Pages

Monday, January 30, 2012

جنت کا حق

 خدا مجھے معاف کرے" میاں صاحب نے کہا۔ کیوں صاحب آپ ہر سال حج کر آئے اور دو گھنٹے روزانہ صبح وظیفہ میں صرف کرتے ہیں اور پنجوقتہ نماز بھی باوظیفہ پڑھتے ہیں
 اور میں ہوں کہ دن رات رنڈیوں میں گھومتا ہوں
 مگر محض اس نیت سے
 کہ کسی طرح اُن کا پیشہ چُھڑا کر اُن کو راہ راست پر لے آؤں اور ہر سال نہیں بلکہ ہر مہینے
 ایک رنڈی کا پیشہ چُھڑا کر
 اسکو قرینہ سے بیوی بنا کر بٹھا دینے کا انتظام کر دیتا ہوں۔ 


اب بتائییے کہ آپ کا جنت میں جانے کا زیادہ حق ہے یا میرا



Saturday, January 28, 2012

مشکل کام


اگر آپ راہ چلتے ہوئے سڑک پر پڑے اینٹ روڑے کو اس مقصد سے ہٹا دیتے ہیں کہ کوئی اس کی وجہ سے گر نہ جائے یا کسی کو چوٹ نہ لگ جائے تو آپ بھی اپنی ذات میں بابے ہیں - پرانے زمانے میں ، اب تو شاید اس کے لئے اتنا تردد نہیں کیا جاتا - ہمارے بزرگ راہ چلتے ہوئے سڑک پر پڑے ہوئے کانٹے ، اینٹ یا روڑے اپنی چھڑی سے ہٹا دیا کرتے تھے اور چاہے وہ جتنی بھی جلدی میں ہوں یہ کام کرتے جاتے تھے - 
خواتین و حضرات ! معمولی کام کرتے رہا کریں ، اس سے کچھ دینا نہیں پڑتا - کسی معذور کو کام چھوڑ کر سڑک پار کروایا کریں - ہمسایوں کو bell دے کر کبھی کبھار ضرور پوچھا کریں کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں - اگر میرے لائق کوئی حکم ہو تو ضرور بتائیے گا ، بطور ہمسایہ یہ آپ کا مجھ پر حق ہے - ان چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہمارے مشکل کام آسان ہو جائیں گے 


از اشفاق احمد زاویہ ٣ قناعت پسندی صفحہ ٢٠٩

Sunday, January 22, 2012

دربدر

راجندر سنگھ بیدی کی باتیں بہت دلجسپ اور بے ساختہ ہوتی تھیں۔ ایک بار دہلی کی ایک محفل میں بشیر بدر کو کلام سنانے کے لیے بلایا گیا تو بیدی صاحب نے جو میرے برابر بیٹھے تھے ـ اچانک میرے کان میں کہا ـ

یار ! ہم نے دربدر ، ملک بدر اور شہر بدر تو سنا تھا یہ بشیر بدر کیا ہوتا ہے

Monday, January 16, 2012

بے تصوفی


مذھب مسئلوں کو نہیں جانتا اور نہ ہی اس کے جوابوں کو جانتا ہے


مذہب بلکل ایک بچے کی طرح زندگی بسر کرتا ہے
ایک حیرت کے عالم میں
بچہ جب چند گھنٹوں کا ہوتا ہے تو وہ چند دنوں تک دنیا کو یا زندگی کو بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھتا ہے
 پھر کہیں جا کر اسے دنیا کی رنگینی اور کلر دیکھنے کا ازن ہوتا ہے
 اور وہ ان نئے نئے واقعات سے مبہوت اور حیرت زدہ ہی رہتا ہے
تحیر میں
ادب میں
 کسی سے کوئی سوال کرنا
 بے ادبی ہے


عالم تحیر کو قتل کرنے کا پہلا قدم سوال کرنا ہے
سوال بے کیفی و بے تصوفی کی ابتدا ہے
سائنس کئی سال سے بے کیفی اور بے تصوفی کی کیفیت پیدا کرنے میں مصروف ہے
لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکتی
 چاہے جتنی بھی کوشش کر لے
یہ اپنی منزل کو نہ پہنچ سکے گی


سائنس اس ضمن میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے
لیکن پھر بھی کوشش کیے جاتی ہے بڑی ڈھٹائی سے
باز نہیں آتی ہے
جس قدر ناکام ہوتی ہے
اسی قدر اور کوشش میں مصروف ہو جاتی ہے 

خوف


انسان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے
اور بے شک وہ خود بھی اس بات کو خوب جانتا ہے 


