Pages

Wednesday, November 16, 2011

محبت کا طوق


آزادی اکیلے آدمی کا سفر ہے
رسی تڑوا کر سرپٹ بھاگنے کا عمل ہے


محبت اپنی مرضی سے
کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھے رہنے کی صلاحیت ہے
محبت اس غلامی کا طوق ہے
جو انسان خود اپنے اختیار سے گلے میں ڈالتا ہے


یہ عہد پیری مریدی کا نہیں
کہ مرشد منوائے اور سالک ماننے کے مقام پر ہو


یہ زمانہ شادی کا بھی نہیں
کہ شادی میں بھی قدم قدم پر اپنی مرضی کو قربان کرنا پڑتا ہے


حضرت ابراھیم جس طرح اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر راضی بر رضا رہے
یہ محبت کی عظیم مثال ہے


محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا "شرک" ہے


کیوں کہ بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی


 محبوب سے بھی
اور اپنے آپ سے بھی


محبت غلامی کا عمل ہے
اور آزاد لوگ غلام نہیں رہ سکتے۔

No comments:

Post a Comment