Pages

Thursday, July 18, 2013

گڈریا

يہ سرديوں کي ايک سيخ بستہ اور طويل رات کي بات ہے، ميں اپنے گرم گرم بستر يں سر ڈھانپے گہري نيند سو رہا تھا، کہ کسي نے زور سے جھنجوڑ کر مجھے جگا ديا۔

کون ہے ميں نے چيخ کر کہا ، اور اسکے جواب ميں ميں ايک بڑا سا ہاتھ ميرے سر سے ٹکرايا اور گھپ اندھيرے ميں سے آواز آئي، تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کرليا ہے۔
کيا؟ ميں نے لرزتے ہوئے ہاتھوں کو پرے ڈھکيلنا چاہا، کيا ہے، اور تارتيکي کا بھوت بولا، تھانے والوں نے رانو کو گرفتا کر ليا اس کا فاسي ميں ترجمہ کرو۔
دائو جي کے بچے، ميں نے اونگھے ہو کر کہا، آدھي آدھي رات کو تنگ کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔دفع ہوجائو۔۔۔۔۔۔ميں نہيں۔۔۔۔ميں نہين آپ کے گھر ميں رہتا، ميں نھيں پڑھتا۔۔۔۔دائوجي کے بچے ۔۔۔۔کتے اور ميں رونے لگا۔
دائو جي نے چمکار کر کہا، اگرپڑھے گا نہيں تو پاس کيسے ہوگا، پاس نہيں ہوگا تو بڑا آدمي کيسے بنے گا، پھر لوگ تيرے دائوجي کو کيسے جانيں گے؟
اللہ کرے سب مرجائيں آپ بھي آپ کے جانے والے بھي ۔۔۔۔اور ميں بھي ۔۔۔۔۔۔۔ميں بھي، اپني جواں مرگي پر ميں ايسا رويا کہ دو ہي لمحوں ميں گھگھي بندھ گئي۔
دائو جي بڑے پيارے سے ميرے سر پر ہاتھ پھر جاتے تھے اور کہہ جاتے تھے، بس اب چپ کر شاباش۔۔۔ميرا اچھا بيٹا اس وقت ترجمہ کر دے پھر نہيں جگائو گا۔
آنسوئوں کاتار ٹوٹتا جارہا تھا، ميں نے جل کر کہا آج حرام زادے رانو کو پکڑ لے گئے، کل کسي اور کو پکڑ ليں گے، آپ کا ترجمہ تو۔
نہيں نہيں انہوں نے بات کاٹ کر کہا، ميرا تيرا وعدہ رہا، آج کےبعد رات کو جگا کر کچھ نہ پوچھوں گا۔۔۔ شاباش اب بتا، تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کرليا۔
ميں نے روٹھ کر کہا، مجھے نہيں آتا۔
فورا نہيں کہہ ديتا ہے، انہوں نے سر سے ہاتھ اٹھا کر کہا کوشش تو کرو۔
نہيں کرتا ميں نے جل کر جواب ديا۔
اس پر وہ ذرا ہنسے اور بولے، کارکنان گزمہ خانہ رانو توقيف کروند۔۔
کارکنان گزمہ خانہ تھانے والے،بھولنا نہيں يہ نيا لفظ ہے نئي ترکيب ہے، دس مرتبہ کہو۔
مجھے پتہ تھا کہ يہ بلا ٹلنے والي نہيں ہے، ناچار گزمہ خان والوں کو پہاڑہ شروع کرديا، جب دس مرتبہ کہہ چکا تو دائوجي نے بڑي لجحات سے کہا اب سارا فقرہ پانچ مرتبہ کہو جب پنج گانہ مصيبت بھي ختم ھوئي تو انھوں نے مجھے آرام سے بستر ميں لٹاتے ہوئے اور رضائي اوڑھاتے ہوئے کہا، بھولنا نہيں صبح اٹھتے ہي پوچھو گا۔
پھر وہ جدہر سے آئے تھے ادہر لوٹ گئے۔
شام کو جب ميں ملا جي سے سيپارے کا بق لے کر آيا تو خراسيوں والي گلي سے ہو کر اپنے گھر جايا کرتا تھا، اس گلي ميں طرح طرح کے لوگ بستے تھے، مگر ميں صرف موٹے ماشکي سے واقف تھا، جس کو ہم کدو کريلا ڈھائي آنے کہتے تھے، ماشکي کے گھر کے ساتھ بکريوں کا ايک باڑہ تھا، جس کے تين طرف پکے مکانوں کي ديواريں اور سامنے رخ آڑي ترچھي لکڑيوں اور خاردار جھاڑيوں کو اونچا اونچا جنگلہ تھا، اس کے بعد ايک چوکور ميدان آتا تھا، پھر لنگڑے کہار کي کوٹھري اور اس کے ساتھ گيرو رنگي کھڑکيوں اور پتيل کے کيلوں والے درازے کا ايک چھوٹا سا پکا مکان، اسکے بعد گلي ميں ذرا سا خم پيدا ہوتا، اور قدرے تنگ ہوجاتي تھي، پھر جوں جوں اسکي لمبائي بڑھتي جاتي توں توں اسکے دونوں بازو ايک دوسرے کے قريب آجاتے شايد وہ ہمارے قصبے ميں سب سے لمبي گلي تھي، اور حد سے زيادہ سنسان اس ميں اکيلے چلتے ہوئے مجھے ہميشہ يوں لگتا تھا، جسيے ميں بندوق کي نالي ميں چلا جا رہا ہوں، اور جوں ہي ميں اسکے دہانے سے باہر نکلوں گا زور سے ٹھائيں ہوگا ميں ميں مرجائوں گا، مگر شام کے وقت کوئي نہ کوئي راہگير اس گلي ميں ضرور ملا جاتا اور ميري جان بچ جاتي اور آن آنے جانے والوں ميں کبھي کبھار ايک سفيد مونچھوں والا لمبا سا آدمي ہوتا، جس کي شکل بارہ ماہ والے ملکھي سے بہت ملتي تھي، سر ململ کي بڑي سے پگڑي، ذرا سي خميدہ کمر پر خميدہ رنگ کا ڈھيلا اور لمبا کوٹ، کھدر کا تنگ پائجامہ اور پائوں ميں فليٹ بوٹ، اکثر اسکے ساتھ ميري ہي عمر کا ايک لڑکا بھي ہوتا، جس نے عين اس طرح کے کپڑے پہننے ہوئے ہوتا اور وہ آدمي سر جھکائے اور اپنے کوٹ کي جيبوں ميں ہاتھ ڈالے آہستہ آہستہ اس باتيں کيا کرتا، جب وہ ميرے برابر آتےتو لڑکا ميري طرف ديکھتا اور ميں اسکي طرف ديکھتا اور پھر ايک ثانيہ ٹھٹھکے بغير گردنوں کو ذرا ذرا موڑتے ہم اپني اپني راہ چلتے ۔
ايک دن ميں اور ميرا بھائي ٹھٹھياں کے جوہڑ سے مچھلياں پکرنے کي ناکام کوشش کے بعد قصبہ کو واپس آرہے تھے، تو نہر پر يہ ہي آدمي اپني پگڑي گود ميں ڈالے بيٹھا تھا، اور اسکي سفيد چيٹاي ميري مرغي کے پر کي طرح اس کے سر پر چپکي ہوئي تھي، اس کے قريب سے گزرتے ہوئے ميرے بھائي نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے سلام کيا، دائو جي سلام۔
اور دائو جي نے سر ہل اکر جواب ديا، ، جيتے رہو۔
يہ جان کر ميرا بھائي اس سے واقف ہے ميں بے حد خوش ہوا، اور تھوڑي دير بعد اپني منمني آواز ميں چلايا دائو جي۔
جيتے رہو جيتے رہو، انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا اور ميرے بھائي نے پٹاخ سے ميرا اور زناٹے کا ايک تھپڑ ديا۔
شيخي خورے کتے، وہ چيخا ميں نے تو سلام کيا تو تيري کيا ضرورت رہ گئي؟
ہر بات ميں اپني ٹانگ اڑاتا ہے، کمينہ۔۔۔۔۔ بھلا کون ہے وہ؟
دائو جي، ميں نے منہ بسور کر کہا۔
کون دائو جي ميرے بھائي نے تنگ کر پوچھا۔
وہ جو بيٹھے ہيں ميں نے آنسو پي کر کہا۔
بکواس نہ کرو، ميرا بھائي چڑھ گيا اور آنکھوں نکال کر کہا ہر بات ميں ميري نقل کرتا ہے۔۔۔۔شيخي خوارا۔
ميں نہيں کرتا اور خاموشي کے ساتھ راہ چلتا رہا، دراصل مجھے اس بات کي خوشي ہےکہ دائو جي سے تعارف ہوگيا، اس کا رنج نہ تھا، بھائي نے ميرے تھپڑ کيوں مارا، وہ تو اس کي عادت تھي، بڑا تھا نا اس لئے ہر بات ميں اپني شيخي بگھارتا تھا۔
دائو جي سے عليک سليک تو ہو گئي تھي مگر اس لئے ميں کوشس کرکے گلي ميں ے اس وقت گزرنے لگا جب وہ آجارہے ہوں، انہيں اسلا کرکے برا مزہ آتا تھا اور جواب پاکر اس سے بھي زيادہ ، وہ جيتے رہو کچھ ايسي محبت سے کہتے کہ زندگي دو چند سي ہوجاتي، اور آدمي زمين ميں سے ذرا اوپر کھڑا ہوا ميں چلنے لگتا۔۔۔۔سلام کا يہ سلسلہ کوئي سال بھر يوں ہي چلتا رہا، اور اس اثنا ميں مجھے اس قدر معلوم ہو سکا کہ دائو جيي گير سارنگي کھڑکيوں والے مکان ميں رہتے ہيں، اور چھوٹا لڑکا ان کا بيٹا ہے ميں نے اپنے بھائي سے اسکے متعلق کچھ اور بھي پوچھنا چاہا، مگر وہ بڑا سخت آدمي تھا، اور ميري چھوٹي چھوٹي سي بات پر چڑ جاتا تھا، ميرے ہر سوال کے جواب ميں اس کے پاس گڑھے گڑھے دو فقرے ہوتے تھے، تجھے کيا اور بکواس بند کرو۔ مگر خداکا شکر ہے ميرے تجسس کا يہ سلسلہ زيادہ دير تک نہ چلا، اسلاميہ پرائمري اسکول سے چوتھي پاس کرکے ميں ايم بي ہائي اسکول کي پانچويں جماعت ميں داخل ہوا، تو وہ ہي دائو جي کا لڑکا ميرا ہم جماعت نکلا، اس کي مدد سے اور اپنے بھائي کا احسان اٹھائے بغير ميں نے يہ جان ليا کہ دائو جي کھتري تھے، اور قصبہ کي منصفي ميں عرضي نوسي کا کام کرتے تھے، لڑکا جس کا نام امي چند تھا اور وہ جماعت ميں سب سے ھشيار تھا، اس کي پگري کلا بھر ميں سب سے بڑي تھي، اور چہرہ بلي کي طرح چھوٹا، چند لڑکے اسے ميائوں کہتے تھے، اور باقي نيولا کہہ کر پکارتے تھے، مگر ميں دائو جي کي وجہ سے اسکو اسکے اصل نام سے ھي پکارتا تھا، اسلئے وہ ميرا دوست بن گيا، ہم نے ايک دوسرے کو نشاياں دے کر پکا يار بننے کا وعدہ کرليا تھا۔
گرميوں کي چھٹياں شروع ہونے ميں کوئي ايک ہفتہ ہوگا، جب ميں امي چند کت ساتہ پہلي مرتبہ اسکے گھر گيا، وہ گرميوں کي ايک جھلسانے والي دوپہر تھي، ليکلن شيخ چلي کي کہانياں حاصل کرنے کا شوق مجھ پر سوار تھا اور ميں بھوک اور دھوپ دونوں سے بے پروہ ہو کر اسکول سے سيدھا اس کے ساتھ چل ديا۔
امي چند کا گھر چھوٹا سا تھا، مگر بہت صاف ستھرا اور روشن پتيل کي کيلو والے دروازے کے بعد ذرا سي ڈيوڑھي تھي، آگے مستطيل صحن، سامنے سرخ رنگ کا برآمدہ اور اسکے پيچھے اتنا ہي بڑا ايک کمرہ، صحن ميں ايک طرف انار کا پيڑ عقيق کے چند پودے اور دھنيا کي ايک چھوٹي سي کياري تھي، دوسري طرف چوڑي سيڑھيوں کا ايک زينہ جسکي محراب تلے مختصر سي رسوئي تھي، گيرونگي کھڑکياں ڈيوڑھي سے ملحک بيٹھک ميں کھلتي ہے، اور بيٹھک کا دروازہ نيلےرنگ کا تھا، جب ہم ڈيوڑھي ميں داخل ہوئے تو امي چند نے چلا کر بے بے نمستے کہا اور مجھے صحن کے بيچوں بيچ چھوڑ کر بيٹھک ميں گھس گيا، برآمدے ميں بوريا بچھائے بے بے مشين چلا رہي تھي، اوراس کے پاس ہي ايکلڑکي بڑي سي قينچي لے کر کپڑے قطع کر رہي تھي، بے بے نے منہ ہي منہ ميں کچھ جواب ديا، اور ويسے ہي مشين چلاتي رھيں، لڑکي نے نگاہيں اٹھا کر ميري طرف ديکھا اور گردن موڑکر کہا بے بے شايد ڈاکڑ صاحب کا لڑکا ہے، مشين رک گئي۔
ہاں ہاں بے بے نے مسکرا کہا، اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپني طرف بلايا ميں اپنے جزدانکي رسي موڑتا اور ٹيڑھے ٹيڑھے پائوں دھرتا برآمدے کے ستون کے ساتھ آگيا۔
کيا نام ہے تمہارا؟بے بے نے چمکارا کر پوچھا، ميں نے نگاہيں جھکا کر آہستہ سے پنا نام بتا ديا۔
آفتاب سے بہت شکل ملتي ہے، اس لڑکي نے قينچي زمين پر رکھ کر کہا۔
بے نا بے بے۔
کيوں نہيں بھائي جو ہے۔
آفتاب کيا؟ اندر سے آواز آئي۔آفتاب کيا بيٹا؟
آفتاب کا بھائي ہے دائو جي، لڑکي نے رکتے ہوئے کہا۔
امي چند کے ساتھ آيا ہے، اندر سے دائو جي برآمد ہوئے، انھوں نے گھٹنوں تک اپنا پائجامہ چڑھا رکھا تھا، اور کرتا اتار رکھا تھا، مگر سر پر پگڑي بدستور تھي، پاني کي ہلکي سے بالٹي اٹھائے وہ برآمدے ميں آگئے اور ميري طرف غور سے ديکھا ہوئے بولے، ہاں شکل بہت ملتي ہے مگر ميرا آفتاب بہت دبلا ہے اور يہ گولو مولو سا ہے، پھر بالٹي فرش پر رکھ کر انھوں نے ميرے سر پر ہاتھ پھيرا اور پاس کاٹھ کا ياک اسٹول کھينچ کر اس پر بيٹھ گئے، زمين سے پائوں اور اوپر اٹھا کر انہوں نے آہستہ سے انہيں جھاڑا اور پھر بالٹي ميں ڈال ديا۔
آفتاب کا خط آتا ہے؟ انھوں نے بالٹي سے پاني کے چلو بھ ربھر کر ٹانگوں پر ڈالتے ہوئے پوچھا۔
آتا ہے جي۔ ميں نے ہولے کہا، پرسوں آيا تھا۔
کيا لکھتا ہے؟
پتا نہيں جي ابا جي کو پتا ہے۔
اچھا انہوں نے سر ہلا کر کہا، ت ابا جي سے پوچھا کرناا۔۔۔جو پوچھتا نہيں اسے کسي بات کا علم نہيں ہوتا۔
ميں چپ رہا۔
تھوڑي دير انہوں نے ويسے ہي چلو ڈالئتے ہوئے پوچھا کون سا سيپارہ پڑھ رہے ہو۔
چوتھا ميں نے وثوق سے جواب ديا۔
کيا نام ہے چوتھے سيپارے کا؟ انہوں نے پوچھا۔
جي پتا نہيں ميري آواز پھر ڈوب گئي۔
