے بازی میں کچ عرصے بعد اس کا گھر بھی فروخت ہو گیا - 
وہ پھر بھی کہنے لگا کہ " فکر نہیں میرے ساتھ میری بیوی ہے - یہ بیالیس سال کا ساتھ ہے - " 
بیوی فوت ہوئی تو اس نے کہا کہ " کوئی بات نہیں میں تو زندہ سلامت ہوں - تندرست ہوں " 
وہ شوگر کا مریض تھا اس کی ایک ٹانگ کٹ گئی - میرے والد نے کہا کہ " بہت برا ہوا -" 
اس نے کہا ڈاکٹر صاحب " ایک ٹانگ تو ہے - " 
بیماری بڑھنے کے بعد اس کی دوسری ٹانگ بھی کٹ گئی - 
میرے والد بتاتے ہیں کہ جب وہ فوت ہوا تو اس نے اپنے بہو سے کہا کہ " بیٹا کمال کا بستر ہے جس پر میں فوت ہو رہا ہوں - کیا خوبصورتی سے اس چارپائی کی پائینتی کسی ہوئی ہے - مزہ آ رہا ہے - " 
ایسی طاقت اور قناعت پسندی کی ضرورت ہے ایسی طاقت اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے اپنا کندھا ، بازو یا صرف کان کھلا رکھتے ہیں اور لوگوں کو سہارا مہیا کرتے ہیں 
الله تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے - آمین 

