Pages

Wednesday, November 16, 2011

اپاہج


پيرس ميں مجھے نئے مستقبل کے بجائے صرف خوشگوار ماحول کي پيشکشيں ہوتی رہيں جن کي مدت کبھي بھي دو چار گھنٹے سے بڑھنے نہ پائي، جيني کے لہجے ميں تلخي تھي، پہلے تو ميں نے شريفانہ زندگي گزارنے کي بھر پور کوشش کي ليکن مجھے اس ميں بري طرح ناکامي ہوئي اور پھر آخر کار۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ خاموش ہوگئي۔
اور پھر ۔۔۔۔؟سنان کے لہجے ميں بے پناہ ہمدردي تھي۔
بس پھر کيا۔۔۔۔ميں بھوکي نہيں رہ سکتي، ميں اس معاملے ميں بيحد کمزور واقع ہوئي ہوں۔۔۔۔۔۔اب تو يہ پيشہ زندگي کا معمول بن چکا ہے، جيني کي آنکھوں ميں ہلکي ہلکي نمي تھي۔
سنان خاموش بيٹھا کافي پيتا رہا اور اس کي باتيں سنتا رہا۔


پاسکل ہي اپاہج نہيں، وہ سوچ رہا تھا
اس دنيا ميں اکثر لوگ اپاہج ہيں ۔
معذوري جسماني نہ بھي ہو تو
کبھي مجبوري اور کبھي بھوک ان کو اپاہج کرديتي ہے۔

No comments:

Post a Comment