تلک الرسل انہوں نے پاني سے ہاتھ باہر نکال کر کہا پھر تھوڑي دير ميں وہ ہاتھ جھٹکتے اور ہوا ميں لہراتے رہے، بے بے مشين چلاتي رہي وہ لڑکي نعمت خانے سے روٹی نکالکر برآمدے کي چوکي پر لگانے اور ميں جزدان کي ڈوري کو کھولتا لپيٹتا رہا، امي چند ابھي تک بيٹھک کے اندر ہي تھا، اور ميں ستون کے ساتھ ساتھ جھينپ کي عميق گہرائيوں ميں اترتا جارہا تھا، معا دائو جي نے نگاہيں ميري طرف پھير کر کہا۔
سورھ فاتح سنائو۔
مجھے نہيں آتي، ميں نے شرمندہ ہوکر کہا۔
انھوں نے حيراني سے ميري طرف ديکھا اور پوچھا الحمد اللہ بھي نہيں جانتے؟ الحمد اللہ تو جانتا ہو جي، ميں نے جلدي ميں کہا۔
وہ مسکرائے اور گويا اپنے آپ سے کہنے لگے ايک ہي بات ہے ايک ہي بات پھر انہوں نے سر کے اشارے سے کہا، سنائو، جب ميں سنانے لگا تو انہوں نے اپنا پائنچا گھٹنوں سے نيچے کر ليا، اور پگڑي کا شملہ چوڑا کرکے کندہوں پر ڈال ديا، اور جب ميں نے ولا الضالين کہا تو ميرے ساتھ انہوں نے بھي آمين کہا، مجھے خيال ہوا کہ وہ بھي اٹھ کر مجھے انعاد ديں گے، کيونکہ پہلي مرتبہ جب ميںنے اپنے تايا جي کو الحمد سنائي تھي، تو انہوں نے بھي ايسے آمين کہا تھا۔
اور ساتھ ہي ايک روپيہ مجھے انعام ديا، مگر دائو جي اسي طرح بيٹھے رہے بلکہ اور بھي پتھر ہوگئے، اتنے ميں ايک کتاب تلاش کرکے لے آيا، اور جب ميں چلنے لگا تو ميں نے عادت کے خلاف آہستہ سے کہا، دائو جي سلام، اور انہوں نے ويسے ہي ڈوبے ڈوبے ہولے سے جواب ديا جيتے رہو۔
بے بے نے مشين روک کر کہا، کبھي کبھي امي چند کے ساتھ کھيلنے آجايا کرو۔۔۔۔ہاں آجايا کر، دائو جي نے چونک کر کہا، آفتاب بھي آيا کرتا تھا، پھر انہوں نے بالي پر جھکتے ہوئے کہا، ہمارا آفتاب تو بہت دور ہوگيا اور فارسي کا شعر پڑھنے لگے۔
يہ دائو جي سے ميري باقاعدہ پہلي ملاقات تھي، اور اس ملاقات ميں يہ نتائج اخذ کرکےچلا کہ دائوجي بڑے کنجوس ہيں حد سے زيادہ چپ سے ہيں اور کچھ بہرے ہيں، اسي دن شام کو ميں نے اماں کو بتا ديا کہ ميں دائو جي کے گھر گيا، تھا، اور وہ آفتاب بھائي کو بہت ياد کر رہے تھے۔
ميں ابا جي سے بھلا اسکا ذکر کيوں کرتا، مگر سچي بات تو يہ ہے کہ ميں دائو جي کے يہاں جاتا رہا اور خوب خوب ان سے معتبري کي باتيں کرتا، وہ چٹائي بچھائے کوئي کتاب پڑھ رہے ہوتے ميں آہستہ سے ان کے پيچھے جاکر کھڑا ہوجاتا اور وہ کتاب بند کرکے کہتے گولو آگيا، پھر ميري طرف مڑتے اور ہنس کرکہتے کوئي گپ سنا۔
اور ميں اپني بساط اور اپني سمجھ کے مطابق ڈھونڈ ڈھانڈ کے کوئي بات سناتا اور وہ خوب ہنستے، بس يوں ہي ميرے لئے ہنستے حالانکہ مجھے اس محسوس ہوتا کہ وہ ايسي دل چسپ باتيں بھي نہيں ہوتي تھيں، پھر وھ اپنےرجسٹر سے کوئي کاغذ نکال کر کہتے لے ايک سوال نکال، اس بات سے ميري جان جاتي تھي، ليکن ان کا وعدہ بڑا رسيلا ہوتا تھا کہ ايک سوال اور پندرہ منٹ باتيں، اسکے بعد ايک اور سوال اور پھر پندرہ منٹ باتيں، چناچہ ميں مان جاتا اور کاغذ لے کر بيٹھ جاتا ليکن ان کے خود ساختہ سوال کچھ ايسے الجھے ہوئے ہوتے تھے، کہ اگلي باتوں ، اگلے سوالوں کا وقت بھي نکل جاتا، اگر خوش قسمتي سے سوال جلد حل ہوجاتا تو وہ چٹائي ک وہاتہ لگا کر پوچھئے يہ کي اہے، چٹائي ميں منہ پھاڑ کر جواب ديتا، لوجي ہميں کوئي فارسي پڑہائي جاتي ہے۔۔۔۔۔ اس پر وہ چمکار کر کہتے ميں جو پڑھتا ہوں، گولو۔۔۔ميں جو سکھاتا ہوں، ۔۔۔سنو فارسي ميں بوريا عربي ميں حصير ميں شرارت سے ہاتھ جوڑکر کہتا، بخشو جي بخشو فارسي بھي اور عربي بھي ميں نہيں پڑھتا جي معاف کرو، مگر رہ سني ان سني کر ديتا ايک ايک کرکے کہے جاتے، بوريا، عربي حصير اور پھر چاہے کوئي اپنے کانوں ميں سيسہ بھر ليتا سارے دن بيٹھک ميں بيٹھا لکھتا پڑھتا رہتا، دائو جي اس کے اوقات ميں مخل نہ ہوتے تھے، ليکن ان کے وارمي چند پر بھي برابر ہوئے تھے، وہ اپني نشست سے اٹہ گھڑے سے پاني پينے آيا، دائو جي نے کتاب سے نگائيں اٹھا کر پوچھا، بيٹا ڈو کانائوں کيا ہے؟
اس نے گلاس ساتھ منہ لگائے لگاے ڈيڈ کہا اور پھر گلاس گھڑونچي تلے پھينک کر اپنے کمرے ميں چلا گيا، دائو جي پھر پڑھنے ميں مصرف ہوگئے گھر ميں ان کو اپني بيٹي سے بڑا پيار تھا، ہم سب اسے بي بي کہہ کر پکارتے تھے، اکيلے دائو جي نے اسکا نام قرہ رکھا ہوا تھا، اکثر بيٹھے بيٹھے ہانک لگا کر کہتے، قرھ بيٹي قينچي تجھ سےکب چھوٹے گي؟ اور وہ اس کے جواب ميں مسکرا کر خاموش ہوجاتي، بے بے کو اس نام سے بڑي چڑ تھي، وہ چيخ کر جواب ديتي تم نے اس کا نام قرھ رکھ کر اس کے بھاگ ميں کرتے سينہ لکھواديا ہے، منہ اچھا نہ ہو تو شبد تو اچھے نکالنے چاہئيں اور دائو جي لمبي سانس لے کر کہتے، جاہل اسکا مطلب کيا جانيں؟ اس پر بے بے کا غصہ چمک اٹھتا، اور اس کے منہ ميں جو کچھ آتا ہے کہتي چلي جاتي پہلے کوسنے ، پھر بد دعائيں اور آخر ميں گاليوں پر اتر آتي، بي بي روکتي تو دائو جي کہتے ہوائيں چلنے کو ہوتي ہيں بيٹا اور گالياں برسنے کو، تم انہيں روکو مت، انہيں ٹوکو مت، پھر وہ اپني کتابيں سميٹتے اور اپنا محبوب حصير اٹھا کر چپکے سے سیڑھياں چڑھ جاتے ہيں۔
نويں جماعت کے شروع ہي ميں مجھے ايک بري عادت پڑ گئي، اور ا س بري عادت نے عجيب گل کھلائے، حکيم احمد مرحوم ہمارے قصبے کے ايک ہي حکيم تھے، علاج معالجہ سے تو انہيں کچھ ايسي دل چسپي نہ تھي، ليکن باتيں بڑي مزيدار کرتے تھے، اوليائوں کے تذکرے، جنوں کي کہانياں، اور حضرت سليمان اور ملکہ سبا کي گھريلو زندگي کي داستانيں ان کے تير بہدف ٹوٹکے تھے، انکي تنگ و تاريک مطب ميں معجون کے ڈبوں شربت کي دس پندرہ بوتلوں اور دوا آتشي شيشيوں کے سوا اور کچھ نہ تھا، دوائوں کے علاوہ وھ اپني طلسماتي تقرير اور حضرت سليمان کے خاص صدري تعويذوں سےمريض کا علاج کرتے تھے، انہيں انہيں باتوں کيلئے دور دراز گائوں کے مريض ان کے پاس کھنچے چلے آتے تھے، اور فيض ياب ہو کر جاتے تھے، ہفتہ دو ہفتہ کي صحبت ميں ميرا ان کے ساتھ ايک معاہدہ ہوگيا، ميں اپنے ہسپتال سے ان کيلئے خالي بوتليں اور شيشياں چراکے لاتا، اور اس کے بدلے وہ مجھے داستان امير حمزہ کي جلديں پڑھنے کيلئے ديا کرتے۔
يہ کتابيں کچھ ايسي دل چسپ تھيں کہ ميں رات رات بھر اپنے بستر ميں دبک کر انھيں پڑھا کرتا اور صبح دير تک سويا رہتا، اماں ميرے اس روئيے سے سخت نالاں تھيں، ابا جي کو ميري صحت برباد ہونا کا خطرہ لاحق تھا، ليکن ميں نے ان کو بتا ديا تھا کہ اب کہ جان چلي جائے دسويں ميں وظيفہ ضرور حاصل کروں گا۔
رات طلسم ہوش رہا کہ ايوانوں ميں بسر ہوئي اور دن کلاس ميں بيچ پر کھڑے ہو کر سہ ماہي امتحان ميں فيل ہوتے ہوتے بچا، ششماہي ميں بيمار پڑگيا، اور سالانہ امتحان کے موقعہ پر حکيم جيکي مدد سے ماسٹروں سے ملا کر پاس ہوگيا، دسويں ميں صندلي نامہ فسانہ آزاد، اور الف ليلہ ساتھ ساتھ چلتے تھے، فسانہ آزاد اور صندلي نامہ گھر پر تھے تھے، ليکن اليف ليلہ اسکول کي شيدک ميں بند تھي، آخري بنچ پر جغرافيہ کي کتاب تلے سندباد جہازي کے ساتھ ساتھ چلتا اور اس طرح دنيا کي سير کرتا۔۔۔بائيس مئي کا واقعہ ہے کہ صبح دس بجے سےبلکہ يونيورسٹي سے نتيجہ کي کتاب ايم بي ہائي اسکول پہنچي، امي چند ہے نہ صرف اسکول ميں بلکہ ضلع بھر اول آيا تھا، بلکہ چھ لڑکے فيل تھے، اور بائيس پاس حکيم جي کا جادو يونيورسٹي پر نہ چل سکا اور پنجاب کي جا بردانش گاہ نے ميرا نام بھي ان جھئوں لڑکوں ميں ڈال ديا، اس شام قبلہ گاہي نے بيد سے ميري پٹائي کي اور گھر سے باہر نکال ديا، ميں ھسپتال سے رہٹ کي گدي پر آبيٹھا اور رات گئے تک سوچتا رہا کہ اب کيا کرنا چاہئے، اب کدھر جانا چاہئيے خدا کا ملک اتنا تنگ نہيں تھا اور ميں عمر و عيار کے ہتھکنڈوں اور سند باد جہازوں کے تمام طريقوں سے واقف تھا مگر پھر بھي کوئي راہ سمجھائي نہ ديتي تھي، نہ کوئي دو تين گھنٹے اسي طرح ساکت وجا اس گدي پر بيٹھا زيست کرنے کي راہيں سوچتا رہا۔
اتنے ميں اماں سفيد چادر اوڑھے مجھے ڈھونڈتي ادھرآگئيں اور ابا جي سے معافي لے دينے کا وعدہ کرکے مجھے گھر پر لے گئيں مجھے معافي وافي سے کوئي دلچسپي نہيں تھي، مجھے افسوس تو بس ايک رات اور انکے گھر ميں گزارني تھي اور صبح اپنے سفر پر روانہ ہونا تھا، چناچہ ميں آرام سے انکے ساتھ جاکر حسب معمول اپنے بستر پر ليٹ گيا۔
اگلے دن ميرے فيل ہونے والے ساتھيوں ميں سے خوشيا کوئو اور ويسويب مسجد کے پچھواڑے ٹال کے پاس بيٹھے مل گئے، وہ لاہور کے بزنس کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے، ويسويب يب نے مجھے بتايا کہ لاہور ميں بہت بزنس ہے کيونکہ اسکے بھايا جي اکثر اپنے دوست فتح محمد چند کے ٹھيکوں کا ذکر کيا کرتے تھے، جس نے سال کے اندر اندر دو کاريں خريد لي، ميں نے ان سے بزنس کي نوعيت کي بارے ميں پوچھا تو ويسويب يب نہ کہا لاہور ميں ہر طرح کا بزنس مل جاتا ہے، بس ايک دفتر ہونا چاہئيے او اس کے سامنے بڑا سائن بورڈ ديکھ کر لوگ خود ہي بزنس دے جاتے ہيں، اور وقت بزنس سے مراہ وہ کرنسي نوٹ لے رہا تھا۔
ميں نے ايک مرتبہ پھر وضاحت چاہي تو کو ڈو چمک کو بولا يارو ويسوسب جانتا ہے، يہ بتا تو تيار ہے يا نہيں؟
پھر اس نے پلٹ کر ديسو سے پوچھا، انارکلي ميں دفتر بنائيں گے؟
ويسو نے ذرا سوچ کر کہا انارکلي ميں يا شاہ عالمي کے باہر دونوں ہي جگہيں ايک ہي سوال ہيں، ميں نے کہا انار کلي زيادہ مناسب ہے کيونکہ وھ ہي زيادہ مشہور جگہ ہے اوراخباروں ميں جتنے بھي اشتہار نکلتے ہيں ان ميں انار کلي لاہور لکھا جاتا ہے۔
چناچہ يہ طے پايا کہ اگلے دن دو بجے کي گاڑي سے ہم لاہور روانہ ہوجائيں گے، گھر پہنچ کر ميں سفر کي تياري کرنے لگا بوٹ پالش کر رہا تھا کہ نوکر نے آکر شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا، چلو جي ڈاکڑ صاحب بلاتے ہيں۔
کہا ہيں ؟ ميں نے برش زمين پر رکھ ديا اور کھڑا ہو گيا۔
ہسپتال ميں وہ بدستور مسکرا رہا تھا، کيونکہ ميري پٹائي کے روز حاضرين ميں وہ بھي شامل تھا، ميں ڈرتے ڈرتے برآمدے کي سيڑھياں چڑھا پھر آہستہ سئ جالي والا دروازہ کھول کر ابا جي کے کمرے ميں داخل ہوا، تو وہاں ان کے علاوہ دائو جي بھي بيٹھے تھے، ميں نے سہمے سہمے دائو جي کو سلام کيا اوعر اس کے جواب ميں بڑي دير کے بعد جيتے رھو کي مانو دعا سني۔
انکو پہچانتے ہو؟ ابا جي نے سختي سے پوچھا۔
بے شک ميں ايک مہذب سيلز مين کي طرح بولا۔
بے شک کے بچے، حرام زادے، ميں تير يہ سب۔۔۔۔۔
نہ نہ ڈاکٹر صاحب دائو جي نے ہاتھ اوپر اٹھا کرکہا، يہ تو بہت ہي اچھا بچہ ہے اسکو تو۔۔۔۔
اور ڈاکٹر صاحبنے بات کاٹ کر تلخي سے کہا، آپ نہيں جانتے منشي جي، اس کمينے نے ميري عزت خاک ميں ملا دي۔
آپ فکر نہکريں دايو جي نہ سرجھکائے کہا،يہ ہمارے آفتاب سے بھي ذہين ہے اور ايک دن۔۔۔۔
