Pages

Showing posts with label بے تصوفی. Show all posts
Showing posts with label بے تصوفی. Show all posts

Monday, January 16, 2012

بے تصوفی


مذھب مسئلوں کو نہیں جانتا اور نہ ہی اس کے جوابوں کو جانتا ہے


مذہب بلکل ایک بچے کی طرح زندگی بسر کرتا ہے
ایک حیرت کے عالم میں
بچہ جب چند گھنٹوں کا ہوتا ہے تو وہ چند دنوں تک دنیا کو یا زندگی کو بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھتا ہے
 پھر کہیں جا کر اسے دنیا کی رنگینی اور کلر دیکھنے کا ازن ہوتا ہے
 اور وہ ان نئے نئے واقعات سے مبہوت اور حیرت زدہ ہی رہتا ہے
تحیر میں
ادب میں
 کسی سے کوئی سوال کرنا
 بے ادبی ہے


عالم تحیر کو قتل کرنے کا پہلا قدم سوال کرنا ہے
سوال بے کیفی و بے تصوفی کی ابتدا ہے
سائنس کئی سال سے بے کیفی اور بے تصوفی کی کیفیت پیدا کرنے میں مصروف ہے
لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکتی
 چاہے جتنی بھی کوشش کر لے
یہ اپنی منزل کو نہ پہنچ سکے گی


سائنس اس ضمن میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے
لیکن پھر بھی کوشش کیے جاتی ہے بڑی ڈھٹائی سے
باز نہیں آتی ہے
جس قدر ناکام ہوتی ہے
اسی قدر اور کوشش میں مصروف ہو جاتی ہے