اور بلا شبہ وہ مال سے سخت محبّت کرنے والا ہے 


کیا نہیں جانتے اس وقت کو 
جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے
اور سینوں کے سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے

بے شک ان کا رب اس دن ان کے حال سے خوب واقف ہوگا


آخری آیت پر نوجوان سمندر خان نیازی کی آنکھوں سے آنسو جھرنوں کی طرح بہنے لگتے
حالانکہ نہ وہ مال سے محبّت کرتا تھا
نہ اس کے پاس مال تھا
اور نہ ہی اس کے سینے میں کوئی مخفی راز تھا


وہ بس اپنے خدا کی بات سے
اور الله کے خوف سے روتا تھا
 اور اپنی چھوٹی سی سیاہ داڑھی کو آنسو سے بھگوتا تھا


توکل




خواتین و حضرات ! گاڑی کا وہ میکینک کام کرتے کرتے اٹھا اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کے اور ویسے ہی جا کر کھانا کھانا شروع کر دیا - میں نے اس سے کہا کہ الله کے بندے اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھاؤ گے تو بیمار پڑ جاؤ گے - ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائینگے ، کیا تم نے کبھی اس طرح کی باتیں ڈیٹول یا صابن کے اشتہار میں نہیں دیکھیں


 تو اس نے جواب دیا کہ " صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلا کلمہ پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے جراثیم خود بہ خود مر جاتے ہیں


اور جب بسم للہ پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہو جاتی ہے - 


مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا یہ تو اس کا توکل تھا جو اسے بیمار نہیں ہونے دیتا تھا


میں اس سے اب بھی ملتا ہوں -


اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ مجھ سے زیادہ صحت مند ہے - 

سگریٹ


ارے یار! سگریٹ بھی کیا چیز ہے۔


 جس نے بھی اسے ایجاد کیا‘ حد کر دی۔


 کیسا ایک ننھا سا رفیق زندگی کا آپ کے تنہا لمحوں میں کسی دوسرے کے موجود ہونے کا احساس دلاتا رہتا یے
 اور اس کے دم سے آپ کبھی اکیلا محسوس نہیں کرتے


 بلکہ وہ خود زندگی یے جس کا ایک کنارہ زندگی ہی کی طرح دھیرے دھیرے سلگتا اور دوسرا موت کے منہ میں یا منہ کی موت میں پڑا ہوتا ہے۔


 وہ آپ کے ہر سانس کے ساتھ جیتا اور مرتا ہوا خود راکھ ہو جاتا ہے لیکن آپ کے بکھرے ہوئے خیالوں کو ایک نقطے پر سمیٹ لاتا یے۔


 آپ چند ایسے راز سمجھ چکے ہوتے ہیں جن کے بعد اور کچھ سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔


 کوگ کہتے ہیں اس سے کینسر ہو جاتا یے
ہوا کرے۔


 جو سگریٹ نہیں پیتے وہ کون سی خضر کی حیات جیتے ہیں؟


 دنیا کے ہر بشر کو آخر کوئی نہ کوئی بہانہ تو موت کو دینا یے سگریٹ کا بہانہ کیوں نہ ہو۔

انجن


جو مرید حضرات پیر مہر علی شاہ صاحب کے پاس آتے تھے اور صاحبزادے کو دیکھتے تھے ان میں گوالیار کے بھی کوئی صاحب تھے ، تو انھوں نے اس سے پوچھا کہ صاحبزادے آپ اس کالے کلوٹے (انجن) کے عشق میں کیوں مبتلا ہیں - 


انھوں نے کہا کہ میں چار وجوہات کی بنا پر اس کے عشق میں مبتلا ہوں ، اور ان چار وجوہات کی وجہ سے انجن مجھے بہت ہی پیارا لگتا ہے


انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ آگ کھاتا ہے - انگارے ہضم کرتا ہے - اپنی جان پر دکھ سہتا ہے، اور یہ دکھ سہ کر جس منزل کا تہیہ کرتا ہے اس کی طرف جاتا ہے


 دوسرے یہ مجھے اس لئے پسند ہے کہ جس منزل کا ارادہ کرتا ہے اس پر پہنچ کر ہی دم لیتا ہے 



تیسری صفت یہ ہے کہ اور سب سے پیاری بھی کہ جس نے مجھے اس کے عشق میں مبتلا کیا ہے کہ یہ first class کے ڈبے کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے اور third class کے ڈبے کو بھی ، اور گندی بوگی کو بھی لے کر چلتا ہے - یہ نہیں کہتا کہ تو یہاں رہ میں توfirst class کے ڈبےکو ساتھ لے کر جاؤنگا