Sunday, February 5, 2012

بابا رتن ہندی کا سفر محبّت


ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔
اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے وہ رات کو لیٹ کر سوچنے لگا بندہ کیا عرب نہیں جاسکتا - اب وہاں جانے کےذرائع تواس کے پاس تھے نہیں لیکن اس کا تہیہ پکا اور پختہ ہو گیا - اس نے بات نہ کی اور نہ کوئی اعلان ہی کیا - کوئی کتاب رسالہ نہیں پڑھا بلکہ اپنے دل کے اندر اس دیوتا کا روپ اتار لیا کہ میں نے اس کی خدمت میں ضرور حاضر ہونا ہے اور میں نے یہ خوش قسمت آدمی بننا ہے۔
وہ چلتا گیا چلتا گیا ، راستہ پوچھتا گیا اور لوگ اسے بتاتے گئے - کچھ لوگوں نے اسے مہمان بھی رکھا ہوگا لیکن ہمارے پاس اس کی ہسٹری موجود نہیں ہے - وہ چلتا چلتا مہینوں کی منزلیں ہفتوں میں طے کرتا مکہ شریف پہنچ گیا -غالباً ایران کے راستے سے اور اب وہ وہاں تڑپتا پھرتا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ ایک " اوتار " آیا ہے - اب کچھ لوگ اس کی بات کو لفظی طور پر تو نہیں سمجھتے ہونگے لیکن اس کی تڑپ سے اندازہ ضرور لگایا ہوگا کسی نے اسے بتایا ہوگا کہ وہ اب یہاں نہیں ہے بلکہ یہاں سے آگے تشریف لے جا چکے ہیں اور اس شہر کا نام مدینہ ہے - اس نے کہا میں نے اتنے ہزاروں میل کا سفر کیا ہے یہ مدینہ کونسا دور ہے ، میں یہ ٦٠٠ سو کلو میٹر بھی کر لونگا - ووہ پھر چل پڑا اور آخر کار "مدینہ منورہ " پہنچ گیا -
بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہیں ، اور کہیں بھی اس کا ذکر اس تفصیل کیساتھ نہیں آتا جس طرح میں عرض کر رہا ہوں - شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رح نے اپنی کتاب میں ایک جملہ لکھا ہے کہ " بابا رتن ہندی " حضور نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر معلوم نہیں کہ اس کا کیا ہوا " لیکن غالب گمان ہے اور عقل کہتی ہے اور ہم اندازے سے یقین کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں کہ وہ مدینہ شریف میں حضور نبی کریم کی خدمت میں رہا اور حضور کے پسندیدہ لوگوں میں سے تھا - اب وہ کس زبان میں ان سے بات کرتے ہونگے کیسے رابطے کرتے ہونگے اور رتن کس طرح سے مدینہ شریف میں زندگی بسر کرتا ہوگا ؟ کہاں رہتا ہوگا اس کا ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے لیکن وہ رہتا وہیں تھا اور وہ کب تک وہاں رہا اس کے بارے میں بھی لوگ نہیں جانتے - اس کی طلب تھی اور اس کی خوش قسمتی تھی اور خوش قسمتی ہمیشہ طلب کے واسطے سے پیدا ہوتی ہے - اگر آپ کی طلب نہ ہو تو خوش قسمتی خود گھر نہیں آتی -
وہ اتنے معزز میزبان کا مہمان ٹھہرا اور وہاں رہا - آپ کو یاد ہوگا جب رسول پاک نبی اکرم مدینہ شریف تشریف لے گئے تو وہاں کی لڑکیوں نے اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر دف پر گانا شروع کر دیا کہ " چاند کدھر سے چڑھا " وہ خوش قسمت لوگ تھے - ایک فکشن رائٹر کے حوالے سے میں یہ سوچتا ہوں کہ اس وقت کوئی ایسا محکمہ پبلک سروس کمیشن کا تو نہیں ہوگا ، اس وقت کوئی پبلک ریلیشن یا فوک لور کا ادارہ بھی نہیں ہوگا کہ لڑکیوں سے کہا جائے کہ تم ٹیلے پر چڑھ کے گانا گاؤ - وہ کونسی خوش نصیب لڑکی ہوگی جس نے اپنے گھر والوں سے یہ ذکر سنا ہوگا ، رات کو برتن مانجھتے یا لکڑیاں بجھاتے ہوئے کہ رسول الله تشریف لا رہے ہیں اور اندازہ ہے کہ عنقریب پہنچ جائیں گے اور پھر اس نے اپنی سہیلیوں سے بات کی ہوگی اور انھوں نے فیصلہ کیا ہوگا کہ جب وہ آئیں گے تو ہم ساری کھڑی ہو کر دف بجائیں گی اور گیت گائیں گی - اب جب حضور کے آنے کا وقت قریب آیا ہوگا تو کسی نے ایک دوسری کو بتایا ہوگا کہ بھاگو ، چلو ، محکمہ تو ہے کوئی نہیں کہ اطلاع مل گئے ہوگی ، یہ طلب کونسی ہوتی ہے ، وہ خوش نصیب لڑکیاں جہاں بھی ہونگی ، وہ کیسے کیسے درجات لے کر بیٹھی ہونگی - انھوں نے خوشی سے دف بجا کر جو گیت گایا اس کے الفاظ ایسے ہیں کہ دل میں اترتے جاتے ہیں - انھیں آنحضور کو دیکھ کر روشنی محسوس ہو رہی ہے ،پھر وہ کونسی جگہ تھی جسے بابا رتن ہندی نے قبول کیا اور سارے دوستوں کو چھوڑ کر اس عرب کے ریتیلے میدان میں وہ اپنی لاٹھی لے کر چل پڑا کہ میں تو " اوتار" سے ملونگا -
