Pages

Showing posts with label باباجی. Show all posts
Showing posts with label باباجی. Show all posts

Thursday, April 26, 2012

مرشد اور باطن کا سفر


میں نے محسوس کیا کہ مرشد ایک بہت ہے سمجھدار ، عقلمند  اور زیرک بابا ہوتا ہے


وہ تم کو دانش سے قائل نہیں کرتا
کیونکہ دانش کی ایک حد ہوتی ہے


اور دانش تم کو دور نہیں لے جا سکتی -
تمہارا سارا سامان اٹھا کر پہاڑ کےدامن تک جا سکتی ہے
اس سے آگے کام نہیں دیتی 


چوٹی تک پہنچنے کے لئے پہلے ٹٹو سے کام لینا پڑتا ہے
 پھر پیدل چلنا پڑتا ہے
ایک مقام ایسا بھی آتا ہے
کہ پیدل چلنے کا راستہ بھی مسدود ہو جاتا ہے
پھر کمند پھینک کر
اور کیلیں ٹھونک ٹھونک کر اوپر اٹھنا پڑتا ہے


پھر ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے
کہ دانش اور عقل کی باتوں سے تو تم سمجھ ہی جاؤ گے 
کیونکہ اس میدان کے تم پرانے شہسوار ہو
 اور اس معاملے میں تمہاری کافی پریکٹس ہے
علم سے تو تم قائل ہو ہی جاؤ گے
لیکن یہ قائل ہونا
تمہارے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکے گا


تم عقلی طور پر معقول ہو جاؤ گے
لیکن اصلی طور پر نہیں


ایک روز
جب بابا جی جب وضوکرنے کی غرض سے مسجد کی تپنی پر بیٹھے تھے میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا 


" حضور! باطن کا سفرمرشد کی معیت کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے ؟ 


وہ تھوڑی دیر خاموش رہے
اور میرے رسیونگ سنٹر کے ٹیون ہونے کا انتظار کرتے رہے
 اپنے مخصوص انداز میں مسکرا کر بولے 


کیا جا سکتا ہے
لیکن وہ صرف ایک راستہ ہے 


" وہ راستہ ہے عاجزی کا اور انکساری کا
حضرت آدم کی اس سنت کا
جب وہ شرمندگی سے سر جھکائے
اور عجز کے ہاتھ سینے پر باندھے
الله کے حضور میں حاضر ہو کر بولے
مجھ سے بڑی بھول ہو گئی " 


بابا جے نے کہا ! 
بس یہی ایک طریقہ ہے اور رویہ ہے
جسے اپنا کر مرشد کے بغیر باطن کا سفر کیا جا سکتا ہے


" پھر آپ درختوں سے ، پرندوں سے ، پہاڑوں سے ، دریاؤں سے درس لے سکتے ہیں - پتھروں سے بادلوں سے ٹھوکروں سے گیان حاصل کر سکتے ہیں - پھر تو ساری دنیا آپ کو سبق دے سکتی ہے - ساری کائنات آپ کو رمز آشنا بنا سکتی ہے - " 

از اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٣٣٢

Sunday, January 15, 2012

خاموشی کی دنیا


باطن کے اس سفر میں آپ شور و غوغا کر کے کسی کو ٹیلیفون کر کےکسی کو میسیج بھیج کر یا کسی کو اپنے کمپیوٹر کے ذریعے ہوشیار کر کے نہ کوئی پیغام دے سکتے ہیں نہ لے سکتے ہیں


یہ خاموشی کی ایک دنیا ہے اس میں اگر آپ کبھی داخل ہو سکتے ہیں تو پھر ہی آپ اس کا مزہ لے سکتے ہیں


مت پوچھیں کہ ہمیں کسی بابا کا بتائیں
آپ خود بابا ہیں


جب آپ دیوار سے ڈھو (ٹیک) لگا کر آرام سے بیٹھنا آگیا
اور دنیا کی سب سے بڑی عبادت یعنی آپ خاموشی میں داخل ہو گئے
تو آپ کے اوپر انوار و برکات کی بارش بھی ہونے لگے گی
اور انواع و اقسام کا رزق آپ کا مقدر بنتا چلا جائے گا 

Sunday, December 11, 2011

موت کی حقیقت


میرے چچا کے دوست کا ایک جوان سال بیٹا کسی وجہ سے فوت ہوگیا اکیلا ہی اس کا بیٹا تھا اور وہ بڑا صوفی آدمی تھا - میرے چچا نے نمائندے کی طور پر مجھے بھیجا کہ جا کے تم افسوس کر کے آؤ اور کہنا کہ جوں ہی میں ٹھیک ہوا، میری صحت بحال ہوئی، میں خود حاضری دونگا -