اور چوتھی چیز یہ ہے کہ یہ صراط مستقیم کا مالک ہے نہ ایک انچ ِاِدھر جاتا ہے ، نہ ایک انچ ٱدھر -


Sunday, January 15, 2012

اہلیت


جب تک اندر کے اندر ایک شمع روشن نہیں ہوگی ، اور اندر ایک جلتا ہوا دیا نہیں اترے گا ، آپ کو مجھ کو ہم کو پتا نہیں چل سکے گا کہ میری آپ کی  اہلیت  کیا ہے ، اندر کے حقیقی خال و خد کیا ہیں ، اور بس انسان یا اچھے انسان کہنے سے ہم اچھے والے تو نہیں بن جائیں گے نا ! 
میرا یہ کہنے کا مطلب ہر گز نہیں ہے کے آپ اچھے انسان نہیں ہو ، آپ بہت اچھے ہو ، بڑے قابل اور انسانوں سے محبّت کرنے والے ہو لیکن ہر انسان کے وجود میں ایک گوشہ ایسا ہوتا ہے جو تاریک ہوتا ہے - اس کا شاید اسے بھی صحیح طریقے سے معلوم نہیں ہوتا ہے

محبّت


محبّت کا سفر اختیار کرنے کے لئے پہلی منزل فیملی یونٹ کی ہے - جو شخص پہلی منزل تک نہیں پہنچ پاتا وہ آخری منزل تک کسی صورت بھی نہیں پہنچ پاتا - جب فیملی یونٹ مستحکم ہوتا ہے ، اور اس کے افراد فیملی ممبرز سوسائٹی میں پھیل جاتے ہیں تو محبّت کو وسعت نصیب ہوتی ہے - اور محبّت سوسائٹی میں دور دور تک پھیل جاتی ہے 


محبّت کے بغیر انسان ایک فرد ہے - ایک ایگو ہے - خالی انا ہے - اس کا کوئی گھر بار نہیں کوئی فمیلی نہیں - اس کا دوسروں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں - کوئی تعلق نہیں ، یہ بے تعلقی یہ نا رشتےداری موت ہے زندگی تعلق ہے رشتےداری سمبندھ ہے

مکھی


میں نے تائے سے کہا ، تایا سن ! میں تمھیں ایک بڑے کام کی بات بتاتا ہوں
وہ بڑے تجسس سے میری طرف دیکھنے لگا


 میں نے اسے بتایا کہ یہ جو مکھی ہوتی ہے اور جسے معمولی اور بہت حقیر خیال کیا جاتا ہے ، یہ دیکھنے اور بینائی کے معاملے میں تمام کیڑوں سے زیادہ تیز ہوتی ہے - کیونکہ اس کی آنکھ میں تین ہزارمحدب شیشے یا لینز لگے ہوئے ہوتے ہیں ، اور یہ ہر زاویے سے دیکھ سکتی ہے اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ جب بھی اور جس طریقے سے بھی آپ اس پر حملہ آور ہوں ، یہ اڑ جاتی ہے الله نے اسے یہ بہت بڑی اور نمایاں خصوصیت دی ہے


اب میں سمجھ رہا تھا کہ اس بات کا تائے پر بہت رعب پڑے گا
 کیونکہ میرے خیال میں یہ بڑے کمال کی بات تھی 


لیکن تایا کہنے لگا
لکھ لعنت ایسی مکھی تے
جندیاں تن ہزار اکھاں ہوون
او جدوں بھی بہندی اے
گندگی تے ای بہندی اے  


ایسی مکھی پر لعنت بیشمار ہو
جس کی تین ہزار آنکھیں ہوں
اور وہ جب بھی بیٹھے گندگی پر ہی بیٹھے
 یا اس کو ہی ترجیح دے 

کھوٹا سکہ


بغداد میں ایک نانبائی تھا ، وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا اور بڑی دور دور سے دنیا اس کے نان کلچے خریدنے کے لیے آتی تھی - کچھ لوگ بعض اوقات معاوضے کے طور پر اسے کھوٹا سکہ دے کر چلے جاتے 


جیسے یہاں ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں - وہ نانبائی کھوٹا سکہ لینے کے بعد اور اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد اسے اپنے گلے (پیسوں والی صندوقچی ) میں ڈال لیتا تھا کبھی واپس نہیں کرتا تھا - اور کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے - بے ایمان آدمی ہو وغیرہ بلکہ محبّت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا-