بہت سے اور لوگوں نے بھی رتن ہندی پر ریسرچ کی ہے - ایک جرمن اسکالر بھی ان میں شامل ہیں -
جب یہ سب کچھ میں دیکھ چکا اور پڑھ چکا تو پھر میرے دل میں خیال آیا بعض اوقات ایسی حکایتیں بھی بن جاتی ہیں لیکن دل نہیں مانتا تھا - یہ پتا چلتا تھا جرمن ریسرچ سے کہ وہ حضور کے ارشاد پر اور ان کی اجازت لے کر واپس ہندوستان آ گئے-
ہندوستان آئے تو ظاہر ہے وہ اپنے گاؤں ہی گئے ہونگے اور بٹھندا میں ہی انھوں نے قیام کیا ہوگا ،میری سوچ بھی چھوٹی ہے ،درجہ بھی چھوٹا ہے، لیول بھی چھوٹا ہے پھر بھی میں نے کہا الله تو میری مدد کر کہ مجھے اس بارے میں کچھ پتا چل جائے اب تو پاکستان بن چکا ہے میں بٹھندا جا بھی نہیں سکتا اور پوچھوں بھی کس سے ١٤٠٠ برس پہلے کا واقعہ ہے -
کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر مسعود سے میری دوستی ھوگئی - ان سے ملنا ملانا ہوگیا ، وہ گھر آتے رہے ، ملتے رہے ، ان کے والد سے بھی ملاقات ہوئی وہ کسی زمانے میں اسکول ٹیچر رہے تھے - ایک دن باتوں باتوں میں ڈاکٹر مسعود کے والد صاحب نے بتایا کہ میں کافی سال بٹھندا کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر رہا ہوں - میں نے کہا یا الله یہ کیسا بندہ آپ نے ملوا دیا ، میں نے کہا آپ یہ فرمائیں ماسٹر صاحب کہ وہاں کوئی ایسے آثار تھے کہ جن کا تعلق بابا رتن ہندی کے ساتھ ہو - کہنے لگے ان کا بہت بڑا مزار ہے وہاں پر اور وہاں بڑے چڑھاوے چڑھتے ہیں - ہندو ، مسلمان عورتیں ، مرد آتے ہیں اور تمہارا یہ دوست جو ہے ڈاکٹر مسعود ، میرے گھر ١٣ برس تک اولاد نہیں ہوئی ، میں پڑھا لکھا شخص تھا ، ایسی باتوں پر اعتبار نہیں کرتا تھا جو ان پڑھ کرتے ہیں - لیکن ایک دن جا کر میں بابا رتن ہندی کے مزار پر بڑا رویا - کچھ میں نے کہا نہیں ، نا کچھ بولا - پڑھے لکھ سیانے بندوں کو شرک کا بھی ڈر رہتا ہے ، اس لئے کچھ نہ بولا ، اور مجھے ایسے ہی وہاں جا کر بڑا رونا آگیا - بابا رتن ہندی کی کہانی کا مجھے پتا تھا کہ یہ مدینہ تشریف لے گئے تھے - مزار پر جانے کے بعد میں گھر آ گیا - رات کو مجھے خواب آیا کہ جس میں ہندوستانی انداز کے سفید داڑھی والے بابا جی آئے اور کہنے لگے " لے اپنا کاکا پھڑ لے " ( لو ، اپنا بچہ لو ) یہ الله تعالیٰ نے تمہارے لئے بھیجا ہے - میں نے کہا جی یہ کہاں سے آگیا ، ماسٹر صاحب نے بتایا کہ جب میں نے خواب میں وہ بچہ اٹھایا تو وہ وزنی تھا - میں نے پوچھا " بابا جی آپ کون ہیں " تو وہ کہنے لگے " میں رتن ہندی ہوں " کیا ایسے بے وقوفوں کی طرح رویا کرتے ہیں ، صبر سے چلتے ہیں ، لمبا سفر کرتے ہیں ، ہاتھ میں لاٹھی رکھتے ہیں اور ادب سے جاتے ہیں " 
ماسٹر صاحب کہنے لگے مجھے سفر اور لاٹھی کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا باتیں ہیں ، میں نے ان سے کہا جی اس کا مصالحہ میرے پاس ہے اور مجھے یقین ہوگیا کہ وہ لڑکیاں جو حضور کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھیں وہ خوش قسمت تھیں - ہم کچھ مصروف ہیں - کچھ ہمارے دل اور طرف مصروف ہیں - ہم اس سفر کو اختیار نہیں کر سکتے لیکن سفر کو اختیار کرنے کی " تانگ " ( آرزو ) ضرور دل میں رہنی چاہیے اور جب دل میں یہ ہو جائے پکا ارادہ اور تہیہ تو پھر راستہ ضرور مل جاتا 
ہے۔

