Pages

Sunday, November 13, 2011

محبت کا تریاق


ایک وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کو انسان بنانے کے لیے۔
عہد بنانے کے لیے محبت عطا ہوتی ہے ان کی حثیت سمجھانے کے لیے۔
ان کا قد عام انسانوں جتنا کرنے کے لیے۔
 پھر محبت ان لوگوں کو ملتی ہے، جو ہارنے کی آرزو میں جیتتے ہیں جاں بلب ہوتے ہیں ان کے لیے محبت کا تریاق آتا ہے غیب سے۔ یکدم ان مردہ لاشوں میں زندگی کے آثار اُجاگر ہوتے ہیں وہ درختوں کو پرندوں کو چاند ستاروں کو ازسرنو دیکھنا شروع کرتے ہیں بچے کی حیرت کے ساتھ موسم ان پر اثرانداز ہوتے ہیں ایک بار پھر۔۔۔۔۔۔۔"
کیا کیا کیا؟۔"
سنو سیمی سنو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
محبت مارتی بھی ہے اور زندہ بھی کرتی ہے
پھنکارتی انا کو مارنے کے لیے بی محبت کا زہر ہے
اور قریب المرگ زندگی کو زندہ کرنے کے لیے بھی محبت ہی کا تریاق ہے

No comments:

Post a Comment