Pages

Showing posts with label اللہ میاں. Show all posts
Showing posts with label اللہ میاں. Show all posts

Monday, February 20, 2012

الله کا تصور


الله کا تصور اور چیز ہے اور خدا کی ذات کا اعتراف اور چیز ہے - انسان کے اچھے کاموں میں جو مباح چیز ہے وو عبادت کی آرزو ہے - یہ اچھی چیز ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ آپ عبادت کے ذریعے وہاں پہنچ سکیں جس کی آپ کو آرزو ہے - ہم جب تھکے اور ولایت میں نوکریاں کرنے کے بعد وطن آئے تو ہمارا بابوں اور ڈیروں کے حوالے سے کانسیپٹ ذرا اور ہی تھا - 
جس طرح عام طور پر لوگوں کا ہوتا ہے کہ وہ چرس کے سوٹے لگاتے ہیں اور نشے میں ٹن ہو کر پڑے رهتے ہیں - ہمارا بھی خیال تھا کہ اب ولایت میں کام کر کے تھک گئے ہیں - کسی ڈیرے میں جا کر بم بھی رہبانیت کی زندگی گزاریں گے اور مزے سے رہا کریں گے -
لیکن خواتین و حضرات ! وہاں پہنچ پر کر پتا چلا کہ اس سے زیادہ مشقت ، جدوجہد ، کوشش اور محنت کی زندگی کہیں ہے ہی نہیں - لیکن عبادت کر لینا اور دین کے بارے میں کچ گفتگو کر لینا آسان کام ہے لیکن اس کے اندر اتر کر عملی طور پر اختیار کرنا مشکل کام ہے ، یعنی تصوف شریعت سے جدا نہیں ہے - یہ نماز روزہ ہے لیکن اس میں علم کے ساتھ ساتھ عمل پر بھی زور دیا جاتا ہے - 

قناعت پسندی


ایک دن میں اپنے پوتے سے کہ رہا تھا کہ " بلال میاں ، میں اپنے الله کو مان کے مرنا چاہتا ہوں -"
وہ کہنے لگا کہ " بابا تم تو بہت اچھے آدمی ہو " 
میں نے کہا نہیں " مجھے میرے ابّا جی نہ کہا تھا کہ ایک الله ہوتا ہے - میں نے یہ بات مان لی اور الله کوئی ماننے لگا - " 
میں الله کو خود سے ڈائریکٹ ماننا چاہتا ہوں - بس خدا پر یقین کی ضرورت ہے ، میرے ابّا جی بتایا کرتے تھے کہ ایک دن ان کے ہاں دفتر میں کام کرنے والے ملازم کی تنخواہ چوری ہو گئی تو سب نے کہا کہ یار بڑا افسوس ہے - تو وہ کہنے لگے کہ " خدا کا شکر ہے نوکری تو ہے " 
ایک ماہ بعد خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی نوکری بھی چلی گئی 
لوگوں اور ابا جی نے ان سے افسوس کیا تو کہنے لگے جی " خدا نے اپنا گھر دیا ہے ، اندر بیٹھ کر اچار روٹی کھالیں گے - الله کا فضل ہے - پرواہ کی کوئی بات نہیں - " 
یہ خدا کی طاقت تھی - 
مقدمے بازی میں کچ عرصے بعد اس کا گھر بھی فروخت ہو گیا - 
وہ پھر بھی کہنے لگا کہ " فکر نہیں میرے ساتھ میری بیوی ہے - یہ بیالیس سال کا ساتھ ہے - " 
بیوی فوت ہوئی تو اس نے کہا کہ " کوئی بات نہیں میں تو زندہ سلامت ہوں - تندرست ہوں " 
وہ شوگر کا مریض تھا اس کی ایک ٹانگ کٹ گئی - میرے والد نے کہا کہ " بہت برا ہوا -" 
اس نے کہا ڈاکٹر صاحب " ایک ٹانگ تو ہے - " 
بیماری بڑھنے کے بعد اس کی دوسری ٹانگ بھی کٹ گئی - 
میرے والد بتاتے ہیں کہ جب وہ فوت ہوا تو اس نے اپنے بہو سے کہا کہ " بیٹا کمال کا بستر ہے جس پر میں فوت ہو رہا ہوں - کیا خوبصورتی سے اس چارپائی کی پائینتی کسی ہوئی ہے - مزہ آ رہا ہے - " 
ایسی طاقت اور قناعت پسندی کی ضرورت ہے ایسی طاقت اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے اپنا کندھا ، بازو یا صرف کان کھلا رکھتے ہیں اور لوگوں کو سہارا مہیا کرتے ہیں 
الله تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے - آمین 

Wednesday, December 14, 2011

ماں کا داماد


وہ ہمیشہ یہی دعا مانگا کرتی تھی 
کہ " اے الله میں اپنے لئے کچھ نہیں مانگتی 
میں اپنی ماں کے لئے دعا مانگتی ہوں
 کہ اے خدا !
 میری ماں کو ایک اچھا
 خوبصورت سا داماد دے دے
 تیری بڑی مہربانی ہوگی - 
اس سے میری ماں بڑی خوش ہوگی  
میں اپنے لئے کچھ نہیں چاہتی 
وہ ذھین بھی ہو ،
 اس کی اچھی تنخواہ بھی ہو ،
 اس کی جائداد بھی ہو -
 اس طرح کا داماد میری ماں کو دے دے 

 زاویہ ٢ ہاٹ لائن پیج ٩٨

Monday, November 14, 2011

اللہ کے ساتھ


بابا جی کہنے لگے کہ اللہ تو اس کے شہ رگ کے پاس ہے۔
وہاں تو اللہ میاں کرسی ڈال کر بیٹھا ہے اور تم اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو۔
تمہیں اس کا احترام کرنا پڑے گا۔
یعنی جس بندے کی بھی شہ رگ کے پاس اللہ موجود ہے اس کا احترام کرنا آپ کا فرض ہے۔


اب اس دن سے مجھے ایسی مصیبت پڑی ہے کہ ہمارے گھر میں جو مائی جھاڑو دینے آتی ہے
وہ بہت تنگ کرتی ہے۔ میری کتابیں اٹھا کر کبھی ادھر پھینک دیتی ہے کبھی اُدھر پھینک دیتی ہے۔
اب میں اس سے غصے بھی ہونا چاہتا ہوں لیکن کچھ کہتا نہیں ہوں۔
بانو قدسیہ کہتی ہے کہ آپ اسے جھڑک دیا کریں۔
میں اس سے کہتا ہوں کہ نہیں اس کے پاس تو اللہ ہے میں اس کو کیسے کچھ کہوں۔
مجھے اس دنیا سے مصیبتِ جاں پڑی ہوتی ہے۔
تارکِ دنیا ہو کر اللہ کو یاد نہیں کرنا بلکہ اللہ کو ساتھ رکھ کے یاد کرنا ہے۔