Saturday, January 28, 2012

مشکل کام


اگر آپ راہ چلتے ہوئے سڑک پر پڑے اینٹ روڑے کو اس مقصد سے ہٹا دیتے ہیں کہ کوئی اس کی وجہ سے گر نہ جائے یا کسی کو چوٹ نہ لگ جائے تو آپ بھی اپنی ذات میں بابے ہیں - پرانے زمانے میں ، اب تو شاید اس کے لئے اتنا تردد نہیں کیا جاتا - ہمارے بزرگ راہ چلتے ہوئے سڑک پر پڑے ہوئے کانٹے ، اینٹ یا روڑے اپنی چھڑی سے ہٹا دیا کرتے تھے اور چاہے وہ جتنی بھی جلدی میں ہوں یہ کام کرتے جاتے تھے - 
خواتین و حضرات ! معمولی کام کرتے رہا کریں ، اس سے کچھ دینا نہیں پڑتا - کسی معذور کو کام چھوڑ کر سڑک پار کروایا کریں - ہمسایوں کو bell دے کر کبھی کبھار ضرور پوچھا کریں کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں - اگر میرے لائق کوئی حکم ہو تو ضرور بتائیے گا ، بطور ہمسایہ یہ آپ کا مجھ پر حق ہے - ان چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہمارے مشکل کام آسان ہو جائیں گے 


از اشفاق احمد زاویہ ٣ قناعت پسندی صفحہ ٢٠٩

Sunday, January 15, 2012

خاموشی کی دنیا


باطن کے اس سفر میں آپ شور و غوغا کر کے کسی کو ٹیلیفون کر کےکسی کو میسیج بھیج کر یا کسی کو اپنے کمپیوٹر کے ذریعے ہوشیار کر کے نہ کوئی پیغام دے سکتے ہیں نہ لے سکتے ہیں


یہ خاموشی کی ایک دنیا ہے اس میں اگر آپ کبھی داخل ہو سکتے ہیں تو پھر ہی آپ اس کا مزہ لے سکتے ہیں


مت پوچھیں کہ ہمیں کسی بابا کا بتائیں
آپ خود بابا ہیں


جب آپ دیوار سے ڈھو (ٹیک) لگا کر آرام سے بیٹھنا آگیا
اور دنیا کی سب سے بڑی عبادت یعنی آپ خاموشی میں داخل ہو گئے
تو آپ کے اوپر انوار و برکات کی بارش بھی ہونے لگے گی
اور انواع و اقسام کا رزق آپ کا مقدر بنتا چلا جائے گا 

اشرف المخلوقات


آخر کار یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ کوئی شخص تب تک رشوت نہیں لے سکتا جب تک کہ وہ اپنے آپ کو خوار، ذلیل ، پریشان اور زبوں حال نہ سمجھے
 پہلے اپنے دل اور اپنی روح کے نہاں خانے میں انسان اپنے آپ کو ذلیل کمینہ، گھٹیا ، اور چھوٹا سمجھتا ہے - اس کے بعد وہ رشوت کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے


اگر کوئی شخص عزت و وقار اور اطمینان اور ڈگنٹی کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے تو وہ کسی حال میں رشوت کی طرف رجوع نہیں کرتا


ہمارے دین میں بھی اس بات پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ آپ وقار ، عظمت اور تمکنت کا دامن کسی صورت میں بھ ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنے آپ کو ایک اعلیٰ وعرفہ مخلوق جانیں 