اب ڈاکٹر صاحب کو غصہ آگيا اور انھوں نے ميز پر ہاتھ مار کر کہا کيسي بات کرتے ہيں منشي جي، يہ آفتاب کے جوتے کي برابري بھي نہيں کرسکتا۔
کر لے گا، کر لے گا، ڈاکٹر صاحب، دائو جي نے اثبات ميں سر ہلاتے ہو ئے کہا۔۔۔ آپ خاطر جمع رکھيں۔
پھر وہ اپني کرسي سے اٹھے اور ميرے کندھے پر ہات رکھ کر بولے ميں سير کو چلتا ہوں، تم بھي ميرے ساتھ آئو راستے ميں باتيں کريں گے۔
وہاں پہنچ کر يہ بھيد کھلا کہ اب ميں انہي کے ہاں سويا کروں گا، اور وہيں پڑھا کروں گا، کيونکہ ميرا بسترا مجھ سے بھي پہلے وہاں پہنچا ہوا تھا، اور اس کے پاس ہي ہمارے يہاں سے بھيجي ہوئي ايک ہريکبين لالٹين بھي رکھي تھي۔
بزنس مين بننا اور پاں پاں کرتي پيکار ڈاڑائے پھر ناميرے مقدر ميں نہ تھا، گو ميرے ساتھيوں کيروانگي کے تيسرے ہي روز بعد ان کے والدين بھي انھيں لاھور سے پکڑ لائے، ليکن اگر ميں ان کےساتھ جاتا تو شايد اس وقت انار کلي ميں ہمارا دفتر پتہ نہيں تري کے کون سے شان دار سال ميں داخل ہوچکا ہوتا۔
دائو جي نے ميري زندگي اجيرن کر دي ہے، مجھے تباہ کر ديا، مجھ پر جيان حرام کر ديا، سارا دن اسکول کي بکواس ميں گزرتا ہے اور رات گرميوں کي مختصر رات انکي سولات کا جواب دينے ميں، کوٹھے پر ان کي کھاٹ ميرے بستر کے ساتھ لگي تھي، اور وہ مونگ، رسول اور مرالہ کي نہروں کي بابت پوچھ رہے تھے، ميں نے بالکل ٹھيک بتا ديا، ہےتو وہ اس سوال کو دہرا رہے ہيں، ميں پھر بتا ديا اور انہوں نے پھر انہي نہروں کوآگے لا کھڑا کرديا ہے، ميں جل تھل اور جھڑک کہ کہتا، مجھے نہيں پتا، ميں نہيں بتاتا، تو وہ خاموش ہوجاتے اور دم سادھ ليتے ميں آنکھيں بند کرکے سونے کي کوشس کرتا تو وہ شرمندگي کنکر بن کر پتيليوں ميں اتر جاتي۔
ميں آہستہ سے کہتا دائو جي۔
ہوں ايک گھمبير سي آواز آئي۔
دائو جي کچھ اور پوچھو۔
دائو جي نے کہا، بہت بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے چلے، اس کي ترکيب نخوبي کرو۔
ميں نے سعادت مندي کے ساتھ جواب ديا، جي يہ تو بہت لمبا فقرہ ہے، صبح لکھ کر بتا دوں گا۔
انھوں نے آسمان کي طرف نگاہيں اٹھاتے ہوئے کہا، ميرا گولو بہت اچھا ہے۔
ميں نے ذرا سوچ کر کہنا شروع کيا، بہت اچھا صفت ہے حرف ربط ملکر نيا مسند۔۔۔۔۔۔۔۔
اور دائو جي اٹھکر چار پائي پر بيٹھ گئے، ہاتھ اٹھ اکر بولے جان پدر تجھے پہلےبھي کہا ہے مسند اليہ پہلے بنايا کر۔
ميں نےترکيب بخوي سے جان چھڑانےکيلئے پوچھا ، آپ مجھے جان پدر کيوں کہتےہيں؟ جان دائو کيوں نہيں کہتے؟
شاباش وہ خوش ہو کر کہتے، ايسي باتيں پوچھنے کيہوتي ہيں، جان لفط فارسي کا ہے، اور دائو بھاشا کا ، انکے درميان فاسي اضافت نہيں لگ سکتي ہے، جولوگ دن بہ دن لکھتے ہيں يا بولتے ہيں سخت غلطي کرتےہيں روز بہ روز کہو يا دن پر دن اسي طرح سے۔۔۔
اور جب ميں سوچتا کہ يہ تو ترکيب بخوي سے بھي زيادہ خطرناک معاملے ميں الجھ گيا ہوں تو جمائي لے کر پياسر سےکہتا ہوں کہ دائو جي اب تو نيند آرھي ہے۔
اور وہ ترکيب بخوي؟وہ جھٹ سے پوچھتے۔
اسکے بعد ميں چاہے لاکھ بہانے کرتا، ادھر ادھر کي ہزار باتيں کرتا، مگر وہ اپني کھاٹ پر ايسے بيٹھے رہتے بلکہ اگر ذرا سي دير دير ہو جاتي تو کرسي پر رکھي ھوئي پگڑي اٹھا کر سر پر رکھ ليتے، چناچہ کچھ بھي ہوتا ان کے ہر سوال کا خاطر خواہ جواب دينا پڑتا۔
امي چند کالج چلاگيا، تو اسکي بيٹھک مجھے مل گئي اور دائو جي کے دل ميں اسکي محبت پربھي قبضہ کر ليا، اب مجھےدائو جي بہت اچھے لگتے تھے، ليکن ان کي باتيں جو اس وقت مجھے بري لگتي تھيں، وہ اب بھي بري لگتي ہيں، بلکہ اب پہلے سے بھي کس قدر شايد اس لئے کہ ميں نفسيات کا ياک ہونہار طالب علم ہوں۔
اور دائو جي پرانے ملائي مکتب کے پرورھ تھے، سب سے بري عادت ان کي اٹھتے بيٹھتے سوال پوچھنے کي تھي، اور دوسري کھيل کود سےمنع کرنے کي تھي، وہ تو بس يہ چاہتے ہيں کہ آدمي پڑھتا رہے پڑھتا رہے، اور جب اس مدقوق کي موت کا دن قريب آئے تو کتابوں کے ڈھير پر جان دے دے، صحت جسماني قائم رکھنے کيلئے ان کے پاسصرف ايک ہي نقصہ تھا، لمبي سير اور وہ بھي صبح کي، تقريبا سورج کلنے سے دو گھنٹے پيشتر وہ مجھے بيٹھک ميں جگانے آتے تھے، اور ميرا کندھا ہلا کر کہتے، اٹھ گولو موٹا ہوگيا ہے بيٹا، دنيا جہان کے والدين صبح جگانے کيلئے کہتے ہيں، اٹھو بيٹا صبح ہوگئي ہے، يا سورج نکل آيا ہے، مگر وہ موٹا ہوگيا، کہہ کر ميري تذليل کيا کرتے تھے، ميں منمناتا تو چمکار کر کہتے بھدا ہوجائےگا بيٹا گھوڑا پر ضلع کا دورہ کيسے کرے گا، اور ميں گرم گرم بستر سے ہاتھ جوڑ کر کہتا دائو جي خدا کيلئے مجھے صبح نہ جگائو چاہے قتل کر دو، جان سےمار ڈالو۔
يہ فقرہ سنکي سب سے بڑي کمزوري تھي، وہ فورا ميرے سر پر لحاف ڈال ديتےہيں اور باہر نکل جاتے، بے بے کو ان دائو جي سے اللہ واسطے کا بير تھا اور دائو جي ان سے بہت ڈرتے تھے، وہ سارا دن محلے واليوں کپڑے سيتيں اور دائو جي کو کوسنے دئيے جاتے، ان کي اس زبان درازي پر مجھے بڑا غصہ آتا تھا مگر دريا ميں رھ کر مگر مچھ سے بير نہ ہوسکتا تھا، کبھي کبھار جب وہ ناگفتگي گاليوں پر اتر آتيں تو دائو جي ميري بيٹھک ميں آجاتے اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر کرسي پر بيٹھ جاتے تھوڑي دير بعد کہتے غيبت کرنا بڑا گناہ ہے، ليکن ميرا خدا مجھے معاف کردے تيري بے بے بھٹيارن ہے اور اسکي سرائے ميں ميري قرتھ العين اور تھوڑا تو بھي، ہم تينوں بڑے عاجز مسافر ہيں، اور جو واقعي بے بے بھٹيارن سي تھي، اس کا رنگ سخت کالا تھا دانت بيحد سفيد،ماتھا محراب دار آنکھيں چنياں سي، چلتي تو ايسي گربہ پائي کے ساتھ جيسے خدا مجھےمعاف کرے کٹني کنسوئياں ليتي پھرتي ہے، بچاري بي بي کو ايسي ہي بري باتيں کہتي کہ وہ دونوں دن رو رو کر کر ہلکان ہوا کرتي ، ايک امي چند کے ساتھ اسکي بنتي تھي، شايد وہ اس وجہ سے کہ دونوں ہم شکل تھے، يا شايد اس وجہ سے کي اس کي بي بي کي طرح اپنے دائو جي سے پيار نہ تھا، يوں تو بي بي بے چاري بہت اچھي تھي، مگر اس سے مير بھي نہ بنتي تھي، ميں کوٹھے پر بيٹھا سوال نکال رہا ہوں، دائو جي نيچے بيٹھے ہيں اور بي بي اوپر برساتي سے ايندھن ليے آئي تو ذرا رک کر مجھے ديکھا پھر منڈير سے جھانک کر بولي دائو جي پڑھ نہيں رہا ، تنکوں سے چارپائياں بنا رہا ہے۔
ميں غصيل بچے کي طرح منہ چڑاکر کہتا، تجھے کيا نہيں پڑھتا تو کيوں بڑ بڑ کرتي ہے، آئي بڑي تھانے دارني۔
اور دائو جي بھي نيچے سے ہانک لگا کر کہتے ہيں، نہ گولو بہنوں سے نہيں جھگڑا کرتے اور ميں زور سے چلايا پڑھ رہا ہوں جي جھوٹ بولتي ہے۔
دائو جي آہستہ آہستہ سيڑھياں چڑھ کر اوپر آجاتے اور کاپيوں کے نيچے نيم پوشيدہ چار پائي ديکھ کر کہتے، قرھ بيٹا تو اس کو نہ چڑايا کر يہ جن بڑي مشکل سے قابو کيا ہے، اگر ايک بار پھر بگڑ گيا تو مشکل سے سنبھلے گا۔
بي بي کہتي کاپي اٹھا کر ديکھ لو دائو جي اسکے نيچے ہے وھ چار پائي جس سے کھيل رہا تھا۔
ميں قہر آلودنگاہوں سے بي بي کو ديکھتا ہوں وہ لکڑياں اٹھا کر نيچے اتر جاتي ہے پھر دائو جي سمجھاتے کہ بي بي يہ سب کچھ تيرے فائدے کيلئےکہتي ہے ورنہ اسے کيا پڑي ہے، کہ مجھے بتاتي پھرے، تو فيل ہو يا پاس اس کي بلا سے، اگر وہ تيري بھالئي چاہتي ہے تيري بہتري چاہتي ہے اور دائو جي کي يہ بات ہر گز سمجھ ميں نہ آتي تھي، ميري شکايتيں کرنے والي ميري بھلائي کيوں کر چاہ سکتي ہو؟
ان دنوں معمول يہ تھا کہ ميں صبح دس بجے سے پہلے دائو جي کے ہاں سے چل ديتا گھر جا کر ناشتہ کرتا پھر اسکول پہنچ جاتا آدھي ھتي پر ميرا کھانا اسکول بھيج ديا جاتا اور شام کو اسکول بند ہونے پر گھر آکے اپني لالٹين تيل سے بھرتا اور دائو جي کے يہاں آجاتا، پھر رات کا کھانا بھي مجھے دائو جي کے گھر پر ہي بھجواديا جاتا، جن ايام ميں منصفي بند ہوتي، دائو جي اسکول کے گرائونڈ ميں آکر بيٹھ جاتے اور ميرا انتظار کرتے وہاں سے گھر تک سوالات کي بوچھاڑ رہتي، اسکول ميں جو کچھ پڑھايا گيا ہوتا اس کي تفصيل پوچھتے پھر مجھے گھر تک چھوڑ کر خود سير کو چلے جاتے ہمارے قصبے ميں منصفي کا کام مہينے ميں دن ہوتا تھا، اور بيس دن منصف صاحب بہادر کي کچہري ميں رہتي تھي، يہ دس دن دائوجي باقاعدہ کچہري ميں گزارتے تھے، ايک آدھ عرضي آجاتي تو دو چار روپيہ کماليتے ورنہ فارغ اوقات ميں وہاں بھي مطالعہ کا سلسلہ جاري رکھتے بے بے کا کام اچھا تھا، اس کي کتر بيونت اور محلے واليوں سے جوڑ تور اچھے مالي نتائج پيدا کرتي تھي، چونکہ پچھلے چند سالوں سے گھر کا بيشتر خرچ اس کي سلائي سے چل رہا تھا، اسلئے وہ دائو جي پر اور بھي حاوي ہوگئي تھي۔
ايک دن خلاف معمول دائو جي کو لينے ميں منصفي چلا گيا اس وقت کچہري بند ہوگئي تھي اور دائو جي نابنائي کے چھپر تلے ايک بينچ پر بيٹھے گڑ کي چائے پي رہے تھے ميں نہ ہولے سے جا کر انکا بستر اٹھاليا، اور نا کے گلي ميں بانہيں ڈال کر کہا چلئے آج ميں آپ کو لينے آيا ہوں، انہوں نے ميري طرف ديکھے بغير چائے کے بڑے بڑے گھونٹ بھرے، ايک آنہ جيب سے نکال کر نانبائي کي حوالے کي اور چپ چاپ ميرے ساتھ چل دئيے۔
ميں نے شرات سے ناچ کر کہا گھر چلئيے بے بے کو بتائوں گا، آپ چوري چوري يہاں ائے پيتے ہيں۔
دائو جي جيسے شرمندگي ٹالنے کو مسکرائے اور بولے اسکي چائے بہت اچھي ہوتي ہے اور گڑ کي چائے سے تھکن بھي دور ہوجاتي ہے، پھر يہ کہ ايک آنہ ميں گلاس بھرکر يتا ہے، تم اپني بے بے سے نہ کہنا خواہ مخواہ ہنگامہ کھڑا کر دےگي، پھر انہوں نے خوف زدہ ہو کر کچھ مايوس ہو کر اسکي تو فطرت ہي ايسي ہے، اس دن مجھے دايو جي پر بڑا رحم آيا، ميرا جي ان کيلئے بہت کچھ کرنےکوچاہنےلگا مگر اس ميں نے بے بے سے نہ کہنےکا وعدہ کرکے ان کيلئے بہت کچھ کيا، جب اس واقعہ کا ذکر ميں نے اماں سے کيا تو وہ کبھيميرے ہاتھ اور کبھي نوکر کي معرفت دائو جي کے ہاں دودھ پھل اور چيني وغيرہ بھيجنے لگيں، مگر اس رسد سے دائو جي کو کبھي بھي کچھ نصيب نہ ہوا، ہاں ہاں بے بے کي نگاہوں ميں ميري قدر بڑھ گئي تھي، اس نے کسي حد تک مجھ سے رعايتي برتائو کرنا شروع کرديا تھا۔
مجھے ياد ہےکہ ايک صبح ميں دودھ سے بھراتا ملوٹ ان کے يہاں لر کر آيا تھا، اور بے بے گھر پر نہ تھي، وہ اپني سکھيوں کے ساتھ بابا ساون کے جوہر میں اشنان کرنے گئيں تھي، اور گھر ميں صرف دائو جي اور بي بي تھي، دودھ ديکھکر دائو جي نےکہا چلو آج تينوں چائے پئيں گے، ميں دوکان سے گڑ لے آتا ہوں، تم پاني چولھے پر رکھ دو، بيبي نے جلدي جلدي چولھاسلگايا، ميں پتيلي ميں پاني ڈال کر لايا اور پھر ہم دونوں وہيں چوکے پر بيٹھ کر باتيں کرنے لگے، دائو جي گڑ لے کر آگئے تو انہوں نے کہا تم دونوں اپنے اپنےکام پر بيٹھو چائے ميں بناتا ہوں، چناچہ بي بي مشين چلانے لگي اور ميں ڈائرکٹ کي مشقيں لکھنےلگا دائو جي چولھا بھي جھونکتے جاتے تے اور عادت کے مطابق مجھے بھي اونچے اونچے بتاتے جتے تھے گيليو نے کہا زمين سورج کے گرد گھومتي ہے، گليليو نے دريافت کيا کہ زمين سورج کے گرد گھومتي ہے، يہ نہ لکہ دينا کہ سورج زمين کے گرد گھومتا ہے۔
