روزن دیوار سے ۔ بشکریہ روزنامہ جنگ
بہت دنوں سے اپنے بزرگ دوست باباخدابخش سے میری ملاقات نہیں ہوئی تھی چنانچہ گزشتہ روز وقت نکال کر میں ڈیفنس میں واقع ان کے گھر گیا۔ بابا جی ایک سرکاری دفترسے بطور ہیڈکلرک ریٹائرہوئے تھے۔انہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی چنانچہ اس وقت ان کے چاروں بیٹے اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہیں اورحق حلال کی کمائی سے بہت آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ باباجی کی خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ ان کی اولاد ان سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔انہوں نے نہ صرف باباجی کو زندگی کی تمام سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں بلکہ اپنے دفتروں سے واپسی پر وہ اچھا خاصا وقت بھی ان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ باباجی کی دو ستیاں ابھی تک ان کی غربت کے زمانے کے لوگوں کے ساتھ ہیں اور اس گھرمیں انہیں بھی عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ بابا خدابخش اس وقت 90 کے پیٹے میں ہیں۔ بہت سے عارضوں میں مبتلا ہیں لیکن ان کی خوش مزاجی اور زندگی سے تعلق میں کوئی کمی نہیں آئی۔
میں جب ان کی طرف گیا وہ اس وقت لان میں حقے کی ”نڑی“ منہ میں دبائے بیٹھے تھے۔ ان کاپوتا اپنے ایک دوست کے ساتھ ربڑ کی گیند سے کرکٹ کھیل رہا تھااور وہ بہت دلچسپی سے انہیں کھیلتے دیکھ رہے تھے۔بابا خدابخش نے مجھے دیکھا تو اُٹھ کر مجھ سے معانقہ کیا اور پوتے سے ”چائے وغیرہ“لانے کے لئے کہا۔ چائے کے ساتھ ”وغیرہ“ کا لفظ اداکرتے ہوئے ہنسے اورپوتے کو ہدایت کی کہ اس ”وغیرہ“میں بہت کچھ ہونا چاہئے۔ میں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے ان کا حال احوال دریافت کیا تو بولے ”اللہ کاشکر ہے، بہت اچھی گزر رہی ہے؟“ میں نے کہا ”بابا خدا بخش ! ایک بات تو بتاؤ!“ وہ بولے ”تمہاری بات کا جواب بعد میں دوں گا تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم مجھے بابا کہنے سے باز نہیں رہ سکتے؟“ میں نے جواب دیا ”ٹھیک ہے برخوردارآئندہ آپ کے حکم کی تعمیل ہوگی مگر یہ بتائیں کہ آپ سارا دن گھر پر رہتے ہیں۔ آپ کی کوئی مصروفیت نہیں ہے۔ آپ بور نہیں ہوتے؟“ ہنس کر بولے ”یہ تم سے کس نے کہا کہ میری کوئی مصروفیت نہیں ہے، مجھے تو سر کھجانے کا ٹائم نہیں ملتا!“ یہ سن کر میں بہت حیران ہوا اور پوچھا ”وہ کیسے؟“ بولے ”صبح اٹھتا ہوں نماز پڑھتا ہوں ، پھر ناشتہ کرتاہوں اور اس کے بعد میرے معمولات شروع ہوجاتے ہیں!“ میں نے کہا ”میں انہی معلومات کے بارے ہی میں تو جاننا چاہتا ہوں۔“ بابا خدابخش یہ سن کر مسکرائے اور بولے ”میں اپنی دوائیوں کا تھیلا نکالتا ہوں۔ پہلے بلڈپریشر کی گولی لیتاہوں اس کے علاوہ شوگر کی گولی لینا ہوتی ہے۔ پھر تین مختلف قسم کے آئی ڈراپس ہیں جوتھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد آنکھوں میں ڈالنا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سانس کی تکلیف بھی ہے گھر میں نیبالائز کرنے کی مشین رکھی ہوئی ہے چنانچہ پندرہ منٹ نیبالائز کرتاہوں، سانس ٹھیک ہوتا ہے تو فزیوتھراپسٹ آجاتاہے۔ وہ 45 منٹ تک گھٹنوں کی فزیوتھرپی کرتا ہے۔ مجھے تو کچھ سوچنے کاوقت بھی نہیں ملتا، زندگی بہت مصروف ہے“ میں نے حیرت سے باباخدابخش کی طرف دیکھا۔ یہ کیا عجیب شخص ہے۔ اتنی ڈھیر ساری بیماریوں نے بھی اس سے زندہ رہنے کی امنگ نہیں چھینی۔ یہ اسی طرح خوش و خرم نظر آ رہاہے جیسا اسے میں کئی برسوں سے دیکھ رہاہوں۔