کیونکہ آپ کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کر دیا گیا ہے





يار کي ياري

ہمارا ايک دوست نشے کا عادي ہو گيا
ہم چونکہ سمجھدار ، پڑھے لکھے سيانے دوست تھے ہم اسے مجبور کرنے لگے کہ تمھيں يہ بري عادت چھوڑ ديني چاہئے ، ورنہ ہم تمہارا ساتھ نہيں دے سکيں گے اور ہم تمہارے ساتھ نہيں چل سکيں گے
وہ بيچارہ ايک تو نشے کي لعنت ميں گرفتار تھا دوسرا وہ روز ہماري جھڑکياں سہتا تھا جس کے باعث وہ ہم سے کنارہ کشي کرنے لگا
محمد نواز جلد ساز بڑے خوبصورت دل کا آدمي تھا ہر وقت مسکراتا رہتا تھا - گو وہ اقتصادي طور پر ہمارے دائرے کے اندر نہيں تھا مگر وہ خوشگوار طبيعت کا مالک تھا - اس نے ايک دن اس آدمي (ہمارے دوست ) کا ہاتھ تھام کر کہا بھلے تم نشہ کرو اور جتنا مرضي کرو مجھ اس پہ اعتراض نہيں اور تو چاہے نشہ کرے يا نہ کرے ميں تمھيں چھوڑوں گا نہيں ، تو ہمارا يار ہے اور يار ہي رہيگا
اس نے کہا کہ پنجابي کا ايک محاورہ ہے کہ يار کي ياري ديکھني چاہيے يار کے عيبوں کي طرف نہيں جانا چاہيے
 خواتين و حضرات آپ يقين کيجئے کہ بغير کسي طبي علاج اور ماہر نفسيات کي مدد کے جب ہمارے نشئي دوست کو محمد نواز کا سہارا ملا تو وہ نشے کي گندي اور بري عادت سے باہر نکل آيا اور صحت مند ہونا شروع ہو گيا

اعتماد

وہ چيک مجھے کيش کرانا تھا
جب ميں بينک ميں گيا اور کيشيئر کو وہ چيک ديا تو اس نے مجھے ٹوکن ديا ......... 
اب ميں ايک لاکھ روپے کي اپني تئيں ايک بڑي رقم کے چيک کو دے چکا ہوں
 اور ٹوکن لے کر اعتماد ميں کھڑا ہوں - 


حالانکہ چيک لينے والے نے چيک کے پيچھے دستخط بھي کروا ليے تھے
 اور رقم دينے سے پہلے انھوں نے مجھ سے ٹوکن بھي واپس لے ليا تھا - 


اب وہ بڑي آساني سے کہ سکتے تھے کہ جي آپ کو پيمنٹ ہو گئي ہے -
اب يہ ميں suggestion نہيں دے رہا ہوں کہ ايسا ہونا چاہئے ( مسکراتے ہوئے ) 
يہ اعتماد تھا کہ نہيں 
کہ بينک والے ايسے نہيں کہيں گے اور رقم مجھے دے ديں گے - 


ہر روز لاکھوں ، کروڑوں ، آدمي اسي يقين کے ساتھ ايک دوسرے سے لين دين کرتے ہيں - 
ہم محکمہ ڈاک اور بينکنگ سسٹم پر يقين کر ليتے ہيں
 اپنے خدا پر يقين نہيں کرتے - 
ہم اپنا بچہ ايک اعلي? اسکول ميں داخل کراتے ہيں 
 ہميں اس بات کا يقين ہوتا ہے کہ بي . اے کريگا اس کے بعد يہ مقابلے کا امتحان دے گا
 يہ اس امتحان ميں کامياب ہوگا اور يہ تھر پارکر ميں ڈپٹي کمشنر لگے گا - 


وہاں تک يقين چلتا جاتا ہے - 
يہاں آ کر بريکيں کيوں لگ جاتي ہيں
يہاں ہمارے دل کے گھونسلے ميں وہ انڈا پيدا نہيں ہوتا جسے اعتماد کا نام ديا جا سکے - 


