Pages

Thursday, June 28, 2012

مصنف ہے


مصنف ہے
کہانی اس نے لکھی ہے


سبھی کردار اس کے ہیں 


کوئی مجرم کوئی ملزم کوئی معصوم ہے لیکن


سبھی انداز اس کے ہیں 


پس منظر وہ پوشیدہ سہی پھر بھی 


سر منظر تو سب غماز اس کے ہیں 


ہدایت کار بھی خود ہے


یہاں اس کے اشاروں پر 


اداکاروں نے اپنے کرداروں کو اتنی جانفشانی سے نبھایا ہے 


کہ اک لکھی کہانی کو حقیقت کر دکھایا ہے 


مگر اس داستان کا آخری منظر قیامت ہے


قیامت ہے 


کہانی کا مصنف 


اپنی اجرت مانگنے والے اداکاروں سے کہتا ہے


صلہ دوں گا مگر تم کو 


میں کرداروں کے کرموں کا صلہ دوں گا


میں منصف ہوں مگر اپنی رضا سے فیصلہ دوں گا


کہانی ختم ہونے پر


انہیں ازنِ تکلم تو نہیں لیکن 


اداکاروں کو بس اتنی شکایات ہے 


کہ مُنصف تو مصَنف تھا 


کہانی اس نے لکھی تھی 


سبھی کردار اس کے تھے 

No comments:

Post a Comment