جب اس نانبائی کا آخری وقت آیا تو اس نے پکار کر کہا " اے الله تو اچھی طرح سے جانتا ہے کے میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لیکر انھیں اعلیٰ درجے کے خوشبو دار گرم گرم صحتمند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے - آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آ رہا ہوں ، وہ اس طرح سے نہیں ہے جیسے تو چاہتا ہے میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کر دے میرے پاس اصل عبادت نہیں ہے 

عورت


ہے نہ پاگل ..... ہے نہ بیوقوف ....
عورت کا کیا کام جنت میں ....
عورت یہاں بھی اولاد کی دوزخ میں جلتی ہے ...
وہاں بھی اولاد کی قسمت سے بندہ جائے گی ..... 
جو کسی کے ٧ بیٹے ہوئے عبد الکریم اور ٦ جنت میں گئے .... اور ساتواں دوزخ میں گیا .... تو ماں کو جنت میں تلاش نہ کرنا وہ تمھیں ساتویں بیٹے کے ساتھ دوزخ میں ملے گی - 
عورت عارف دنیا ہےعبدالکریم اس سے دنیا کا حال پوچھ جو اولاد سے بندہ گیا ہو اس سے مولا کی بات کیا کرنی ........

خاموشی کی دنیا


باطن کے اس سفر میں آپ شور و غوغا کر کے کسی کو ٹیلیفون کر کےکسی کو میسیج بھیج کر یا کسی کو اپنے کمپیوٹر کے ذریعے ہوشیار کر کے نہ کوئی پیغام دے سکتے ہیں نہ لے سکتے ہیں


یہ خاموشی کی ایک دنیا ہے اس میں اگر آپ کبھی داخل ہو سکتے ہیں تو پھر ہی آپ اس کا مزہ لے سکتے ہیں


مت پوچھیں کہ ہمیں کسی بابا کا بتائیں
آپ خود بابا ہیں


جب آپ دیوار سے ڈھو (ٹیک) لگا کر آرام سے بیٹھنا آگیا
اور دنیا کی سب سے بڑی عبادت یعنی آپ خاموشی میں داخل ہو گئے
تو آپ کے اوپر انوار و برکات کی بارش بھی ہونے لگے گی
اور انواع و اقسام کا رزق آپ کا مقدر بنتا چلا جائے گا 

اشرف المخلوقات


آخر کار یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ کوئی شخص تب تک رشوت نہیں لے سکتا جب تک کہ وہ اپنے آپ کو خوار، ذلیل ، پریشان اور زبوں حال نہ سمجھے
 پہلے اپنے دل اور اپنی روح کے نہاں خانے میں انسان اپنے آپ کو ذلیل کمینہ، گھٹیا ، اور چھوٹا سمجھتا ہے - اس کے بعد وہ رشوت کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے


اگر کوئی شخص عزت و وقار اور اطمینان اور ڈگنٹی کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے تو وہ کسی حال میں رشوت کی طرف رجوع نہیں کرتا


ہمارے دین میں بھی اس بات پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ آپ وقار ، عظمت اور تمکنت کا دامن کسی صورت میں بھ ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنے آپ کو ایک اعلیٰ وعرفہ مخلوق جانیں 


کیونکہ آپ کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کر دیا گیا ہے





نیا زمانہ


صوم و صلات کی پابند ایک ضعیف عورت نے ٦ سالہ پڑوسی بچے سے ایک دن پوچھا - 
" بیٹا تمہارے ابو جان نماز کے اوقات میں کبھی مسجد جاتے دکھائی نہیں دیتے کیا تمہارے ابو گھر ہی میں نماز پڑھتے ہیں ؟" 


نہیں آنٹی میرے پاپا تو ہینڈسم ہیں وہ نماز کیوں پڑھنے لگے بھلا ؟ 
نماز تو بوڑھے لوگ پڑہتے ہیں نا ؟ 


بچے نے بڑی معصومیت سے کہا اور اپنا رخ ٹی.وی کی جانب کر کے ٹی وی پر رقص کر رہی عورتوں کی طرح خود بھی رقص کرنے لگا .....!