از اشفاق احمد زاويہ 3 شه رگ کا ڈرائنگ روم

Wednesday, December 14, 2011

بد قسمتی


بہت سے لوگ ہر وقت مصیبت میں گھرے رهتے ہیں
 خاص طور پر ان کے معاملات لوگوں کے ساتھ بری طرح سے پھنس جاتے ہیں
آپ دیکھیں گے کہ آپ کے بہت سے مسائل
 غلط قسم کے لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کی وجہ سے ہیں 
پھر آپ کو ایک اور حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا
 کہ آپ کے اندر ایک غلط قسم کی چیز ہے
جو غلط قسم کے لوگوں کو آپ کی طرف متوجہ کرتی ہے
اب یہ وہ سخت مقام ہے
جہاں آپ کو امانت داری کے ساتھ
نشترزنی کرنی ہے
اور اپنی ذات کے ساتھ رعایت کئے بغیر
معاملے کی تحقیق کرنی ہے
جس بد قسمتی کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے
پھر وہ بد قسمتی نہیں رہتی 

از بابا صاحبا

شیطان کا کمال


شیطان بھی کمال کی چیز ہے
وہ گناہ کے خلاف وعظ کر کے
\ بہت سوں کو اپنا چیلا بنا لیتا ہے 
وہ کچھ اس طرح سے قائل کرتا ہے
 کہ گناہ اور بدی کا تصور
لوگوں کے ذھن میں ایک جذباتی ہیجان پیدا کر دیتا ہے
وہ یقین دلا دیتا ہے
کہ خدا تمہارے گناہ تو معاف کر دیگا
لیکن تمہارے ارد گرد پھیلے ہوئے
بد کردار لوگوں
اور بد اصل انسانوں کو نہیں بخشے گا 

زاویہ ٣ روح کی سرگوشی پیج ٣١٠


خدمت

بابے کہتے ہیں 
کہ خدمت ایک ایسی چیز ہے جو انا کی دیوار گرا دیتی ہے
 اور انسان کو اس کے باطن سے ہمکلام کردیتی ہے
ہماری دعا ہونی چاہئے 
کہ " اے الله میں نہ تو دنیاوی لذتیں حاصل کرنے کا آرزومند ہوں
 اور نہ ہی روحانی سربلندیوں کو پانے کا خواہشمند ہوں
 مجھے ان دونوں کے بجائے سپردگی
 اور ابدیت کی دولت چاہئے
اس طرح نہ تو مجھے مافوق الفطرت طاقت درکار ہے
نہ ہی مراقبے اور مکشافے کی دولت کی خواھش ہے
دینی ہے تو مجھے ناداروں
اور بیچاروں کی خدمت کی طاقت دے دے تیری مہربانی 

زاویہ ٣ روح کی سرگوشی پیج ٣٠٧

ماں کا داماد


وہ ہمیشہ یہی دعا مانگا کرتی تھی 
کہ " اے الله میں اپنے لئے کچھ نہیں مانگتی 
میں اپنی ماں کے لئے دعا مانگتی ہوں
 کہ اے خدا !
 میری ماں کو ایک اچھا
 خوبصورت سا داماد دے دے
 تیری بڑی مہربانی ہوگی - 
اس سے میری ماں بڑی خوش ہوگی  
میں اپنے لئے کچھ نہیں چاہتی 
وہ ذھین بھی ہو ،
 اس کی اچھی تنخواہ بھی ہو ،
 اس کی جائداد بھی ہو -
 اس طرح کا داماد میری ماں کو دے دے 

 زاویہ ٢ ہاٹ لائن پیج ٩٨

صلاحیت

صلاحیت
نالائقی اور نا اہلی سے بہتر ہے
لیکن سارے دعوؤں سے دستکش ہو جانا
صلاحیت سے بھی برتر ہے 

زاویہ ٣ روح کی سر گوشی پیج ٣٠٥

Sunday, December 11, 2011

موت کی حقیقت


میرے چچا کے دوست کا ایک جوان سال بیٹا کسی وجہ سے فوت ہوگیا اکیلا ہی اس کا بیٹا تھا اور وہ بڑا صوفی آدمی تھا - میرے چچا نے نمائندے کی طور پر مجھے بھیجا کہ جا کے تم افسوس کر کے آؤ اور کہنا کہ جوں ہی میں ٹھیک ہوا، میری صحت بحال ہوئی، میں خود حاضری دونگا -