اتنے میں اس کاپوتا ایک ٹرالی میں چائے اور بہت سا ”وغیرہ“ دھرے ہمارے پاس آیا۔ میں نے کہا ”بیٹے تم نے زحمت کیوں کی؟ کسی ملازم سے کہہ دیا ہوتا!“ پوتے نے جواب دیا ”انکل ہمارے ابو نے کہا ہوا ہے کہ بابا کے دوستوں کے لئے یہ کام ہمیشہ خود کرو۔“ ان لمحوں میں ، میں نے بابا خدابخش کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر ایسی طمانیت تھی جیسے انہیں زندگی بھر کی مشقتوں کا صلہ مل گیا ہو! بابا خدا بخش اور اپنے لئے چائے بناتے ہوئے میں نے بابا کو ایک بارپھر مخاطب کیا اور کہا ”یہ تو آپ کی دوپہر تک کی مصروفیات تھیں شام کو کیاکرتے ہیں؟“ بابا نے کہا ”خدا کے فضل سے شام بھی بہت اچھی گزرتی ہے۔ دوپہر کی نیند پوری کرنے کے بعد عصر کی نماز پڑھتا ہوں، مسجد میں نمازیوں سے گپ شپ کرتا ہوں۔ اس کے بعد گھر آ کر ایک بار پھر دوائیوں کا کورس دہراتاہوں، فزیوتھراپسٹ شام کوبھی آتاہے۔ رات کو نیبالائز بھی کرناہوتاہے۔ بیٹوں اور بہوؤں سے گپیں ہانکتا ہوں۔ پوتوں پوتیوں سے کھیلتا ہوں۔رات کو کافی دیر تک کھانسی کا کورس بھی کرنا ہوتاہے۔ کبھی وقت ملے تو آ کردیکھنا میں کتنے ردھم سے کھانستا ہوں، بس اس مترنم کھانسی کے دوران نیند آجاتی ہے، اللہ کاشکر ہے وقت بہت اچھا گز ر رہا ہے۔“
میں اس وقت اپنے گھر میں بیٹھاہوں اور سوچ رہاہوں کہ یہ بابا خدابخش کیا چیزہے۔ یہ کتنے محاذوں پر کتنی دلیری سے لڑ رہاہے، کتنی ہی بیماریاں اسے لاحق ہیں لیکن یہ ان کے سامنے پسپائی اختیار کرنے کی بجائے ادویات کے ذریعے نہ صرف یہ کہ انہیں زیر کرنے میں لگا ہوا ہے بلکہ اس کے لہجے میں تھکاوٹ کے آثار بھی نہیں ہیں۔ مایوسی اور ناامیدی بھی نظر نہیں آتا۔ یہ گرنبل بھی نہیں کرتا۔ نہ صرف یہ کہ بابا خدا بخش خود حوصلہ مند ہے بلکہ اپنے عمل سے دوسروں کو بھی بلند حوصلگی کا درس دیتا نظر آتاہے، میں نے سوچاہم پاکستانی بہت بری طرح حالات کی زد میں آئے ہوئے ہیں ہر طرف سے پریشان کن خبریں آ رہی ہیں جوکہ ناامیدی او ر مایوسی پیداکرنے والی ہیں چنانچہ ہم یہ خبریں پوری پژمردگی کے ساتھ ایک دوسرے سے Share کرتے ہیں اور حالات کا پامردی سے مقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی ناامیدی اورمایوسی میں اضافہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم زندگی سے بیزار ہوتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں زندگی بھی ہم سے بیزار نظر آنے لگی ہے۔ میں سوچ رہاہوں کہ آج کی صورتحال کامقابلہ پوری پامردی سے کرنے میں ہماری نجات ہے یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے، ایڑیاں رگڑنے اور موت کا انتظار کرنے کو ہم اپنے لئے بہتر سمجھتے ہیں۔ ایک دن میں نے بابا خدا بخش سے بھی یہ سوال کیاتھا جس کاجواب انہوں نے جوگی جہلمی کے ایک پنجابی شعر کی صورت میں دیا تھا جس کا مفہوم ہے کہ زندگی اور موت دونوں کاتعلق آپ کی سوچ سے ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ زندہ ہیں توزندہ ہیں اور اگر آپ خود کو مردہ سمجھنے لگے ہیں تو مردہ ہیں چنانچہ یہ فیصلے کا وقت ہے زندگی او ر موت میں سے ہم نے اپنے لئے کس کا انتخاب کرناہے؟