Pages

Showing posts with label من چلے کا سودا. Show all posts
Showing posts with label من چلے کا سودا. Show all posts

Thursday, December 8, 2011

دل کا چور


اگر دل میں کوئی چور نہ ہو تو آدمی جلد منازل طے کرتا ہے
 اسی لئے امیر آدمی اگر تہیہ کرلے تو وہ بڑے دربار میں بہت کم عرصے میں پہنچ جاتا ہے - 


غریب آدمی کے دل کے کسی کونے کھدرے میں
 دولت کی محبت........ 
آسائش کی محبت .......... 
روشن مستقبل کی خواھش چھپی ہوتی ہے
 وہ اس کے اوپر غلاف چڑھاتا ہے
 لیکن یہ چور نکلتا نہیں ،
 کہیں دل میں بھیس بدل کر بیٹھ جاتا ہے ،
غریب عموماً ڈبہ پیر بن کر بیٹھ جاتا ہے آگے نہیں بڑہ سکتا
 اصلی بات دل سے آرزو نکالنا ہے
 امیر کا امیری سے دل پر ہو چکتا ہے 
غریب کے دل میں ابھی ہوس ہوتی ہے
 حاصل کرنے کی 

من چلے کا سودا پیج ٤٢

Monday, November 21, 2011

من چلے کا سودا


اس ناول کے وجود میں آنے کا تعلق ان دو مثبت اور منفی تارون سے بندھا ہے جن میں سے ایک کا سر چشمہ تصوف اور عرفان ہے اور دوسرے کا منبع سائنس خاص طور پر فزکس اور فزکس میں سے بھی کوٹنم تھیوری کے ساتھ وابستہ ہے ۔
اشفاق احمد کہتے ہیں کہ کوئی گیارہ ساڑھے گیارہ برس تک ایک مجتحس نویسندہ کی حیثیت سے میں نوروالوں کے ڈیرے پر باقادعدگي سے سے حاضری دیتا رہا اور سائیں فضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس سے تقریبا دگنی مدت تک اردو سائنس بورڈ میں ان مسودوں کی ورق گردانی پر مامور رہاجن کا براہ راست تعلق سائنس کے مختلف موضوعات سے تھا ان دونوں رسمی تعلقات سے مجھ پر کچھ ایسے عقدے کھلے جن سے میں محض ادب کے میدان میں رہ کر روشناس ہو سکتا تھا۔  


ڈیرے کے لنگرخآنے کی کچی دیوار سے ڈھو لگآ کر سوچتے ہوۓ اور دفتر میں سائنسی کتابوں کی پروف ریڈنگ کرتے ہوۓ ایک بات اندر اور باہر پورا اور باہر پورا بو جھ ڈال کر مجھ پر لٹکی ہوئی تھی کہ اصل حقیقت بٹی ہوئی نہیں ہے ۔
 اس کے جو قطعے ٹکڑے اور اجزاء الگ الگ نظر آتے ہیں ایک ہی کل کا حصہ ہیں صوفیوں کا علم ایک ایسا ابدی اور عرفانی علم ہے جسے نہ تو عقل و دانش اور دلیل و برہان کے ترازو میں تولا جاسکتاہے  اور نہ ہی الفاظ میں بیان کیاجاسکتاہے  ۔
 اس ابدی علم کے اندرجدید فزکس کی جوابدی شاخ اپنے طے شدہ مقام سے گزررہی ہےاس کوبھی گہرے مراقبے اور ڈائریکٹ حسی بصیری اور ذآتی مشاہدے سے اسی طرح آنکاجاسکتاہے جس طرح جدید آلات سے فزکس کے مفروضات جانچے جاسکتےہیں۔  
جب فزکس کے پروفیسروں اور باطن کے مسافروں کے تجربات میں ایک متوازی ہم آہنگی کا احساس ہوتاہے  تو حیرانی اس پر نہیں ہوتی کہ اس قدر قریبی مشابہت اور ایسی ہم آہنگی کا اچانک علم ہوگیا بلکہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ دو مختلف النوع ڈسپلنوں میں یہ ہم آہنگی اور ایسی مماثلت کیوں پیدا ہوئی اور اس کے پیچھے کون سی عوامل کار فرماہيں۔ یوں تو زندگی کے اسرار نہانی جاننے کے لیے صرف صوفیوں اور سائنس دانوں نے ہی کوشش نہيں کی بلکہ شاعروں منجموں مجذوبوں بچو مسخروں اور پانسہ بھینکنے والوں نے بھی کچھ نتیجے نکالے ہيں اور بڑی دقیق باتيں کی ہیں لیکن یہ ساری باتیں زندگی اور کائنات کی تشریح اور توضیح سے تعلق رکھتی ہیں اس کے اندر کا بھید بھاو نہيںبتاتیں۔ 