 جب میں وہاں گیا تو بہت سے لوگ جمع تھے اور وہ چارپائی پی بیٹھے تھے میں جب ان کے قریب گیا تو انھوں نے پہچانا - 
اور مجھے کہنے لگے، اشفاق میاں دیکھو ہم جیت گئے
اور سب دنیا ہار گئی
ہم کامیاب ہوگئے اور باقی کے سب لوگ
بڑے بڑے ڈاکٹر
بڑے حکیم
اور بڑے بڑے نامی گرامی طبیب ہار گئے -


میں پریشان کھڑا تھا، ان کے سامنے کہ یہ کیا بات کہ رہے ہیں - کہنے لگے، دیکھئے ہمارا یار جیت گیا اور سارے ڈاکٹر فیل ہوگئے -
ہم ایک طرف تھے اور یہ لوگ سارے ایک طرف تھے -
وہی ہوا جو ہمارے یار نے چاہا
اور جو اس نے چاہا تھا
وہی ہم نے چاہا -
 میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی


ایک اکلوتا اس کا بیٹا
جواں سال
اور بار بار یہی بات کہ رہا ہے
کچھ وقت
ایسی کیفیت درد کی اور کرب اور الم کی بھی بن سکتی ہے لیکن یہ انداز بتا رہا تھا کہ وہ یہ بات اندر سے کہ رہے ہیں 
اور اس کے اوپر ان کا پورا ایمان ہے
اور وہ ہل نہیں رہیں ہیں اس مقام سے -
اور کہتے تھے جو الله نے کیا وہی درست
اور وہی ٹھیک ہوگا جو الله کریگا -
اور چونکہ ہم الله کی سائیڈ کے ہیں
اس لئے جب الله کامیاب ہوتا ہے
اور وہ ہر بار کامیاب ہوتا ہے
تو ہم کامیاب ہو گئے ہیں -


یہ میرے لئے ایک عجیب بات تھی -
میں اس وقت ایف - اے کر چکا تھا
لیکن نہ میرے پاس الفاظ تھے
نہ میں بڑے سلیقے سے ان کے ساتھ افسوس کر سکتا تھا
 جس کے لئے مجھے بھیجا گیا تھا -
افسوس کے لئے میں چپ چاپ کھڑا رہا -
انھوں نے چائے پلائی ، کھانا وہاں کھلانے کا رواج تھا -
اگلے دن واپس آئے -
میں نے آ کر ساری بات چچا سے کہی -
انھوں نے کہا کہ وہ بہت مضبوط
اور الله کو ماننے والے شخص ہیں۔

زاویہ موت کی حقیقت صفحہ 137

Wednesday, November 16, 2011

معافی اور درگزر

معافی اور درگزر، یہ ایک پھول کی مانند ہیں
اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں 


اور یہ "معافی" لوگوں کے مابین
کا کام دیتی ہے۔ "Connectivity" 


جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں
وہ انسان کے درمیان رابطے
اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں
اور ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے
کہ ان کو خود کسی  وجہ سے آدمیوں اور انسانوں  کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے
لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے


اگر ہم ایک انسان سے کوئی زیادتی  کرتے ہیں
یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں
اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے
یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے
تو پھر ہمیں اس انسان کے پاس جا کر
معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے
لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں
اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے
کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا
تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے"۔


تو اس صورت میں
سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے
کہ ہمیں اپنے خدا کو کہیں جا کر ڈھونڈنا نہیں پڑتا
تلاش نہیں کرنا پڑتا
کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے


اس لئے ہمارے بابے اس بات پر زور دیتے ہیں
کہ ہمارے بابا جی اکثر و بیشتر یہ کہا کرتے تھے
کہ، "انسان کے معاملے میں بہت احتیاط کیا کرو
اور کوئی ایسا گناہ یا غلطی کی سرزدگی سے بچا کرو
جو انسان سے متعلق ہو
کیونکہ انسان سے کیے گناہ یا ظلم کی معافی اس سے ملے گی۔
اگر تم سے خدا کا گناہ ہوجاتا ہے
تو یہ اور بات ہے
وہ رحیم و کریم ہے
اور ہر جگہ موجود ہے
اس سے معافی کسی بھی وقت مانگی جا سکتی ہے
(موت سے پہلے)