 جب میں وہاں گیا تو بہت سے لوگ جمع تھے اور وہ چارپائی پی بیٹھے تھے میں جب ان کے قریب گیا تو انھوں نے پہچانا - 
اور مجھے کہنے لگے، اشفاق میاں دیکھو ہم جیت گئے
اور سب دنیا ہار گئی
ہم کامیاب ہوگئے اور باقی کے سب لوگ
بڑے بڑے ڈاکٹر
بڑے حکیم
اور بڑے بڑے نامی گرامی طبیب ہار گئے -


میں پریشان کھڑا تھا، ان کے سامنے کہ یہ کیا بات کہ رہے ہیں - کہنے لگے، دیکھئے ہمارا یار جیت گیا اور سارے ڈاکٹر فیل ہوگئے -
ہم ایک طرف تھے اور یہ لوگ سارے ایک طرف تھے -
وہی ہوا جو ہمارے یار نے چاہا
اور جو اس نے چاہا تھا
وہی ہم نے چاہا -
 میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی


ایک اکلوتا اس کا بیٹا
جواں سال
اور بار بار یہی بات کہ رہا ہے
کچھ وقت
ایسی کیفیت درد کی اور کرب اور الم کی بھی بن سکتی ہے لیکن یہ انداز بتا رہا تھا کہ وہ یہ بات اندر سے کہ رہے ہیں 
اور اس کے اوپر ان کا پورا ایمان ہے
اور وہ ہل نہیں رہیں ہیں اس مقام سے -
اور کہتے تھے جو الله نے کیا وہی درست
اور وہی ٹھیک ہوگا جو الله کریگا -
اور چونکہ ہم الله کی سائیڈ کے ہیں
اس لئے جب الله کامیاب ہوتا ہے
اور وہ ہر بار کامیاب ہوتا ہے
تو ہم کامیاب ہو گئے ہیں -


یہ میرے لئے ایک عجیب بات تھی -
میں اس وقت ایف - اے کر چکا تھا
لیکن نہ میرے پاس الفاظ تھے
نہ میں بڑے سلیقے سے ان کے ساتھ افسوس کر سکتا تھا
 جس کے لئے مجھے بھیجا گیا تھا -
افسوس کے لئے میں چپ چاپ کھڑا رہا -
انھوں نے چائے پلائی ، کھانا وہاں کھلانے کا رواج تھا -
اگلے دن واپس آئے -
میں نے آ کر ساری بات چچا سے کہی -
انھوں نے کہا کہ وہ بہت مضبوط
اور الله کو ماننے والے شخص ہیں۔

زاویہ موت کی حقیقت صفحہ 137

Monday, November 21, 2011

اللہ کی آواز


ہمارے بابا سائیں نور والے فرماتے ہیں کہ اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس کرنی چاہئے
جو شخص اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملا لیتا ہے، اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔


کسی نے بابا جی سے پوچھا کہ ”اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملانا بھلا کیسے ممکن ہے؟
“ تو جواب ملا کہ ”انار کلی بازار جاؤ، جس وقت وہاں خوب رش ہو اس وقت جیب سے ایک روپے کا بڑا سکہ (جسے اس زمانے میں ٹھیپہ کہا جاتا تھا) نکالو اور اسے ہوا میں اچھال کر زمین پر گراؤ۔ جونہی سکہ زمین پر گرے گا، تم دیکھنا کہ اس کی چھن کی آواز سے پاس سے گزرنے والے تمام لوگ متوجہ ہوں گے اور پلٹ کر زمین کی طرف دیکھیں گے، 
کیوں؟
 اس لئے کہ ان سب کے دل اس سکے کی چھن کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ ہوئے ہیں۔


لہٰذا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ یا تو تم بھی اپنا دل اس سکے کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کر لو یا پھر اپنے خدا کی آواز کے ساتھ ملا لو“۔


بابا جی کا بیان ختم ہوا تو نوجوانوں کے گروہ نے ان کو گھیر لیا اور سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔


کسی نے پوچھا ” سر! ہمیں سمجھائیں کہ ہم کیسے اپنا دل خدا کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کریں کیونکہ ہمیں یہ کام نہیں آتا؟“۔