پاني ابل رھا تھا، دائو جي خوش ھو رہے تھے اسي خوشي ميں جھوم جھوم کر وہ اپنا ازہ بنايا ہوا گيت گارہے تھے، او گولو او گولو، گيليو کي بات مت بھولنا انھوں نے چائے کي پتي کھولتے ہوئےپاني ميں دي، برتن ابھي تک چولھے پر ہي تھا اور دائو جي نے ايک چھوٹے سے بچے کي طرح پاني کے گل بل گل بل کے ساتھ گولو گليلو گولو گليلو کئے جارہے تھے، ميں ہنس رہا تھا، اور اپنا کام کر رہا تھا، بي بي مسکرا رہي تھي، اور مشين چلا رھي تھي، ہم تينوں اپنے چھوٹے سے گھر ميں بڑے ہي خوش تھے، گويا سارے محلے بلکہ سارے قصبہ کي خوشياں بڑے بڑے رنگين پر والي پريوں کي طرح ہمارے گھر ميں اتر آئي ہوں، اتنےميں دروازہ کھلا اور بے بے اندر داخل ہوئي، دائو جي نے دروازہ کھلنے کي آواز پر پيچھے مڑ کر ديکھا تو ان کا رنگ زرد ہوگيا، چمکتي ہوئي پتيلي سے گرم گرم بھاپ نکل رہي تھي، اسکے اندر چائے کے چھوٹے چھوٹے چھاوے ايک دوسرے کے پيچھے شور مچاتے پھرتے تھے، اور ممنوعہ کھيل رچانے والا بڈھا موقع پر پکڑا گيا، بے بے نے آگے بڑھ کر چولھے کي طرف ديکھا اور دائو جي نے چوکے سے اٹھتے ہوئے معذرت بھرےلہجے ميں کہا چائے ہے۔
بے بے نےنے ايک دو ہتڑ دائو جي کي کمر ميں مارا اور کہا بڈھے بردھا تجھے لاج نہيں آئي، تجھ پر بہار پھرے، تجھے يم سميٹے يہ تيرے چائے پينے کے دن ہيں، ميں بيوہ گھر مين نہ تھي تو تجھے کسي کا ڈر نہ تھا، تيرے بھانيوں ميں کل کي مرتي آج مروں، تيرا من راضي ہو، تيري آسين پوري ھوں، کس مرنے جوگي نے جنااور کس ليکھ کي ريکھا نے ميرے پلے باندہ ديا۔۔۔۔ تجھے موت نہ آئي۔۔۔۔ اوح ہو تجھے کيوں آئے گي۔
اس فقرے کي گردان کرتے ہوئے بے بے بھيڑني کي طرح چوکے پر چڑھ گئي کپڑے سے پتيلي پکڑ کر چولھے سے اٹھائي اور زمين پر دے ماري، گرم گرم چائے کے چھپا کے دائو جي کي پنڈليوں اور پائوں پر گرے وہ ، وہ تيرا بھلا ہو جائے وہ تيرا بھلا ہوجائے کہتے وہاں سے ايک بچے کي طرح بھاگے اور بيٹھک ميں گھس گئے انکي اس فرار بلکہ انداز فرار کو ديکھ کر ميں اور بيبي ہنسے بنا نہ رہ سکے، اور ہماري ہنسي کي آزار ايک ثانہہ کيلئے چاروں ديواروں سے ٹکرائي ميں تو خير بچ گيا، ليکن بےبے نے سيدھے جاکر بي بي کو بالوں سے پکر ليا اور چيخ کر بولي ميري سوت بتا بڈھے سے تيرا کيا ناچہ ہے، بتا نہيں تو ابھي پران ليتي ھوں، تونے اس کو چائے کي کنجي کيوں دي؟
بي بي بچاري پھس پھس رونے لگي تو ميں بھي اٹھ کر اندر بيٹھک ميں کھسک آيا، دائو جي اپني مخصوص کرسي پر بيٹھے تھے، اور اپنے پائوں سہلارہے تھے، پتہ نہيں انھيں اس حالت ميں ديکھ کر مجھے پھر کيوں گد گدي ھوئي کہ ميں الماري کے اندر منہ کر کے ہنسنے لگا انھوں نے نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے پاس بلايا اور بولے۔
شکر کرو گار کنم کہ گر فتارم بہ مصيبتے نہ کہ معصيتے۔
تھوڑي دير رک کر پھر کہا، ميں اس کے کتوں کا بھي کتا ہوں، جس کے سر مطہر پر مکے کي ايک کم نصيب بڑھيا غلاظت پھينکا کرتي تھي۔
ميں نے حيراني سے ان کي طرف ديکھا تو وہ بولے آقائے نامدار کا ايک ادنہ حلقہ بگوش گرم پاني کے چند چھينٹے پڑنے پر نالہ و شيون کرے تو لعنت ہے اس کي زندگي وہ اپنے محبوبکي طفيل نار جہنم سے بچائے، خدائے ابراھيم مجھے جرات عطا کر مولائے ايوب مجھے صبر کي نعمت دے۔
ميں نہ کہا دائو جي آقائے نامدار کون؟
تو دائو جي کو سنکر ذرا تکليف ہوئي، انھوں نے شفقت سے کہا جان پدر يوں نہ پوچھا کر، ميرے استاد ميرے حضرت کي روح کو مجھ سے بيزار نہ کر، وہ ميرے آقا بھي ہيں، ميرے باپ بھي ہيں اور ميرے استاد بھي ہيں، وہ تيرے دادا استاد ہيں،۔۔۔۔۔دادا استاد اور انھوں نے دونوں ہاتھ سينے پر رکھ لئے۔
آقائے نامدار کا لفظ اورکو تاہي قسمت کيترکيب ميں نے پہلي بار دائو جي سے سني، يہ واقعہ سنانے ميں انھوں نے کتني ہي دير لگادي، کيونکہ ايک ايک فقرے کے بعد فارسي کے بے شمار نعتہ اشعار پرھتے تھے، اور بار بار اپنے استاد کي روح کو ثواب پہنچاتے تھے۔
جب وہ يہ واقعہ بيان کر چکے تو ميں نے بڑے ادب سے پوچھا دائو جي آپ کو اپنے ستاد صاحب اس قدر اچھے لگتے تھے، اور آپ انکا نام لے کر ہاتھ کيوں جوڑتے ہيں، آپ اپنے آپ کو استاد کا نوکر کيوں کہتے ہيں؟
دائو جي نے کہا، جو طويل کے ايک خر کو ايسا بنا دے کہ لوگ کہيں يہ منشي چنت رام جي ہيں، وہ ميحانہ ہو آقانہ ہو تو پھر کيا ہوا؟
ميں چار پائي کے کونے سے آہستہ آہستہ پھسل کر بسترميں پہنچ گيا، اور چاروں طرف رضائي لپيٹ کر دائو جي کي طرف ديکھنےلگ جو سر جھکائے کبھي اپنے پائوں کي طرف ديکھتے تھے اور کبھي اپني پنڈلي سہلاتے تھے، چھوٹے چھوٹے وقفے کے بعد ذرا سا ہنستے اور پھر خاموش ہوجاتے ۔۔۔۔۔کہنےلگتے ميں کيا تھا، اور کيا ہوگيا ہوں حضرت مولانا کي پہلي آواز کيا تھي؟ ميري طرف سر مبارک اٹھايا اور فرمايا، چوپال زادے ہمارے پاس آئو، ميں لاٹھي ٹيکتا انکےپاس جاکر کھڑا ہوگيا، چھتہ پٹھار اور ديگر وہيات کے لڑکے نيم دائرہ ميں بناکر بيٹھے انکے سامنے بيٹھنےکي ہمت نہ تھي۔۔۔ ميں حضور کے قريب گيا تو فرمايا، بھي تم کو روز يہاں پر بکرياں چراتے ديکھتا ہوں، انھيں چرنے چگنے کيلئے ہمارے آجايا کرو اور کچھ پڑھ ليا کرو، پھر حضور نے ميري عرض سنے بغري پوچھا، کيا نام ہے تمہارا؟ ميں نے گنواروں کي طرح کہا، چنتو۔۔۔۔حضرات مسکرائے۔۔۔تھوڑا سا ہنسے بھي۔۔۔۔فرمانےلگے پورا نام کيا ہے؟ پھر خود ہي بولے چنت رام ہوگا، ميں سر ہلا ديا، حضور کے شاگرد کتاب ےس نظريں چراکر ميري طرف ديکھ رہے تھے ميرے گلے ميں کھدر کا لمبا کرتا تھا، پائجامہ کے بجائے صرف لنگوٹ بندھا تھا، پائوں ميں اوھوڑي کے موٹے جوتے اور سر پر سرخ رنگ کا جانگيہ لپٹ ہوا تھا، ميں نے بات کاٹ کر پوچھا آپ بکرياں چراتے تھے؟
ہاں ہاں وہ فخر سے بولے ميں گڈريا تھا، اور ميرے باپ کي بارہ بکرياں تھيں حيراني سے ميرا منہ کھلا رہ گيا، اور ميں نے معاملے کي تہہ تک پہچنے کيلئے جلدي سے پوچھا اور آپ اسکول کے پاس بکرياں چرايا کرتے تھے، دائو جي نے کرسي چار پائي کے قريب کھينچ لي اور اپنے پائو، پائے پر رکھ لئے اور بولے جان پدر اس زمانے ميں تو شہروں ميں بھي اسکول نہيں ہوا کرتے تھے، ميں گائوں کي بات کر رہا ہوں، آج سے چوہتر برس پہلے کوئي تمہارا ايم بي اسکول کا نام بھي نہ جانتا تھا، وہ تو ميرے آقا کو پڑھنے کا شوق تھا، اردگرد کے لوگ اپنے لڑکے کو چار حرف پڑھنے کو ان کے پاس بھيج ديتے تھے، ان کا سارا خاندان زيور تعليم سے آراستہ اور ديني اور دنياوي تعمتوں سے مالامال تھا، والدين کے ضلع بھر ميں ايک ہي حکيم اور چوٹي کے مبلغ تھے، جدا مجد مہاراجہ کشمير کے مير منشي، گھر ميں علم کے دريا بہتے تھے، فارسي، عربي جبرو مقابلہ ، اقليد س حکمت اور علم ہيت ان کے گھر کي لونڈياں تھيں، حضور کے والد کو ديکھنا مجھےنصيب نہيں ہوا، ليکن آپ کي زباني ان کے تجر علمي کي سب دستانيں سنيں، شيفتہ اور حکيم مومن خاں مومن سے ان کے بڑے مراسم تھے اور خود مولانا کيتعليم دلي ميں مفتي آرزدہ مرحوم کي نگراني ميں ہوئي تھي۔
مجھے دائو جي کے موضوع سے بھٹک جانے کا ڈر تھا اس لئے ميں نے جلدي سے پوچھا کہ پھر آپ نے حضرت مولانا کے پاس پڑھنا شروع کرديا، ہاں دائو جي اپنے آپ سے باتيں کرنے لگے، انکي باتيں ہي ايسي تھيں، انکي نگاہيں ہي ايسي تھيں جس کي طرف توجہ فرماتے تھے بندے سے مولانا کرديتے تھے، مٹي کے ذرے کو اکسير کي خاصيت ديتے تھے، ميں تو اپني لاٹھي زمينپر ڈال کر انکے پاس بيٹھ گيا، فرمايا، اپنے بھائيوں کے پاس بورئيے پر بيٹھو، ميں کہا جي ميں اٹھارہ برس دھرتي پر بيٹھے گزر گئے، اب کيا فرق پڑتا ہے، پھر مسکرا دئيے، اپنے چوبي صندوقچے سے حرف ايجحد ايک مقا نکالا اور بولے الف، بے، پے ،تے، سبحان اللہ کيا آواز تھي، کس شفقت سے بولے تھے، کس لہجے سے فرما رہے تھے الف ، بے ، پے ، تے، اور دائو جي ان حرفوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ماضي ميں کھوگئے۔
تھوڑي دير بعد انھوں نے اپنا داياں ہاتھ اٹھا کر کہا ادھر ہٹ تھا، اور اسکے ساتھ مچھليوں کا خوض پھر انھوں نے نے باياں ہاتھ ھوا ميں اٹھا کر اس طرف مزار عين کے کوٹھے دونوں کے درميان حضور کا باغيچہ تھا، اور سامنے ان کي عظيم الشان حويلي، اس باغيچے ميں انکا مکتب تھا، در فيض کھلا تھا، جس جي چاہے آئے ، نہ مذہب کي قيد نہ ملک کي پابندي ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ميں نےکافي دير سوچنے کے بعد باادب با ملاحظہ قسم کا فقرہ تيار کرکے پوچھا حضرت مولانا کا اسم گرامي شريف کيا تھا؟ تو پہلے انھوں نے ميرا فقرہ ٹھيک کرديا، اور پھر بولے حضرت اسماعيل چشتي رحمتہ اللہ عليہ فرماتے تھے، کہ ان کے والد ہميشہ انھيں جان کر جاناں کہہ کر پکارتے تھے، کبھي جان جانان کي رعايت سےمظہر جان جاناں بھي کہہ ديتے تھے۔
ميں ايسي دل چسپ کہاني سننے کا ابھي اور خواہش من د تھا کہ دائو جي اچانک رک گئے، اور بولے سب سيڈي ايري سسٹم کيا تھا، ان انگريزوں کا برا ہو ايسٹ انڈيا کمپني کي صورت ميں آئيں يا ملکہ وکٹوريا کا فرمان لےکر سارے معاملے ميں کھنڈت ڈال ديتے ہيں، سوائے کے پہاڑ کي طرح ميں نے سب سيڈي ايري سسٹم کا ڈھانچہ انکي خدمت ميں پيش کيا، پھر انھوں نے ميز سے گرامر اٹھائي اور بولے باہر جاکر ديکھ کے آ کہ تيري بے بے کا غصہ کم ہوا يا نہيں ميں وادت ميں پاني ڈالنے کو بہانے باہر گيا تو بے بے کو مشين چلاے اور بي بي کو چوکا صاف کرتے پايا۔
دائو جي کي زندگي ميں بے بے والا پہلو بڑا ہي کمزور تھا، جب وہ ديکھتے کہ گھر مطلع صاف ہے اور بے بے کے چہرے پر کوئي شکن نہيں ہےتو وہ پکارا کہتے اب ايک ايک شعر سنائو، پہلے مجھ ہي سے تقاضا ہوتا اور ميں چھوٹتے ہي کہتا
لازم تھا کہ ديکھو ميرا رستہ کوئي دن اور
تنہا گئے کيوں اب رہو تنہائي کوئي دن اور
اس پر وہ تالي بجاتے اور کہتے اولين شعر نہ سنوں گا اردو کا کم سنو گا، اور مسلسل نظم کا ہر گز نہ سنو گا، ميں کہتا مجھے سوچنے ديجئے، اتنےميں بي بي سناتي۔
بي بي ابھي ميري طرح اکثر اس شعر سے شروع کرتي
شيدم کہ شاپوروم در کشيد
چو خسرو برا اسمش قلم در کشيد
اس پر دائو جي ايک مرتبہ پھر آرڈر آرڈر پکارتے ، بي بي قينچي رکھ کر کہتي
شور شد واز خواب عدم چشم کشوويم
ديديم کہ باقي ست شب فتنہ کشو ويم
دائو جي شاباش تو ضرور کہہ ديتے ليکن ساتھ يہ بھي کہہ ديتے کہ بيٹا شعر تو کئي مرتبہ سنا چکي ہے۔
