Pages

Monday, January 16, 2012

سگریٹ


ارے یار! سگریٹ بھی کیا چیز ہے۔


 جس نے بھی اسے ایجاد کیا‘ حد کر دی۔


 کیسا ایک ننھا سا رفیق زندگی کا آپ کے تنہا لمحوں میں کسی دوسرے کے موجود ہونے کا احساس دلاتا رہتا یے
 اور اس کے دم سے آپ کبھی اکیلا محسوس نہیں کرتے


 بلکہ وہ خود زندگی یے جس کا ایک کنارہ زندگی ہی کی طرح دھیرے دھیرے سلگتا اور دوسرا موت کے منہ میں یا منہ کی موت میں پڑا ہوتا ہے۔


 وہ آپ کے ہر سانس کے ساتھ جیتا اور مرتا ہوا خود راکھ ہو جاتا ہے لیکن آپ کے بکھرے ہوئے خیالوں کو ایک نقطے پر سمیٹ لاتا یے۔


 آپ چند ایسے راز سمجھ چکے ہوتے ہیں جن کے بعد اور کچھ سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔


 کوگ کہتے ہیں اس سے کینسر ہو جاتا یے
ہوا کرے۔


 جو سگریٹ نہیں پیتے وہ کون سی خضر کی حیات جیتے ہیں؟


 دنیا کے ہر بشر کو آخر کوئی نہ کوئی بہانہ تو موت کو دینا یے سگریٹ کا بہانہ کیوں نہ ہو۔

1 comment:

  1. Wah wah wah......
    havent read it before, but its lovely
    thanks for sharing

    ReplyDelete