 اشفاق صاحب نے اس بات کا بھی بے حد خوبصورت جواب دیا
فرمانے لگے”یار ایک بات تو بتاؤ
تم سب جوان لوگ ہو
جب تمہیں کوئی لڑکی پسند آ جائے تو تم کیا کرتے ہو؟


 کیا اس وقت تم کسی سے پوچھتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے؟ نہیں


اس وقت تمہیں سارے آئیڈیاز خود ہی سوجھتے ہیں
ان سب باتوں کے لئے تمہیں کسی گائڈینس کی ضرورت نہیں پڑتی
 کیونکہ اس میں تمہاری اپنی مرضی شامل ہوتی ہے۔


تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب خدا کی بات آتی ہے تو تمہیں وہاں رہنمائی بھی چاہئے


اور تمہیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ خدا کے ساتھ اپنے آپ کو” ٹیون اپ “کیسے کرنا ہے؟

Friday, November 18, 2011

اشفاق احمد


اردو افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار ۔ نثر نگار ۔لاہور میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے، اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔
وہ انیس سو سڑسٹھ میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ وہ انیس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گۓ۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے اور انیس سو ترپن میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ 


انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔


ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ انیس سو پینسٹھ سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔


ساٹھ کی دہائی میں اشفاق احمد نے دھوپ اور سائے نام سے ایک نئی طرح کی فیچر فلم بنائی جس کے گیت مشہور شاعر منیر نیازی نے لکھے اور طفیل نیازی نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی اور اداکار قوی خان اس میں پہلی مرتبہ ہیرو کے طور پر آئے تھے۔ اس فلم کا مشہور گانا تھا اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامیاب ہوگئی۔


ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی اور اسی کی دہائی میں ان کی سیریز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا میں وہ تصوف کی طرف مائل ہوگۓ اور ان پر خاصی تنقید کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں میں پلاٹ سے زیادہ مکالمے پر زور دیتے تھے اور ان کے کردار طویل گفتگو کرتے تھے۔


کچھ عرصہ سے وہ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویئہ کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔ جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔


پیدائش: 22 اگست، 1925ء
انتقال: 7 ستمبر، 2004ء


Tuesday, November 15, 2011

بابے


وہ بابا جو ہوتا ہے اچھے خوش نصیب انداز کا بابا
جس کے پاس راستہ ہے یا نہیں ہے اس کی نگاہیں راستے کے اوپر رہتی ہیں
کسی نہ کسی طریقے سے اور وہ لکی ہوتا ہے .
اور وہ آپ کے قریب
آپ کے ارد گرد
آپ لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے
آپ کے ساتھیوں میں سے ہوتا ہے


اور میری اور آپ کی انا اس بات کی اجازت نہیں دیتی 
کہ میں ایک ایسے آدمی کو بابا سمجھ لوں
جو میرا چپراسی ہے 


زاویہ ١ بابوں کی نشانیاں پیج ٦٥

Monday, November 14, 2011

امید


چونکہ شیطان سے میری پرانی دوستی ہے
اور روز اس سے میرا ملنا ہوتا ہے-
وہ مجھے کہتا ہے کے دیکھو اشفاق احمد تیرا یہ کام نہیں ہوا ، تو تو کہتا تھا کے میں یہ وظیفہ یا کام کرونگا تو خدا میرا فلاں کام کر دیگا لیکن الله نے تیرا وہ کام نہیں کیا ہے -


میں دکھی ہو کر اس سے کہتا ہوں کے کام تو میرا نہیں ہوا ، دعا تو میری قبول نہیں ہوئی، لیکن سر میں آپ کی ٹیم میں شامل نہیں ہونگا۔
 آپ مجھے مایوس کرنا چاہتے ہیں
لیکن میں مایوس ہونے والوں میں سے نہیں ہوں
چاہے آپ جو مرضی کر لو 

 زاویہ ٢ گھوڑا بلونگڑا اور ڈاکٹر پیج ٢٨٠

محسن


میں نے کہا جی یہ مکھی گند پھیلاتی ہے اس لئے مار رہا تھا
بابا جی کہنے لگے یہ انسان کی سب سے بڑی محسن ہے اور تم اسے مار رہے ہو
میں نے کہا جی یہ مکھی کیسے محسن ہے ؟
کہنے لگے یہ بغیر کوئی کرایہ لئے
 بغیر کوئی ٹیکس لئے
انسان کو یہ بتانے آتی ہے "کہ یہاں گند ہے" اس کو صاف کر لو 
تو میں چلی جاؤنگی اور آپ اسے مار رہے ہو 


زاویہ ٢ خوشی کا راز پیج ٣٦