پھر وہ بے بے کي طرف ديکھ کر کہتے، بھي آج تمہاري بے بے بھي ايک سنائے گي، مگر بے بے ايک روکھا سا جواب ديتي، مجھے نہيں آتے شير کبت۔
اس پر دائو جي کہتے ہيں گھوڑیاں ہي سنا دے، اپنے بيٹوں کے بياہ کي گھوڑياں ہي گا دے، اس پر بےبے کے ہونٹ مسکرانے کو کرتے ليکن وہ مسکراتي نہيں، اور دائو جي عين عورتوں کي طرح گھوڑياں گانے لگتے، انکے درميان کبھي امي چند اور کبھي ميرا نام ٹانک ديتے، پھر کہتے ميں اپنے اس گولو کي شادي پر سرخ پگڑي باندھوں گا، برات ميں ڈاکڑ صاحب کے ساتھ ساتھ چلو گا، اور نکاح نامے ميں شہادت کے دستخط کروں گا، ميں دستور کے مطابق شرما کر نگاہي نيچيں کرليتا، تو وہ کہتے پتہ نہيں اس ملکہ کہ کسي شہر ميں ميري چھوٹي سي بہو پانچويں يا چھٹي جماعت ميں ہوگي، ہفتہ ميں ايک دن لڑکيوں کي خانہ داري ہوتي ہے، اس نے تو بہت سي چيزيں سيکھ ليں ہوں گي، پڑھنے ميں بھي ہوشيار ہوگي، اس بدھو کو يہ ياد نہيں رہتا کہ مارياں گھوڑياں ہوتي ہيں مرغي وہ تو فرفر سب کچھ سناتي ہيں، ميں تو اسکو فارسي پڑھائوں گا، پہلے اسکو خطاطي کي تعليم دوں گا، پھر خط شکستہ سکھائوں گا، مشتورات کو خطہ شکستہ نہيں آتا ميں تو اپني بہو کو کو سکھا دوں گا۔۔۔۔۔۔سن گولو پھر ميں تيرے ہي پاس رہوں گا، ميں ميري بہو فارسي ميں باتيں کريں گے اور وہ بات بات پر بفر مائيد کہے گي، اور تو احمقوں کي طرح اسکا منہ ديکھا کرے گا، پھر وہ سينے پر ہاتھ رکھ کرجھکتے ہوئے خيلے خوب خيلے خوب کہتے، جان پدر چرا ايں قدر رحمت مي کش۔۔۔۔خوب ۔۔۔۔۔ياد وارم۔۔۔۔۔اور پتہ نہيں کيا کيا کچھ کہتے ، بچارے دائو جي چٹائي جب چھت پر دھوپ ميں بيٹھے ہوئے وہ ايسي ہي دنيا بسا چکے تھے، تو ہولے سے مجھے کہنے لگے، جس طرح خدا نے تجھے ايک نيک سيرت بيوي اور مجھے سعادت مند بہو عطا کي ہے، ويسے ہي وہ اپنے فضل سے ميرے امي چند کو بھي دے۔
اسکے خيالات مجھے کچھ اچھے نہيں لگتے يہ سوانگ، يہ مسلم ليگ، يہ بيلچہ پارٹياں مجھے پسند نہيں اور امي چند لاٹھي چلانا، گٹگا کھيلنا سيکھ رہا ہے، ميري تو وہ کب مانے گا ہاں خدائے بزرگ ون برتر کو اسايک نيک مومن سي بيوي دلادےتو وہ اسے راہ راست پر لے آئے گي۔
اس مومن کے لفظ پر مجھے بہت تلکيف ہوئي اور ميں چپ سا ہوگيا، چپ محض اسلئے ہوا تھا، کہ اگر ميں ميں نہ منہ کھولا تو يقينا ايسي بات نکلے گي، جس سے دائو جي کو برا دکھ ہو گا۔۔۔۔ ميري اور امي چند کي تو خير باتيں ہي تھيں، ليکن باري جنوري کي بي بي برات سچ مچ آگئي، جيجا جي رام پرتاب کے بارے ميں دايو جي مجھے بہت کچھ بتا چکے تھے، کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور اسکي شادي کے بارے ميں انھوں نے جو استخارہ کيا تھا، اس پر وہ پورا اترا ہے، سب سے زيادہ خوشي دائو جي کو اس بات کي تھي، کہ انکے سمدھي فاسري کے استاد تھے، اور کبير پينتھي مذہب سےتعلق رکھتے تھے، بارھ تاريء کي شام کا بي بي وداع ہونے لگي تو گھر بھرميں کہرام مچ گيا، بے بے زار زار قطار رو رھي تھيں، امي چند آنسو بہا رہا تھا، اور محلے کي عورتين پھس پھس کر رو رہي تھيں، ميں ديوار کے ساتھ لگاکھڑا ہو اور دائو جي ميرےکندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہيں اور بار بار کہہ رہے ہيں،آج زمين ميرے پائوں نہيں پکڑتي ميں توازن قائم نہيں رکھ سکتا جيجا جي کے باپ بولے، منشي جي اب ہميں اجازر ديں، تو بي بي بچھاڑ کھا کر گر پڑي، اسے چار پائي پر ڈالا عورتيں ہو کرنے لگيں، اور دائو جي ميرا سہارا لے کر اس کي چار پائي کي طرف چلے انھوں نے بي بي کو کندھے سے پکڑکر اٹھاي اور يہ کيا ہوا بيٹا اٹھو۔ يہ تو تمہاري نئي اور خود مختار زندگي کي پہلي گھڑي ہے۔
اسے يوں منحوس نہ بنائو، بي بي اس طرح دھاڑيں مار مار کر روتے ہوئے دائو جي سے لپٹ گئي، انھوں نے اسکے سرپر ہاتھ پھرتے ہوئے کہا، قرتھ العين ميں تيرا گنہ گار ہوں کہ تجھے پڑھا نہ سکا، تيرے سامنے شرمندہ ہوں کہ تجھے علم کا جہيز نہ دے سکا، تو مجھے معاف کرد گي، اور شايد بر خور دار رام پرتاب بھي ليکن ميں اپنے کو معاف نہ کر سکوں گا، ميں خطا کار ہوں ميرا سر خجل تيرے سامنے خم ہے، يہ سن کر بي بي اور بھي زور زور سے رونے لگي اور دائو جي کي آنکھوں سے کتنے سارے موٹے موٹے آنسوں کے قطرے زمين پر گرے، انکے سمدھي نے آگے بڑھ کر کہا، منشي جي آپ فکر نہ کريں، ميں بيٹي کو کريما پڑھا دوں گا، دائو جي ادھرپلٹے اور ہاتھ جوڑ کر بولے کريما تو يہ پڑھ چکي ہے، گلستان اور بوستان بھي ختم کراچکا ہوں، ليکن ميري حسرت پوري نہيں ہوئي۔
اس پر وہ ھنس کر بولے ساري گلستان تو ميں نے بھي نہيں پڑھا، جہاں عربي آتي تھي آگے گزر جاتا تھا۔۔۔۔۔دائو جي اسي طرح ہاتھ جوڑے کتني دير خاموش کھرے رہے، بي بي نے گوت لگي سرخ رنگ کي ريشمي چادر سے ہاتھ نکال کر پہلے امي چند اور پھرميرے سر پر ہاتھ پھرا اور سسکيوں کي بازئوں ميں ڈيوڑھي کي طرف چل دي، دائو جي ميرا سہار لے کر چلے تو انھوں نے مجھے اپنے ساتھ زور سے بھينچ کر کہا، لو يہ بھي لارا ہے، ديکھو يہ ہمارا سہارا بنا پھرتا ہے، او گولو۔۔۔۔۔او مرفم ديدہ۔۔۔۔تجھے کيا ہوگيا۔۔۔۔جان پدر تو کيوں۔۔۔۔
اس پر ان کا گلا رندھ گيا اور ميرے آنسو بھي تيز ہوگئے، برات والے تانگوں اور اکوں پر سوار تھے ، بي بي رتھ ميں جارھي تھي، اور اسکے پيچھے امي چند اور ميں اور ہمارے درميان دائو جي پيدل چل رہے تھے، اگر بي بي کي چيخ ذرا زاور سے نکل جاتي تو دائو جي آگے بڑھ کر رتھ کا پردا ٹھاتے اور کہتے، لاحول پڑھ بيٹا لاحول پڑھو، اور خود آنکھوں پر رکھے رکھے انکي پگڑي کا شملہ بھيگ گيا تھا۔
رانو ہمارے محلے کا بڑا کثيف انسان تھا بدي اور کينہ پروري اسکي طبعيت ميں کوٹ کوٹ کر بھري تھي، وہ باڑہ جس کا ميں نے ذکر کيا تھا، اسي کا تھا، اس ميں بيس تيس بکرياں اور گائيں تھيں، جن کا دودھ صبح و شام رانو گلي کے بغل ميں ميدان ميں بيچا کرتا تھا، تقريبا سارے محلے والے اسي سے دودھ ليتے تھے، اور اس کي شرارتوں کي وجہ سے ديتے بھي تھے، ہمارے گھر کے آگے سے گزر تے ہوئے وہ يوں ہي شوقيہ لاٹھي زمين پر بجاکر دائو جي کو پنڈتاجے رام جي کي کہہ کر سلام کياکرتا، دائو جي نے اسے کئي بار سمجھايا کہ وہ پنڈت نہيں ايک معمولي آدمي ہيں کيوں کہ پنڈت ان کے نزديک بڑے پڑھے لکھے اور فاضل آدمي کو کہتے تھے، ليکن رانو نہيں مانتا تھا، وہ اپني مونچھ کو چباکر کہتا، ارے بھئي جن کے سر پر بودي چٹيا ہو وہي پنڈت ہوتا ہے۔۔۔۔۔چوروں يا ياروں سے اسکي آشنائي تھي، شام کو اسکے باڑے ميں جوا بھي ہوتا تھا، اور گندي اور فحش بوليوں کا مشاعرہ بھي، بي بي کے جانے کے ايک دن بعد آيا جب ميں اس سے دودھ لينے گيا تو اس نے شرات سے آنکھ ميچ کر کہا، موني تو چلي گئي بابو تو اس گھر ميں رہ کر کيا کرے گا، ميں چپ رہا، تو اس نے جھاگ والے دودھ ميں ڈبہ پھيرتے ہوئے کہا گھر ميم گنگا بہتي تھي سچ بتا کہ غوطہ لگايا کہ نہيں، مجھے اس بت پر غصہ آيا اور ميں نےتاملوٹ گھما کر اسکے سر پر دے مارا، اس ضرب شديد سے خون وغيرہ تو برآمد نہ ہوا ليکن وہ چکرا کر تخت پر گر پڑا اور ميں گھر ميں بھاگا، دائو جي کو سارا واقعہ سنا کر ميں دوڑا دوڑا اپنے گھر گيا، اور اباجي سے ساري حکايات بيان کي، انکي بدولت رانو کي تھانہ ميں طلبي ہوئي اور حوالدا صاحب نے ھلکي سے گوشمالي کے بعد اسے سخت متنبہ کرکے چھوڑ ديا۔
اسکے بعد سے رانو دائو جي پر آتے جاتے طرح طرح کے فقرے کہنےلگا وہ سب سے زيادہ مذاق ان کي بودي کا اڑايا کرتا تھا اور اقعي دائو جي کي فاضل سر پر وہ چيٹي سي بودي ذرا بھي اچھي نہ لگتي مگر وہ کہتے يہ ميري ماں کي نشاني ہے، اور مجھےاپني زندگي کي طرح عزيز ہے، وہ اپني آغوش ميں ميرا سر رکھ کر اسے دہي سے دھوتي تھي، اور کڑوا تيل لگا کر چمکاتي تھي، گو ميں نے حضرت مولانا کے سامنے کبھي کبھي پگڑي اتارنے کي جسارت نہيں کي ، ليکن وہ جانتے تھے جب ميں ديال سنگھ ميموريل ہائي اسکول سے ايک سال کي ملازمت کے بعد چھٹيوں ميں گائوں آيا تو حضور نےپوچھا، شہر جا کر چوٹي تو نہيں کٹوادي؟ تو ميں نے نفي ميں جواب ديا، اس پر وہ بہت خوش ہوئے اور فرمايا تم سا سعادت مند بيٹا کم مائوں کو ملتا ہے، اور ہم سا خوش قمست استاد بھي خال ہي خال ہوگا، جسے تم ايسے شاگرد کو پڑھانےکا فخر حاصل ہوا، ميں نے ان کے پائوں چھو کر کہا، ہضور آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہيں، يہ اب آپ کے قدموں کي برکت ہے، ہنس کر فرمانے لگےچنت رام ہمارے پائوں نہ چھوا کرو، بھلا ايسے لمس کا کيا فائدہ جسکا ہميں احساس نہ ہو، ميري آنکھوں ميں آنسو آگئے، ميں نہ کہا، اگر کوئي مجھے بتا دے تو سمندر پھاڑ کر بھي آپ کيلئے دوائي نکال کر لائوں، اپني زندگي کي حرارت حضور کي ٹانگوں کيلئے نزر کردوں، ليکن ميرا بس نہيں چلتا۔۔۔۔۔خاموش ہوگئے اور نگاہيں اوپر اٹھا کر بولے خدا کو يہ ہي منظور ہےتو ايسے ہي سہي، تم سلامت رہو کہ تمہارے کندھوں پر ميں نے کوئي دس سال بعد سارا گائوں ديکھ ليا۔۔۔۔۔دائو جي گذرے آيام کي تہہ ميں اترتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
ميں صبح سويرے حويلي کي ڈيوڑھي ميں جا کر آواز ديتا خادم آگيا، مستورات ايک طرف ہوجاتيں تو حضور صحن سے آواز دے کر مجھے بلا ليتے اور ميں اپني قسمت کو سراہتا، ہاتھ جوڑے جوڑے حضور انکي طرف بڑھتا، پائوں چھوتا اور پھر حکم کا انتظار کرنے لگتا وہ عادتيں ميرے والدين کي خيريت پوچھتے گائوں کا حال دريافت فرماتے اور پھر کہتے،لو بھئي چنت رام ان گناہوں کي گھڑي کو اٹھا لو، ميں سبد گل کي طرح انہيں اٹھاتا اور پھر کمر پر لاد کے حويلي سے باہر آجاتا کبھي فرماتے ہميں باغ کا چکر کرادو کبھي حکم ہوتا رہٹ کے پاس لے چلو، اور کبھي کبھار بڑے نرمي سے کہتے، چنت رام تھک نہ جائو تو ہميں مسجد لے چلو، ميں نے کئي بار عرض کيا کہ حضور ہر روز مسجد لے جايا کروں گا مگر نہيں مانے فرماتے رہے کبي کبھي جي چاہتا ہے تم سے کہہ ديتا ہوں، ميں وضو کرنے والے چبوترے پر بيٹھا کر ان کے ہلکے ہلکے جوتے اتارتا اور انہيں جھولي ميں رکھ کر ديوار سے لگ کر بيٹھ جاتا چبوترے سے حضور خود گھسٹ کر صف کي جانب جاتے تھے، ميں نے صرف ايک مرتبہ انہيں اس طرح جاتے ديکھا تھا، اس کے بعد جرات نہ ہوئي، ان کےجوتے اتارنے کے بعد دامن ميں منہ چھپا ليتا تھا اور پھر اسي وقت سر اٹھاتا، جب وہ ميرا نام لےکر ياد فرماتے تھے، واپسي پر ميں قصبہ کي لمبي لمبي گليوں کا چکر کاٹ کر حويلي کو لوٹتا تھا، تو فرماتے تھے، ہم جانتے ہيں، چنت رام تم ہہماري خوشنودي کيلئے قصبہ کي سير کراتے ہں ليکن ہميں بڑي تکليف ہوتي ہے، ايک تو تم پر لدا لدا پھرتا ہو دوسرے تمہارا وقت ضائع کرتا ہو، اور حضور سےکون کہتا ہے کہ آقا يہ وقت ہي ميري زندگي کا نقطہ عروج ہے، اور يہ تکليف ہي ميري حيات کا مرکز ہے، آپ تو فرماتےہيں کہ لدا لدا پھرتا ہوں، اور مجھے يہ محسوس ہوتا ہے کہ ايک بيمار ہے، جس نے اپنا سايہ محض ميرے لئے وقف کرديا ہے، جس دن ميں نے سکندر نامہ زباني ياد کرکے انھيں سناديا اس قدر خوش ہوئے گويا ہفت اقليم کي بادشاہي ہي نصيب ہوگئي، دين و دنيا کي ہر دعا سے مجھے مالا مال کيا دست شفقت ميرے سر پر پھيرا اور جيب سے ايک روپيہ نکال کر مجھے انعام ديا