انا کے کھیل


کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جب تک بات سمجھ نہ لیں اس وقت تک اس پہ اعتبار ہی نہیں کرتے انھیں یقین ہی نہیں آتا کہ اس کائنات میں کوئی ایسی چیز بھی ہو سکتی ہے جسے سمجھا نہ جا سکے - اب یہ ان کی ego کا کمال ہے - ان کی انا کا اعجاز ہے کہ ایسا سمجھتے ہیں ........ اصل میں یہ سب انا کے کھیل ہیں ........ ایک انا کہتی ہے کہ میں اس قدر ذھین اور صاحب فراست ہوں کہ سب کچھ جان سکتی ہوں اور اگر میں نہیں جانتی اور نہیں سمجھتی ہوں ، وہ شے محض وہم ہے - 
دوسری ego کہتی ہے جب میں ہی نہیں سمجھتی تو اس کا وجود کس طرح ممکن ہے 



يار کي ياري

ہمارا ايک دوست نشے کا عادي ہو گيا
ہم چونکہ سمجھدار ، پڑھے لکھے سيانے دوست تھے ہم اسے مجبور کرنے لگے کہ تمھيں يہ بري عادت چھوڑ ديني چاہئے ، ورنہ ہم تمہارا ساتھ نہيں دے سکيں گے اور ہم تمہارے ساتھ نہيں چل سکيں گے
وہ بيچارہ ايک تو نشے کي لعنت ميں گرفتار تھا دوسرا وہ روز ہماري جھڑکياں سہتا تھا جس کے باعث وہ ہم سے کنارہ کشي کرنے لگا
محمد نواز جلد ساز بڑے خوبصورت دل کا آدمي تھا ہر وقت مسکراتا رہتا تھا - گو وہ اقتصادي طور پر ہمارے دائرے کے اندر نہيں تھا مگر وہ خوشگوار طبيعت کا مالک تھا - اس نے ايک دن اس آدمي (ہمارے دوست ) کا ہاتھ تھام کر کہا بھلے تم نشہ کرو اور جتنا مرضي کرو مجھ اس پہ اعتراض نہيں اور تو چاہے نشہ کرے يا نہ کرے ميں تمھيں چھوڑوں گا نہيں ، تو ہمارا يار ہے اور يار ہي رہيگا
اس نے کہا کہ پنجابي کا ايک محاورہ ہے کہ يار کي ياري ديکھني چاہيے يار کے عيبوں کي طرف نہيں جانا چاہيے
 خواتين و حضرات آپ يقين کيجئے کہ بغير کسي طبي علاج اور ماہر نفسيات کي مدد کے جب ہمارے نشئي دوست کو محمد نواز کا سہارا ملا تو وہ نشے کي گندي اور بري عادت سے باہر نکل آيا اور صحت مند ہونا شروع ہو گيا

اعتماد

وہ چيک مجھے کيش کرانا تھا
جب ميں بينک ميں گيا اور کيشيئر کو وہ چيک ديا تو اس نے مجھے ٹوکن ديا ......... 
اب ميں ايک لاکھ روپے کي اپني تئيں ايک بڑي رقم کے چيک کو دے چکا ہوں
 اور ٹوکن لے کر اعتماد ميں کھڑا ہوں - 


حالانکہ چيک لينے والے نے چيک کے پيچھے دستخط بھي کروا ليے تھے
 اور رقم دينے سے پہلے انھوں نے مجھ سے ٹوکن بھي واپس لے ليا تھا - 


اب وہ بڑي آساني سے کہ سکتے تھے کہ جي آپ کو پيمنٹ ہو گئي ہے -
اب يہ ميں suggestion نہيں دے رہا ہوں کہ ايسا ہونا چاہئے ( مسکراتے ہوئے ) 
يہ اعتماد تھا کہ نہيں 
کہ بينک والے ايسے نہيں کہيں گے اور رقم مجھے دے ديں گے - 


ہر روز لاکھوں ، کروڑوں ، آدمي اسي يقين کے ساتھ ايک دوسرے سے لين دين کرتے ہيں - 
ہم محکمہ ڈاک اور بينکنگ سسٹم پر يقين کر ليتے ہيں
 اپنے خدا پر يقين نہيں کرتے - 
ہم اپنا بچہ ايک اعلي? اسکول ميں داخل کراتے ہيں 
 ہميں اس بات کا يقين ہوتا ہے کہ بي . اے کريگا اس کے بعد يہ مقابلے کا امتحان دے گا
 يہ اس امتحان ميں کامياب ہوگا اور يہ تھر پارکر ميں ڈپٹي کمشنر لگے گا - 


وہاں تک يقين چلتا جاتا ہے - 
يہاں آ کر بريکيں کيوں لگ جاتي ہيں
يہاں ہمارے دل کے گھونسلے ميں وہ انڈا پيدا نہيں ہوتا جسے اعتماد کا نام ديا جا سکے - 


از اشفاق احمد زاويہ 3 شه رگ کا ڈرائنگ روم