Pages

Sunday, November 13, 2011

وجدان


سوچ دو طرح کی ہوتی ہے
ایک سوچ علم سے نکلتی ہے اور ریگستان میں جا کر سوکھتی ہے
دوسری سوچ وجدان سے جنم لیتی ہے اور باغ کے دہانے پر لے جاتی ہے
ان ہی دو قسم کے خیالات سے دو طرح کا رہنا سہنا جنم لیتا ہے


ایک رہنا سہنا علم اور تجویز سے جنم لیتا ہے
اس میں چاقو،چھری،مقدمہ،بحث، مباحثے،کس بل،حق حقوق،چھینا جھپٹی،کرودھ کام ہنکار سب ہوتا ہے


دوسرا رہنا سہنا اہک اور قسم کی سوچ سے نکلتا ہے
اس میں وجدان ،شانتی،امن،پرائسچت،پریم کی وجہ سے ہجرت کا سماں رہتا ہے
اسی وجدان کی وجہ سےایسی سوچ والے لوگ غریبی میں امیر اور امیری میں غریب دکھائی دیتے ہیں
تم چاہو تو علم کا ڈنڈا پکڑ لو پھر وکیل ضروری ہو گا


میرے وجدان پر اعتبار کرو تو جنگل چھوڑ دو
آگے ہر پڑاؤ پر تمہیں امن ہی امن لہراتا ملے گا۔

No comments:

Post a Comment