سمجھ کر پگڑي ميں رکھ ليا، دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر دعائيں دے رہے تھے، اور فرما ہے تھے جو کام ہم سے نہ ہوسکا وہ تو نے کر دکھايا، ےو نيک ہے جدا تجھے سعادت نصيب کي چنت رام تيرا موي چوپال کا پيشہ ہے، تو شاہ بطحا کا پير ہے اس لئے خدا ئے عزو جل تجھے برکت دے گا، تجھے اور کشائش ميسر آئے گي، دائو جي يہ باتيں کرتے کرتے گھنٹوں سر پر ہاتھ رکھ کر خاموش ہوگئے۔
ميرا متحان قريب آرہا تھا اور دائو جي سخت ہوتے جارہے تھے، انھوں نے ميرے ہر فارغ وقت پر کوئي نہ کوئي کام پھيلا ديا تھا، ايک مضمون سے عہدہ بر آہوتا تھا تو دوسرے کي کتابيں نکال کر سر پر سوار ہوجاتے تھے، پاني پينے کيلئے اٹھتا تو سايہ کي طرح ساتھ ساتھ چلے آئے، اور انہيں تو تاريخ کے سن ہي پوچھے جاتے شام کے وقت اسکول پہچنے کا انھوں نےوطيرہ بناليا تھا، ايک دن ميں اسکول کےبڑے دروازے بورڈنگ کي راہ کھسک گيا تو انھوں نے جماعت کے کمرے کے سامنے آکر بيٹھنا شروع کرديا، ميں چڑ چڑا اور ضدي ہونے کے علاوہ بدزبان بھي ہوگيا تھا، دائو جي کے بچے گويا ميرا تکيہ کلام بن گيا تھا، اور کبھي کبھار ان کي يا ان کے سوالات کي سختي بڑھ جاتي تو ميں انھيں کتےکہنے سے بھي نہ چوکتا ناراض ہوجاتے تو بس اس قدر کہتے، ديکھ لے ڈومني ت وکيس باتيں کررہا ہے تيري بيوي بياہ کر لائوں گا تو پہلے اسے يہ ہي بتائو گا کہ جان پسر يہ تيرے بڈھے باپ کو کتا کہتا تھا، ميري گاليوں بدلے وہ مجھے ڈومني کہتے تھے، اگر انھيں زيادہ دکھ ہوتا تو منہ چڑھي ڈومني کہتے، اس سے زيادہ نہ انھيں غصہ آتا تھا، نہ دکھ ہوتا تھا، مجھے ميرے اصل نام سے انھوں نے کبھي نہيں پکارا، ميرے بڑے بھائي کا ذکر آتا تو بيٹا آفتاب بر خور دار آفتاب کہ کر انھيں ياد کرتے تھے، ليکن ميرے ہر روز نئے نئے نام رکھتے جن ميں گولو انھيں بہت مرعوب تھا، طنبورا دوسرے درجہ پر مسٹر ہونق اور اخفش اسکوائر ان سب کے بعد آتے تھے، اور ڈومني صرف حصے کي حالت ميں کبھي کبھي ميں ان کو بہت دق کرتا، وہ اپني چٹائي پر بيٹھے کچھ پڑھ رہے تھے، مجھے الجبرے کا ايک سوال دے رکھا تھا اور ميں سارے جہان کي ايجد کو ضرب دے دے کر تنگ آچکا ہوں، تو ميں کاپيوں اور کتابوں کے ڈھير کو پائوں سے پرے ڈھکيل کر اونچے اونچے گانے لگتا۔
تيرے سامنے بيٹھ کر رونا تے دکھ تينوں نيوں دسنا۔
دائو جي حيراني سے ميري طرف ديکھتے تو ميں تالياں بجانے لگتا اور قوالي شروع کرديتا، نيوں نيوں دسناتے، رکھ تينوں نيوں دسنا۔۔۔دسنا دسنا دسنا دسنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تينوں نيوں دسنا، سارے گاما رونا رونا رونا سارے گامار رونا رونا۔۔۔۔تے دکھ تينو دسنا، وہ عينک کے اوپر سے مسکراتے ميرے پاس آکر کاپي اٹھاتے، صفحہ نکالتے اور ميري تاليوں کے درميان اپنا بڑا سا ہاتھ کھرا کرديتے تھے۔
سن بيٹا وہ بڑي محبت سے کہتے يہ کوئي مشکل سوال ہے جوں ہي وہ سوال سمجھانے کيلئےہاتھ نيچے کرتے ميں پھر تالياں بجانے لگتا ديکھ کر پھر ميں تيرا دائو نہيں ہوں؟ وہ بڑے مان سے پوچھتے۔
نہيں ميں منہ پھاڑ کر کہتا ہو۔
تو اور کون ہے؟ وہ مايوس سے ہوجاتے۔
وہ سچي سرکار ميں انگلي آسمان کي طرف شرارت سے کہتا وہ سچي سرکار وہ سب کا پالنے والا۔۔۔بول بکرے سب کا والي کون ہے؟
وہ ميرے پاس سے اٹھکر جانےلگتے تو ميں ان کي کمر ميں ہاتھ ڈال ديتا دائو جي خفا ہوگئے کيا؟
وہ مسکرانے لگتے، چھوڑ طنبورے چھوڑ بيٹا ميں تو پاني پينے جا رہا ہوں۔
مجھے پاني پينا ہے۔
ميں جھوٹ موٹ برا مان کر کہتا ہوں لوجي جب مجھے سوال سمجھنا ہو دائو جي کو پاني ياد آگيا۔
وہ آرام سے بيٹھ جاتے ہيں اور کاپي کھول کر کہتے اخفش اسکوائر جب تجھے چار ايکس کا مربع نظر آرہا تھا تو تونے فارمولا کيوں نہ لگايا اور اگر ايسا نہ بھي کرتا تو۔۔۔۔۔اور اس کے بعد پتہ نہيں دائو جي کتنے دن پاني ني پيتے۔
فروري کے بعد دوسرے ہفتہ کي بات ہے، امتحان کا کل ڈيڑھ مہينہ رہ گيا تھا، اور مجھ پر آنے والے خطرناک وقت کا خوف بھوت بنکر سوار ہوگيا تھا، ميں نے خود اپني پڑھائي پہلے سے تيز کردي تھي، اور کافي سنجيدہ ہوگيا تھا، ليکن جوميٹري کے مسائل ميري سمجھ ميں نہيں آرہے تھے دائو جي نے بہت کوشش کي ليکن بات نہ بني، آخر ايک دن انھوں نے کہا کل باون پر اپوزيشن ہيں زباني ياد کرے اس کے سوا کوئي چارہ نہیں چناچہہ ميں انھيں رٹنےميں مصروف ہوگيا ليکن جو پرا پوزيشن رات کو ياد کئے صبح کو بھول جاتا ميں دل برداشتہ ہوکر ہمت چھوڑ دي، ايک رات دايو جي مجھ سے جوميڑي کي شکليں بنو کر اور مشقيں سنکر اٹھے تو وہ بھي کچھ پريشان تھے ميں بار بار اٹکتا تھا اور انہيں بہت کوفت ہوتي تھي، مجھے سونے کي تاکيد کرکے وہ اپنےکمرے ميں چلے گئے تو ميں کاپي پينسل لے کر پھر بيٹھ گيا، اور رات کے ڈيڑھ بجے تک لکھ لکھ کر رٹا لگاتا رہا، مگر جب کتاب بند کرکے لکھنے لگ جاتا تو چند فقروں کے بعد اٹک جاتا، مجھے دائو جي کا مايوس چہرہ يادکرکے اور اپني حالت کا اندازہ کرکرے رونا آگيا اور ميں باہر صحن ميں آکر سيڑھيوں پر بيٹھ گيا، سچ مچ رونےلگا، گھٹنوں پر سر رکھے رو رہا تھا اور سردي کي شدت سے کانپ رھا تھا، اسي طرح بيٹھے بيٹھے کوئي ڈيڑھ گھنٹا گزر گيا، تو ميں نے دائو جي کي عزت بچانے کيلئے يہ ہي ترکيب سوچي کہ ڈيوڑھيکا درازہ کھول کر چپکے سے نکل جائو، اور واپس نہ آئو، جب فيصلہ کر چکا اور عملي قدم آگے بڑھانے کے لئے سر اوپر اٹھايا تو دائو جي کمبل اوڑھے ميرے پاس کھڑے تھے، انھوں نے مجھے بڑے پيار سے اپنے ساتھ لگايا تو سسکيوں کا لاتنا ہي سلسلہ صحن ميں پھيل گيا دائو جي نے ميرا سر چوم کر کہا لے بھئي طبنورے ميں تو يوں نہ سمجھتا تھا تو تو بہت کم ہمت نکلا، پھر انھوں نے مجھے اپنے ساتھ کمبل ميں لپيٹ ليا، بيٹھک ميں لے آئے بستر ميں بٹھا کر انھوں نے ميرے چاروں طرف رضائي لپيٹي اور خود پائوں اوپر کرکے کرسي پر بيٹھ گئے۔
انھوں نے کہا کہ اقليدس چيز ہي ايسي ہے، تو اس کے ہاتھوں يوں نالاں ہے اس سے اور طرح تنگ ہوا تھا، حضرت مولانا کے پاس جبرو مقابلہ اور اقليدس کي جس قدر کتابيں تھيں انھيں ميں اچھي طرح پڑھ چکا تھا، کوئي ايسي باتنہ تھي جس سے الجھن ہوتي، ميں يہ جانا کہ رياضي کا ماہر ہوگيا ہو ليکن ايک رات ميں اپني کھاٹ پر پڑا پراتساوي الساقين کے ايک مسئلہ پر غور کرنےلگا، کہ بات الجھ گئي، ميں نے ديا جلايا کر شکل بنائي اور اس پر غور کرنے لگا، جبرو مقابلہ کي رو سے اسکا جواب ٹھيک آتا تھا، ليکن علم ہندسہ سے پايہ ثبوت کو نہ پہنچا تھا ميں ساري رات کا غذ سياہ کرتا رہا، ليکن تيري طرح رويا نہيں، علي الصبح ميں حضرت کي خدمت ميں حاضر ہوا، تو انھوں نے اپنے دست مبارک سے کاغذ پر شکل کھينچ کر سمجھانا شروع کيا ليکن جہاں مجھے الجھن ہوئي تھي وہيں حضرت مولانا کي طبع رسا کو بھي کوفت ہوئي، فرمانےلگے چنت رام اب ہم تم کو نہيں پڑھا سکتے جب استاد اور شاگرد کا رلم ايک سا ہوگائےتو شاگرد کو کسي اور معلم کي طرف رجوع کرنا چاہئيے ميں نے جرات کرکے کہہ ديا حضور اگر کوئي اور يہ جملہ کہتا تو ميں اسے کفر کے مترادف سمجھتا، ليکن آپ کا ہر حرف اور ہر حرف شوشہ ميرے لئے حکم رباني سے کم نہيں، اسلئے خاموش ہوں، بھال آقائے غزنوي کے سامنے اياز کي کيا مجال ليکن حضور مجھے دکھ ھوا ہے۔
فرمانےلگے ميں جذباتي آدمي ہو، بات تو سن لي ہوتي، ميں نے سر جھکا کر ارشاد فرمايا دلي مين حکيم ناصر علي سيستاني علم ہندسہ کے بڑے ماہر ہيں، اگر تم کو اسکا ايسا ہي شوق ہے تو انکے پاس چلے جائو اور اکتساب علم کرو، ہم ان کے نام رقعہ لکھ ديں گے، ميں نے رضا مندي ظاہر کردي تو فرمايا، اپني والدہ سے پوچھ لينا اگر رہ رضامند ہوں تو ہمارے پاس آنا۔۔۔۔۔۔والدہ مرحومہ سے پوچھا اور ان سے اپني مرضي کے مطابق جواب پانا انہوني بات تھي، چناچہ ميں نے ان سے نہيں پوچھا، حضور پوچھتے تو ميں دروغ بياني سے کام ليتا کہ گھر کي لپائي کر رہا ہوں جب فارغ ہوں گا تو والدہ سے عرض کروں گا۔
چند ايام بڑے اضطر کي حالت ميں گزرے ميں دن رات اس شکل کو حل کرنے کي کوشش کرتا مگر صيح جواب نہ برآمد ہوتا، اس لاحل مسئلہ سے طبعيت ميں اور انتشار پيد اہوا، ميں دلي جانا چاہتا تھا، ليکن حضور سے نہ اجازت مل سکتي تھي، نہ رقعہ وہ والدہ کي رضا مندي کے بغير اجازت دينے والے نہ تھے، اور والدہ اس بڑھاپے ميں کيسے آمادہ ہوسکتي تھيں۔۔۔۔۔ايک رات جب سارا گائوں سو رہا تھا اور ميں تيري طرح پريشان تھا تو ميں نے اپني والدہ کي پٹاري سے اس کي کل پونجي دو روپے چرا ئے اور نصف اس کے ليے چھوڑ کر گائوں سے نکل گيا، خدا جانے مجھے معاف کرے، اور ميرے دونوں بزرگوں کي روحوں کو مجھ پر مہربان کرے، واقعي ميں نےبڑاگناہ کيا تھا، اور اب تک ميرا سر ان دونوں کرم فرمائوں کے سامنے پاس پہنچا جہاں بيٹھ کر آپ پڑھاتے تھے، گھٹنوں کے بل ہوکر ميں نے زمين کو بوسہ ديا اور دل ميں کہا بد قسمت ہوں اور بے اجازت جارہا ہوں ليکن آپ کي دعائوں کا عمر بھر محتاج رہوں گا ميرا قصور معاف نہ کيا تو آپ کے قدموں ميں جان دے دوں گا، اتنا کہہ کر اور لاٹھي کندھے پر رکھ کر ميں وہاں سے چل ديا۔۔۔۔۔ سن رہا ہے؟
دائو جي نے ميري طرف غور سے ديکھ کر پوچھا، رضائي کے بيچ خار پشت بنے ميں نہ آنکھيں جھپکائيں اور ہولے سے کہا جي؟
دائو جي نے پھر کہنا شروع کيا ، قدرت نے مير کمال کي مدد کي، ان دنوں جا کھل جنيد برسہ حصار والي ريل کي پٹري بن رہي تھي، يہ ہي راستہ سيدھا دلي جاتا تھا اور يہ ہي مزدوري ملتي تھي، ايک دن مزدوري کرتا اور دو دن چلتا اس طرح تائيد غيبي کے سہارے سولہ دن ميں دلي پہنچ گيا منزل مقصود تو ہاتھ آگئي ليکن گوہر مقصود کا سراخ نہ ملا تھا، جس کسي سے پوچھتا حکيم ناصر علي سيستاني کا دولت خانہ کہاں ہے نفي ميں جواب ملتا، دو دن ان کي تلاش جاري رہي ليکن پتنہ نہ چل سکا قسمت کي ياوري تھي، صحت اچھي تھي، انگريزوں کيلئے نئي کوٹھياں بن رھي تھيں، وہاں کام پر جانے لگا، شام کو فارغ ہوکر، حکيم صاہب کا پتہ معلوم کرتا اور رات کے وقت ايک دھرم شالا ميں کھيس پھينک کر گہري نيند سو جاتا مثل مشہور تھے جو بندہ بندہ آخر ايک دن مجھے حکيم صاحب کي جائے رہائش معلوم ہو گئي، وہ پتھر پھوڑوں کے محلے کي ايک تيرہ و تاريک گلي ميں فروکش تھے، اور چند دوستوں سے اونچے اونچے گفتگو ہورھي تھي ميں جوتے اتار کر دہليز کے اندر کھڑا ہوگيا، ايک صاحب نے پوچھا کون ہے؟