اگر وہ انسان کھو گیا تو مارے جاؤ گے"۔

ماننے والا شخص


خواتین و حضرات
اپنے دکھ اور کوتاہیاں دور کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے 


کہ ہم تسلیم کرنے والوں میں
ماننے والوں میں شامل ہو جائیں
اور جس طرح خداوند تعالٰی کہتا ہے
کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ


میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ابو دین میں پورے کے پورے کس طرح داخل ہو جائیں
تو میں اس کو کہتا ہوں کہ جس طرح سے ہم بورڈنگ کارڈ لے کر ایئر پورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں
اور پھر جہاز میں بیٹھ کر ہم بے فکر ہو جاتے ہیں
کہ یہ درست سمت میں ہی جاۓ گا


اور ہمیں اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ جہاز کس طرف کو اڑ رہا ہے
کون اڑا رہا ہے بلکہ آپ آرام سے سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں
اور آپ کو کوئی فکر فاقہ نہیں ہوتا ہے


آپ کو اپنے دین کا بورڈنگ کارڈ
اپنے یقین کا بورڈنگ کارڈ
ہمارے پاس ہونا چاہیے


تو پھر ہی خوشیوں میں
اور آسانیوں میں رہیں گے
وگرنہ ہم دکھوں اور کشمکش کے اندر رہیں گے


اور تسلیم نہ کرنے والا شخص
نہ تو روحانیت میں داخل ہو سکتا ہے
اور نہ ہی سائنس میں داخل ہو سکتا ہے


جو چاند کی سطح پر اترے تھے
جب انہوں نے زمین کے حکم کے مطابق ورما چلایا تھا
تو اس نے کہا کہ ورما ایک حد سے نیچے نہیں جا رہا
جگہ پتھریلی ہے
لیکن نیچے سے حکم اوپر گیا
کہ نہیں تمھیں اسی جگہ ورما چلانا ہے


وہ ماننے والوں میں سے تھا
اور اس نے بات کو تسلیم کرتے ہوۓ
اسی جگہ ورما چلایا
اور اس کے بلآخر وہ گوہرِ مقصود ہاتھ آ گیا
جس کی انہیں تلاش تھی۔


خواتین و حضرات
ماننے والا شخص
اس زمین سے اٹھ کر افلاک تک پہنچ جاتا ہے
اور وہ براق پر سوار ہو کر جوتوں سمیت اوپر پہنچ جاتا ہے 


اور جو نہ ماننے والا ہوتا ہے
وہ بے چارہ ہمارے ساتھ یہیں گھومتا پھرتا رہ جاتا ہے۔ 


سائنسدان کہتے ہیں کہ جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ زمین میں کششِ ثقل ہے تو پھر ہم آگے چلتے ہیں اور ہمارا اگلا سفر شروع ہوتا ہے


جبکہ نہ ماننے سے مشکل پڑتی ہے۔

جھولی


کئی دفعہ اللہٰ کی طرف سے کوئی چیز انسان پر اجاگر ہو جاتی ہے
اور اللہٰ ہمیں معلوم دنیا سے ہٹا کر
لامعلوم کی دنیا سے علم عطا کرتا ہے


اور انہیں حاصل کرنے کے لیے
انہیں اپنا نصیب بنا نے کی لیے
میرے اور آپ کے پاس ایک جھولی ضرور ہونی چاهیئے


جب تک ھمارے پاس جھولی نہیں ہو گی
تب تک وہ نعمت جو اترے والی ہے
وہ نہیں اترے گی


رحمت ہمیشہ وہیں اترتی ہے
جہاں جھولی ہوگی


اور بڑی جھولی ہو گی
اتنی بڑی نعمت کا نزول ہو گا