Pages

Showing posts with label اصل بات. Show all posts
Showing posts with label اصل بات. Show all posts

Sunday, January 15, 2012

اہلیت


جب تک اندر کے اندر ایک شمع روشن نہیں ہوگی ، اور اندر ایک جلتا ہوا دیا نہیں اترے گا ، آپ کو مجھ کو ہم کو پتا نہیں چل سکے گا کہ میری آپ کی  اہلیت  کیا ہے ، اندر کے حقیقی خال و خد کیا ہیں ، اور بس انسان یا اچھے انسان کہنے سے ہم اچھے والے تو نہیں بن جائیں گے نا ! 
میرا یہ کہنے کا مطلب ہر گز نہیں ہے کے آپ اچھے انسان نہیں ہو ، آپ بہت اچھے ہو ، بڑے قابل اور انسانوں سے محبّت کرنے والے ہو لیکن ہر انسان کے وجود میں ایک گوشہ ایسا ہوتا ہے جو تاریک ہوتا ہے - اس کا شاید اسے بھی صحیح طریقے سے معلوم نہیں ہوتا ہے

اعتماد

وہ چيک مجھے کيش کرانا تھا
جب ميں بينک ميں گيا اور کيشيئر کو وہ چيک ديا تو اس نے مجھے ٹوکن ديا ......... 
اب ميں ايک لاکھ روپے کي اپني تئيں ايک بڑي رقم کے چيک کو دے چکا ہوں
 اور ٹوکن لے کر اعتماد ميں کھڑا ہوں - 


حالانکہ چيک لينے والے نے چيک کے پيچھے دستخط بھي کروا ليے تھے
 اور رقم دينے سے پہلے انھوں نے مجھ سے ٹوکن بھي واپس لے ليا تھا - 


اب وہ بڑي آساني سے کہ سکتے تھے کہ جي آپ کو پيمنٹ ہو گئي ہے -
اب يہ ميں suggestion نہيں دے رہا ہوں کہ ايسا ہونا چاہئے ( مسکراتے ہوئے ) 
يہ اعتماد تھا کہ نہيں 
کہ بينک والے ايسے نہيں کہيں گے اور رقم مجھے دے ديں گے - 


ہر روز لاکھوں ، کروڑوں ، آدمي اسي يقين کے ساتھ ايک دوسرے سے لين دين کرتے ہيں - 
ہم محکمہ ڈاک اور بينکنگ سسٹم پر يقين کر ليتے ہيں
 اپنے خدا پر يقين نہيں کرتے - 
ہم اپنا بچہ ايک اعلي? اسکول ميں داخل کراتے ہيں 
 ہميں اس بات کا يقين ہوتا ہے کہ بي . اے کريگا اس کے بعد يہ مقابلے کا امتحان دے گا
 يہ اس امتحان ميں کامياب ہوگا اور يہ تھر پارکر ميں ڈپٹي کمشنر لگے گا - 


وہاں تک يقين چلتا جاتا ہے - 
يہاں آ کر بريکيں کيوں لگ جاتي ہيں
يہاں ہمارے دل کے گھونسلے ميں وہ انڈا پيدا نہيں ہوتا جسے اعتماد کا نام ديا جا سکے - 


از اشفاق احمد زاويہ 3 شه رگ کا ڈرائنگ روم

Wednesday, December 14, 2011

خدمت

بابے کہتے ہیں 
کہ خدمت ایک ایسی چیز ہے جو انا کی دیوار گرا دیتی ہے
 اور انسان کو اس کے باطن سے ہمکلام کردیتی ہے
ہماری دعا ہونی چاہئے 
کہ " اے الله میں نہ تو دنیاوی لذتیں حاصل کرنے کا آرزومند ہوں
 اور نہ ہی روحانی سربلندیوں کو پانے کا خواہشمند ہوں
 مجھے ان دونوں کے بجائے سپردگی
 اور ابدیت کی دولت چاہئے
اس طرح نہ تو مجھے مافوق الفطرت طاقت درکار ہے
نہ ہی مراقبے اور مکشافے کی دولت کی خواھش ہے
دینی ہے تو مجھے ناداروں
اور بیچاروں کی خدمت کی طاقت دے دے تیری مہربانی 

زاویہ ٣ روح کی سرگوشی پیج ٣٠٧

Wednesday, November 16, 2011

اصل بات


ہمارے بابے کہتے ہیں
کہ جب تک دنیا کی ساری لذتوں سے خود کو قطع تعلق نہیں کر لو گے
اور انھیں چھوڑ نہیں دو گے
اس وقت تک تمہاری سمجھ میں اصل بات نہیں آئے گی


آپ بہت کثیرالمقاصد لوگ ہیں
سب سے پہلے اپنے مقاصد کا تعین کرنا ہوگا
ہم لوگ لذتوں اور ناحق کے مقاصد پی عمل پیرا ہیں
جیسا کہ میری بیوی کہتی ہے
وہ نوکری بھی کرے
روٹی بھی پکائے
آٹا بھی گوندھ لے
ٹیلیفون بھی سن لے
چغلی میٹنگ میں بھی شرکت کرے
اس کے بعد بازار بھی چلی جائے
درزی سے بھی ہو آئے
لیکن ایسے تو نہیں ہوتا ہے نا
اتنے سارے مقاصد کو آپ کیسےچلا سکتے یا پا سکتے ہیں 

 زاویہ ٣ وزڈم وف دی ایسٹ پیج ٥٨