ميں نےسلام کيا حکيم صاحب سے ملانا ہے۔ حکيم صاحب دوستوں کے حلقے ميں سرجھکائے بيٹھے تھے، اور ان کي پشت مير طرف تھي، اسي طرح بيٹھے بيٹھے بولے اسم گرامي؟ميں نے ہاتھ جوڑ کر کہا پنجاب سے آيا ہوں، اور ۔۔۔۔۔ ميں پوري بات بھي نہ کر پايا تھا کہ زور سے بولے، اوہ ہو چنت رام ہو؟ ميں کچھ جواب نہ دے سکا، فرمانےلگے مجھے اسماعيل کا خط ملا لکھتا تھا شايد چنت رام تمہارے پاس آئے، ہميں بتائے بغير گھر سے فرار ہوگيا ہے، اسکي مدد کرنا، ميں اس طرح کھڑا رہا، تو پاٹ دار آواز ميں بولے مياں اندر آجائو کيا چپ کا روزہ رکھا ہے؟
ميں آگے بڑھا تو بھي ميري طرف نہ ديکھا اور ويسے ہي عروس نو کي طرح بيٹھے رہے، پھر قدرے تحکامانہ انداز ميں کہا، برخوردار بيٹھ جائو، ميں وہيں بيٹھ گيا، تو اپنے دوستوں سے فرمايا بھئي ذرا ٹہرو، مجھے اس سے دو ہاتھ کرلينے دو، پھر حکم ہوا کہ بتائو ہندسہ کاکون سا مسئلہ تمہاري سمجھ ميں نہيں آيا، ميں نے ڈرتے ڈرتے آہستہ آہستہ کرتہ يوں اوپر کھينچ ليا کہ ان کي کمر برہنہ ہوگئي، پھر فرمايا بنائو اپني انگلي سے ميري کمر پر ايک متساوي لساقين، مجھ پر سکتہ کا عالم تاري تھا، نہ آگے بڑھنے کي ہمت تھي نہ پيچھے ہٹنے کي طاقت، ايک لمحے کے بعد بولے مياں جلدي کرونابينا ہوں، کاغز قلم کچھ سمجھ ميں نہيں آتا، ميں ڈرتے ڈرتے آگے برھنےکي کوشش کي، اور ان کيچوڑي چکلي کمر پر کانپتي ہوئي انگليوں سے مستاي الساقين بنانے لگے، جب وہ غير مرئي شکل بن چکي تو بولے، اب اس نقطہ س سے خط ج پر عمو گرائو، ايک تو ميں گھبرايا ہوا تھا، دسرے وہاں کچھ نہ آتا تھا، يوں اٹکل سے ميں نے ايک مقام پر انگلي رکھ کر عموما گرانا چاہا تو تيزي سے بولے ہےہے کيا کرتے ہو، يہ نقطہ سے ہے کيا؟ پھر خود بولے نيچے سے ہے وہاں خط کھينچو اللہ اکبر اللہ اکبر کيا علم تھا، کيا آواز تھي اور کيسي تيز فہمي تھي، وہ بول رہےتھے او ميں مبہوت بيٹھا تھا کيا آواز تھي يوں لگ رہا تھا کہ ابھي ان کے آخري جملے کے ساتھ نور کي لکيريں متساوي الساقين بن کر ان کي کمر پر ابھر آئيں گي، پھر دائو جي دلي کے دنوں ميں ڈوب گئے، ان کي آنکھيں کھلي تھيں وہ ميري طرف ديکھ رہے تھے ليکن مجھے نہيں ديکھ رہے تھے ميں نے بے چين ہو کر پوچھا پھر کيا ہوا دائو جي؟
انھوں نے کرسي سےاٹھتے ہوئے کہا، رات بہت ہوچکي ہے اب تو سوجاپھر بتائوں گي، ميں ضدي بچے کي طرح ان کے پيچھے پڑگيا، تو انھوں نے کہا پہلے وعدہ کرکہ آئندہ مايوس نہيں کرے گا۔
اور ان چھوٹي چھاٹي پرا پوزيشنکو بتاشے سمجھے گا، ميں نےجواب ديا حلوا سمجھوں گا، آپ فکر نہ کريں، انھوں نے کھڑے کھڑے کمبل لپيٹتے ہوئے کہا، بس مختصر يہ کہ ميں ايک سال حکيم صاحب کي حضوري ميں رہا، اور اس بحر علم سے چند قطرے حاصل کرکے اپنے کور آنکھوں کو دھويا، واپسي پر ميں سيدھا اپنے آقا کي خدمت ميں پہنچا اور ان کے قدموں پر سر رکھ ديا، فرمانے لگے اگر ہم ميں قوت ہو تو انکے پائوں کھينچ ليتا اور اس پر ميں رو ديا، تو دست مبارک محبت سے ميرے سر پر پھير کر کہنےلگے، ہم تم سے ناراض نہيں ہيں، ليکن ايک سال کي فرقت بہت طويل ہے، آئندہ کہيں جانا تو ہميں بھي ساتھ لےجانا، يہ کہتے ہوئے دائو جي کي آنکھوں ميں آنسو آگئے اور وہ مجھے اس طرح گم سم چھوڑ کر بيٹھک باہر نکل گئے۔
امتحان کي قربيت سے ميرا خون خشک ہورہا تھا، ليکن جسم پھول رہا تھا، دائو جي کو ميرے موٹاپے کي فکر رہنے لگي اکثر ميرے تھن متنھنے ہاتھ پکڑ کر کہتے اسپ تاري بن طويلہ بن مجھے ان کا يہ فقرہ بہت ناگوار تھا، اور ميں احتجاجا ان سے کلام بندکر ديتا تھا، ميرے تسلسل مون برت نے بھي ان پر کوئي اثر نہيں ڈالا تھا، اور انکي فکر انديشہ کي حد تک پہنچ گئي ايک صبح سير کو جانے سے پہلے انھوں نے مجھے جگايا، اور ميري منتوں خوشامدوں،گاليوں اور جھڑکيوں کے باوجود بستر سےاٹھا کوٹ پہنا کر کھڑا کرديا، پھر وہ مجھے بازو سے پکڑ کر گويا گھسيٹے ہوئے باہر لے گئے، سرديوں کي صبح کئ يچار کا عمل گلي ميں نہ آدم نہ آدم زاد، تاريکي سے کچھ بھي نہ دکھائي ديتا تھا، اور دائو جي مجھے اسي طرح سير کولئےجاتے رہے، ميں کچھ بک رہا تھا، اور وہ کہہ رہے تھے، ابھي گراں خوابي دور نہيں ہوئي، ابھي طنبورا بڑبڑا رہا تھا، تھڑے تھوڑے وقفہ کے بعد کہتے کوئي سر نکال طنبورے کسي آہنگ پر بج يہ کيا کر رہا ہے، جب ہم بستي سے دور نکل گئے اور صبح کي يخ ہوا نےميري آنکھوں کو زبردتسي کھول ديا تو دائو جي نے ميرا بازو چھوڑ ديا۔
سرداروں کا رہٹ آيا اور نکل گيا، ندي آئي اور پيچھے نکل گئي، قبرستان گزر گيا، مگر دائو جي تھےکہ کچھ آيتيں سے پڑھتے چلے جارہے تھے، جب تھبہ پر پہنچےتو ميري روح فنا ہوگئي يہاں لوگ دوپہر ميں بھي نہيں گزرتے تھے، کيونکہ پرانے زمانے ميں يہاں ايک شہر غرق ہوا تھا مرنے والوں کي روحيں اسي ٹيلے پر رہتي ہيں اور انے جانے والوں کا کليجہ چبا جاتي ہيں ميں خوف سے کانپنے لگا تو دائو جي نے ميرے گلے کے گرد مفلر اچھي طرح لپيٹ کر کہا۔
سامنے ان دو کيکروں کے درميان اپنئي پوري رفتار سے دس چکر لگائو، پھر لمبي سانسيں کھينچو اور چھوڑ دو، تب ميرے پاس آئو ميں يہاں بيٹھتا ہوں ميں تھبہ سے جان بچانے کيلئے سيدھا ان کيکرون کي طرف روانہ ہوگيا پہلے ايک بڑے سے ڈھليے پر آرام کيا اور ساتھ ہي حساب لگايا کہ چھ چکروں کا وقت گزچکا ہوگا، اس کے بعد آہستہ آہستہ اونٹ کي طرح کيکروں کے درميان دوڑنے لگتے اور جب دس يعني چار چکر پورے ہوگئےتو پھر اسي ڈھيلے پر بيٹھ کر لمبي لمبي سانسيں کھيچنےلگا، ايک تو درختوں پر عجيب و غريب قسم کے جانور بولنے لگے تھے، دوسرے ميري پسلي ميں بلا کا درد شروع ہوگيا تھا، يہ ہي مناسب سمجھا کہ تھبہ پر جاکر دائو جي کو سوئے ہوئے اٹھائوں اور گھر لے جاکر خوب خاطر کروں، غصے ميں بھرا اور دہشت سے لرزتا ميں ٹيلے کے پاس پہنچا، دائو جي تھبہ کي ٹھکرويں پر گھٹنو کے بل گرے ہوئے ديوانوں کي طرح سر مار رہے تھے اور اونچے اونچے اپنا محبوب شعرگا رہے تھے۔
جفا کم کن کہ فراد روز محشر
بہ پيش عاشقاں شر ماندہ باشي
کبھي دونوں ہتھيلياں زور زور سے زمين پر مارتے اور سر اوپر اٹھا کر انگشت شہادت فضا ميں يوں ہلاتے جيسے کوئي اسن کے سامنے کھڑا ہو، اور اس سے کہہ رہے ہوں ديکھ لو، سوچ لو۔۔۔۔ ميں تمہيں۔۔۔۔ ميں تمہيں بتا رہا ہوں۔۔۔۔سنا رہا ہوں۔۔۔۔ ايک دہمکي ديتے جاتے تھے اور پھر تڑپ کر ٹھيکريوں پر يوں گرتے اور جفا کم کن کہتے ہوئے رونے سے لگتے، تھوڑي دير ميں ساکت اور جامد کھڑا رہا، دائو جي ضرور اسم اعظم جانتے تھے، اور جن کو قابو ميں کر رہے تھے، ميں نے اپني آنکھوں سے ايک جن انکے سامنے کھڑا ديکھا تھا، بالکل الف ليلہ باتصوير والا جن، جب دائو جي کا طلسم اس پر نہ چل سکا، تو اس نے انھيں نيچے گراليا تھا، وہ چيخ رہتے تھے، جفا کم کم جفا کم کم مگر وہ چھوڑتا نہيں تھا، ميں اسي ڈھيلے پر بيٹھ کر رونے لگا۔۔۔۔تھوڑي در بعد دائو جي آئے، انھوں نے پہلے جيسا چہرہ بنا کر کہا، چل طنبورے اور ميں ڈرتا ڈرتا ان کے پيچھے ہوليا، راستے ميں انھوں نے گلي ميں لٹکي ہوئي کھلي پگڑي کے دونوں کونے ہاتھ ميں پکڑ لئے اور جھوم جھوم کر گانے لگے۔
تيرے لے لے دال خريدا ٹريا جا
اس جادوگر کے پيچھے چلتے ہوئے ميں نے ان آنکھوں سےديکھا کہ اس کا سر تبديل ہوگيا، اسکي لمبي لمبي زلفيں کندھوں جھولنے لگيں، اور اسکا سارا وجود جٹا ھاري ہوگيا۔۔۔۔۔۔اسکے بعد چاہے کوئي ميري بوٹي بوٹي اڑا ديتا ميں اسکے ساتھ سير کو ہرگز نہ جاتا۔
اس واقعہ کے چند ہي دن بعد کا قصہ ہے کہ ہمارے گھر ميں مٹي کے بڑے بڑے ڈھيلے اور اينٹوں کے ٹکڑے آکر گرنے لگے، بے بے نے آسمان سر پر اٹھا ليا، بچوں والي کتيا کي طرح دائو جي سے لپٹ گئي، سچ مچ ان سے لپٹ گئي اور انھيں دھکا دے کر زمين پر گراديا، وہ چلا رہي تھي، بڈھے ٹوٹکي يہ سب تيرے منتر ہيں، يہ سب تيري فارسي ہے، تيرا کالا علم ہے، تو الٹا ہمارے سر پر آگيا، تيرے پريت ميرے گھر ميں اينٹيں پھينکتے ہيں۔
اجاڑ مانگتے ہيں، موت چاہتے ہيں، پھر وہ زور زور سے چيخنے لگي، ميں مر گئي، ميں جل گئي، لوگوں اس بڈھے نے ميرے امي چند کي جان لينے کا بندہ کيا ہے مجھ پر جادو کيا،ميرا انگ انگ توڑ ديا، امي چند تو ائو جي کو اپني زندگي سے بڑھ کر عزيز تھا، اور اسکي جان کي دشمن بھلا کيوں ہو سکتے تھے، ليکن جنوں کي خشت بازي انھيں کي وجہ سے عمل ميں آئي تھي، جب ميں نے بھي بے بے کا ساتھ ديا دائو جي نے زندگي ميں پہلي مرتبہ مجھے جھڑک کر کہا، تو احمق اور تيري بے بے ام الجاہلين۔۔۔۔ ميري ايک سال کي تعليم کا يہ اثر ہوا کہ تو جنوں اور بھوتوں ميں اعتقاد کرنے لگا، افسوس تو نے مجھے مايوس کيا۔۔۔۔اے والے کہ تو شعور کے بجائے عورتوں کے اعتقاد کا غلام نکل، افسوس۔۔۔۔۔ صد افسوس، بے بے کو اسي طرح چلاتے اور دائو جي کو يوں کراہتے چھوڑ کر ميں اوپر کوٹھے پر دھوپ ميں جا بيٹھا۔۔۔۔اسي دن شام ميں کو جب ميں اپنے گھر سے آرہا تھا، تو راستے ميں رانو نے اپنے مخصوص انداز مين آنکہ کاني کر پوچھا، سنا ہے بابو تيرے کوئي اينٹ ڈھيلا تو نہيں لگا؟ سنا ہے تمہارے گھر پنڈت کے گھر ميں روٹے گرتے ہيں؟
ميں نے اس کمينے کے منہ لگنا پسند نہ کيا اور چپ چاپ ڈيوڑھي ميں داخل ہوگيا، رات کے وقت دائو جي مجھ سے جيوميٹري کي پراپوزيشن سنتے ہوئے پوچھنے لگے، بيٹا کيا تم سچ مچ جب بھوت يا پري چڑيل کو کوئي مخلوق سمجھتے ہوں؟ ميں انے اثبات ميں جواب ديا، تو وہ ہنس پڑے اور بولے واقعي تو بہت بھوال ہے اور ميں نے خواہ مخواہ جھڑک ديا، بھلا تو نے مجھے پہلے کيوں نہ بتايا کہ جن ہونتے ہيں اور اس طرح اسے اينٹيں پھينک سکتے ہيں، ہم نےجو دلي اور پھتے مزدور کو بلا کر برساتي بنوئي ہے وہ تيرے کسي جن کو کہہ کر بنواليتے، ليکن يہ تو بتا کہ جن صرف اينٹيں پھيکنے کا کام ہي کرتے ہيں، ميں نے جل کر کہا جتنے چاہے مذاق چاہو کر لو مگر جس دن سر پھٹے گا اس دن پتہ چلے گا۔
دائو جي نے کہا، تيرے جن کي کي پھينکي ہوئي اينٹ سےتو قيامت سر نہيں پھٹ سکتا اس لئے کہ نہ وہ ہے نہ اس سے اينٹ اٹھائي جاسکے، اور نہ ميرے تيرے يا تيري بے بے کے سر ميں لگے گي۔
پھر بولے سن علم کوکا موٹا اصول يہ ہےکہ کوئي ماوي شے کسي غير مادي وجود سے حرکت ميں نہيں لائي جاسکتي ہے۔۔۔۔۔سمجھ گيا؟