اللہ کا پسندیدہ فعل


محمد حسین: لیکن سرکار، یہ رنگا رنگ مورتیاں۔۔۔ یہ شکلیں شباہتیں۔۔۔ یہ دھینگا مشتی۔۔۔ مار دھاڑ۔۔۔ کھینچا تانی، یہ کیا؟


ارشاد: میاں محمد حسین صاحب راج دلارے! نہ کوئی ساجد ہے نہ مسجود۔۔۔ نہ عابد نہ معبود۔۔۔ نہ آدم نہ ابلیس۔۔۔ صرف ایک ذات قدیم صفات رنگارنگ میں جلوہ گر ہے۔ نہ اس کی ابتداء نہ انتہاء۔۔۔ نہ کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا۔۔۔ نہ فہم قیاس میں آئے نہ وہم گماں میں سمائے۔۔۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے اور جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔۔۔ نہ گھٹے نہ بڑھے، نہ اترے نہ چڑھے۔۔۔ وہ ایک ہے، لیکن ایک بھی نہیں کہ اس کو موجودات سے اور موجودات کو اس سے الگ سمجھنا نادانی اور مورکھتا ہے۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگا پروفیشن موجود ہیں۔ ایسے ہی خداشناسی اور خدا جوئی بھی ایک دھندہ ہے۔


محمد حسین: جب اس کا کوئی سر پیر ہی نہیں حضور تو پھر ڈھونڈنے والا کیا ڈھونڈے اور کرنے والا کیا کرے؟


ارشاد: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا
یا مولا! تیری بارگاہ میں میرا کون سا فعل پسندیدہ ہے تا کہ میں اسے ذیادہ کروں
اور بار بار کروں۔


حکم ہوا یہ فعل ہم کو پسند آیا
کہ جب بچپن میں تیری ماں تجھے مارا کرتی تھی
تو مار کھا کر بھی اسی کی طرف دوڑا کرتا تھا
اور اسی کی جھولی میں گھستا تھا

تو بھائی محمد حسین صاحب! ڈھونڈنے والے کو بھی یہی لازم ہے
کہ گر کیسی بھی سختی ہو
کیسی بھی ذلت و خواری پیش آئے
لیکن ہر حال میں خدا کی طرف رجوع کرے
اور اسی کے فضل کو پکارتا رہے۔

تقدیر ،تدبیر اور قسمت


انسان دو پاؤں کا جانور ہے۔
اس کا ایک پاؤں تدبیر سے اٹھتا ہے اور دوسرے قدم کو اس کی قسمت اٹھاتی ہے۔ 
تمہارے ڈی این اے نے یہ بات طے کر دی تھی کہ تمہاری آنکھوں کا اور بالوں کا رنگ کیا ہو گا۔
یہ بات بھی طے ہے کہ تمہارا قد اتنا ہی ہو گا۔۔۔ یہ تمہاری قسمت ہے۔
اور ان بالوں کو، اس رنگ کو اور قد کو جو چار چاند میک اپ اور ہیل والی جوتیاں لگاتی ہیں، وہ تدبیر ہے۔
قسمت گندھی ہوئی مٹی ہے، کوئی اس سے اینٹیں بناتا ہے۔
کوئی کوزہ تیار کرتا ہے۔
کوئی اس مٹی میں پھول اگاتا ہے، "ٹیوب روز کے"۔۔