ہمارے قصبے ميں ہائي اسکول ضرور تھا ليکن ميڑک کے امتحان کا سنٹر نہ تھا، امتحان دينے کيلئے ہميں ضلع جانا ہوتا تھا، چناچہ وہ صبح آگئي ہماري جماعت امتحان دينے کيلئے ضلع جارھي تھي، اور لاري کے ارد گرد والدين ہر قسم کے لوگون کا ہجوم تھا، اور اس ہجوم سے دائو جي کيسے پيچھے رہ سکتے تھے، اور دائو جي سارے سال کي پڑھائي کا خلاصہ تيار کر کرے جلدي جلدي سوال پوچھ رہے تھے،اور ميرے ساتھ ساتھ خود ہي جواب ديتے جارہے تھے، اکبر کي اصلاحات سے اچھل کر موسم کے تفيو و تبدل پر پہنچ جاتے وہاں سے پلٹتے تو اس کے بعد ايک اور بادشاہ آياي کہ اپني وضع سے ہندو معلوم ہوتا تھا، وہ نشہ ميں چور تھا،ايک صاحب جمال اس کا ہاتھ پکڑ کر آئي، اور جدھر چاہتي تھي، پھراتي تھي، کہہ کر پوچھتے يہ کون تھا۔
جہانگير ميں جواب ديا اور وہ عورت نورجہاں ہم دوونوں ايک ساتھ بولے۔۔۔۔صفت مشبہ اور اسم فاعل ميں فرق؟
ميں نے دونوں کي تعريفيں بيان کيں، بولے مثاليں؟ ميں نے مثاليں ديں، سب لرکے لاري ميں بيٹھ گئے اور ميں ان سے جان جھرا کر جلدي سے داخل ہوا تو گھوم کر کھڑکي کے پاس آگئے۔
اور پوچھنے لگے، بريک ان اور بريک ان ٹو کو فقروں ميں استعمال کرو، انکا استعمال بھي ہوگيا، اور موٹر اسٹارٹ ہوچلي، تو اسکے ساتھ قدم اٹھاکر بولے، طنبورے مادياں گھوڑي ماکياں مرغي۔۔۔۔ مادياں گھوڑي۔۔۔ماکياں ۔۔۔مرغي۔۔۔۔ايک سال بعد خدا خدا کر کے يہ آواز دور ہوئي اور ميں نے آزادي کا سانس ليا۔
پہلے دن تاريء کا پرچہ بہت اچھا ہوا دوسرے دن جغرافيہ کا اس بھي بڑ ھ کر، تيسرے دن اتوار تھا اور اسکے بعد حساب کي باري تھي، اتار کي صبح کو دائو جي کا کوئي بيس صفہ لمبا خط ملا، جس ميں الجبرا کے فارمولوں اور حساب کے قاعدوں کے علاوہ اور کوئي بات نہيں تھي۔
حساب کا پرچہ کرنے کے بعد برآمدے ميں ميں نے لڑکيوں سے جوابات ملائے تو سو ميں سے اسي نمبرکا پرچہ ٹھيک تھا، ميں خوشي سے پاگل ہوگيا، زمين پر پائوں نہ پڑتا تھا، اور ميرے منہ سے مسرت کے نعرے نکل رہے تھے، جوں ہي ميں نے برآمد سے باہر پائوں رکھا دائو جي کھيس کندھے پر ڈالے ايک لڑکے کا پرچہ ديکھ رہے تھے، ميں چيخ مار کر ان سے لپٹ گيا اور اسي نمبر کےے نعرے لگانا شروع کر دئيے انھوں نے پر چہ ميرے ہاتھ سے چھين کر تلخي سے پوچھا کون سوال غلط ہوگيا؟ ميں نے جھوم کر کہہ چار ديواري والا جھلا کر بولے تونے کھڑکياں اور دروازے منفي نہ کئے ہوں گے، ميں نے ان کي کمر ميں ہاتھ ڈال کر پير کي طرف جھلاتے ہوئے کہا، ہاں جي ہاں جي گولي ماردو کھڑکيوں کو، دائو جي ڈولي ہوئي آواز ميں بولے تونے مجھے برباد کرديا، طنبورے، سال کے تين سو پينسٹھ دم ميں پکار پکار کر کہتا تھا ، سطحات کا سوال آنکھيں کھول کر حل کرنا، مگر تونے ميري بات نہ ماني، تونے ميري بات نہ ماني، بيس نمبرضائع کئے۔۔۔۔پورے بيس نمبر۔
اور دائو جي کا چہرہ ديکھ کر ميري اسي في صد کاميابي بيس في صد ناکامي کے نيچے يوں دب گئي گويا اس کو کوئي وجود ہي نہيں تھا، راستہ بھر دو اپنے آپ سے کہتے رہے، اگر محتمن اچھے دل کا ہوا تو دو يا ايک نمبر ضرور دے گا، تيرا باقي حل تو ٹھيک ہے اس پرچے کے بعد دائو جي امتحان کے آخري دن تک دائو جي ميرے ساتھ رہے، اور رات کے بارہ بجے تک مجھے اس سرائے ميں بيٹھ کر پڑھاتے جہاں ہماري کلاس مقيم تھي، اور اسکے بعد بقول ان کےاپنے ايک دوست کے ہاں چلے جاتے، امتحان ختم ہوتے ہي ميں نے دائو جي کو يوں چھوڑا ديا گويا ميري ان سے جان پہچان ہي نہ تھي، سارا دن ميں دوستوں ياروں کے ساتھ گھومتا اور شام کو ناوليں پڑھا کرتا، اس دوران ميں اگر کبھي فرصت ملتي تو دائو جي کو سلام کرنے بھي چلا جاتا وہ اس بت مصر تھے، کہ ميں ہر روز کم از کم ايک گھنٹے انکے ساتھ گزاراکروں، تاکہ وہ مجھے کالج کي پرھائي کيلئے تيار کرديں، ليکن ميں ان کے پھندے ميں آنے والا نہ تھا مجھے کالج ميں سو بار فيل ہونا گوارا تھا اور ہے ليکن دائو جي سے پڑھنا منظور نہ تھا پڑھنے کو چھوڑئيے ان سے باتيں کرنا بھي مشکل تھا، ميں نے کچھ پوچھا انھوں نے کہا اس کا فارسي ميں ترجمہ کرو، ميں نے کچھ جواب ديا، فرمايا اس کي ترکيب خوي کرو، خوالداروں کي گائے اندر گھس آئي، ميں اسے لکڑي سے باہر نکال رہا ھوں، اور دائو جي پوچھ رہے تھے، COW نائون ہے يا ورب ہے اب ميں عقل کا انھا پانچوين جماعت تک پڑھا جانتا ہے کہ گائے اسم ہے، مگر دائو جي فرما رہے تھے کہ اسم بھي ہے اور فعل بي، ک امطلب ہے ڈرانا، دھمکي دينا، اور يہ ان دنوں کي باتيں ہيں جب ميں امتحان سے فارغ ہوکر نتيجہ کا نظارہ کر رہا تھا۔۔۔۔پھر ياک وہ دن بھي آيا جب ہم چند دوست شکار کھيلنے کيلئے نکلے تو ميں نے اس درخواست کي کہ منصفي کے آگے سے نہ جائيں۔
کيونکہ وہاں دائو جي ہوں گے، اور مجھے روک کر شکار، بندوق اور کارتوس کے محاورے پوچھنے لگيں گے، بازار ميں دکھائي ديتے ت ميں کسي بغل گلي ميں گھس جاتا، گھر پر رسما ملنے جاتا تو بے بے سے زيادہ اور دائو جي سےکم باتيں کرتا، اکثر کہا کرتے افسوس آفتاب کي طرح تو بھي ہميں فراموش کر رہا ہے، ميں شرارتا خيلے خوب خيلے خوب کہہ کر ہنسا۔
جس دن نتيجہ نکلا اور اباجي لڈون کي چھوٹي سے ٹوکري لے کر ان کے گھر گئے، دائو جي سر جھکائے اپنے حصير ميں بيٹھے تھے، اباجي کو ديکھ کر اٹھے کھڑے ہوئے، اندر سے کرسي اٹھا لائے اور اپنے بورئيے کے پاس ڈال کر بولے، ڈاکڑ صاحب آپ کے سامنے شرمندہ ہوں ليکن اسے بھي مقسوم کي خوبي سمجھئيے، ميرا خيال تھا کہ اس کي فرسٹ ڈويثرن اجائے ليکن نہ آسکي، بنياد کمزور تھي۔
ايک ہي تو نمبر کم ہے، ميں نے چمک کر بات کاٹي، اور وہ جب ميري طرف ديکھ کر بولے، تو نہيں جانتا اس ايک نمبر سے ميرا دل دونيم ہوگيا ہے، خير ميں اسے منجانب اللہ خيال کرتا ہوں۔
پھر اباجي اورباتيں کرنے لگے اور ميں بےبے کے ساتھ گپيں لڑانے ميں مشغول ہوگيا۔
اول اول کالج سے ميں دائو جي کے خطوں کا باقاعدہ جواب يتا رہا، اسکے بعد بے قاعدگي سے لکھنے لگا، اورآہستہ آہستہ يہ سلسلہ بھي ختم ہوگيا، چھٹيوں ميں جب گھر آتا تو جيسے اسکول کے ديگر ماسٹروں سے ملتا ويسے ہي دائو جي کو بھي سلام کرتا، اب وہ مجھ سے سوال وغيرہ نہ پوچھتے تھے، کوٹ، پتلون اور ٹائي وغيرہ ديکھ کر بہت خوش تھے، چار پائي پر بيٹھنے نے ديتے، اگر مجھے اٹھانے نہيں ديتا تو خود کرسي لے لے اور ميں کرسي کھينچ کر انکےپاس ڈٹ جاتا، کالج لائبريري سے ميں جو کتابين ساتھ لايا کرتا تھا انھيں ديکھنے کي تمنا ضرور کرتے اورميرے وعدے کے باوجود اگلے دن خود ہمارے گھر آکر کتابيں ديکھ جاتے، امي چند بوجوہ کالج چھوڑ کر بينک ميں ملازم ہوگيا تھا، وہ دلي چلا گيا، بے بے کي سلائي کا کام بدستور تھا، دائو جي منصفي جاتے تھے، ليکن کچھ نہ لاتے تھے بي بي کے خط آتے تھے، وہ ااپنے گھر ميں بہت خوش تھي۔۔۔۔کالج کي ايک سالکي زندگي نے مجھے دائو جي سے بہت دورکھينچ ليان، وہ لڑکياں جو دو سال پہلے ہمارے ساتھ آپوٹايو کھيلا کرتي تھي، بنت عم بن گئيں، سيکنڈ ائير زمانے کي ہر چھٹي ميں آپو ٹاپو ميں گزارنے کي کوشش کرتا، اور کسي حد کت کامياب بھي ہوتا ، گھر کي مختصر مسافت کے سامنے ايبٹ آباد کا طويل سفر زيادہ تسکين دہ اور سہانا بن گيا۔
ان ہي ايام ميں ميں نے پہلي مرتبہ ايک خوب صورت گلابي پيڈ اور ايسے ہي لفافوں کا ياک پيکٹ خريدا تھا اور ان پر نہ اباجي کو خط لکھے جاتے اور نہ ہي دائو جي کو نہ ہي سہرے کي چھٹيوں ميں دائو جي سے ملاقات ہوسکي، نہ کسمس کي تعطيلات ميں ايسے ہي ايسٹر گزرگيا، اور يوں ہي ايام گزرتے رہے۔۔۔۔ ملک کو آزادي ملنے لگي تو کچھ بلوے ہوئے پھر لڑائياں شروع ہوگئيں ہر طرف سے فسادات کي خبريں آنے لگيں، اور اماں نے ہم سب کو گھر بلوايا، ہماے لئے ايک جگہ بہت مخصوص تھي، بلئے سا ہو کار گھر بار چھوڑکر بھاگ رہے تھے، ليکن دوسرے لوگ خاموش تھے، تھوڑے ہي دنوں بعد مہاجرين کي آمد کا سلسلہ شروع ہوگيا، اور وہ ہي لوگ يہ خبر لائے کہ آزادي مل گئي ہے، اک دن ہمارے قصبہ ميں بھي چند گھروں ميں آگ لگ گئي اور دونا کوں پر سخت لڑائي ہوئي ، تھانے والے اور ملبٹري کے سپاھيوں نے کرفيو لگا ديا، اور جب کرفيو ختم ہوا تو سب ہندو سکھ قصبہ چھوڑکر چل دئيے، دوپہرکو اماں نے مجھے دائو جي کي خبر لينے کو بھيجا تو اس جاني پہچاني گلي ميں رجيب و غريب صورتين نظر آئيں۔
ہمارے گھر يعني دائو جي کے گھر کي ڈيوڑھي ميں ايک بيل بندھا تھا اور اسکے پيچھے بوري کا پردہ لٹک رہا تھا ميں نے گھر آکر بتايا کہ دائو جي اپنےگھر چھوڑ کر چلے گئے ہيں، اور يہ کہتے ہوئے ميرا گلا رندھ گيا اور اس دن مجھے يوں لگا جيسے دائو جي ہميشہ ہميشہ کيلئے چلے گئے ہيں اور اب لوٹ کر نہ آئيں گے، دائو جي ايسے بے وفا تھے۔۔۔۔۔۔
کوئي تيسرے روز غروب آفتاب کے بہت بعد جب ميں مسجد ميں نئے پناہ گزينوں کے نام نوٹ کرکے کمبل بھجوانے کا وعدہ کرکے اس گلي سے گزارتے تو کھلے ميدان ميں سو دو سو آدميوں کي بھيڑ جمع تھي، مہاجر لڑکےلاٹھياں پکڑے نعرے لگارہے تھے، اور گالياں دے رہے تھے، ميں نے تماشائيوں کو پھاڑ کر مرکز ميں گھسنے کي کوشش کي مگر مہاجرين کي خونخوار آنکھيں ديکھ کر سہم گيا، ايک لرکاکسي بزرگ سے کہہ رہا تھا۔
ساتھ کے گائوں ميں گيا ہوا تھا، جب لوٹا تو اپنے گھر ميں گھستا چلا گيا۔
کون سے گھر ميں؟بزرگ نے پوچھا۔
پھر کيا انھوں نے پکڑليا، ديکھا تو ہندو نکلا۔
اتنےميں بھيڑ ميں سے کسي نے چلاکر کہا اوے رانو جلدي آ وے جلدي آ۔۔۔۔۔تيرے سامي۔۔۔۔۔پنڈت۔۔۔۔۔تيري سامي۔
رانو بکريوں کا ريوڑ باڑے کي طرف لے جارہا تھا، انہيں روککر اور ايک لاٹھي والے لڑکے کو ان کے آگے کھڑا کر کے وہ بھيڑ ميں گھس گيا، ميرے دل کو ايک دھکا سا لگا، جيسے انھوں نے دائو جي کو پکڑ ليا، ميں نے ملزم کو ديکھے بغير اپنے قريبي لوگوں سے کہا۔
يہ بڑا اچھا آدمي ہے، بڑا نيک آدمي ہے۔۔۔۔۔۔۔اسے کچھ مت کہو۔۔۔۔۔ يہ تو۔۔۔۔خون ميں نہائي ہوئي چند آنکھوں نے ميري طرف ديکھا اور ايک نوجوان گنڈاسي تول کر بولا۔
بتائوں تجھے بھي۔۔۔۔۔ آگيا بڑا حمائتي بن کر۔۔۔۔تيرے ساتھ کچھ ہوا نہيں، اور لوگوں نے گالياں بک کرکہا انصار ہوگا شايد۔
ميں ڈر کر دوسري جانب بھيڑ ميں گھس گيا رانو کي قيادت ميں اسکے دوست دائو جي کو گھيرے کھڑے تھے، اور رانو دائو جي کي ٹھوڑي پکڑ کر ہلا رہا تھا اور کہہ رہا تھا اب بول بيٹا اب بول، اور دائو جي خاموش کھڑے رہے، ايک لرکے نے پگڑي اتار کر کہا پہلے بودي کاٹو بودي، اور رانو نے مسواکيں کاٹنے والي درانتي سے دائو جي کي بودي کاٹ دي، وہي لڑکا پھر بولا بلاديں گے جي؟
اور رانو نے کہا، جانے دو بڑھا ہے ميرے ساتھ بکرياں چرائے گا، پھر اس نے دائو جي کي ٹھوڑي اوپر اٹھاتے ہوئے کہا، کلمہ پڑھ پنڈتا، اور دائو جي آہستہ سے بولے۔
کون سا؟
رانو نے ان کے ننگے سر پر ايسا تھپڑ مارا کہ وہ گرتے گرتے بچے اور بولا سالے کلمے بھي کوئي پانچ سات ہيں کيا۔
جب کلمہ پڑھ چکےتو رانو نے اپني لاٹھي ان کے ہاتھ ميں تھما کر کہا۔
چل بکرياں تيرا انتظار کر رہي ہيں۔
اور ننگے سر دائو جي بکريوں کے پيچھے يوں چلے جيسے لمبے لمبے بالوں والا فريد چلا رہاتھا