کلہاڑی اور رسی

سراج: میں تو کہتا ہوں کہ اس دنیا میں کوئی اصلی آدمی، کوئی اصلی رہبر، اصلی ہادی ہے ہی نہیں۔


ارشاد: آپ اپنی طلب درست کرلیجئے، اصل آدمی مل جائے گا۔ خود بخود آجائے گا آپ کے پاس۔۔۔ کرایہ خرچ کرکے، ٹکٹ خرید کے!


سراج: چلئے پھر ٹھیک ہے ارشاد صاحب میں دنیا سے منہ موڑتا ہوں آج سے
اسی لمحے سے
دکان چھوڑتا ہوں
گھر میں نے چھوڑا ہے
آپ مجھے اپنا غلام بنا لیں
اپنا خلیفہ بنا لیں
یہاں ڈیرا چلائیں۔


ارشاد: مبتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ رزق حلال کمائے اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کرے۔ آگے چل کر وہ کام تو اسی طرح سے کرتا رہے گا لیکن آہستہ آہستہ اس سے علائق دنیا جدا ہوتے جائیں گے ۔
 فکر اہل و عیال، اندیشہ مال و زر، حب جاہ و تمکنت سے چھٹکارا ہونے لگے گا۔ 
جب تعلق اور جگہ ہوجائے گا تو یہ کام فروعی رہ جائیں گے اور فروعی کاموں کا عمر بھر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔


سراج: اصل میں بات یہ ہے ارشاد صاحب کہ میں کرامت کی تلاش میں آپ کے پاس آیا تھا اور عامر صاحب نے مجھے یہی امپریشن دیا تھا۔ لیکن افسوس مجھے آپ سے وہ حاصل نہیں ہوا جو میری آرزو تھی۔ آپ تو مجھے پھر میری دلدل میں واپس بھیج رہے ہیں، گہری اور گوڈے گوڈے کھوبو دلدل میں!


ارشاد: حیرانی، خوشدلی اور خوش اسلوبی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا ہے


سراج: یہ عامر صاحب بھی بڑے بھولے آدمی ہیں۔ کہتے تھے کہ سارے جالے اتر جائیں گے، بات شیشہ ہوجائے گی ارشاد صاحب سے مل کر۔ یہاں تو سواہ بھی نہیں!


ارشاد: میل جول رکھیں سراج صاحب، آتے جاتے رہیں۔ کیا پتہ آپ سے ہمیں کچھ فائدہ ہی پہنچ جائے ۔
کوئی راہ ہی سیدھی ہوجائے ہماری۔


سراج: خدا نہ کرے میں اب یہاں قدم رکھوں یا پھر کبھی آؤں اس طرف۔ وہ تو قصہ ہی ختم ہوگیا۔ میری تو خواہش تھی کہ آپ مجھے یہاں رکھتے، اپنا خلیفہ بناتے۔ ہم یہ ڈیرا چلاتے، لوگوں کی مدد کرتے۔ لیکن آپ تو مجھے رزق حلال کمانے کو کہہ رہے ہیں۔ حد ہوگئی! میں دنیا چھوڑنی چاہ رہا ہوں، آپ وہی پکڑا رہے ہیں۔


ارشاد: میں آپ کو کلہاڑی اور رسی سے زیادہ اور کیا دے سکتا ہوں سراج صاحب!


سراج: (غصے سے) او جی میں نے کیا کرنی ہے کلہاڑی اور رسی! سر میں مارنی ہے؟


غصے کے ساتھ اٹھتا ہے اور "ہونہہ" کہہ کر باہر نکل جاتا ہے۔

مومن

مومن وہ نہیں ہوتا کہ ٹھوکر ہی نہ کھائے
مومن تو وہ ہوتا ہے ٹھوکر کھائے
تو ترنت اپنی جگہ پر قائم ہو جائے